- شمولیت
- ستمبر 13، 2026
- پیغامات
- 15
- ری ایکشن اسکور
- 0
- پوائنٹ
- 6
دینی علم سے دوری کے اسباب و علاج قرآن و حدیث کی روشنی میں
تحریر ! شیخ ارشادالحق جامعی شاہ پوری
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسوله الكريم، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد!
دینِ اسلام علم، ہدایت، بصیرت اور عمل کا دین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد اسے بے مقصد نہیں چھوڑا، بلکہ اس کی ہدایت کے لیے انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، کتابیں نازل فرمائیں اور زندگی گزارنے کے اصول واضح کیے۔ ان تمام تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کے لیے دینی علم کی ضرورت ہے۔
لیکن آج ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ بہت سے مسلمان دنیاوی تعلیم، روزگار، تجارت اور دیگر مشاغل میں تو دلچسپی رکھتے ہیں، مگر دین کا بنیادی علم حاصل کرنے کے سلسلے میں غفلت برتتے ہیں۔ بعض لوگ نماز، روزہ، طہارت اور حلال و حرام کے بنیادی مسائل سے ناواقف ہیں، بعض قرآن مجید کی تلاوت تو کرتے ہیں مگر اس کے معانی سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے، اور بعض لوگ دینی مسائل سیکھنے کے بجائے سنی سنائی باتوں اور غیر مستند معلومات پر اعتماد کر لیتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ مسلمان دینی علم سے کیوں دور ہو رہا ہے؟ اس دوری کے بنیادی اسباب کیا ہیں؟ اور قرآن و سنت کی روشنی میں اس کا علاج کیا ہے؟
آئیے! ان سوالات کا جائزہ لیتے ہیں۔
دینی علم کی اہمیت و فضیلت
دینی علم سے دوری کے اسباب جاننے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم دینی علم کی اہمیت کو سمجھیں۔
1۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اہلِ علم کا مقام
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ۔
ترجمہ: ’’کہہ دیجیے: کیا وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور وہ لوگ جو علم نہیں رکھتے، برابر ہو سکتے ہیں؟ نصیحت تو صرف عقل والے ہی حاصل کرتے ہیں۔‘‘
حوالہ: سورۃ الزمر: 9۔
وضاحت: اس آیت سے علم اور جہالت کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔ علم انسان کو حق کی معرفت، صحیح فیصلے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
دینی علم کی فضیلت یہ ہے کہ اس کے ذریعے انسان اپنے رب کو پہچانتا، عبادات کا صحیح طریقہ سیکھتا، حلال و حرام میں فرق کرتا اور آخرت کی تیاری کرتا ہے۔
2۔ علمِ دین اللہ تعالیٰ کی خیر خواہی کی علامت ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ۔
ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری، حدیث: 71؛ صحیح مسلم، حدیث: 1037۔
وضاحت: اس حدیث میں دین کی سمجھ حاصل کرنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ یہاں فقہ فی الدین سے مراد دین کی ایسی سمجھ ہے جو انسان کو عقیدے، عبادات، معاملات اور دیگر دینی امور میں بصیرت عطا کرے۔
لہٰذا مسلمان کو دینی علم حاصل کرنے کو محض ایک اضافی مشغلہ نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ اسے اپنی زندگی کی بنیادی ضرورت قرار دینا چاہیے۔
3۔ علم حاصل کرنا جنت کے راستے کو آسان بناتا ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ۔
ترجمہ: ’’اور جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے ذریعے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔‘‘
حوالہ: صحیح مسلم، حدیث: 2699۔
وضاحت: یہ حدیث علمِ دین حاصل کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ علم کا راستہ صرف مدارس میں داخلہ لینے تک محدود نہیں، بلکہ قرآن و سنت کا مطالعہ، مستند اہلِ علم سے مسائل سیکھنا اور دینی مجالس میں شرکت کرنا بھی اس کے حصول کے ذرائع ہیں۔
البتہ ہر مسلمان پر دین کے تمام علوم میں تخصص حاصل کرنا فرض نہیں، بلکہ ہر شخص پر اپنی حالت اور ذمہ داری کے مطابق دین کا ضروری علم حاصل کرنا لازم ہے۔
دینی علم سے دوری کے اہم اسباب
1۔ دنیا کی محبت اور آخرت سے غف
دینی علم سے دوری کا ایک بڑا سبب دنیاوی زندگی میں حد سے زیادہ مشغول ہو جانا ہے۔ انسان مال جمع کرنے، کاروبار بڑھانے، مکان بنانے، اولاد کے مستقبل اور دنیاوی آسائشوں کے حصول میں اتنا مصروف ہو جاتا ہے کہ اسے اپنی آخرت کی فکر کے لیے وقت نہیں ملتا۔
اسلام دنیا کمانے سے منع نہیں کرتا، بلکہ حلال روزی کمانا بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دنیا کی مصروفیات انسان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور ضروری دینی علم سے غافل کر دیں۔
قرآن مجید کی دلیل
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ۔
ترجمہ: ’’بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے۔‘‘
حوالہ: سورۃ الأعلى: 16-17۔
حدیث نبوی ﷺ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ، وَعَبْدُ الدِّرْهَمِ۔
ترجمہ: ’’دینار اور درہم کا بندہ ہلاک ہو۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری، حدیث: 2887۔
وضاحت: اس حدیث میں مال کا ایسا غلام بن جانے کی مذمت ہے کہ انسان کی زندگی کا مقصد ہی مال بن جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق اور دینی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرنے لگے۔
علاج
روزانہ دینی مطالعے کے لیے وقت مقرر کیا جائے۔
کاروبار اور ملازمت کے ساتھ نماز اور دینی تعلیم کا اہتمام کیا جائے۔
دنیا کو آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنایا جائے، آخرت سے غفلت کا سبب نہیں۔
بچوں کو بھی دنیاوی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کی اہمیت سمجھائی جائے۔
2۔ علمِ دین کی اہمیت سے ناواقفیت
بعض مسلمان دینی علم کی اہمیت کو سمجھتے ہی نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان ہونے کے لیے صرف کلمہ پڑھ لینا اور کبھی کبھار نماز ادا کر لینا کافی ہے، جبکہ زندگی کے دیگر معاملات میں دین کی رہنمائی حاصل کرنا ضروری نہیں۔
