• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دوسرا حصہ: وارثین کے حصے(تفہیم الفرائض)

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,776
پوائنٹ
722
نوٹ:- پچھلا حصہ پڑھنے کے لئے کلک کیجئے : (پہلا حصہ):
دوسرا حصہ: وارثین کے حصے

وارثین اگر عصبہ میں سے ہوں، تو ان کوحصہ دینے کا طریقہ گذرچکاہے ۔اب آگے اصحاب الفروض کے حصوں کا تذکرہ ہوگا، اصحاب الفروض کے حصوں پر بات کرتے ہوئے عصبہ سے متعلق تفصیلات ذہن میں رہیں تو سمجھنے میں بڑی آسانی ہوتی ہے، اسی لئے عصبہ کی بحث پہلے ذکر کردی گئی ہے ۔اسے ذہن میں رکھتے ہوئے اب آگے اصحاب الفروض کے حصوں کو سمجھنے کی کوشش کی جائے ۔
یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ اصحاب الفروض میں سے کسی بھی صاحب فرض کے حصہ پانے کی تمام حالات کو ایک ساتھ ذکر کیا گیا،اوران حالات کو اس ترتیب سے بیان کیا گیا ہے کہ شروع کی کوئی بھی حالت طے ہوجانے کے بعد اگلی کسی بھی حالت کا امکان نہیں رہے گااور اگلی کسی بھی حالت کے متعین ہونے کے لئے اس سے پہلے کی تمام حالات کاناپایاجانا ضروی ہوگا۔
ہر حالت کو ٹیبل میں پہلے انتہائی اختصار کے ساتھ ایک یا دو لفظوں میں ذکر کیا گیا ہے، اس کے بعدتھوڑی سی تفصیل ہے اور ٹیبل کے بعدان حالات کی تشریح ہے ۔
وارثین کے حصے معلوم کرتے وقت عمومایہی کوشش کریں کہ تمام وارثین کو ان کے گروپ کی ترتیب کے ساتھ ہی درج کریں ، یعنی پہلے زوجین پھر فروع پھر اصول اور سب سے آخر میں حواشی کو لکھیں۔اُن محجوب وارثین کو بھی لکھیں جوبسااوقات گرچہ کچھ نہیں پاتے ہیں،لیکن ان کی موجودگی بعض وارثین کے حصوں کو متاثر کرتی ہے ، اس کی وضاحت مع مثال اپنے مقام پر آرہی ہے(دیکھئے :ص٧٣ـ٧٤)
اب آگے ہم بالترتیب ہرگروپ کے وارثین کے حصوں کی معلومات حاصل کریں گے ۔

باب اول: زوجین کے حصے

زوجین کا حصہ سمجھنا بہت آسان ہے بس اتنا ذہن میں رکھنا ہی کی میت کی اولاد ہونے کی صورت میں زوجہ(بیوی) ہو تو اسے ثمن ملے گا ، اور زوج(شوہر) ہو تو اسے بیوی کے حصہ کا ڈبل یعنی ربع ملے گا۔
اور میت کی اولاد نہ ہونے کی صورت میں زوجہ(بیوی) ہو تو اسے ربع ملے گا اور اگر زوج(شوہر) ہو تو اسے بیوی کے حصہ کا ڈبل یعنی نصف ملے گا۔

زوج(شوہر) کا حصہ
حالات:
1:ربع(1/4): -فرع وارث مذکر یا مؤنث ہو۔(اولاد میں سے کوئی ہو)
2: نصف(1/2):-فرع وارث مذکر یا مؤنث نہ ہو۔(کوئی اولاد نہ ہو)
Screenshot_1.jpg

وضاحت:
زوج (شوہر) کو صاحب فرض کی حیثیت سے حصہ ملتا ہے اور اس کی دو حالتیں ہیں ۔
✿ پہلی حالت:
زوج (شوہر) کو ربع(1/4) ملے گا اگر میت کی کوئی اولاد ہے یعنی فروع میں سے کوئی مذکر یا مؤنث ہے ۔
دلیل:
{ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ}
اور اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے چھوڑے ہوئے مال میں سے تمہارے لئے چوتھائی حصہ ہے [النساء: 12]
Screenshot_2.jpg

✿ دوسری حالت:
زوج (شوہر) کو نصف(1/2) ملے گا اگر میت کی کوئی بھی اولاد نہیں ہے یعنی فروع میں سے کوئی مذکر یا مؤنث نہیں ہے ۔
دلیل:
{وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ}
تمہاری بیویاں جو کچھ چھوڑکر مریں اور ان کی اولاد نہ ہو تو اس میں آدھا تمہارا ہے [النساء: 12]
Screenshot_3.jpg


زوجہ(بیوی) کا حصہ
حالات:
1:ثمن(1/8): -فرع وارث مذکر یا مؤنث ہو۔(اولاد میں سے کوئی ہو)
2:ربع(1/4):-فرع وارث مذکر یا مؤنث نہ ہو۔(کوئی اولاد نہ ہو)
Screenshot_4.jpg

وضاحت:
زوجہ(بیوی) کو صاحب فرض کی حیثیت سے حصہ ملتا ہے اور اس کی دوحالتیں ہیں ۔

✿ پہلی حالت:
زوجہ (بیوی) کو ثمن(1/8) ملے گا اگر میت کی کوئی اولاد ہے یعنی فروع میں سے کوئی مذکر یا مؤنث ہے ۔
دلیل:

{فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ}
اگر تمہاری اولادد ہو تو پھر انہیں تمہارے ترکہ کا آٹھواں حصہ ملے گا [النساء: 12]
Screenshot_5.jpg

✿ دوسری حالت:
زوجہ (بیوی) کوربع(1/4) ملے گا اگر میت کی کوئی بھی اولاد نہیں ہے یعنی فروع میں سے کوئی مذکر یا مؤنث نہیں ہے ۔
دلیل:

{وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ}
اور جو (ترکہ) تم چھوڑ جاؤ اس میں ان کے لئے چوتھائی ہے، اگر تمہاری اولاد نہ ہو[النساء: 12]
Screenshot_6.jpg


مشق:
زوج یا زوجہ کے ساتھ متعدد مثالیں بنائیں اور حل کریں۔بنت کے فرضی حصہ کی بحث ابھی نہیں آئی ہے، اس لئے مثالوں میں اسے عصبہ بناکر ہی لائیں یا ترک کردیں ۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,776
پوائنٹ
722
باب دوم: فروع کے حصے

فروع میں سارے مذکر عصبہ ہیں اور عصبہ کو حصہ ملنے کی تفصیل گذرچکی ہے ، فروع کی ساری خواتین (بنت ، بنت الابن ) اصحاب الفروض ➊ میں سے ہیں ان کے حصوں کی تفصیل ملاحظہ ہو۔

بنت (بیٹی) کے حصے

حالات:
1: باقی مال میں تعصیبا بالغیر{لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ}:- عاصب یعنی میت کا بیٹا موجود ہو۔
2: ثلثین(2/3) :-عاصب نہ ہو ، اور متعدد ہوں (فروع میں صرف مؤنث( بیٹیاں) ایک سے زائد ہوں )
3: نصف(1/2):- عاصب نہ ہو ، اور منفرد ہو(فروع میں صرف اکلوتی بیٹی ہو)

Screenshot_1.jpg

وضاحت:
بنت(بیٹی) دو حیثیت سے حصہ پاتی ہے :
اول: عصبہ بالغیر کی حیثیت سے ، اس میں ایک حالت ہوتی ہے ۔
دوم :صاحب فرض کی حیثیت سے اس میں دو حالتیں ہوتی ہیں۔کل ملا کر تین حالتیں ہوتی ہیں۔

✿ پہلی حالت:تعصیبا بالغیر:
یعنی﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾(مرد کا ایک حصہ عورت کے دو حصوں کے برابر) کے اصول کے تحت باقی مال بیٹے اور بیٹوں میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ بیٹے کو ملنا والا حصہ بیٹی کو ملنے والے حصہ کا ڈبل ہو۔
تعصیبا بالغیر ملنے کی شرط:
بیٹی کو یہ حصہ ملنے کی ایک شرط ہے اور وہ یہ کہ بیٹی کے ساتھ اس کا عاصب یعنی میت کا مذکر فرع وارث (بیٹا) موجود ہو، ایسی صورت میں خواہ بیٹی ایک ہو یا ایک سے زائد، اسی طرح بیٹا ایک ہو یا ایک سے زائد، بہر صورت بیٹی اور بیٹے دونوں مل کو عصبہ بنیں گے۔
دلیل:

﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾
اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے[النساء: 11]
Screenshot_2.jpg

