• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دیوبندی جمہوریت !

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
823
ری ایکشن اسکور
225
پوائنٹ
111
دیوبندی جمہوریت !
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

"ووٹ ڈالنے کے لیے جانا بھی عبادت ہے، مجھے امید ہے کہ تم صبح سویرے اٹھ کر وضو کرو گے اور دو رکعت نفل نماز پڑھو گے، پھر تم جب انتخابی مرکز جاؤ گے تو وہاں اکیلے ہونگے، تمہارے ساتھ نہ عوامی نیشنل پارٹی کا نمائندہ ہوگا نہ پیپلز پارٹی کا، نہ تحریک انصاف کا اور نہ ہی جمعیت علماء اسلام کا، تم اللّٰه کے حضور اکیلے ہو نگے لہذا اس کی نگرانی کا احساس کرو، قبلے کی طرف رخ کرو اور جسے مناسب سمجھو اسے ووٹ دو"۔

سوچیں کہ جمہوریت سے (جوکہ لازماً کفر سے) بھرا ہوا یہ بیان اس نام نہاد "جامعۃ الجہـاد" اور معروف ترین دینی مدرسے کے ایک نمایاں ترین پیشوا کے متعدد بیانات میں سے ایک ہے، جس سے طـالبان کے دونوں - افغانی و پاکستانی ـ دھڑوں کے چوٹی کے رہنما نکلے ہیں، اور ان کے علاوہ دیگر بھی جو اس دیو بندی سرچشمے سے سیراب ہوئے، تو بھلا سامری اور اس کے سپوتوں کے زمانے میں وہ ہمارے لیے کون سا مائی کا لال جنم دے سکتے ہیں ؟!

مندرجہ بالا بیان پیشوا و پیرِ جمہوریت "محمد ادریس" کا ہے، جو عرصے تک مساجد کے اندر سے پکار پکار کر اس کی دعوت دیتا رہا، ان مساجد کو اس نے اپنی کفـریہ انتخابی مہمات کو فروغ دینے کے لیے گویا ایک اسٹیج بنا ڈالا تھا، جہاں سے وہ اپنی جمہوری سیاسی جماعت جمعیت علماء اسلام کی حمایت کرتا تھا، یہ کریہہ جماعت جمہوریت کو اپنا منہجِ حیات بنا بیٹھی ہے، اس کا دفاع کرتی اور لوگوں سے اس کی عبادت کراتی ہے۔

منہجی طور پر یہ جمہوری استعاره مدرسہ دیوبند کی پیداوار ہے، جو ہندوستان میں "دار العلوم دیوبند" کے نام سے قائم ہوا تھا اور پھر پڑوسی ملک پاکستان میں "دار العلوم حقانیہ" کے نام سے آپہنچا، اس کا بانی "عبد الحق اکوڑوی" تھا، جس نے ہندوستانی شاخ میں پڑھنے کے بعد اس دیوبندی تجربے کو پاکستان منتقل کیا، یوں بعد ازاں یہ ایک "دیو بندی قلعہ" بن گیا جس سے طـالبان کے نمایاں ترین رہنما نکلے اور مشہور "حقانی" نسبت سے معروف ہوئے۔

یہ شخص "دینِ جمہوریت" کے پیشواؤں میں سے ایک پیشوا، بلکہ انتخابی مہمات کی چنگاری اور گونجتی آواز تھا، منبر و محراب پر سے اس کی طرف بلاتا، شریعت کی مخالفت اور توحید سے جـنگ کرتا، البتہ آج جہـادیوں کی منبر پر براجمان جمہوریت کے متعلق رائے بدل گئی ہے!