یہ سوچ درست نہیں، کیونکہ اسلام انسان کی پوری زندگی کے لیے ہدایت فراہم کرتا ہے۔
قرآن مجید کی دلیل
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا۔
ترجمہ: ’’اور کہیے: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔‘‘
حوالہ: سورۃ طٰہٰ: 114۔
غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد ﷺ کو علم میں اضافے کی دعا سکھائی۔ اس سے علم کی اہمیت اور اس کے حصول کی مسلسل ضرورت معلوم ہوتی ہے۔
علاج
مسلمانوں کو سمجھایا جائے کہ دین کا علم صرف علما کے لیے نہیں، بلکہ ہر مسلمان کے لیے اپنی استطاعت اور شرعی ذمہ داری کے مطابق ضروری ہے۔
مثلاً:
نماز پڑھنے والے کے لیے طہارت اور نماز کے ضروری مسائل جاننا۔
روزہ رکھنے والے کے لیے روزے کے ضروری احکام سیکھنا۔
تاجر کے لیے خرید و فروخت اور سود سے متعلق ضروری مسائل جاننا۔
نکاح کرنے والوں کے لیے ازدواجی حقوق و فرائض سے واقف ہونا۔
والدین کے لیے اولاد کی دینی تربیت کے بنیادی اصول سیکھنا۔
اصول: جس دینی حکم کی ادائیگی کسی شخص پر لازم ہو، اس کی صحیح ادائیگی کے لیے ضروری علم حاصل کرنا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔
3۔ سستی، کاہلی اور وقت کی ناقدری
بہت سے لوگ علمِ دین کی اہمیت تسلیم کرتے ہیں، لیکن اسے حاصل کرنے کے لیے عملی کوشش نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ فرصت ملے گی تو قرآن سمجھیں گے، وقت ملا تو حدیث پڑھیں گے، حالات بہتر ہوں گے تو کسی عالم سے مسائل سیکھیں گے۔
اس طرح مہینے اور سال گزر جاتے ہیں، مگر دینی علم حاصل کرنے کا سلسلہ شروع نہیں ہوتا۔
قرآن مجید کی دلیل
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۔
ترجمہ: ’’زمانے کی قسم! بے شک انسان یقیناً خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک اعمال کیے، ایک دوسرے کو حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔‘‘
حوالہ: سورۃ العصر: 1-3۔
حدیث نبوی ﷺ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ۔
ترجمہ: ’’دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ خسارے میں رہتے ہیں: صحت اور فراغت۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری، حدیث: 6412۔
علاج
روزانہ کم از کم 15 سے 30 منٹ دینی مطالعے کے لیے مقرر کریں۔
روزانہ قرآن مجید کی چند آیات ترجمے کے ساتھ پڑھیں۔
ہفتے میں ایک دن کسی مستند عالم کا درس سنیں۔
سیکھے ہوئے علم پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔
وقت کی پابندی کے لیے باقاعدہ معمول بنائیں۔
یاد رکھیے! علم حاصل کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ انسان ہر روز کئی گھنٹے فارغ ہو۔ اصل چیز مستقل مزاجی اور صحیح سمت میں کوشش ہے۔
4۔ بری صحبت اور غیر علمی ماحول
انسان اپنے ماحول سے بہت متاثر ہوتا ہے۔ اگر کسی شخص کے دوست دینی علم کا مذاق اڑاتے ہوں، دینی مجالس سے دور رکھتے ہوں یا اسے صرف دنیاوی مفادات کی طرف متوجہ کرتے ہوں تو اس کے لیے علم حاصل کرنے میں سستی پیدا ہو سکتی ہے۔
قرآن مجید کی دلیل
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ۔
ترجمہ: ’’اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ روکے رکھیے جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں، اس کی رضا چاہتے ہیں۔‘‘
حوالہ: سورۃ الکہف: 28۔
حدیث نبوی ﷺ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيسِ السَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ۔
ترجمہ: ’’نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال کستوری اٹھانے والے اور بھٹی پھونکنے والے کی طرح ہے۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری، حدیث: 5534؛ صحیح مسلم، حدیث: 2628۔
علاج
نیک اور علم دوست افراد کی صحبت اختیار کریں۔
علما اور طلبۂ علم کی مجالس میں شرکت کریں۔
گھر میں دینی گفتگو اور مطالعے کا ماحول پیدا کریں۔
ایسے دوستوں سے احتیاط کریں جو دین سیکھنے اور اس پر عمل کرنے سے روکتے ہوں۔
صحبت انسان کے رجحانات پر اثر انداز ہوتی ہے؛ اس لیے اپنی صحبت کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔
5۔ گناہوں میں مبتلا ہونا اور دل کی غفلت
گناہ انسان کے دل پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔ جب انسان مسلسل نافرمانی میں مبتلا رہتا ہے اور توبہ و اصلاح کی فکر نہیں کرتا تو اس کے اندر عبادت اور علم کی طرف رغبت کم ہو سکتی ہے۔
قرآن مجید کی دلیل
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ۔
ترجمہ: ’’ہرگز نہیں، بلکہ ان کے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے۔‘‘
حوالہ: سورۃ المطففین: 14۔
حدیث نبوی ﷺ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِيئَةً نُكِتَتْ فِي قَلْبِهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ۔
ترجمہ: ’’جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نقطہ لگا دیا جاتا ہے۔‘‘
حدیث میں آگے بتایا گیا ہے کہ اگر بندہ توبہ کرے، گناہ چھوڑ دے اور استغفار کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر گناہوں میں اضافہ کرتا رہے تو وہ سیاہی بڑھتی جاتی ہے۔
حوالہ: جامع الترمذی، حدیث: 3334۔ امام ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔
علاج
سچے دل سے توبہ اور استغفار کریں۔
حرام کمائی، جھوٹ، غیبت اور دیگر گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں۔
قرآن مجید کی تلاوت اور ذکر کا معمول بنائیں۔
گناہ ہو جانے پر مایوس نہ ہوں، بلکہ فوراً توبہ کرکے اصلاح کی طرف لوٹیں۔
یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ ہر علم سے دوری کو کسی خاص گناہ کی سزا قرار دینا درست نہیں؛ اس کے اسباب مختلف ہو سکتے ہیں۔ تاہم گناہوں سے بچنا دل کی اصلاح کے اہم ذرائع میں سے ہے۔
6۔ علما سے دوری اور دینی رہنمائی کا فقدان
