• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دوسری شادی نہ کرنے کی شرط پیشگی منوانا

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,412
پوائنٹ
562
ایک اسلامی اسکالر کا کہنا ہے کہ نکاح دو فریقین کے درمیان ایک معاہدہ جیسا ہے۔ لہٰذا ایک لڑکی یا س کے گھر والوں کو یہ شرعی حق حاصل ہے کہ اگر وہ چاہیں تو نکاح نامے میں یہ ’’شرط‘‘ شامل کروا سکتے ہیں کہ لڑکا اس بیوی کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کرے گا۔ اور اگر لڑکا اس شرط کو مان لے تو پھر وہ اس بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی نہیں کرسکتا۔ موصوف کا کہنا ہے کہ شادی بیاہ میں فریقین اپنی پسند کی کوئی بھی شرط لکھوا سکتے ہیں بشرطیکہ وہ شرط کارفرائض سے روکنے اور کار حرام کو کرنے سے متعلق نہ ہو۔ چونکہ دوسری شادی کرنا فرض نہیں ہے، لہٰذا پہلی بیوی نکاح نامے میں یہ شرط شامل کرواسکتی ہے اور شوہر کے مان لینے کی صورت میں شوہر بیوی کی زندگی میں دوسری شادی نہ کرنے کا پابند ہوگا۔

کیا یہ شرط ایک جائز کام کو اپنے اوپر از خود حرام کرلینے کے مترادف نہیں ہے؟ کیا کوئی شخص (ہونے والی) بی وی کی فرمائش پر اپنے اوپر اس قسم کی پابندی لگا سکتا ہے ؟ مثلا" اگر کوئی لڑکی یہ کہے کہ مجھے شہد کی بو پسند نہیں لہٰذا شادی کے بعد تم شہد نہیں پیوگے تو کیا مرد اس شرط کو تسلیم کرکے اپنے اوپر شہد کو حرام کرسکتا ہے؟
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
السلام علیکم
شیخ خالد المشیقح اور شیخ سلمان العودۃ حفظہ اللہ تعالی نے یہ فتوی دیا ہے۔ فتوی کے الفاظ یہ ہیں:
اشتراط المرأة على زوجها عدم نكاح أخرىاجاب عليها فضيلة الشيخ أ.د. خالد المشيقح التاريخ 11/1/1425 السؤال هل يصح اشتراط عدم الزواج من ثانية إلا بعد إذن الأولى في عقد النكاح ؟

الجواب الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وبعد: يجوز للزوجة في عقد نكاحها أن تشترط على زوجها أن لا يتزوج عليها إلا بإذنها،وشرطها صحيح؛ لحديث عقبة بن عامر رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ( إن أحق الشروط أن توفوا به مااستحللتم به الفروج ) ،أخرجه البخاري ومسلم ، وأيضاً حديث أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (المسلمون على شروطهم )،أخرجه أبو داود والحاكم وسنده صحيح ، والله عز وجل يقول: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ) (المائدة: من الآية1) ويكون الزوج قد أسقط حقاً من حقوقه وهو التزوج بثانية ،ولا بأس أن يتنازل الزوج عن حق من حقوقه عند عقد النكاح.

العنوان اشتراط المرأة قبل العقد عدم الزواج عليها .
المجيب سلمان العودة
رقم السؤال 3610
التاريخ الاربعاء 03 جمادى الآخرة 1422 الموافق 22 أغسطس 2001
السؤال
هل يمكن للمرأة أن تطلب من زوجها عدم الزواج من زوجة ثانية ؟ هل يمكن أن تجعل ذلك شرطاً قبل الزواج بها ، وأنها لا تريده أن يتزوج امرأة أخرى ؟