✿ دوسری حالت:ثلثین(2/3):
یعنی دو تہائی حصہ، یہ سب سے بڑا فرض حصہ ہے جو خواتین میں بنات یا اخوات لغیرام کے گروہ ہی کو ملتا ہے ۔نیز بنات یا اخوات لغیرام کے ایک طبقہ کو یہ فرض حصہ مل گیا تو بعد کے طبقہ میں موجود خواتین کو فرضا کچھ نہیں مل سکتا البتہ عصبہ بالغیر کی حیثیت سے مل سکتا ہے۔
ثلثین(2/3) ملنے کی شرط:
بنت(بیٹی) کو ثلثین ملنے کی دو شرطیں ہیں،ایک یہ کہ بیٹی کا عاصب یعنی میت کا کوئی مذکر فرع وارث (بیٹا )موجود نہ ہو،دوسری شرط یہ کہ بیٹی ایک سے زائد ہو ۔
دلیل:
﴿فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ﴾
اور اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں اور دو سے زیاده ہوں تو انہیں مال کا دو تہائی ملے گا[النساء: 11]
دو سے زائد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کم سے کم تین ہوں بلکہ یہاں مراد دو یا دو سے زائد ہے جیساکہ حدیث سے اس کی تشریح ہوتی ہے چنانچہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹا نہ ہونے کی صورت میں صرف دو بیٹیوں کو بھی ثلثین دیا ہے ۔(سنن ابی داؤد رقم 2891 والحدیث حسن )
Screenshot_3.jpg

✿ تیسری حالت:نصف(1/2):
نصف ملنے کی شرط:
بیٹی کو نصف ملنے کی دو شرطیں ہیں ایک شرط یہ کہ بیٹی کا عاصب یعنی میت کا مذکر فرع وارث نہ ہو ، دوسری شرط یہ ہے کہ بیٹی اکیلی ہو ۔ان دونوں شرطوں کو ایک جملے میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ میت کی اکلوتی بیٹی ہو تو اسے نصف ملے گا۔
دلیل:
﴿وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ﴾
اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لئے آدھا ہے[النساء: 11]
Screenshot_4.jpg

مشق:
٭زوج ، ابن ، بنت
٭زوج ، بنت ، اخ ش
٭زوجہ ، ٢/بنات ، ابن ، اخ ش
٭٢/ابن ، بنت ، ابن الاخ ش ، ابن العم ش
٭٣/بنات ، ٢/ابن ، ابن العم ش ، عم شقیق
٭ بنت ، اخ لام ، اخت لام ، عم ش ، عم لاب
٭اخ ش ، بنت ، اخت ش ، ابن الاخ ، ابن العم ش
٭ ٢/اخ ش ، بنت ، اخ لاب ، اخت لاب ، ابن العم لاب

#####################################
➊ یہ عصبہ بھی ہوتی ہیں کمامضی ، لیکن یہاں صاحب فرض کی حیثیت سے بات ہورہی ہے۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,776
پوائنٹ
722
بنت الابن (پوتی) کے حصے

حالات:
1: محجوب : جب فرع وارث مذکر اعلی موجود ہو یا بیٹی ایک سے زائد ہو اور پوتی کا عاصب نہ ہو تو محجوب ہوجاتی ہے۔
2: تعصیبا بالغیر: - بالا صورتیں نہ ہوں اور عاصب یعنی ابن الابن (پوتا) ہو یا نچلے درجہ کا پوتا ہو اور پوتی اس کی محتاج ہو۔(یعنی اوپر ثلثین ختم ہوجانے کے سبب فرضا نہ پارہی ہو)
3: سدس(1/6):-بالا صورتیں نہ ہوں (حاجب نہ ہو ، عاصب نہ ہو) ، اور صاحبۃ النصف بیٹی ہو۔
4: ثلثین(2/3) :-بالا صورتیں نہ ہوں (حاجب نہ ہو، عاصب نہ ہو)اورپوتی متعدد ہو ۔
5: نصف(1/2):-بالا صورتیں نہ ہوں(حاجب نہ ہو، عاصب نہ ہو) اور پوتی اکیلی ہو۔
Screenshot_5.jpg

وضاحت:
بنت الابن(پوتی) کاحصہ بیٹی ہی کی طرح ہے یعنی بیٹی کی جو تین حالتیں ہوتی ہیں وہی تین حالتیں اس کی بھی ہوتی ہیں ، البتہ پوتی کی دو حالتیں مزید بڑھ جاتی ہیں۔
ایک حالت یہ کہ اسے کچھ بھی نہیں ملتا ایسا دو وجہ سے ہوتا ہے پہلی وجہ جب میت کا فرع وارث مذکراعلی ہو تو یہ محجوب ہوجاتی ہے ۔دوسری وجہ جب ایک سے زائد بیٹیاں ہوں اورپوتی کا عاصب نہ ہو تو نسبی بنات کو فرضا ملنے والا پورا ثلثین ان دو بیٹیوں پرختم ہوجاتاہے اس لئے پوتی کے لئے کچھ نہیں بچتا اس طرح وہ محروم رہ جاتی ہے۔
دوسری حالت یہ کہ نصف کی حقدار بنت(بیٹی) موجود ہو تو نصف اسے دینے کے بعد بنات کو فرضا ملنے والے حصے (ثلثین) میں صرف سدس ہی بچتا ہے جو اسے ملتاہے، اس طرح پوتی کی کل پانچ حالتیں ہوجاتی ہیں جن کی تفصیل یہ ہے:

✿ پہلی حالت: محجوب :
بنت الابن کو محجوب کرنے والے حاجبین دو طرح کے ہوتے ہیں:
1۔سرے سے استحقاق کو ختم کرنے والے۔2۔ محروم کرنے والے۔
اولا:
میت کا فرع وارث اعلی مذکر موجود ہو تو بنت الابن کا استحقاق باقی ہی نہیں بچتا بلکہ وہ سرے سے محجوب ہوجاتی ہے۔
دلیل:
اصول واسطہ جس کی وضاحت حجب کے بیان میں ہوچکی ہے۔مثال:
Screenshot_6.jpg

ثانیا:
جب میت کی ایک زائد بیٹاں ہوں اورپوتی کو عصبہ بنانے والا کوئی عاصب نہ ہو تو بنات کو فرضا ملنے والا پورا ثلثین انہیں بیٹیوں پرختم ہوجاتاہے اس لئے پوتی کو فرضا دینے کے لئے کچھ بچتا ہی نہیں اورعاصب نہ ہونے کی صورت میں تعصیبا بھی یہ حقدار نہیں ہوتی ، یعنی فرضا یا تعصیبا کسی طرح بھی اسے کچھ نہیں مل پاتا ۔
دلیل:
فرضا بنات کو ملنے والا زیادہ سے زیادہ حصہ (ثلثین) اوپر کی بنات میں ختم ہوچکا ہے اس لئے فرض میں سے اس کے لئے کچھ بچا ہی نہیں اور اسے عصبہ بنانے والا بھی کوئی نہیں اس لئے عصبہ کی حیثیت سے بھی اس کا کوئی حصہ نہیں ۔
چونکہ اس حالت میں دور کی بنات کو فرضا کچھ اور ملنے کا کوئی امکان ہی نہیں ہے اس لئے یہ حالت پیدا کرنے والے ورثاء پر بھی ہم نے حکما حاجب کا اطلاق کیا ہے۔مثال:
Screenshot_7.jpg

✿ دوسری حالت: تعصیبا بالغیر:
جو چار خواتین عصبہ بالغیر بنتی ہیں یعنی اپنے بھائیوں کے ساتھ آنے کے سبب باقی مال میں بھائیوں کے ساتھ شریک ہو کر ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ کے تحت حصہ پاتی ہیں ان میں دوسری خاتون پوتی ہے ۔جیساکہ عصبہ کی بحث میں بات گذرچکی ہے۔
تعصیبا بالغیر ملنے کی شرط:
بنت الابن کو تعصیبا بالغیر ملنے کی شرائط یہ ہیں:
1۔ حاجب نہ ہو
2۔عاصب موجود ہو۔
بنت الابن (پوتی) کا عاصب ابن الابن یعنی میت کا پوتا موجود ہو ، یا بوقت حاجت یعنی جب اوپر ثلثین ختم ہوجانے کے سبب پوتی فرضا حصہ نہ پارہی ہو تو مزید نچلے درجہ کا کوئی پوتا مثلا ابن ابن الابن (پڑپوتا) موجود ہو۔
دلیل:
دلیل وہی ہے جو بیٹیوں کے عصبہ بالغیر ہونے کی دلیل ہے کیونکہ آیت کے عموم میں پوتی بھی شامل ہے۔
Screenshot_8.jpg
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,776
پوائنٹ
722
بنت الابن (پوتی) کے عصبہ بننے کی کچھ خاص صورتیں

