• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دو بیویوں کے درمیان عدل، پہلی بیوی کی ناراضی اور اس سے علیحدگی اختیار کرنے کا حکم

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
909
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
دو بیویوں کے درمیان عدل، پہلی بیوی کی ناراضی اور اس سے علیحدگی اختیار کرنے کا حکم


فتاوى عبر الأثير (( 16 ))
​

السؤال: أخ يقول لي زوجتان, والأولى بسبب زواجي عليها غضبت مني وتقول أنا متنازلة لضرتي ولا أريد أن تأتي إليَ, فهل يجوز له هجرها من باب التأديب لها؟

ایک بھائی کا کہنا ہے کہ میری دو بیویاں ہیں۔ دوسری شادی کرنے کی وجہ سے میری پہلی بیوی مجھ سے ناراض ہوگئی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ میں اپنی سوکن کے حق میں اپنا حق چھوڑتی ہوں اور نہیں چاہتی کہ تم میرے پاس آؤ۔ کیا اس کی تادیب اور اصلاح کی غرض سے اس سے علیحدگی اختیار کرنا جائز ہے؟

الجواب: لقد بينت في فتوى سابقة أن التعدد أمر مشروع قد أحله الله تعالى للرجل لحكم كثيرة, وأن الواجب على المرأة أن تخضع لشرع الله وتنقاد لحكمه وتسلم لأمره وأن تصبر وتسمع وتطيع زوجها وتحسن التبعل له, وفعل الأخت خطأ, بل الواجب عليها أن تراعي حق زوجها ولا يحق لها أن تطلب منه أن لا يأتيها, وعليها أن تعلم أنها بإغضاب زوجها تسخط الله عليها ولن يقبل الله منها صلاتها وعبادتها حتى تطيع زوجها وترضيه وتعطيه حقوقه.

میں ایک سابقہ فتویٰ میں واضح کر چکا ہوں کہ ایک سے زیادہ نکاح کرنا شریعت میں مشروع ہے، اور اللہ تعالیٰ نے متعدد حکمتوں کی بنا پر مرد کے لیے اسے حلال قرار دیا ہے۔ عورت پر واجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کے سامنے سر تسلیم خم کرے، اس کے حکم کی پیروی کرے، اس کے فیصلے کو قبول کرے، صبر سے کام لے، اپنے شوہر کی بات سنے، اس کی اطاعت کرے اور اس کے ساتھ حسن معاشرت اختیار کرے۔


اس خاتون کا یہ طرز عمل غلط ہے، بلکہ اس پر لازم ہے کہ اپنے شوہر کے حق کا خیال رکھے۔ اسے یہ حق نہیں کہ وہ اپنے شوہر سے مطالبہ کرے کہ وہ اس کے پاس نہ آئے۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اپنے شوہر کو ناراض کرکے وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لیتی ہے، اور جب تک وہ اپنے شوہر کی اطاعت نہ کرے، اسے راضی نہ کرے اور اس کے حقوق ادا نہ کرے، اللہ تعالیٰ اس کی نماز اور عبادت قبول نہیں فرمائے گا۔

قال صلى الله عليه وسلم: «ثَلَاثَةٌ لَا تُرْفَعُ صَلَاتُهُمْ فَوْقَ رُؤُوسِهِمْ شِبْرًا»، وذكر منهم «وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ»، ويقول صلى الله عليه وسلم: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا مِنْ رَجُلٍ يَدْعُو امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهَا فَتَأْبَى عَلَيْهِ إِلَّا كَانَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ سَاخِطًا عَلَيْهَا حَتَّى يَرْضَى عَنْهَا» رواه مسلم.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تین قسم کے لوگوں کی نماز ان کے سروں سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں اٹھائی جاتی۔‘‘ ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کا بھی ذکر فرمایا جو اس حال میں رات گزارے کہ اس کا شوہر اس سے ناراض ہو۔


نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب کوئی مرد اپنی بیوی کو اپنے بستر کی طرف بلائے اور وہ انکار کر دے، تو آسمان والا اس وقت تک اس عورت سے ناراض رہتا ہے، جب تک اس کا شوہر اس سے راضی نہ ہو جائے۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

أما بالنسبة للزوج فنقول له: أرفق بزوجتك الأولى ودارها وتودد لها في المعاملة, فإن الغيرة تكون شديدة في أول الأيام ثم تقل بعد فترة إذا أحسنت التصرف معها وأشعرتها بقيمتها لديك, وإذا تنازلت المرأة عن ليلتها لضرتها فذلك جائز ولا يلزم الزوجة أن يبيت عندها ولكن أنصحك أن لا تهجرها بل بت عندها في ليلتها, فإن أزعجتك فأهجرها داخل البيت ولا تبت ليلتها عند ضرتها حتى لو قالت لك أني متنازلة, لأن تنازلها بسبب غيرتها, فبت عندها في ليلتها وتلطف بها لعل الله أن يهديها فترجع إلى صوابها… والله أعلم.

جہاں تک شوہر کا تعلق ہے تو ہم اس سے کہتے ہیں کہ اپنی پہلی بیوی کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرو، اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ اور محبت و الفت کا اظہار کرو۔ بلاشبہ ابتدائی دنوں میں غیرت کی شدت زیادہ ہوتی ہے، لیکن کچھ عرصے بعد اس میں کمی آجاتی ہے، بشرطیکہ شوہر اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے اور اسے یہ احساس دلائے کہ اس کی نگاہ میں اس کی قدر و منزلت برقرار ہے۔


اگر کوئی عورت اپنی باری کی رات اپنی سوکن کو دے دے تو یہ جائز ہے، اور ایسی صورت میں شوہر پر لازم نہیں کہ وہ اس کی رات اس کے پاس گزارے۔

تاہم، میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی پہلی بیوی کو نظر انداز کرکے اس سے علیحدگی اختیار نہ کرو، بلکہ اس کی باری کی رات اسی کے پاس گزارو۔ اگر وہ تمہیں پریشان کرے تو گھر کے اندر اس سے علیحدگی اختیار کر سکتے ہو، لیکن اس کی باری کی رات اس کی سوکن کے پاس نہ گزارو، خواہ وہ تم سے کہے کہ میں نے اپنا حق چھوڑ دیا ہے؛ کیونکہ اس کا اپنا حق چھوڑنا غیرت کی وجہ سے ہے۔

لہٰذا اس کی باری کی رات اسی کے پاس رہو اور اس کے ساتھ نرمی و محبت کا برتاؤ کرو۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ہدایت دے گا اور وہ اپنی صحیح روش کی طرف لوٹ آئے گی۔

واللہ اعلم۔
 
Top