دینی علم حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ مستند علما سے رجوع کرنا ہے۔ جب لوگ اہلِ علم سے تعلق ختم کر لیتے ہیں یا دینی مسائل سیکھنے کے بجائے اپنی رائے پر اکتفا کرتے ہیں تو غلط فہمیوں اور عملی کوتاہیوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔
قرآن مجید کی دلیل
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ۔
ترجمہ: ’’پس اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھ لو۔‘‘
حوالہ: سورۃ النحل: 43۔
علاج
اپنے علاقے میں مستند عالم سے رابطہ رکھیں۔
دینی مسائل میں قرآن و سنت کی دلیل معلوم کرنے کی کوشش کریں۔
پیچیدہ مسائل میں خود سے فیصلہ کرنے کے بجائے اہلِ علم سے رجوع کریں۔
دینی تعلیم کے حلقے اور درسِ قرآن قائم کریں۔
علما کے ساتھ ادب اور حسنِ ظن رکھیں، اور اختلافی مسائل میں تحقیق و انصاف کا راستہ اختیار کریں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ کسی شخص کی ہر بات کو صرف اس کے عالم ہونے کی وجہ سے بلا تحقیق درست نہ مان لیا جائے، بلکہ معتبر علمی رہنمائی حاصل کی جائے۔
7۔ قرآن مجید سے تعلق کمزور ہو جانا
قرآن مجید مسلمانوں کے لیے ہدایت کا بنیادی سرچشمہ ہے۔ لیکن بعض مسلمان قرآن مجید کو صرف رمضان المبارک میں پڑھتے ہیں، بعض اسے صرف ثواب کی نیت سے پڑھتے ہیں مگر اس کے معانی سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے، اور بعض لوگ اس کے احکام کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی فکر نہیں کرتے۔
تلاوتِ قرآن یقیناً باعثِ اجر ہے، لیکن قرآن کو سمجھنا، اس میں غور کرنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا بھی نہایت اہم ہے۔
قرآن مجید کی دلیل
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ۔
ترجمہ: ’’یہ ایک بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے، تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور و فکر کریں اور عقل والے نصیحت حاصل کریں۔‘‘
حوالہ: سورۃ ص: 29۔
علاج
روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کریں۔
ترجمے اور معتبر تفسیر کے ذریعے معانی سمجھیں۔
اپنی زندگی سے متعلق قرآنی احکام سیکھیں۔
قرآن مجید کی تعلیمات کو اخلاق، معاملات اور عبادات میں نافذ کریں۔
گھر میں بچوں اور اہلِ خانہ کے ساتھ قرآن کے مطالعے کا معمول بنائیں۔
8۔ دینی تعلیم کو صرف مدارس کے ساتھ خاص سمجھنا
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ دینی علم صرف مدارس میں پڑھنے والوں کے لیے ہے، جبکہ عام مسلمان کو اس کی ضرورت نہیں۔ یہ تصور درست نہیں۔
یہ بات صحیح ہے کہ قرآن، حدیث، فقہ اور دیگر علوم میں تخصص حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرضِ عین نہیں، لیکن ہر مسلمان کے لیے اپنے عقیدے، عبادات اور حالات کے مطابق ضروری دینی علم حاصل کرنا لازم ہے۔
قرآن مجید کی دلیل
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ۔
ترجمہ: ’’تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلتی تاکہ وہ دین کی سمجھ حاصل کرتے اور جب اپنی قوم کی طرف واپس آتے تو انہیں خبردار کرتے، تاکہ وہ بچ جاتے۔‘‘
حوالہ: سورۃ التوبہ: 122۔
وضاحت: اس آیت میں ایک جماعت کے دین میں تفقہ حاصل کرنے اور اپنی قوم کی رہنمائی کرنے کی اہمیت بیان ہوئی ہے۔ اس سے تخصص رکھنے والے علما کی ضرورت واضح ہوتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ عام مسلمان ضروری دینی علم حاصل نہ کریں۔
علاج
مساجد میں عام مسلمانوں کے لیے بنیادی دینی تعلیم کے حلقے قائم کیے جائیں۔
بچوں کے لیے مکتب اور دینی تربیت کا اہتمام کیا جائے۔
ملازمت پیشہ افراد کے لیے مناسب اوقات میں دینی کلاسیں رکھی جائیں۔
خواتین کے لیے بھی مستند اور محفوظ دینی تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
آن لائن دینی تعلیم سے فائدہ اٹھایا جائے، بشرطیکہ استاد اور مواد معتبر ہوں۔
9۔ سوشل میڈیا اور غیر ضروری مشاغل میں وقت ضائع کرنا
موبائل فون اور سوشل میڈیا معلومات حاصل کرنے کے مفید ذرائع بھی ہیں، لیکن ان کا بے جا استعمال انسان کو دینی مطالعے، عبادت، اہلِ خانہ اور دیگر ضروری ذمہ داریوں سے غافل کر سکتا ہے۔
بعض لوگ گھنٹوں ویڈیوز، غیر ضروری گفتگو اور تفریحی مواد میں مصروف رہتے ہیں، لیکن چند منٹ قرآن سمجھنے یا کوئی دینی کتاب پڑھنے کے لیے نہیں نکالتے۔
قرآن مجید کی دلیل
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ۔
ترجمہ: ’’اور وہ لوگ جو بے فائدہ باتوں سے منہ موڑنے والے ہیں۔‘‘
حوالہ: سورۃ المؤمنون: 3۔
علاج
موبائل کے استعمال کے لیے وقت مقرر کریں۔
غیر ضروری اطلاعات اور توجہ بٹانے والی ایپس کا استعمال کم کریں۔
روزانہ دینی مطالعہ مکمل کرنے کے بعد تفریح کے لیے وقت نکالیں۔
سوشل میڈیا پر معتبر علما کے علمی دروس اور مفید مواد سے استفادہ کریں۔
ہر دینی پوسٹ یا ویڈیو کو تحقیق کے بغیر آگے نہ پھیلائیں۔
10۔ اولاد کی دینی تربیت سے غفلت
دینی علم سے دوری کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ بعض خاندان بچوں کی دنیاوی تعلیم اور مستقبل کی منصوبہ بندی پر توجہ دیتے ہیں، لیکن ان کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے باقاعدہ اہتمام نہیں کرتے۔
نتیجتاً بعض بچے بڑے ہو کر نماز، طہارت، عقیدے اور بنیادی دینی احکام سے ناواقف رہتے ہیں۔
قرآن مجید کی دلیل
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا۔
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔‘‘
حوالہ: سورۃ التحریم: 6۔
حدیث نبوی ﷺ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ۔
ترجمہ: ’’تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری، حدیث: 893؛ صحیح مسلم، حدیث: 1829۔
علاج
بچوں کے لیے قرآن مجید کی تعلیم کا اہتمام کیا جائے۔
انہیں عقیدہ، نماز، روزہ اور بنیادی اسلامی آداب سکھائے جائیں۔
والدین خود بھی علم حاصل کریں تاکہ بچوں کی رہنمائی کر سکیں۔
گھر میں سوال و جواب اور دینی گفتگو کا ماحول قائم کریں۔
بچوں کی دینی تعلیم کو صرف رمضان یا تعطیلات تک محدود نہ رکھیں۔
دینی علم سے دوری کا جامع علاج