پوتی کا نچلے درجے کے پوتے کے ساتھ عصبہ بننا:
اور پوتی اپنے درجے کے نچلے پوتے یعنی پڑپوتے کے ساتھ عصبہ اس لئے بن جاتی کیونکہ پڑپوتا اپنے درجے کی پوتی یعنی پڑپوتی کو بھی عصبہ بنالیتا ہے جو پوتی سے نچلے درجہ کی ہوتی ہے اس لئے پڑپوتا اپنے سے اعلی درجے کی پوتی کو بدرجہ اولی عصبہ بناسکتا ہے۔
یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ پوتی اپنے درجے سے نیچےکے پوتے یعنی پڑپوتے وغیرہ کے ساتھ عصبہ تبھی بنتی ہے جب اسے اس کی حاجت ہو ، اور ایسا اس صورت میں ہوگا جب اوپر کی بیٹیوں کو ثلثین مل چکا ہو تو اب چونکہ فرض میں سے پوتی کو ملنے کے لئے کچھ بچا نہیں ، اس لئے وہ فرضا نہیں پاسکتی ،لیکن عصبہ بن سکتی ہے لہٰذا نچلے درجے کا بھی کوئی پوتا موجود رہا تو یہ اس حالت میں اس کے ساتھ بھی عصبہ بن جائے گی ۔
مثال:
ایک شخص فوت ہوا اور وارثین میں دو بنت ، اور بنت الابن اور ابن ابن الابن ہو تو:
Screenshot_9.jpg

دونوں بیٹیوں کو ثلثین ملے گا اور بنت الابن یہ اپنے درجے سے نچلے پوتے ابن ابن الابن (پڑپوتے) کے ساتھ بھی عصبہ بن جائے گی اور یہ دونوں لذکر مثل حظ الانثین کے تحت باقی مال لیں گے۔
لیکن پوتی کے اوپر کی بیٹیوں پر ثلثین ختم نہ ہوا تو ایسی صورت میں پوتی فرضا حصہ پانے کی حالت میں رہتی ہے لہٰذا ایسی صورت میں اسے نچلے درجے کے پوتے کے ساتھ عصبہ بننے کی حاجت نہیں ہے۔
مثلا ایک شخص فوت ہوا اور وارثین میں بنت الابن اور ابن ابن الابن ہو تو:
Screenshot_10.jpg

اس صورت میں بنت الابن کو اپنے نچلے درجہ کے پوتے کے ساتھ عصبہ بننے کی حاجت نہیں ہے کیونکہ وہ بذات خود فرض کی حیثیت سے نصف مال کی مستحق ہورہی ہے لہٰذا وہ نصف مال لے گی اور جو بچے گا وہ نچلے درجے کے پوتے کو ملے گا۔
اسی طرح اگرایک شخص فوت ہوا اور وارثین میں بنت ، بنت الابن اور ابن ابن الابن ہو تو:
Screenshot_11.jpg

اس صورت میں بنت کو نصف ملے گا اور بنت الابن کو فرضا سدس ملے گا جس کی وضاحت آگے آرہی ہے لہٰذا اس صورت میں بھی پوتی عصبہ بننے کی محتاج نہیں ہے لہٰذا وہ سدس لے گی اور باقی مال نچلے درجے کے پوتے کو ملے گا۔
خلاصہ یہ کہ بنت الابن عام حالات میں اپنے درجے کے پوتے ہی کے ساتھ عصبہ بالغیر بنے گی لیکن جب اوپر کی بیٹیوں کو ثلیثین مل جائے اور فرض میں سے اس کے لئے کچھ نہ بچے تو ایسی صورت میں یہ اپنے نچلے درجے کے پوتے کے ساتھ بھی عصبہ بن جاتی ہے۔

القریب المبارک اور القریب المشئوم:
پوتی جب اپنے درجے سے نیچے والے پوتے کے ساتھ عصبہ بنتی ہے تو ایسے پوتے کو القریب المبارک کہتے ہیں کیونکہ اس صورت میں اگر یہ نہ ہوتا تو پوتی کو کچھ نہیں مل پاتا ۔
اور پوتی کے لئے پوتا کبھی فرائض کی اصطلاح میں منحوس ثابت ہوتا ہے کیونکہ وہ پوتی کو حصہ پانے سے محروم کردیتا ہے مثلا : ایک خاتون فوت ہوئی اور وارثین میں زوج ، بنت ، بنت الابن ، ام اور اب ہو تو:
Screenshot_12.jpg

ایسی صورت میں بنت الابن کو ثلثین کی تکمیل کے لئے سدس ملے گا ، لیکن ان وار ثین میں اگرابن الابن بھی ہو تو بنت الابن سدس سے محروم ہوجائے گی :
Screenshot_13.jpg

کیونکہ اس صورت میں اسے لازمی طور پر ابن الابن کے ساتھ عصبہ بالغیر بننا ہوگا اور باقی بچا مال ان کو ملے گا۔ لیکن اس حالت میں کچھ باقی بچے گا ہی نہیں اس لئے یہاں ابن الابن خود تو محروم رہا ہی ساتھ میں بنت الابن کو بھی محروم کرڈالا اس لئے فرائض کی اصطلاح میں یہ منحوس ثابت ہوا ۔

پوتی اور پڑپوتی کا ایک ساتھ عصبہ بننا :
ایک شخص فوت ہوا وارثین میں دو بیٹیاِں ایک پوتی اور ایک پڑپوتا اور ایک پڑپوتی ہے ۔
Screenshot_14.jpg

دو بیٹیوں کو ثلثین ملے گا ۔چونکہ دونوں بیٹوں پر فرض ثلثین ختم ہوچکا ہے اس لئے بعد کی بنات کے لئے فرضا کچھ نہیں بچا لیکن اس مثال میں پڑپوتا ہے جو عصبہ ہے اور اپنی بہن پڑپوتی کو بھی عصبہ بنارہا ہے ، لیکن چونکہ ساتھ میں پڑپوتی سے اوپر پوتی بھی موجود ہے لہٰذا یہ بھی ساتھ میں عصبہ بن جائے گی ۔
اصل مسئلہ 3 ہوگا دو حصہ دونوں بیٹوں کو ملے گا باقی ایک حصہ پڑپوتے ، پڑپوتی اور پوتی کو ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ کے تحت ملے گا۔یعنی اس ایک کو چار حصوں میں بانٹ کو دو حصہ پڑپوتے کو اور ایک ایک حصہ پڑپوتی اور پوتی کو دیا جائے گا۔
نوٹ:-
پوتی میت کے کسی بھی پوتے کے ساتھ عصبہ بن سکتی ہے خواہ وہ پوتا اس کا سگا بھائی ہو چچے زاد بھائی ہو۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,776
پوائنٹ
722
✿ تیسری حالت:سدس(1/6):
قرآن نے بنات(میت کی بیٹیوں ) میں تعدد کی صورت میں ان کا فرض ثلثین متعین کیا ہے ، لہٰذا اگر بنت الابن کے اوپر کی بنت کو فرضا نصف مل جائے، تو ایک سے زائد بنات کو ملنے والے ثلثین میں سے صرف تین سدس دیا گیا اور ایک سدس فرض باقی بچ گیا ،تو اسے دور کی بنت الابن کو دے دیا جائے گا تاکہ بنات کا فرض ثلثین مکمل بنات تک پہنچ جائے۔ اسی لئے اس حالت میں بنت الابن کو سدس دینے کی وجہ تکملۃ الثلثین بتلائی گئی ہے۔
مثلا کسی میت کے وارثین میں ایک بنت ، ایک بنت الابن ، اب ، اور ام ہوں تو:
Screenshot_1.jpg

ام کو سدس ملے گا ، اب کو سدس ملے گا ، بنت کو نصف ملے گا ، بنت الابن کو بھی بنات کا حصہ ثلثین مکمل کرنے کے لئے سدس دیا جائے گا اس طرح دونوں بنات (بنت اور بنت الابن) کا مجموعہ (نصف+سدس) ثلثین ہوجائے گا۔
نوٹ:-
ثلثین میں کل چار سدس ہوتے ہیں اور نصف میں کل تین سدس ہوتے ہیں ۔ثلثین یعنی چار سدس میں سے نصف یعنی تین سدس نکال دیں تو باقی ایک سدس بچتا ہے ۔
مثال کے طور 60 کی عدد لے کر ہم اس کے سدس ، ثلث ، ثلثین اور نصف کی مقدار دیکھتے ہیں:
60 روپے کا ایک سدس 10 روپے ہیں ۔
60 روپے کا ایک ثلث 20 روپے ہے یعنی دو ثلث (ثلثین ) 40 روپے ہیں ۔
60 روپے کانصف 30 روپے ہیں ۔
یعنی 60 کے ثلثین 40 روپے میں کل چار سدس ہیں (10+10+10+10)
اور 60 کے نصف 30 روپے میں کل تین سدس ہیں ۔(10+10+10)
اگر ہم ثلثین 40 روپے (یعنی چار سدس) میں سے نصف 30 (یعنی تین سدس) نکال دیں تو باقی 10 روپے یعنی ایک سدس بچتا ہے۔
Screenshot_2.jpg


