الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
سورۃ النساء کی آیت نمبر ٢٣ کے مطابق دو بہنوں کو ایک ساتھ اکٹھا نکاح میں رکھنا حرام ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب یہ دو بہنیں سوتیلی ہوں (جنہیں اکٹھا نکاح میں رکھا گیا ہے) تو اس پر کیا حکم ہو گا؟
وعلیکم السلام
سوتیلی بہنوں سے کیا مراد ہے:
اخیافی بہنیں یعنی جن کی ماں ایک ہو۔
علاتی بہنیں یعنی جن کا باپ ایک ہو۔
رضاعی بہنیں جو دودھ شریک ہوں۔
یا کچھ اور
کیونکہ ہمارے ہاں سوتیلی کا لفظ کئی ایک بہنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
جزاکم اللہ خیرا۔
ان دونوں قسم کی بہنوں کو نکاح میں ایک ساتھ جمع کرنا حرام ہے کیونکہ ارشاد باری تعالی ( وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الأُخْتَيْنِ إلا مَا قَدْ سَلَفَ ) عام ہے اور تینوں قسم کی بہنوں یعنی حقیقی، ماں شریک اور باپ شریک بہنوں کو جمع کرنے کو شامل ہے۔
مزید تفصیل کے لیے یہ عربی لنک ملاحظہ فرمائیں: موقع الإسلام سؤال وجواب - المحرمات من النساء بسبب القرابة
جہاں تک دو رضاعی بہنوں کو جمع کرنے کا معاملہ ہے تو جو رشتے نسب میں حرام ہیں وہ رضاعت میں بھی حرام ہیں جیسا کہ معروف روایت ہے: یحرم من الرضاع ما يحرم من النسب. رواه البخاري ومسلم.
مزید تفصیل کے لیے یہ عربی لنک دیکھیں: http://www.islamweb.net/fatwa/index.php?page=showfatwa&Option=FatwaId&Id=35779