• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دوسرے مسلک کی کتابیں دوسروں کو دینا ؟

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
السلام علیکم

کیا ہم اہلے حدیث کسی دوسرے مسلک کی کتابیں جیسے فضائل اعمال ،کنزل ایمان ، اشرف علی تھانوی صاحب کی کتابیں ،احمد رضا خان صاحب اور دوسری کتابیں دوسروں کو دے سکتے ہے؟
اور کیا اہلے حدیث علماء نے جو کتابیں لکھی ہے وہ غلطی سے پاک ہے؟

ولسلام
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
کیا ہم اہلے حدیث کسی دوسرے مسلک کی کتابیں جیسے فضائل اعمال ،کنزل ایمان ، اشرف علی تھانوی صاحب کی کتابیں ،احمد رضا خان صاحب اور دوسری کتابیں دوسروں کو دے سکتے ہے؟
کسی بھی مسلک کے اہل علم کی کتابیں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن ان لوگوں کے لیے جنہوں نے پہلے کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کر لیا ہو کیونکہ قیامت کے دن اس کا سوال تو ضرور ہو گا کہ کتاب اللہ اور اس کی تفسیر سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کیا تھا یا نہیں جبکہ دوسرے اہل علم کی کتابوں کے بارے یہ سوال نہ ہو گا۔ پس جس کو آپ مختلف مسالک کے علماء کی کتابیں دینا چاہتے ہیں، اگر تو اس نے کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کر لیا ہے تو اسے ضرور یہ کتابیں مطالعہ کے لیے دیں اور اگر اس نے کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ نہیں کیا ہے تو ایک مسلمان ہونے کے ناطے آپ کی اور اس کی پہلی ترجیح کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ کی ہونی چاہیے۔ کتاب اللہ میں مکمل قرآن مجید اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں کم ازکم صحاح ستہ کا مطالعہ کیا ہو۔
اور کیا اہلے حدیث علماء نے جو کتابیں لکھی ہے وہ غلطی سے پاک ہے؟
اہل حدیث علماء کا یہ دعوی نہیں ہے کہ ان کی کتب غلطیوں سے مبرا ہیں۔ وہ بھی انسان ہیں اور معصوم نہیں ہیں۔ ان سے بھی اجتہادی خطائیں ہوتی ہیں اور یقینا ہوتی ہیں۔ اسی لیے وہ آپس میں بھی ایک دوسرے سے مسائل میں اختلاف کرتے ہیں۔
 
Top