سدس(1/6) ملنے کی شرطیں:
پوتی کو سدس ملنے کی شرط یہ ہے کہ پوتی کا حاجب یا عاصب نہ ہو اورپوتی سے اوپر کے درجہ میں نصف کی حقدار بیٹی ہو ۔اس حالت میں جیسا کہ واضح کیا گیا کہ بیٹی سے اوپر خاتون کو نصف ملتا ہے یعنی ثلثین مکمل ہونے میں سدس باقی ہے تو یہ سدس پوتی کو دیکر بنات کا فرض حصہ ثلثین مکمل کردیا جاتا ہے۔
دلیل:
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے بیٹی، پوتی اور بہن کی میراث کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بیٹی کو آدھا ملے گا اور بہن کو آدھا ملے گا اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے یہاں جاؤ، شاید وہ بھی یہی بتائیں گے۔ پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی بات بھی پہنچائی گئی تو انہوں نے کہا کہ میں اگر ایسا فتویٰ دوں تو غلطی کربیٹھوں گا۔ میں تو اس میں وہی فیصلہ کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا کہ بیٹی کو آدھا ملے گا، پوتی کو چھٹا حصہ ملے گا تاکہ خواتین کا حصہ ثلثین مکمل ہوجائے اور پھر جو باقی بچے گا وہ بہن کو ملے گا۔ پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بات ان تک پہنچائی تو انہوں نے کہا کہ جب تک یہ عالم تم میں موجود ہیں مجھ سے مسائل نہ پوچھا کرو۔(صحیح بخاری رقم6736)

✿ چوتھی حالت:ثلثین(2/3) :
پوتی کے ساتھ اضافی دو حالتوں (کچھ نہ پانے اورتکملۃ الثلثین کے تحت پانے) میں سے کوئی نہ ہو یعنی سرے سے فرع وارث اعلی مذکر یا مؤنث موجود ہی نہ ہو تو پھر پوتی کی حالت پوری طرح سے بیٹی ہی کی طرح ہوتی ہے لہٰذا اگر پوتی کا عاصب نہ ہو تو ایک سے زائد ہونے کی صورت میں (یعنی فروع میں صرف پوتیاں ہونے کی صورت میں) انہیں ثلثین ملے گا۔
دلیل:
دلیل وہی ہے جو بیٹیوں کو ثلثین ملنے کی دلیل ہے کیونکہ بیٹے اور بیٹیوں کی عدم موجودگی میں نص کا عموم اسے بھی شامل ہے۔
Screenshot_3.jpg


✿ پانچویں حالت:نصف(1/2):
اگرپوتی کے ساتھ مذکورہ صورتوں میں سے کوئی صورت نہ ہو یعنی فروع میں صرف اکیلی پوتی ہی ہو تو یہ پوری طرح اکلوتی بیٹی کی طرح ہوکرنصف پاتی ہے۔
دلیل :
دلیل وہی ہے جو اکلوتی بیٹی کو نصف ملنے کی دلیل ہے کیونکہ بیٹی کی عدم موجودگی میں نص کا عموم اسے بھی شامل ہے۔
Screenshot_4.jpg

نوٹ:-
مسلسل بیٹوں کی نسل کے بعد جب بھی کوئی لڑکی آئے وہ میت کی پوتی شمار ہوگی اور مذکورہ پانچ حالتوں میں سے اس کی کوئی ایک حالت ہوگی۔

مشق:
٭ زوج ، ابن الابن ، بنت الابن
٭ زوجہ ، ٢/بنات الابن ، اخ شقیق
٭ زوج ، بنت الابن ، اخ لاب ، اخ لام
٭ زوج ، بنت ، بنت الابن ، ابن ابن الابن
٭ زوجہ ، ٢/بنت ، بنت الابن ، ابن ابن الابن
٭زوج ، بنت ، بنت الابن ، بنت ابن الابن ، ابن ابن الابن
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,776
پوائنٹ
722
باب سوم: اصول کے حصے


أب(باپ) کا حصہ

حالات:
1: سدس(1/6) :- فرع وارث مذکر (بیٹا یا پوتا) موجود ہو۔
2: سدس(1/6)+باقی :- فرع وارث میں صرف مؤنث (بیٹی یا بیٹیاں، پوتی یا پوتیاں) ہوں۔
3: باقی :- بالا صورتوں میں سے کوئی صورت نہ ہو۔
Screenshot_1.jpg

وضاحت:
باپ کی اصلا ایک ہی حالت ہے کہ اسے صاحب فرض کی حیثیت سے سدس ملے جیساکہ قرآن میں ہے اوراکثر باپ کی یہی حالت ہوتی ہے، لیکن باپ کی موجودگی میں جب وارثین کو ان کے حق کے مطابق حصے دینے کے بعد کچھ بچ جاتا ہے تو وہ باپ کو ہی عصبہ کی حیثیت سے ملتا ہے ، اور باقی بچنے کی صورت الگ الگ ہوتی اس لئے اسی اعتبار سے باپ حصے کی مزید دوحالتیں ہوتی ہیں، یعنی اس کی کل تین حالتیں ہوجاتی ہیں:

✿ پہلی حالت:سدس (1/6) :
سدس ملنے کی شرط:
أب(باپ) کو سدس ملنے کی شرط یہ ہے کہ فرع وارث مذکر یعنی ابن (بیٹا) موجود ہو قطع نظر اس کے کہ فرع وارث مؤنث بھی موجود ہے یا نہیں ۔
دلیل:
﴿وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ﴾
اور میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لئے اس کے چھوڑے ہوئے مال کا چھٹا حصہ ہے، اگر اس (میت) کی اولاد ہو[النساء: 11]
صرف سدس ملنے کی توجیہ:
فرع وارث مذکر( یعنی بیٹا یا پوتا) کی موجودگی میں باپ کو صرف سدس ہی کیوں ملتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ فرع وارث مذکر عصبہ ہوتا ہے یعنی باقی بچا ہوا سارا مال اسی کو ملتا ہے ، اگرفرع مذکر تنہا ہوگا تو سارا باقی مال اسی کو ملے گا اور اگر فرع وارث مؤنث (یعنی بیٹی یا پوتی )کے ساتھ ہوگا تو باقی سارا مال انہیں دونوں کو ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ کے تحت ملے گا۔لہٰذا اس حالت میں أب(باپ ) کو مزید کچھ ملنے کی گنجائش نہیں ہے۔اس لئے اسے سدس کے علاوہ کچھ اور نہیں مل سکتا۔
Screenshot_1.jpg


✿ دوسری حالت: سدس+باقی:
أب(باپ) کو کبھی کبھی سدس کے ساتھ مزید وہ مال بھی مل جاتا ہے جو وارثین میں ان کے حصے کے مطابق بانٹے کے بعد باقی بچ جاتا ہے۔یعنی اسے صاحب فرض اور عصبہ دونوں حیثیت سے ایک ساتھ ملتا ہے۔
واضح رہے کہ اس حالت میں باقی مال أب(باپ) کو تبھی ملے گا جب دیگر وارثین کو ان کے حصے دینے کے بعد کچھ بچ جائے ، لیکن بسااوقات دیگر وارثین پر مال ختم ہوجاتا ہے اور کچھ باقی بچتا ہی نہیں ایسی صورت میں أب(باپ) کو صرف اپنے حصے سدس پر ہی بس کرنا پڑتا ہے۔
سدس +باقی ملنے کی شرط:
أب(باپ) کو سدس+باقی ملنے کی شرط یہ ہے کہ فرع وارث میں صرف مؤنث فرع وارث (یعنی بیٹی یا پوتی )ہو اورفرع وارث مذکر(یعنی بیٹا یا پوتا) موجود نہ ہو ۔
دلیل:
سدس ملنے کی دلیل گذرچکی ہے اوراس کے ساتھ باقی ملنے کی دلیل حدیث عصبہ ہے ۔