اب تک ہم نے دینی علم سے دوری کے اہم اسباب کا جائزہ لیا۔ آئیے، ان کے علاج کو چند بنیادی نکات میں جمع کرتے ہیں۔
1۔ اخلاصِ نیت
علم حاصل کرنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا، اپنی اصلاح، صحیح عبادت اور دوسروں کی خیر خواہی ہونا چاہیے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔
ترجمہ: ’’اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری، حدیث: 1؛ صحیح مسلم، حدیث: 1907۔
مسلمان کو چاہیے کہ علم حاصل کرتے وقت شہرت، بحث میں غلبہ یا لوگوں پر برتری کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنا مقصد بنائے۔
2۔ قرآن و سنت کا منظم مطالعہ
دینی علم حاصل کرنے کے لیے ایک واضح ترتیب اختیار کی جائے:
سب سے پہلے صحیح عقیدے کی بنیادی تعلیمات۔
پھر طہارت، نماز اور دیگر ضروری عبادات کے مسائل۔
اس کے بعد حلال و حرام اور روزمرہ معاملات کے ضروری احکام۔
قرآن مجید کا ترجمہ اور معتبر تفسیر۔
صحیح احادیث اور سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ۔
پھر اپنی استعداد کے مطابق دیگر اسلامی علوم۔
اس ترتیب سے انسان اپنے ضروری دینی فرائض سیکھنے کے ساتھ علم میں بتدریج ترقی کر سکتا ہے۔
3۔ اہلِ علم سے استفادہ
کتابیں پڑھنا مفید ہے، لیکن خصوصاً ابتدائی مراحل میں مستند استاد کی رہنمائی بہت اہم ہے۔ استاد مشکل مسائل کی وضاحت کرتا، غلط فہمی دور کرتا اور علم کو صحیح ترتیب سے سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
4۔ علم کے مطابق عمل
علم کا مقصد صرف معلومات جمع کرنا نہیں، بلکہ حق کو پہچاننا اور اس کے مطابق زندگی گزارنا بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ۔
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں؟‘‘
حوالہ: سورۃ الصف: 2۔
یہ آیت قول و عمل میں مطابقت کی اہمیت واضح کرتی ہے۔ لہٰذا دینی علم حاصل کرنے والے کو اپنی اصلاح اور عملی زندگی کی بہتری کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔
5۔ دوسروں تک علم پہنچانا
جب انسان ضروری علم حاصل کر لے تو حکمت اور صحیح طریقے سے دوسروں تک بھی پہنچائے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً۔
ترجمہ: ’’میری طرف سے پہنچاؤ، خواہ ایک آیت ہی ہو۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری، حدیث: 3461۔
اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص بغیر علم کے دینی مسائل بیان کرنے لگے، بلکہ یہ ہے کہ جو بات صحیح طور پر معلوم ہو، اسے درست انداز میں دوسروں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ غیر معلوم یا پیچیدہ مسائل میں اہلِ علم کی طرف رجوع کرنا چاہیے
دینی علم سے دوری کے خاتمے میں علما اور معاشرے کا کردار
دینی علم سے دوری ختم کرنے کے لیے صرف انفرادی کوشش کافی نہیں، بلکہ اجتماعی اقدامات بھی ضروری ہیں۔
1۔ مساجد کو تعلیم و تربیت کا مرکز بنانا
مساجد میں نماز کے ساتھ درسِ قرآن، درسِ حدیث، بنیادی عقائد اور ضروری مسائل کی تعلیم کا اہتمام کیا جائے۔
2۔ عام مسلمانوں کے لیے مختصر کورسز
ایسے کورسز ترتیب دیے جائیں جن میں وضو، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حلال و حرام اور بنیادی عقائد کی تعلیم آسان زبان میں دی جائے۔
3۔ نوجوانوں کی دینی رہنمائی
نوجوانوں کے سوالات کو اہمیت دی جائے۔ ان کے شبہات کا علمی، مدلل اور حکیمانہ جواب دیا جائے اور انہیں دین سیکھنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔
4۔ خواتین کی دینی تعلیم
خواتین کے لیے قرآن، حدیث، عقیدہ، عبادات اور بچوں کی تربیت سے متعلق مستند دینی تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
5۔ ڈیجیٹل ذرائع کا درست استعمال
آن لائن دروس، مستند دینی کتابیں اور تعلیمی پروگرام عام کیے جائیں۔ ساتھ ہی غیر مستند روایات، غلط فتووں اور سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی جانے والی باتوں سے بچنے کی تعلیم دی جائے۔
6۔ علما اور عوام کے درمیان رابطہ
علما کو چاہیے کہ عام مسلمانوں کی ضروریات کو سمجھتے ہوئے آسان زبان میں دین کی تعلیم دیں، اور عوام کو چاہیے کہ مسائل پیش آنے پر اہلِ علم سے رجوع کریں۔
اختتامیہ
محترم قارئین!
دینی علم سے دوری محض ایک علمی کمی نہیں، بلکہ اس کے اثرات انسان کے عقیدے، عبادات، اخلاق، معاملات اور خاندانی زندگی تک پہنچ سکتے ہیں۔ جب انسان اپنے دین کے بنیادی احکام سے ناواقف ہوتا ہے تو اس کے لیے صحیح اور غلط میں فرق کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
اس دوری کے اسباب میں دنیا کی حد سے زیادہ محبت، وقت کی ناقدری، سستی، بری صحبت، قرآن سے کمزور تعلق، غیر ضروری مشاغل اور دینی تعلیم کے مواقع کی کمی شامل ہیں۔
ان اسباب کا علاج یہ ہے کہ ہم علمِ دین کی اہمیت کو سمجھیں، اخلاص کے ساتھ علم حاصل کریں، قرآن و سنت کا مطالعہ کریں، مستند علما سے رہنمائی لیں، علم پر عمل کریں اور اپنے گھر و معاشرے میں دینی تعلیم کو فروغ دیں۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ علم حاصل کرنے کے لیے عمر کی کوئی ایسی حد نہیں جس کے بعد انسان کوشش چھوڑ دے۔ جو شخص بچپن میں علم حاصل نہ کر سکا، وہ جوانی میں آغاز کر سکتا ہے، اور جو جوانی میں غفلت کا شکار رہا، وہ بڑھاپے میں بھی اللہ تعالیٰ کی توفیق سے علم حاصل کرنے اور اپنی اصلاح کی کوشش کر سکتا ہے۔
آج ہی عزم کیجیے کہ روزانہ کچھ وقت دین سیکھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے ضرور نکالیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نافع علم، صالح عمل، صحیح فہمِ دین اور اخلاص کی دولت عطا فرمائے، ہمیں جہالت و غفلت سے محفوظ رکھے اور ہمیں قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی زندگی سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
تحریر ! شیخ ارشادالحق جامعی شاہ پوری
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسوله الكريم، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد!