الجواب

يمكن للمرأة أن تشترط على زوجها قبل العقد عدم الزواج عليها، والأصل في الشروط الجواز ما لم تخالف حكماً شرعياً أو تناقض مقتضى العقد، فلا يجوز للمرأة –مثلاً- أن تشترط على زوجها ألا يصلي مع الجماعة؛ لأن هذا يخالف حكماً شرعياً .ولا يجوز لها أن تشترط عليه ألا يجامعها مطلقاً؛ لأن هذا يخالف مقتضى العقد .كما لايجوز لها أن تشترط طلاق امرأة تزوجها قبلها؛ لأن في هذا إضراراً بالغير، ومخالفة للنص الشرعي "ولا تسأل المرأة طلاق أختها لتكتفئ صحفتها ولتنكح فإنما لها ما كتب الله لها" أخرجه البخاري (2723) ومسلم واللفظ له (1408) من حديث أبي هريرة – رضي الله عنه - واشتراط عدم الزواج عليها لا يخالف حكماً شرعيا؛ً لأن هذا من الأمور المباحة وهي لا تجادل في جوازه، وإنما تريد هذا لزوجها خاصة
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
اب اہل علم میں اختلاف یہ ہو گیا کہ کیا ایسی شرط لگانا کسی حلال کو حرام کرنے کے مترادف ہے یا نہیں؟
اہل علم کی ایک جماعت کا کہنا یہ ہے کہ ایسی شرط لگانا ایک حلال کو حرام کرنے کے مترادف ہے لہذا جائز نہیں ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاةَ أَزْوَاجِكَ
اور ایک روایت کے الفاظ ہیں:
إن الله قد أحل أشياء فلا تحرموها، وحرم أشياء فلا تحلوها
اللہ تعالی نے کچھ اشیاء کو حلال کیا ہے لہذا انہیں حرام نہ کرو اور کچھ کو حرام قرار دیا لہذا انہیں حلال نہ کرو۔

دوسری جماعت کا کہنا یہ ہے کہ ایسی شرط لگانا حلال کو حرام کرنے کے مترادف نہیں ہے کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دوسری شادی سے روکا تھا یعنی حضرت علی رضی اللہ کے لیے دوسری شادی حلال تھی لیکن آپ نے انہیں اس سے روکا اور فرمایا:
فقد أخرج الشيخان إِنَّ عَلِىَّ بْنَ أَبِى طَالِبٍ خَطَبَ ابْنَةَ أَبِى جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ - عَلَيْهَا السَّلاَمُ - فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَخْطُبُ النَّاسَ فِى ذَلِكَ عَلَى مِنْبَرِهِ هَذَا وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ فَقَالَ « إِنَّ فَاطِمَةَ مِنِّى ، وَأَنَا أَتَخَوَّفُ أَنْ تُفْتَنَ فِى دِينِهَا » . ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِى عَبْدِ شَمْسٍ ، فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِى مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ قَالَ « حَدَّثَنِى فَصَدَقَنِى ، وَوَعَدَنِى فَوَفَى لِى ، وَإِنِّى لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلاَلاً وَلاَ أُحِلُّ حَرَامًا ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لاَ تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ أَبَدًا »
فقوله - صلى الله عليه وسلم - "لست أحرم حلالاُ ولا أحل حراماً، ولكن والله لا تجتمع بنت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وبنت عدو الله أبداً" دليل على أنّ منع الرجل من التعدد ليس من تحريم ما أحل، بل منع لمصلحة تقررت حينها، ففعل الرسول - صلى الله عليه وسلم - من منع علي بن أبي طالب - رضي الله عنه - من الزواج بثانية إن أراد إبقاء فاطمة - رضي الله عنها - يدل على الجواز، وإن كان الجواز بعد العقد، أليس من باب أولى أن يجاز قبل العقد؟
پہلی جماعت کا کہنا یہ ہے کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے لہذا اس کو دلیل نہیں بنانا چاہیے۔
دوسری جماعت کا کہنا یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ لست أحرم حلالاُ ولا أحل حراماً، اس بات کی دلیل ہیں کہ عقد ثانی سے منع کرنا کسی حلال کو حرام ٹھہرانے کے مترادف نہیں ہے۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ بھی ایسی شرط کے لگانے کے جواز کے قائل ہیں۔
سئل شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله

عن رجل تزوج بامرأة وشرطت عليه أن لا يتزوج عليها ولا ينقلها من منزلها , وأن تكون عند أمها , فدخل على ذلك , فهل يلزمه الوفاء وإذا خالف هذه الشروط , فهل للزوجة الفسخ أم لا ؟
فأجاب : "نعم ، تصح هذه الشروط وما في معناها في مذهب الإمام أحمد وغيره من الصحابة والتابعين ; كعمر بن الخطاب , وعمرو بن العاص , وشريح القاضي , والأوزاعي , وإسحاق . ومذهب مالك إذا شرط لها إذا تزوج عليها أو تسرى أن يكون أمرها بيدها , أو رأيها ونحو ذلك صح هذا الشرط أيضا , وملكت المرأة الفرقة به , وهو في المعنى نحو مذهب أحمد , وذلك لما خرجاه في الصحيحين عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال : ( إن أحق الشروط أن توفوا به ما استحللتم به الفروج ) . وقال عمر بن الخطاب : (مقاطع الحقوق عند الشروط) , فجعل النبي صلى الله عليه وسلم ما تستحل به الفروج التي هي من الشروط أحق بالوفاء من غيره" انتهى
 
Top