سدس+باقی ملنے کی توجیہ:
فرع وارث میں صرف مؤنث (یعنی بیٹی یا پوتی )ہی ہو تو أب(باپ) کو سدس کے ساتھ باقی بھی ملنے کی وجہ یہ ہے کہ مؤنث فرع وارث بیٹی کو زیادہ سے زیادہ نصف ہی مل سکتا ہے اس سے زائد نہیں ۔لہٰذا بیٹی کو نصف دینے کے بعد پورا نصف دیگر وارثین کے لئے ہوتا اورچونکہ فروع کے علاوہ دیگر وارثین کے حصے بہت کم مقدار کے ہوتے ہیں اس لئے اگردیگر وارثین زیادہ نہ ہوں تو دیگر وارثین میں مال بانٹے کے بعد بھی کچھ بچ جاتا ہے پھر یہ بچا ہوا مال باپ ہی کو لوٹایا جاتا ہے۔
Screenshot_2.jpg

باقی مال صرف أب(باپ) ہی کو کیوں ؟

اس کی وجہ ماقبل میں مذکور حدیث ہے کہ اصحاب الفروض کو دینے کے بعد باقی مال سب سے قریبی مذکر وارث کو دیا جائے ،چونکہ میت کے بیٹے کے نہ ہونے کے سبب ہی مال میں سے کچھ باقی بچتا ہے اس لئے بیٹے کی عدم موجودگی میں مذکروارثین میں باپ سے زیادہ میت کا کوئی قریبی وارث نہیں ہوتا لہٰذا باقی مال اسی کو ملتا ہے۔
کبھی کبھار باقی نہ بچنے کی وجہ:
کبھی کبھار أب(باپ) باقی مال کا مستحق ہوتا ہے لیکن اسے باقی اس لئے نہیں مل پاتا کیونکہ دیگر وارثین پر سارا مال ختم ہوچکا ہوتا ہے اور کچھ باقی بچتا ہی نہیں۔
ایسا تب ہوتا ہے جب فرع وارث مؤنث کے علاوہ دیگر وارثین زیادہ ہوں تو ان کی کثرت کی وجہ سے فرع مؤنث(بیٹی یاپوتی) کو نصف(آدھا) دینے کے بعد جو دوسرا نصف(آدھا) ہوتا ہے وہ کثیر تعداد میں تقسیم ہوکر ختم ہوجاتا ہے ،بلکہ بسا اوقات کم بھی پڑ جاتا ہے جسے عول کہتے ہیں جس کی تفصیل آگے آئے گی ۔مثالیں:
Screenshot_3.jpg


✿ تیسری حالت: صرف باقی :
أب (باپ) کو کبھی باقی شدہ سارا مال ملتا ہے ۔بشرطیہ کہ وارثین کو ان کے حصے دینے کے بعد کچھ بچ جائے۔
باقی ملنے کی شرط:
اگر مذکورہ صورتوں میں سے کوئی صورت نہ ہو ، یعنی سرے سے فرع وارث (بیٹا یا بیٹی ) موجود ہی نہ ہو تو ایسی حالت میں باقی بچا مال پوار أب(باپ) کے ملے گا۔
دلیل :
اس کی دلیل حدیث عصبہ ہے۔
باقی ملنے کی توجیہ:
اس حالت میں أب(باپ) طے شدہ حصہ نہیں پاتا اس لئے جب مال باقی بچ جاتا ہے تو حدیث عصبہ کے تحت باقی مال اسے ہی مل جاتا ہے۔
Screenshot_4.jpg


مسئلہ عمریہ کی تشریح:
باپ کو باقی ملنے کی ایک حالت اور ہے جو مختلف فیہ ہے۔
وہ یہ کہ کسی میت کے وارثین میں صرف شریک حیات (شوہر یا بیوی) کے ساتھ والدین(باپ اورماں) ہوں اور ان کے علاوہ مزید کوئی وارث نہ ہو(یامزید وارث ہو تو محجوب ہورہاہو،نیز اس کے سبب ماں کا حصہ ثلث سے کم نہ ہورہا ہو) ۔
مثلا:
٭ ایک مردفوت ہوااور اس کے وارثین میں اس کی بیوی اور اس کے والدین ہیں۔
قرآن کے اصول سے اس مسئلہ میں بیوی کو'' ربع'' ملے گا، ماں کو'' ثلث ''ملے گا اور ''باقی'' باپ کو ملے گا۔
٭یا ایک عورت فوت ہوئی اس کے وارثین میں اس کا شوہر اور اس کے والدین ہیں۔
قرآن کے اصول سے اس مسئلہ میں شوہرکو''نصف'' ملے گا، ماں کو ''ثلث ''ملے گا اور'' باقی'' باپ کو ملے گا۔
ان دونوں حالتوں میں ایک ہی طبقے میں مرد اور عورت کے اکٹھا ہونے کے باوجودمرد کو عورت کے دوگنا نہیں ملتا بلکہ مؤخرالذکر مثال میں تو عورت ہی کو مرد کے مقابل میں دوگنامل جاتاہے۔
اس لئے ان دونوں حالتوں میں بعض اہل علم کے نزدیک ماں کا ثلث حصہ ختم کرکے اسے باقی مال میں شامل کردیا جائے گا ، پھر باقی کل مال کے تین حصے کرکے دوحصے باپ کو ایک حصہ ماں کو دیاجائے گا۔یہ فیصلہ سب سے پہلے عمرفاروق tنے کیا تھا اس لئے اس مسئلہ کو ''مسئلہ عمریہ''کہاجاتاہے۔
جمہور نے اسی قول کو اختیار کیا ہے مگر ابن عباسt نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے قرآن سے ثابت شدہ مسئلہ ہی کو درست کہا ہے(مصنف ابن أبی شیبة:١١ /٢٤٢ وسنادہ صحیح) نیزحدیث عصبہ بھی ابن عباس tکے موقف کی تائید کرتی ہے اہل ظاہر نے ابن عباسtکے قول ہی کو اختیار کیا ہے بلکہ امام ابن حزم a نے ابن عباسt کی تائید کرتے ہوئے مخالفین پر زبردست ردکیاہے۔
بعض اہل علم نے مسئلہ عمریہ کوقرآن ہی سے اس طرح ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ قرآن نے ماں کے ثلث پانے کی یہ شرط لگائی ہے کہ جب میت کی اولاد نہ ہو اوروالدین وارث ہوتے ہوں تبھی ماں کو ثلث مل سکتا ہے،ورنہ والدین کی قید بے معنی ہوجائے گی ۔
لیکن یہ استدلال اس لئے غلط ہے کہ باپ کے نہ ہوتے ہوئے صرف ماںاور بھائی کی صورت میں بھی ماں کو ثلث دینے پر سب کا اتفاق ہے ،رہی بات والدین کے قیدکی تو یہ قید نہیں بلکہ اولاد کی عدم موجودگی میں والدین کے حصوں کا بیان ہے ، جس طرح اس سے پہلے اولاد کی موجودگی میں والدین کا حصہ سدس بتایا گیا ہے ،ٹھیک اسی طرح یہاں اولاد کی عدم موجودگی میں والدین کا حصہ اس طرح بتایاگیا کہ ماں کوثلث ملے گا بشرطیہ کہ اخوہ نہ ہوں اور باپ بھی وارث ہوگا ،یعنی اسے باقی ملے گا،جیساکہ حدیث عصبہ بھی اسی پر دلالت کرتی ہے۔لہٰذا یہ الفاظ زائد نہیں ہیں بلکہ ان کے ذریعہ اولاد کے نہ ہونے کی صورت میں والدین میں سے ہر ایک کاحصہ بتایاگیاہے، یعنی دریں صورت ماں کا حصہ فرضی'' ثلث'' اور باپ کا حصہ عصبی ''باقی'' بتایاگیاہے۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,776
پوائنٹ
722
أبو الاب(دادا) کا حصہ


حالات:
1: محجوب بالأب:- (باپ ہو تو کچھ نہیں ملے گا)
2: سدس(1/6) :- فرع وارث مذکر (بیٹا) موجود ہو۔
3: سدس(1/6)+باقی :- فرع وارث میں صرف مؤنث (بیٹی یا بیٹیاں) ہوں۔
4: باقی :- بالا صورتوں میں سے کوئی صورت نہ ہو۔
Screenshot_5.jpg