دینِ اسلام علم، ہدایت، بصیرت اور عمل کا دین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد اسے بے مقصد نہیں چھوڑا، بلکہ اس کی ہدایت کے لیے انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، کتابیں نازل فرمائیں اور زندگی گزارنے کے اصول واضح کیے۔ ان تمام تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کے لیے دینی علم کی ضرورت ہے۔
لیکن آج ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ بہت سے مسلمان دنیاوی تعلیم، روزگار، تجارت اور دیگر مشاغل میں تو دلچسپی رکھتے ہیں، مگر دین کا بنیادی علم حاصل کرنے کے سلسلے میں غفلت برتتے ہیں۔ بعض لوگ نماز، روزہ، طہارت اور حلال و حرام کے بنیادی مسائل سے ناواقف ہیں، بعض قرآن مجید کی تلاوت تو کرتے ہیں مگر اس کے معانی سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے، اور بعض لوگ دینی مسائل سیکھنے کے بجائے سنی سنائی باتوں اور غیر مستند معلومات پر اعتماد کر لیتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ مسلمان دینی علم سے کیوں دور ہو رہا ہے؟ اس دوری کے بنیادی اسباب کیا ہیں؟ اور قرآن و سنت کی روشنی میں اس کا علاج کیا ہے؟
آئیے! ان سوالات کا جائزہ لیتے ہیں۔
دینی علم کی اہمیت و فضیلت
دینی علم سے دوری کے اسباب جاننے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم دینی علم کی اہمیت کو سمجھیں۔
1۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اہلِ علم کا مقام
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ۔
ترجمہ: ’’کہہ دیجیے: کیا وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور وہ لوگ جو علم نہیں رکھتے، برابر ہو سکتے ہیں؟ نصیحت تو صرف عقل والے ہی حاصل کرتے ہیں۔‘‘
حوالہ: سورۃ الزمر: 9۔
وضاحت: اس آیت سے علم اور جہالت کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔ علم انسان کو حق کی معرفت، صحیح فیصلے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
دینی علم کی فضیلت یہ ہے کہ اس کے ذریعے انسان اپنے رب کو پہچانتا، عبادات کا صحیح طریقہ سیکھتا، حلال و حرام میں فرق کرتا اور آخرت کی تیاری کرتا ہے۔
2۔ علمِ دین اللہ تعالیٰ کی خیر خواہی کی علامت ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ۔
ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری، حدیث: 71؛ صحیح مسلم، حدیث: 1037۔
وضاحت: اس حدیث میں دین کی سمجھ حاصل کرنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ یہاں فقہ فی الدین سے مراد دین کی ایسی سمجھ ہے جو انسان کو عقیدے، عبادات، معاملات اور دیگر دینی امور میں بصیرت عطا کرے۔
لہٰذا مسلمان کو دینی علم حاصل کرنے کو محض ایک اضافی مشغلہ نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ اسے اپنی زندگی کی بنیادی ضرورت قرار دینا چاہیے۔
3۔ علم حاصل کرنا جنت کے راستے کو آسان بناتا ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ۔
ترجمہ: ’’اور جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے ذریعے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔‘‘
حوالہ: صحیح مسلم، حدیث: 2699۔
وضاحت: یہ حدیث علمِ دین حاصل کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ علم کا راستہ صرف مدارس میں داخلہ لینے تک محدود نہیں، بلکہ قرآن و سنت کا مطالعہ، مستند اہلِ علم سے مسائل سیکھنا اور دینی مجالس میں شرکت کرنا بھی اس کے حصول کے ذرائع ہیں۔
البتہ ہر مسلمان پر دین کے تمام علوم میں تخصص حاصل کرنا فرض نہیں، بلکہ ہر شخص پر اپنی حالت اور ذمہ داری کے مطابق دین کا ضروری علم حاصل کرنا لازم ہے۔
دینی علم سے دوری کے اہم اسباب
1۔ دنیا کی محبت اور آخرت سے غف
دینی علم سے دوری کا ایک بڑا سبب دنیاوی زندگی میں حد سے زیادہ مشغول ہو جانا ہے۔ انسان مال جمع کرنے، کاروبار بڑھانے، مکان بنانے، اولاد کے مستقبل اور دنیاوی آسائشوں کے حصول میں اتنا مصروف ہو جاتا ہے کہ اسے اپنی آخرت کی فکر کے لیے وقت نہیں ملتا۔
اسلام دنیا کمانے سے منع نہیں کرتا، بلکہ حلال روزی کمانا بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دنیا کی مصروفیات انسان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور ضروری دینی علم سے غافل کر دیں۔
قرآن مجید کی دلیل
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ۔
ترجمہ: ’’بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے۔‘‘
حوالہ: سورۃ الأعلى: 16-17۔
حدیث نبوی ﷺ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ، وَعَبْدُ الدِّرْهَمِ۔
ترجمہ: ’’دینار اور درہم کا بندہ ہلاک ہو۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری، حدیث: 2887۔
وضاحت: اس حدیث میں مال کا ایسا غلام بن جانے کی مذمت ہے کہ انسان کی زندگی کا مقصد ہی مال بن جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق اور دینی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرنے لگے۔
علاج
روزانہ دینی مطالعے کے لیے وقت مقرر کیا جائے۔
کاروبار اور ملازمت کے ساتھ نماز اور دینی تعلیم کا اہتمام کیا جائے۔
دنیا کو آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنایا جائے، آخرت سے غفلت کا سبب نہیں۔
بچوں کو بھی دنیاوی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کی اہمیت سمجھائی جائے۔
2۔ علمِ دین کی اہمیت سے ناواقفیت
بعض مسلمان دینی علم کی اہمیت کو سمجھتے ہی نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان ہونے کے لیے صرف کلمہ پڑھ لینا اور کبھی کبھار نماز ادا کر لینا کافی ہے، جبکہ زندگی کے دیگر معاملات میں دین کی رہنمائی حاصل کرنا ضروری نہیں۔
یہ سوچ درست نہیں، کیونکہ اسلام انسان کی پوری زندگی کے لیے ہدایت فراہم کرتا ہے۔
قرآن مجید کی دلیل
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا۔
