• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دو کان اور ایک زبان

سرفراز فیضی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 22، 2011
پیغامات
1,091
ری ایکشن اسکور
3,807
پوائنٹ
376
وعن أبى الدرداء - رضي الله عنه - قال: " أنصف أذنيك من فيك وإنما جعل لك أذنان وفم واحدٌ لتسمع أكثر مما تتكلم ".
تزكية النفوس (ص: 27)

حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے :
کان اور زبان کے معاملہ میں انصاف کرو۔ اللہ نے تمہیں دو کان اور ایک زبان دی ہے ۔ تاکہ تم زیادہ سنو اور کم بولو۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,515
پوائنٹ
964
جزاکم اللہ خیرا ۔
کہا جاتا ہے کہ زبان کو دانتوں کے آہنی پنجرے کے اندر قید کرنے اور کانوں کو بلا کسی رکاوٹ کے چھوڑنا ان میں بھی ایک حکمت یہی لگتی ہے ۔
زبان کھولنے سے پہلے ہونٹ کھولنا پھر دانت کھولنا پڑتے ہیں لیکن کانوں سے سننے کے لیے کچھ بھی نہیں کرنا پڑتا ۔

بعض لوگ سمجھتے ہیں دو کان اس لیے ہیں کہ ایک سے سنیں اور دوسرے سے نکال دیں ۔ ( مسکراہٹ )

ویسے فورم وغیرہ کا معاملہ الگ ہے کیونکہ یہاں پڑھنے کے لیے آنکھیں بھی دو ہیں اور لکھنے کے لیے ہاتھ بھی دو ہیں ۔(البتہ انگلیوں کا حساب لگایا جائے تو پھر لکھائی پڑھائی سے کافی آگے ہونی چاہیے ۔) ( مسکراہٹ )
ہاں البتہ اگر غور و فکر کی شرط لگائی جائے تو دونوں کاموں کے لیے بیچارا دماغ ہی بچ جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض دفعہ مناقشات اور ردود میں بیک وقت دو طرفہ بوجھ کی وجہ سے کام کرنا چھوڑ جاتا ہے ۔ ( ابتسامہ )
 
Top