وضاحت:
باپ کی عدم موجودگی میں، باپ ہی کا حصہ دادا کو دیا جاتا ہے، اس لئے دادا کے حصے کی صورتیں مع دلائل باپ جیسی ہی ہیں ؛اور جب باپ موجود ہوگا تو دادا محجوب ہوجائے گا➊۔
باپ کی نسل، مذکر کے تسلسل کے ساتھ جس قدر بھی دورجائے ، سب أب کے مفہوم میں شامل ہوں گے؛ نیز حدیث عصبہ کے تحت عصبہ میں شامل ہوں گے؛ اور اپنے سے اقرب کی عدم موجودگی میں وارث بنیں گے ۔
باپ کی اس اوپری نسل کو'' جد صحیح ''کہتے ہیں، یعنی وہ دادا جس کے میت تک رشتہ میں کوئی مؤنث نہ آئے ؛اور جس دادا کے میت تک رشتہ میں مؤنث آجائے اسے جد فاسد کہتے ہیں۔
جد فاسد وارث کیوں نہیں ہوتا؟
دراصل جد صحیح (أبوالأب) میت کے أب (باپ) کے مفہوم میں شامل ہوتا ہے جبکہ جد فاسد پر میت کے أب(باپ) کا اطلاق نہیں ہوپاتا اس لئے وہ أب کے مفہوم میں شامل نہیں ہوسکتا لہٰذا وہ وارث نہیں ہوتا۔
Screenshot_6.jpg

#####################################
➊ قائلین مسئلہ عمریہ کی نظر میں دادا کے حصہ میں مسئلہ عمریہ کی کوئی صورت نہیں ہوگی ،کیونکہ اس طبقے میں اگراس کے بالمقابل جدہ ہے، تو اس کا حصہ صرف سدس ہے جو دادا سے زائد نہیں ہوسکتا ؛اوراگردادا کے ساتھ ثلث پانے والی أم (ماں)ہے، تو چونکہ دادا اس کا ہم طبقہ نہیں ہے ،بلکہ أم سے أبعد ہے؛لہٰذا أم کو خود سے زائد یعنی ثلث پانے سے روک نہیں سکتا۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,776
پوائنٹ
722
أم(ماں) کا حصہ

حالات:
1: سدس(1/6) :-فرع وارث مطلق یا جمع من الاخوۃ ہوں۔
2:ثلث(1/3):- فرع وارث مطلقا نہ ہو اور جمع من الاخوۃ نہ ہوں
Screenshot_1.jpg

وضاحت:
ماں کو عام طور پر باپ کی طرح صاحب فرض کی حیثیت سے سدس ہی ملتا ہے، لیکن جب میت کی کوئی اولاد نہ ہو، تو ماں کے حصہ کی مقدار سدس سے بڑھا کر ثلث کردی گئی ہے؛ اور باقی سارے مال کا حقدار باپ کو قراردیا گیا ہے۔
نیزاگر میت کی کوئی اولاد نہ ہو لیکن میت کے بھائی بہن ایک سے زائد ہوں ، خواہ دوبھائی ہوں ، یا دوبہن ہوں ، یا ایک بھائی ایک بہن ہوں،نیز یہ بھائی یا بہن ،کسی بھی قسم سے ہوں یعنی سگے ہوں یا باپ شریک ہوں یا ماں شریک ہوں ،بہرصورت اگر بھائی بہن کی تعداد ایک سے زائد ہوگی تو اس صورت میں بھی ماں کا حصہ سدس ہی رکھا گیا ہے۔

✿ پہلی حالت:سدس (1/6) :
سدس ملنے کی شرط:
أم(ماں )کو سدس ملنے کی شرط یہ ہے کہ:
فرع وارث مطلق ہو یعنی فروع میں کوئی بھی مذکر یا مؤنث ہو۔ یا جمع من الاخوۃ ہوں یعنی کسی بھی جہت (سگے یا سوتیلے)بھائی بہنوں میں سے ایک سے زائد لوگ ہوں خواہ یہ سب بھائی ہوں یا سب بہن ہوں یا دونوں مل کرہوں۔
دلیل:
﴿وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ﴾
اور میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لئے اس کے چھوڑے ہوئے مال کا چھٹا حصہ ہے، اگر اس (میت) کی اولاد ہو[النساء: 11]
﴿فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ﴾
اگر میت کے کئی بھائی ہوں تو پھر اس کی ماں کا چھٹا حصہ ہے[النساء: 11]
اس آیت میں اخوہ کا لفظ عام ہے جو ہرجہت کے مذکرومؤنث سب کو شامل ہے۔
Screenshot_2.jpg

Screenshot_3.jpg

تنبیہ:

ماں اگراس وجہ سے سدس پارہی ہے کہ، میت کے بھائی بہنوں میں سے ایک سے زائد ہیں، تو ایسی صورت میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ، بھائی بہنو ں میں سے کوئی ایک ہی وارث بن رہاہو، اور باقی محجوب ہورہے ہوں؛ یاسارے بھائی بہن محجوب ہورہے ہوں؛ لیکن اپنے تعدد کے سبب، ماں کے حصہ کو سدس بناتے ہوں،جیساکہ اوپر کی بعض مثالوں میں ہے۔اس لئے ماں کو حصہ دیتے وقت، اگر بھائی بہن محجوب ہورہے ہوں؛ توبھی انہیں وارثین کی فہرست میں رکھنا چاہئے، تاکہ ماں کا حصہ طے کرنے میں غلطی نہ ہو ۔
یہاں کسی کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ میت کی اولاد بھی نہیں ہے، اور ایک سے زائد بھائی بھی حصہ نہیں پارہے ہیں ،اس لئے ماں کو ثلث دے دیا جائے ۔کیونکہ قرآن نے محض بھائی بہنوں میں ایک سے زائد کے وجود ہی پر ،ماں کا حصہ سدس بتلایا ہے؛ لہٰذا ایسی صورت میں ماں کو ثلث نہیں، بلکہ سدس ہی دیا جائے گا۔

✿ دوسری حالت: ثلث(1/3):
ثلث پانے کی شرط:
أم(ماں) کو ثلث اس وقت دیا جائے گا جب میت کی سرے سے کوئی اولاد نہ ہو اور نہ جمع من الاخوہ ہوں یعنی کسی بھی جہت (سگے یا سوتیلے) سے بھائی بہنوں میں ایک سے زائد لوگ نہ ہوں ۔نیز وارثین کا مسئلہ عمریہ نہ ہو یعنی وارثین میں صرف شریک حیات اوروالدین ہی نہ ہوں۔
دلیل:
{فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ}
اگر اولاد نہ ہو اور ماں باپ وارث ہوتے ہوں تو اس کی ماں کے لئے تیسرا حصہ ہے، ہاں اگر میت کے کئی بھائی ہوں تو پھر اس کی ماں کا چھٹا حصہ ہے۔ [النساء: 11]
Screenshot_4.jpg


نوٹ:-مسئلہ عمریہ میں ماں کی ایک تیسری حالت ہوتی ہے جو مختلف فیہ ہے اس کی وضاحت ص(٦٩) پرحاشیہ میں ہوچکی ہے۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,776
پوائنٹ
722
جدہ صحیحہ(دادی ،یا نانی) کا حصہ

میت کے'' أب'' کی غیر موجودگی میں، اس کی جگہ میت کے'' أبوالأب'' کورکھا جاتا ہے؛لیکن میت کی'' أم'' کی غیرموجوگی میں، اس کی جگہ میت کی'' أم الأم'' یا'' أم الأب'' یعنی جدہ کو نہیں رکھا جاتا، اس کے کئی اسباب ہیں لیکن صرف اتناجان لینا کافی ہے کہ حدیث میں جدہ کا خصوصی حصہ ذکر ہے ،لہٰذا اس کا معاملہ الگ ہے۔
نوٹ:ـ
واضح رہے کہ بعض اہل علم اس بات کے بھی قائل ہیں کہ میت کی ماں کی عدم موجودگی میں میت کی جدہ،ماں کی جگہ لے لے گی یعنی ماں کی عدم موجودگی میں اس کاحصہ بالکل ماں کی طرح ہوگا یہ موقف رکھنے والے اہل علم جدہ کو سدس دینے والی روایت کو صحیح نہیں مانتے لیکن درست بات یہی ہے کہ جدہ کوسدس دینے والی روایت کم ازکم حسن ہے لہٰذا جدہ کا معاملہ حدیث کے مطابق الگ ہی ہوگا۔

حالات:
1: محجوب بالأم:- جب ماں یا قریب کی جدہ موجود ہو تو ایسی جدہ محجوب ہوگی۔
2: سدس(1/6) :- حاجب نہ ہویعنی ماں یا قریب کی جدہ موجود نہ ہو۔
Screenshot_5.jpg