ترجمہ: ’’اور کہیے: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔‘‘
حوالہ: سورۃ طٰہٰ: 114۔
غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد ﷺ کو علم میں اضافے کی دعا سکھائی۔ اس سے علم کی اہمیت اور اس کے حصول کی مسلسل ضرورت معلوم ہوتی ہے۔
علاج
مسلمانوں کو سمجھایا جائے کہ دین کا علم صرف علما کے لیے نہیں، بلکہ ہر مسلمان کے لیے اپنی استطاعت اور شرعی ذمہ داری کے مطابق ضروری ہے۔
مثلاً:
نماز پڑھنے والے کے لیے طہارت اور نماز کے ضروری مسائل جاننا۔
روزہ رکھنے والے کے لیے روزے کے ضروری احکام سیکھنا۔
تاجر کے لیے خرید و فروخت اور سود سے متعلق ضروری مسائل جاننا۔
نکاح کرنے والوں کے لیے ازدواجی حقوق و فرائض سے واقف ہونا۔
والدین کے لیے اولاد کی دینی تربیت کے بنیادی اصول سیکھنا۔
اصول: جس دینی حکم کی ادائیگی کسی شخص پر لازم ہو، اس کی صحیح ادائیگی کے لیے ضروری علم حاصل کرنا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔
3۔ سستی، کاہلی اور وقت کی ناقدری
بہت سے لوگ علمِ دین کی اہمیت تسلیم کرتے ہیں، لیکن اسے حاصل کرنے کے لیے عملی کوشش نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ فرصت ملے گی تو قرآن سمجھیں گے، وقت ملا تو حدیث پڑھیں گے، حالات بہتر ہوں گے تو کسی عالم سے مسائل سیکھیں گے۔
اس طرح مہینے اور سال گزر جاتے ہیں، مگر دینی علم حاصل کرنے کا سلسلہ شروع نہیں ہوتا۔
قرآن مجید کی دلیل
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۔
ترجمہ: ’’زمانے کی قسم! بے شک انسان یقیناً خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک اعمال کیے، ایک دوسرے کو حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔‘‘
حوالہ: سورۃ العصر: 1-3۔
حدیث نبوی ﷺ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ۔
ترجمہ: ’’دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ خسارے میں رہتے ہیں: صحت اور فراغت۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری، حدیث: 6412۔
علاج
روزانہ کم از کم 15 سے 30 منٹ دینی مطالعے کے لیے مقرر کریں۔
روزانہ قرآن مجید کی چند آیات ترجمے کے ساتھ پڑھیں۔
ہفتے میں ایک دن کسی مستند عالم کا درس سنیں۔
سیکھے ہوئے علم پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔
وقت کی پابندی کے لیے باقاعدہ معمول بنائیں۔
یاد رکھیے! علم حاصل کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ انسان ہر روز کئی گھنٹے فارغ ہو۔ اصل چیز مستقل مزاجی اور صحیح سمت میں کوشش ہے۔
4۔ بری صحبت اور غیر علمی ماحول
انسان اپنے ماحول سے بہت متاثر ہوتا ہے۔ اگر کسی شخص کے دوست دینی علم کا مذاق اڑاتے ہوں، دینی مجالس سے دور رکھتے ہوں یا اسے صرف دنیاوی مفادات کی طرف متوجہ کرتے ہوں تو اس کے لیے علم حاصل کرنے میں سستی پیدا ہو سکتی ہے۔
قرآن مجید کی دلیل
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ۔
ترجمہ: ’’اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ روکے رکھیے جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں، اس کی رضا چاہتے ہیں۔‘‘
حوالہ: سورۃ الکہف: 28۔
حدیث نبوی ﷺ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيسِ السَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ۔
ترجمہ: ’’نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال کستوری اٹھانے والے اور بھٹی پھونکنے والے کی طرح ہے۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری، حدیث: 5534؛ صحیح مسلم، حدیث: 2628۔
علاج
نیک اور علم دوست افراد کی صحبت اختیار کریں۔
علما اور طلبۂ علم کی مجالس میں شرکت کریں۔
گھر میں دینی گفتگو اور مطالعے کا ماحول پیدا کریں۔
ایسے دوستوں سے احتیاط کریں جو دین سیکھنے اور اس پر عمل کرنے سے روکتے ہوں۔
صحبت انسان کے رجحانات پر اثر انداز ہوتی ہے؛ اس لیے اپنی صحبت کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔
5۔ گناہوں میں مبتلا ہونا اور دل کی غفلت
گناہ انسان کے دل پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔ جب انسان مسلسل نافرمانی میں مبتلا رہتا ہے اور توبہ و اصلاح کی فکر نہیں کرتا تو اس کے اندر عبادت اور علم کی طرف رغبت کم ہو سکتی ہے۔
قرآن مجید کی دلیل
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ۔
ترجمہ: ’’ہرگز نہیں، بلکہ ان کے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے۔‘‘
حوالہ: سورۃ المطففین: 14۔
حدیث نبوی ﷺ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِيئَةً نُكِتَتْ فِي قَلْبِهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ۔
ترجمہ: ’’جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نقطہ لگا دیا جاتا ہے۔‘‘
حدیث میں آگے بتایا گیا ہے کہ اگر بندہ توبہ کرے، گناہ چھوڑ دے اور استغفار کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر گناہوں میں اضافہ کرتا رہے تو وہ سیاہی بڑھتی جاتی ہے۔
حوالہ: جامع الترمذی، حدیث: 3334۔ امام ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔
علاج
سچے دل سے توبہ اور استغفار کریں۔
حرام کمائی، جھوٹ، غیبت اور دیگر گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں۔
قرآن مجید کی تلاوت اور ذکر کا معمول بنائیں۔
گناہ ہو جانے پر مایوس نہ ہوں، بلکہ فوراً توبہ کرکے اصلاح کی طرف لوٹیں۔
یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ ہر علم سے دوری کو کسی خاص گناہ کی سزا قرار دینا درست نہیں؛ اس کے اسباب مختلف ہو سکتے ہیں۔ تاہم گناہوں سے بچنا دل کی اصلاح کے اہم ذرائع میں سے ہے۔
6۔ علما سے دوری اور دینی رہنمائی کا فقدان
دینی علم حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ مستند علما سے رجوع کرنا ہے۔ جب لوگ اہلِ علم سے تعلق ختم کر لیتے ہیں یا دینی مسائل سیکھنے کے بجائے اپنی رائے پر اکتفا کرتے ہیں تو غلط فہمیوں اور عملی کوتاہیوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔
قرآن مجید کی دلیل
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ۔
ترجمہ: ’’پس اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھ لو۔‘‘
حوالہ: سورۃ النحل: 43۔
علاج
اپنے علاقے میں مستند عالم سے رابطہ رکھیں۔
دینی مسائل میں قرآن و سنت کی دلیل معلوم کرنے کی کوشش کریں۔
پیچیدہ مسائل میں خود سے فیصلہ کرنے کے بجائے اہلِ علم سے رجوع کریں۔
دینی تعلیم کے حلقے اور درسِ قرآن قائم کریں۔
علما کے ساتھ ادب اور حسنِ ظن رکھیں، اور اختلافی مسائل میں تحقیق و انصاف کا راستہ اختیار کریں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ کسی شخص کی ہر بات کو صرف اس کے عالم ہونے کی وجہ سے بلا تحقیق درست نہ مان لیا جائے، بلکہ معتبر علمی رہنمائی حاصل کی جائے۔
7۔ قرآن مجید سے تعلق کمزور ہو جانا
قرآن مجید مسلمانوں کے لیے ہدایت کا بنیادی سرچشمہ ہے۔ لیکن بعض مسلمان قرآن مجید کو صرف رمضان المبارک میں پڑھتے ہیں، بعض اسے صرف ثواب کی نیت سے پڑھتے ہیں مگر اس کے معانی سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے، اور بعض لوگ اس کے احکام کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی فکر نہیں کرتے۔
تلاوتِ قرآن یقیناً باعثِ اجر ہے، لیکن قرآن کو سمجھنا، اس میں غور کرنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا بھی نہایت اہم ہے۔
قرآن مجید کی دلیل
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ۔
ترجمہ: ’’یہ ایک بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے، تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور و فکر کریں اور عقل والے نصیحت حاصل کریں۔‘‘
حوالہ: سورۃ ص: 29۔
علاج
روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کریں۔
ترجمے اور معتبر تفسیر کے ذریعے معانی سمجھیں۔
اپنی زندگی سے متعلق قرآنی احکام سیکھیں۔
قرآن مجید کی تعلیمات کو اخلاق، معاملات اور عبادات میں نافذ کریں۔
گھر میں بچوں اور اہلِ خانہ کے ساتھ قرآن کے مطالعے کا معمول بنائیں۔
8۔ دینی تعلیم کو صرف مدارس کے ساتھ خاص سمجھنا
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ دینی علم صرف مدارس میں پڑھنے والوں کے لیے ہے، جبکہ عام مسلمان کو اس کی ضرورت نہیں۔ یہ تصور درست نہیں۔
یہ بات صحیح ہے کہ قرآن، حدیث، فقہ اور دیگر علوم میں تخصص حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرضِ عین نہیں، لیکن ہر مسلمان کے لیے اپنے عقیدے، عبادات اور حالات کے مطابق ضروری دینی علم حاصل کرنا لازم ہے۔
قرآن مجید کی دلیل
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ۔
ترجمہ: ’’تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلتی تاکہ وہ دین کی سمجھ حاصل کرتے اور جب اپنی قوم کی طرف واپس آتے تو انہیں خبردار کرتے، تاکہ وہ بچ جاتے۔‘‘
حوالہ: سورۃ التوبہ: 122۔
وضاحت: اس آیت میں ایک جماعت کے دین میں تفقہ حاصل کرنے اور اپنی قوم کی رہنمائی کرنے کی اہمیت بیان ہوئی ہے۔ اس سے تخصص رکھنے والے علما کی ضرورت واضح ہوتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ عام مسلمان ضروری دینی علم حاصل نہ کریں۔
علاج
مساجد میں عام مسلمانوں کے لیے بنیادی دینی تعلیم کے حلقے قائم کیے جائیں۔
بچوں کے لیے مکتب اور دینی تربیت کا اہتمام کیا جائے۔
ملازمت پیشہ افراد کے لیے مناسب اوقات میں دینی کلاسیں رکھی جائیں۔
خواتین کے لیے بھی مستند اور محفوظ دینی تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
آن لائن دینی تعلیم سے فائدہ اٹھایا جائے، بشرطیکہ استاد اور مواد معتبر ہوں۔
9۔ سوشل میڈیا اور غیر ضروری مشاغل میں وقت ضائع کرنا
موبائل فون اور سوشل میڈیا معلومات حاصل کرنے کے مفید ذرائع بھی ہیں، لیکن ان کا بے جا استعمال انسان کو دینی مطالعے، عبادت، اہلِ خانہ اور دیگر ضروری ذمہ داریوں سے غافل کر سکتا ہے۔
بعض لوگ گھنٹوں ویڈیوز، غیر ضروری گفتگو اور تفریحی مواد میں مصروف رہتے ہیں، لیکن چند منٹ قرآن سمجھنے یا کوئی دینی کتاب پڑھنے کے لیے نہیں نکالتے۔
قرآن مجید کی دلیل
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ۔
ترجمہ: ’’اور وہ لوگ جو بے فائدہ باتوں سے منہ موڑنے والے ہیں۔‘‘
حوالہ: سورۃ المؤمنون: 3۔
علاج
موبائل کے استعمال کے لیے وقت مقرر کریں۔
غیر ضروری اطلاعات اور توجہ بٹانے والی ایپس کا استعمال کم کریں۔
روزانہ دینی مطالعہ مکمل کرنے کے بعد تفریح کے لیے وقت نکالیں۔
سوشل میڈیا پر معتبر علما کے علمی دروس اور مفید مواد سے استفادہ کریں۔
ہر دینی پوسٹ یا ویڈیو کو تحقیق کے بغیر آگے نہ پھیلائیں۔
10۔ اولاد کی دینی تربیت سے غفلت
دینی علم سے دوری کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ بعض خاندان بچوں کی دنیاوی تعلیم اور مستقبل کی منصوبہ بندی پر توجہ دیتے ہیں، لیکن ان کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے باقاعدہ اہتمام نہیں کرتے۔
نتیجتاً بعض بچے بڑے ہو کر نماز، طہارت، عقیدے اور بنیادی دینی احکام سے ناواقف رہتے ہیں۔
قرآن مجید کی دلیل
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا۔
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔‘‘
حوالہ: سورۃ التحریم: 6۔
حدیث نبوی ﷺ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ۔
ترجمہ: ’’تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری، حدیث: 893؛ صحیح مسلم، حدیث: 1829۔
علاج
بچوں کے لیے قرآن مجید کی تعلیم کا اہتمام کیا جائے۔
انہیں عقیدہ، نماز، روزہ اور بنیادی اسلامی آداب سکھائے جائیں۔
والدین خود بھی علم حاصل کریں تاکہ بچوں کی رہنمائی کر سکیں۔
گھر میں سوال و جواب اور دینی گفتگو کا ماحول قائم کریں۔
بچوں کی دینی تعلیم کو صرف رمضان یا تعطیلات تک محدود نہ رکھیں۔
