• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دین کے نام پر من گھرت مثالیں دینا ؟

نجم

رکن
شمولیت
اپریل 18، 2011
پیغامات
99
ری ایکشن اسکور
480
پوائنٹ
79
السلام علیکم!
کیا کسی شخص کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ تربیت و اصلاح کے لئے دین کے نام پر من گھرت کہانیاں اور مثالیں پیش کرے۔ ؟
اصل بنیادی مقصد اصلاح ہی کا ہو؟
کیا شریعت اس چیز کی اجازت دیتی ہے ؟
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
اگر تو آپ کی مراد یہ ہے کہ جیسا کہ شیخ سعدی اصلاح کے لیے حکمت بھری حکایات بیان کرتے ہیں تو ایسا کرنا جائز ہے کیونکہ سب کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ دین نہیں ہے بلکہ شیخ سعدی کی حکایات ہیں اور ان سے مقصود ایک اخلاقی سبق یا مارل لیسن حاصل کرنا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ آپ بچوں کو لالچ کی مذمت کے لیے کتے کی کہانی سنا دیتے ہیں اور اتحاد کا سبق دینے کے لیے تین بیلوں کی کہانی سناتے ہیں۔
اسی طرح مدارس دینیہ میں مقامات حریری نصاب میں داخل ہے اور یہ حقیقی قصوں پر مشتمل نہیں ہے لیکن اس کا مقصود تعلیم وتربیت ہے۔ اس کے جواز کی دلیل صحیح بخاری کی روایت مبارکہ 'حدثوا عن بنی اسرائیل ولا حرج' یعنی بنی اسرائیل سے قصے کہانیاں بیان کرو اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔مزید تفصیل کے لیے یہ عربی لنک دیکھیں۔
اور اگر اس سے مراد دین میں جھوٹ گھڑنا ہے تو اس کے حرام ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔
 
Top