وضاحت:
جدۃ لأب (دادی)یا جدۃ لأم(نانی) کا حصہ قرآن میں موجود نہیں ہے لیکن حدیث سے خاص دلیل موجود ہے کہ ماں کی عدم موجودگی میں نانی یا دادی کو سدس دیا جائے گا ۔
بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ:
أن النبي صلى الله عليه وسلم جعل للجدة السدس، إذا لم يكن دونها أم
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جدہ (نانی یادادی) کے لئے سدس (چھٹاحصہ) مقررکیا بشرطیکہ ماں موجود نہ ہو۔(سنن ابی داؤد رقم2895) یہ حدیث حسن لغیرہ ہے ۔
اس سلسلے کی روایات میں ضعف ہے لیکن تعدد طرق سے یہ روایات درجہ قبول تک پہنچ جاتی ہیں ان روایات كي سندوں پر تفصیلی بحث کی یہ کتاب متحمل نہیں ہے ۔

✿ پہلی حالت: محجوب:
اگرماں موجود ہو یاقریبی جدۃ موجود ہو تو ہرقسم کی جدہ محجوب ہوجائے گی جیساکہ اوپر صریح حدیث پیش کی جاچکی ہے۔مثالیں:
Screenshot_6.jpg

✿ دوسری حالت:
اگرماں موجود نہ ہو نہ قریبی جدہ موجود ہوتو ہرقسم کی جدہ کو سدس ملے گا جیساکہ اوپرصریح حدیث پیش کی جاچکی ہے،مثالیں:
Screenshot_7.jpg


جدۃ لأب میں حجب کا اختلاف:
جدہ لأب یعنی دادی ماں کی موجودگی میں محجوب ہوگی اس پر سب کا اتفاق ہے لیکن باپ کی موجودگی میں محجوب ہوگی یا نہیں اس بارے میں اختلاف ہے ۔
حجب کی بحث میں اصول واسطہ کی وضاحت گذرچکی ہے اس اصول کے مطابق باپ کی موجودگی میں جدہ لأب محجوب ہونی چاہے ۔اس بناپر بعض اہل علم کی رائے یہ کہ باپ کی موجوگی میں جدہ لأب (دادی) محجوب ہوگی۔
لیکن دیگراہل علم حجب کے اصول واسطہ سے جدۃ لأب کا بھی استثناء کرتے ہیں جس طرح اخوہ لأم کا استثناء کیا جاتا ہے۔
اور اس استثناء کی دلیل مذکورہ خاص حدیث ہے جس میں صرف ماں کی موجودگی میں جدہ کو محجوب قرار دیا گیا ہے۔لہٰذا اس خاص دلیل کی بناپر باپ دادی کو محجوب نہیں کرسکتا امام احمد رحمہ اللہ کا یہی موقف ہے اور یہی راجح ہے۔کیونکہ جب ہم نے خاص دلیل کی بناپر اخوہ لأم کو حجب کے اصول واسطہ سے مستثنی کیا ہے توخاص دلیل کی بناپر جدہ لأب کو بھی مستثنی کرنا چاہئے دونوں میں تفریق کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
دوسرے الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ امام احمد رحمہ اللہ کے موقف میں نص کو قیاس پر مقدم کیا گیا ہے جبکہ ان کے مخالفین کے موقف میں قیاس کو نص پر مقدم کیا گیا ہے اور یہ جائز نہیں کیونکہ نص کے ہوتے ہوئے قیاس کرنا درست نہیں ہے۔

ایک سے زائد جدات کا حصہ:
اگر ایک ساتھ ایک سے زائد جدات جمع ہوں جائیں مثلا ایک دادی ہو ایک نانی ہو تو سب کو الگ الگ سدس نہیں ملے گا بلکہ جدات کی پوری جماعت کو سدس ملے گا جو ان کے مابین برابر برابرتقسیم کیا جائے گا جیسے ایک سے زائد زوجات کے سلسلے میں ساری زوجات ایک ہی حصہ میں برابر کی شریک ہوتی ہیں ۔
اس کی دلیل ایک تو یہ ہے کہ بعض روایات میں ایسے ہی وارد ہے اور دوسری دلیل یہ کہ اس قسم میں مرد شامل نہیں ہوتا اس لئے یہ زوجات کی قبیل سے ہیں ۔

جدات کا تسلسل اور جدہ صحیحۃ:
جدۃ کی نسل جس قدربھی دور جائے گی سب وارث بنیں گی لیکن شرط یہ ہے کہ دور کی جدۃ ایسی ہو جس پر أم الأم یا أم الأب کا اطلاق ہوسکتا ہوایسی جدہ کو جدہ صحیحہ کہتے ہیں۔
جدۃ صحیحہ کی تعریف:
وہ جدہ کہ میت تک اس کے رشتہ میں جد فاسد نہ آئے۔
یا بالفاظ دیگر وہ جدۃ کہ میت تک اس کے رشتہ میں مذکر کے بعد مؤنث نہ آئے۔جیسے :
أم أم أم الأم
أم أم أم الأب
أم أب أب أب

جدہ فاسدۃ کی تعریف:
وہ جدہ کی میت تک اس کے رشتہ میں جد فاسد آجائے
یا بالفاظ دیگر میت تک اس کے رشتہ میں مذکر کے بعد مؤنث آجائے تو اسے جدہ فاسدہ کہتے ہیں۔
ماں کی نسل میں جدۃ فاسدہ کی مثال: أم أبی الأم
اس کے رشتہ میں جد فاسد (أبو الأم یعنی نانا) موجود ہے ۔دوسرے الفاظ میں کہہ سکتے ہیں کہ مذکر کے بعد مونث آگئی۔اس لئے پر أم الأم کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔
باپ کی نسل میں جدہ فاسدۃ کی مثال: أم أب أم الأب
اس کے رشتہ میں جد فاسد(أب أم الأب یعنی میت کے باپ کا نانا ) موجود ہے دوسرے الفاظ میں کہہ سکتے ہیں کہ مذکر کے بعد مؤنث آگئی اس لئے اس پر أم الأب کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔

جدۃ فاسدۃ وارث کیوں نہیں ہوتی ؟
دراصل حدیث میں جس جدۃ کا وارث ہونا ثابت ہے وہ میت کی ماں کی أم (ماں) ہے یا میت کے باپ کی أم( ماں) ہے ۔یعنی میت کے والد یا والدۃ کی أم(ماں) کا وارث ہونا ثابت ہے۔
اور جدۃ صحیحہ والد یا والدہ کی أم (ماں) کے مفہوم میں شامل ہے جبکہ جدۃ فاسدۃ پر میت کے والد یاوالدہ کی أم کا اطلاق نہیں ہوتا اس لئے وہ أم کے مفہوم میں شامل نہیں ہوسکتی ، لہٰذا وارث نہیں ہوتی۔

مشق:
٭ أب ، ابن ، بنت
٭ أب ، بنت ، أخ ش
٭ أب ، ابن ، أخ لأب
٭ أب ، أم ، ابن ، بنت
٭ أم ، ابن ، بنت
٭ أم ، بنت ، عم ش
٭زوج ، أب ، أم
٭ أم ، أبوالأب ، أم الأم
٭أم ، أبوالأب ، أم الأب
٭ أم لأم ، أم الأب، أخ ش
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,776
پوائنٹ
722
باب چہارم: حواشی کے حصے

اگرفروع یا اصول میں سے کوئی مذکر موجود ہوگا تو حواشی میں سے سب کے سب محجوب ہوجائیں گے ، یہ قاعدہ اچھی طرح ذہن میں بٹھا لیں ۔
شروع میں بتایا جاچکا ہے کہ گروپ حواشی میں دو گروہ ہیں ایک اخوہ کا دوسرا عمومۃ کا ، عمومہ کے گروہ میں کسی کو بھی فرضا حصہ نہیں ملتا بلکہ سب کو صرف عصبہ ہی کی حیثیت سے حصہ ملتا ہے ۔ اور اخوۃ گروہ سے مذکر میں سے صرف أخ لأم کو فرضا حصہ ملتا ہے اور مؤنث میں ساری خواتین کو فرضا حصہ ملتا ہے۔

حواشی کے حصوں پر بات کرنے سے پہلے مناسب ہے کہ ان آیات کا مفہوم سمجھ لیا جائے جن میں ہرقسم کے بھائی اور بہنوں کی میراث کا ذکر ہے ۔یہ کل دو آیات ہے اور دونوں میں ایک لفظ کلالہ ذکر ہے اس لئے ان آیات کو آیت کلالہ کہتے ہیں ۔
پہلی آیت:
﴿وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ﴾
اور جن کی میراث لی جاتی ہے وه مرد یا عورت کلالہ ہو یعنی اس کا باپ بیٹا نہ ہو۔ اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے اور اس سے زیاده ہوں تو ایک تہائی میں سب شریک ہیں[النساء: 12]
اس پہلی آیت میں جن بھائی اوربہنوں کا ذکر ہے ان سے بالاتفاق اخوہ لأم یعنی ماں شریک بھائی بہن مراد ہیں ۔
بلکہ سعدبن وقاص رضی اللہ عنہ یہ آیت پڑھتے تو﴿وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ﴾ کے بعد {لِأُمٍّ} پڑھتے تھے [سنن الدارمي 4/ 1945 واسنادہ صحیح]
بہرحال امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس آیت میں اخوہ لأم کا بیان ہے۔