دینی علم سے دوری کا جامع علاج
اب تک ہم نے دینی علم سے دوری کے اہم اسباب کا جائزہ لیا۔ آئیے، ان کے علاج کو چند بنیادی نکات میں جمع کرتے ہیں۔
1۔ اخلاصِ نیت
علم حاصل کرنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا، اپنی اصلاح، صحیح عبادت اور دوسروں کی خیر خواہی ہونا چاہیے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔
ترجمہ: ’’اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری، حدیث: 1؛ صحیح مسلم، حدیث: 1907۔
مسلمان کو چاہیے کہ علم حاصل کرتے وقت شہرت، بحث میں غلبہ یا لوگوں پر برتری کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنا مقصد بنائے۔
2۔ قرآن و سنت کا منظم مطالعہ
دینی علم حاصل کرنے کے لیے ایک واضح ترتیب اختیار کی جائے:
سب سے پہلے صحیح عقیدے کی بنیادی تعلیمات۔
پھر طہارت، نماز اور دیگر ضروری عبادات کے مسائل۔
اس کے بعد حلال و حرام اور روزمرہ معاملات کے ضروری احکام۔
قرآن مجید کا ترجمہ اور معتبر تفسیر۔
صحیح احادیث اور سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ۔
پھر اپنی استعداد کے مطابق دیگر اسلامی علوم۔
اس ترتیب سے انسان اپنے ضروری دینی فرائض سیکھنے کے ساتھ علم میں بتدریج ترقی کر سکتا ہے۔
3۔ اہلِ علم سے استفادہ
کتابیں پڑھنا مفید ہے، لیکن خصوصاً ابتدائی مراحل میں مستند استاد کی رہنمائی بہت اہم ہے۔ استاد مشکل مسائل کی وضاحت کرتا، غلط فہمی دور کرتا اور علم کو صحیح ترتیب سے سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
4۔ علم کے مطابق عمل
علم کا مقصد صرف معلومات جمع کرنا نہیں، بلکہ حق کو پہچاننا اور اس کے مطابق زندگی گزارنا بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ۔
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں؟‘‘
حوالہ: سورۃ الصف: 2۔
یہ آیت قول و عمل میں مطابقت کی اہمیت واضح کرتی ہے۔ لہٰذا دینی علم حاصل کرنے والے کو اپنی اصلاح اور عملی زندگی کی بہتری کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔
5۔ دوسروں تک علم پہنچانا
جب انسان ضروری علم حاصل کر لے تو حکمت اور صحیح طریقے سے دوسروں تک بھی پہنچائے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً۔
ترجمہ: ’’میری طرف سے پہنچاؤ، خواہ ایک آیت ہی ہو۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری، حدیث: 3461۔
اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص بغیر علم کے دینی مسائل بیان کرنے لگے، بلکہ یہ ہے کہ جو بات صحیح طور پر معلوم ہو، اسے درست انداز میں دوسروں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ غیر معلوم یا پیچیدہ مسائل میں اہلِ علم کی طرف رجوع کرنا چاہیے
دینی علم سے دوری کے خاتمے میں علما اور معاشرے کا کردار
دینی علم سے دوری ختم کرنے کے لیے صرف انفرادی کوشش کافی نہیں، بلکہ اجتماعی اقدامات بھی ضروری ہیں۔
1۔ مساجد کو تعلیم و تربیت کا مرکز بنانا
مساجد میں نماز کے ساتھ درسِ قرآن، درسِ حدیث، بنیادی عقائد اور ضروری مسائل کی تعلیم کا اہتمام کیا جائے۔
2۔ عام مسلمانوں کے لیے مختصر کورسز
ایسے کورسز ترتیب دیے جائیں جن میں وضو، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حلال و حرام اور بنیادی عقائد کی تعلیم آسان زبان میں دی جائے۔
3۔ نوجوانوں کی دینی رہنمائی
نوجوانوں کے سوالات کو اہمیت دی جائے۔ ان کے شبہات کا علمی، مدلل اور حکیمانہ جواب دیا جائے اور انہیں دین سیکھنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔
4۔ خواتین کی دینی تعلیم
خواتین کے لیے قرآن، حدیث، عقیدہ، عبادات اور بچوں کی تربیت سے متعلق مستند دینی تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
5۔ ڈیجیٹل ذرائع کا درست استعمال
آن لائن دروس، مستند دینی کتابیں اور تعلیمی پروگرام عام کیے جائیں۔ ساتھ ہی غیر مستند روایات، غلط فتووں اور سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی جانے والی باتوں سے بچنے کی تعلیم دی جائے۔
6۔ علما اور عوام کے درمیان رابطہ
علما کو چاہیے کہ عام مسلمانوں کی ضروریات کو سمجھتے ہوئے آسان زبان میں دین کی تعلیم دیں، اور عوام کو چاہیے کہ مسائل پیش آنے پر اہلِ علم سے رجوع کریں۔
اختتامیہ
محترم قارئین!
دینی علم سے دوری محض ایک علمی کمی نہیں، بلکہ اس کے اثرات انسان کے عقیدے، عبادات، اخلاق، معاملات اور خاندانی زندگی تک پہنچ سکتے ہیں۔ جب انسان اپنے دین کے بنیادی احکام سے ناواقف ہوتا ہے تو اس کے لیے صحیح اور غلط میں فرق کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
اس دوری کے اسباب میں دنیا کی حد سے زیادہ محبت، وقت کی ناقدری، سستی، بری صحبت، قرآن سے کمزور تعلق، غیر ضروری مشاغل اور دینی تعلیم کے مواقع کی کمی شامل ہیں۔
ان اسباب کا علاج یہ ہے کہ ہم علمِ دین کی اہمیت کو سمجھیں، اخلاص کے ساتھ علم حاصل کریں، قرآن و سنت کا مطالعہ کریں، مستند علما سے رہنمائی لیں، علم پر عمل کریں اور اپنے گھر و معاشرے میں دینی تعلیم کو فروغ دیں۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ علم حاصل کرنے کے لیے عمر کی کوئی ایسی حد نہیں جس کے بعد انسان کوشش چھوڑ دے۔ جو شخص بچپن میں علم حاصل نہ کر سکا، وہ جوانی میں آغاز کر سکتا ہے، اور جو جوانی میں غفلت کا شکار رہا، وہ بڑھاپے میں بھی اللہ تعالیٰ کی توفیق سے علم حاصل کرنے اور اپنی اصلاح کی کوشش کر سکتا ہے۔
آج ہی عزم کیجیے کہ روزانہ کچھ وقت دین سیکھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے ضرور نکالیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نافع علم، صالح عمل، صحیح فہمِ دین اور اخلاص کی دولت عطا فرمائے، ہمیں جہالت و غفلت سے محفوظ رکھے اور ہمیں قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی زندگی سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