دوسری آیت:
﴿قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا وَلَدٌ فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ وَإِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾
آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجیئے کہ اللہ تعالیٰ (خود) تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص مر جائے جس کی اولاد نہ ہو اور ایک بہن ہو تو اس کے لئے چھوڑے ہوئے مال کا آدھا حصہ ہے اور وه بھائی اس بہن کا وارث ہوگا اگر اس کے(مذکر ➊ ) اولاد نہ ہو۔ پس اگر بہنیں دو ہوں تو انہیں کل چھوڑے ہوئے کا دو تہائی ملے گا۔ اور اگر کئی شخص اس ناطے کے ہیں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کے لئے حصہ ہے مثل دو عورتوں کے [النساء: 176]
اس دوسری آیت میں جن بھائی اور بہنوں کاذکر ہےان سے باتفاق امت اخوہ لغیر أم یعنی سگے یا باپ شریک بھائی بہن مراد ہیں ۔
غور کیجئے کہ مذکورہ دونوں آیات میں دو الگ الگ قسم کے بھائی بہنوں کا ذکر ہے اوران دونوں کے حصوں کی نوعیت بھی الگ الگ ہے ، یعنی ان دونوں آیات میں بیان کئے گئے وارثین بھی الگ الگ ہیں اور ان کے حصے بھی الگ الگ ہیں ۔
لیکن دونوں آیات میں ایک بات مشترک یہ ہے کہ مؤرث یعنی میت کو کلالہ کہا گیا ہے۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دونوں آیات میں مؤرث (میت ) کی نوعیت ایک ہی ہے ۔
اب پہلی آیت دیکھیں تو مؤرث کو کلالہ تو کہا گیا ہے لیکن کلالہ کی کوئی نوعیت نہیں ذکر کی گئی ہے جبکہ دوسری آیت میں مؤرث کو کلالہ کہا گیا ہے اور اس کی یہ نوعیت ذکر ہے کہ ﴿لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ﴾ ، مورث کی اولاد نہیں ہوگی ۔اس سے ثابت ہوا کہ پہلی آیت میں مذکور مؤرث کی بھی کوئی اولاد نہیں ہوگی کیونکہ اسے بھی کلالہ کہاگیاہے۔
دونوں آیات کو ملا کر نتیجہ یہ نکلا کہ کسی بھی قسم کے بھائی یابہن کو تبھی حصہ ملے گا جب ان کا مؤرث کلالہ ہو اور مؤرث کلالہ تب ہوگا جب مؤرث کی کوئی اولاد نہ ہو ۔
مطلب یہ ہوا کہ اگرکسی مؤرث کی اولاد ہے تو وہ کلالہ نہیں ہے لہٰذا ایسے مؤرث کے بھائی بہنوں کو کوئی حصہ نہیں ملے گا۔
دوسرے الفاظ میں یہ کہہ لیں کہ مؤرث کی اولاد (فروع مذکریامؤنث)، مؤرث کے بھائیوں اور بہنوں کو محجوب کردیتے ہیں ۔اسی سے حجب کے درج ذیل دو عمومی قواعد بنے ہیں:
قاعدہ نمبر(1):
فروع کا مذکر تمام بھائی بہنوں کو محجوب کردے گا۔
قاعدہ نمبر(2):
فروع کی مؤنث تمام بھائی بہنوں کو محجوب کردے گی۔
پہلا قاعدہ اپنے عموم پرباقی ہے ، لیکن دوسرے قاعدہ میں خاص احادیث(حدیث عصبہ ،حدیث ابن مسعود ➋ ) کے سبب اخوہ لغیرأم یعنی سگے اور باپ شریک بھائی بہن کے محجوب نہ ہونے کا استثناء ہے ، البتہ اخوہ لأم یعنی ماں شریک بھائی بہن کے لئے کوئی استثناء نہیں اس لئے یہ فرع مؤنث سے محجوب ہوں گے اس بناپر دوسرا عمومی قاعدہ ، خصوصی احادیث کی بناپر اس طرح بنا کہ :
قاعدہ نمبر(2):
فروع کی مؤنث اخوہ لأم یعنی ماں شریک بھائی بہن کو محجوب کردے گی۔

اتنی باتیں سمجھنے کے بعد اب آیات کلالہ میں دوسری آیت پردوبارہ غور کریں اس میں یہ الفاظ ہیں:
﴿وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ﴾(اور کلالہ کی ایک بہن ہو تو اس بہن کے لئے کلالہ کے چھوڑے ہوئے مال کا آدھا حصہ ہے)[النساء: 176]
ان الفاظ میں کلالہ کے مال میں کلالہ کی بہن کو نصف کا حقدار دار قراردیا گیا ہے ، اب اگر کلالہ کے ساتھ باپ کاوجود بھی مان لیں تو اس کا مطلب یہ ہوتاہے کہ باپ جیسے مضبوط وارث کے ساتھ ایسی حالت بھی آسکتی ہے کہ اسے کچھ بھی نہ ملے۔
مثلا اگر میت کے وارثین میں زوج ہو ، اب اوراخت شقیقہ ہو تو:
Screenshot_1.jpg

زوج کونصف ملے گا اور اخت شقیقہ کو نصف ملے گا ان دونوں پرپورا مال ختم ہوگیا اور اب (باپ) کے لئے کچھ بچا ہی نہیں ، غور کریں کہ باپ جسے میت کے سب سے قریبی وارث بیٹے کی موجودگی میں بھی سدس ملتا ہے بلکہ میت کی صرف بیٹی ہو تو اب کو سدس کے ساتھ باقی بھی ملتا ہے تو یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ جو میت کا اتنا قوی وارث ہو وہ میت کے سب سے قریبی وارث اولاد کے نہ ہونے کی صورت میں بھی محروم رہ جائے ؟
اس سے اشارہ ملتا ہے کہ بہن کو نصف ملنے کی صورت میں باپ کا وجود ہی نہیں ہے ۔معلوم ہوا کلالہ وہ میت ہوگا جس کا باپ بھی موجود نہ ہو ۔
امام ابن کثیر رحمہ اللہ یہی استدال کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
لأن الأخت لا يفرض لها النصف مع الوالد، کیونکہ باپ کی موجودگی میں بہن کا حصہ نصف نہیں ہوسکتا[تفسير ابن كثير / دار طيبة 2/ 484]
اس کے علاوہ اور بھی کچھ عمومی دلائل ہیں جن سے یہ مستنبط ہوتا ہے کہ کلالہ کا باپ بھی موجود نہ ہوگا ۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کلالہ کی یہی تفسیر ثابت ہے دیکھئے [سنن الدارمي 4/ 1945 واسنادہ صحیح]
عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ سے بھی یہی تفسیر ثابت ہے [السنن الكبرى للبيهقي، ط الهند: 6/ 224 واسنادہ صحیح]
اس کے برخلاف عمرفاروق رضی اللہ عنہ سے یا تو سکوت کا قول ثابت ہے یا مجمل قول ثابت ہے یعنی صرحتا اس کے خلاف کوئی بات عمرفاروق رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے۔
بلکہ اس مفہوم پر پوری امت نے اتفاق کرلیا ہے لہٰذا یہ مفہوم قطعی طور پر درست ہے ۔
اس روشنی میں حجب کا ایک تیسرا قاعدہ یہ نکلا کہ :
قاعدہ نمبر(3):
اصول کا مذکرمیت کے تمام بھائی بہن کو محجوب کردیں گے۔
اس تفصیل کے بعد حواشی کے حصوں کو دیکھئے۔
#####################################
➊ '' مذکر'' کی قیدخاص حدیث کے سبب ہے۔دیکھئے ،سنن الترمذی ،رقم٢٠٩٢والحدیث حسن۔
➋ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مطابق جب فرع مؤنث کے ساتھ'' اخت لغیر ام'' عصبہ مع الغیر بنتی ہے تو'' اخوہ لغیرام'' فرع مؤنث کی موجودگی میں بدرجہ اولی عصبہ بالنفس اور عصبہ بالغیر بن سکتے ہیں ۔
 
Top