دیوبندی جمعیت کے دیگر رہنماؤں کی طرح، وہ بھی سمجھتا تھا کہ انتخابات میں اس کی سیاسی جماعت کے لیے ووٹ ڈالنا ایک شرعی گواہی ہے جسے چھپانا جائز نہیں، سو اپنے شاگردوں کو جمہوری عمل میں حصہ لینے پر ابھارتا تاکہ لادین قوتوں کا راستہ روکا جاسکے ! البتہ ہم نے لادینیت کا مقابلہ کرتی جمہوریت کا فلسفہ صرف انہی اور ان کے پیشرو "اخوانیوں" کے پاس ہی سنا ہے، اور آپ کا تعجب اس وقت دور ہوجاتا ہے جب پتا چلتا ہے کہ لادین قوتوں سے مراد دراصل انتخابی میدان میں ان کے مقابل اور حریف ہیں۔

نیز القـاعدہ و طـالبان کا یہ پیر "امریکیت زدہ" حکومت کے سامنے اپنی سیاسی جماعت کو دہـشت گردی کے ایک پر امن متبادل کے طور پر پیش کیا کرتا تھا! وہ خبردار کرتا تھا کہ اس کی جماعت کی انتخابات میں شکست "دین جمہوریت" سے خارج جماعتوں کو پنپنے کا موقع دے گی، یہ حیرت انگیز بات ہے کہ ان "خورد بینی شاخوں" میں سے ایک (کہ جس کے رہنما اسی دیوبندی مدرسے کے فارغ التحصیل ہے) نے لپک کر جمہوریت کی اس پیشوا اور سابق رکن پارلیمان کی تعزیت کی! اور مجـاہدین پر الزام لگایا کہ وہ بین الاقوامی جاسوسی اداروں کے آلہ کار ہیں! حالانکہ اب تو سب کو پتا چل گیا ہے کہ بین الاقوامی جاسوسی اداروں نے ہر حربہ آزما لیا، تاہم انہیں دمشق تا کابل مجاہدین کی راہ روکنے کے لیے "جہـادیوں" کو گود لینے سے زیادہ مؤثر حل کوئی نہ سوجھا، اور یہ دائرہ مزید پھیل رہا ہے۔

یہ ایک عجیب تضاد ہے کہ اس "خورد بینی شاخ" کے پیر و مرشد، استاد، پیشوا و رہنما "ادریس" نے "صیہونی صلیبی" اتحاد اور ایران کے درمیان ثالثی کرانے پر امریکیت زدہ فوج کے سربراہان کی تعریف کی تھی! نیز اس نے ذاتی طور پر "القـاعدہ کی حکومت" اور اس " امریکیت زدہ" پاکستانی حکومت کے درمیان مصالحت کا بیڑا اٹھایا تھا کہ جسے گرانے کی دعوت القـاعدہ نے اپنے تازہ ترین بیانات میں دی ہے، تاکہ اس امارت کا بدلہ لیا جا سکے کہ جس کے اور پاکستان کے درمیان مصالحت کرانے "ادریس" آیا تھا۔

انسان کو شاید حیرت ہو کہ ان جمہوری دیوبندی مدرسوں کے ملوں اور ان جہـادیوں کے درمیان یہ گھمبیر تعلق کیا ہے کہ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جمہوریت کی تکفـیر کرتے ہیں؟! شاید اس کا جواب تب مل جاتا ہے جب "پیر طریقت" اور "مرید" کے درمیان تعلق سمجھ آجائے، "پیر" سے اس کے کسی عمل کے متعلق پوچھا نہیں جاسکتا، اور "مرید" اپنے "اعلیٰ حضرت" کے سامنے چُوں بھی نہیں کر سکتا۔

پس"حوانی حوزے " میں استاد اور شاگرد کے درمیان تعلق صوفی سلسلوں میں "پیر و مرید" کے تعلق کی ہوبہو نقل ہے! جہاں شاگرد کو استاد کی اندھی پیروی، تقدیس و تعظیم پر ڈھالا جاتا ہے، یہاں تک کہ خواہ استاد منبر و محراب پر دین جمہوریت اور کفـریہ انتخابات ہی کی تبلیغ کرتا ہو!

اس "دیوبندی مدرسے" اور اس کے پیشواؤں ـ سرپرستانِ جمہوریت ـ کے متعلق ایک اور چیز خوب مشہور ہے، کہ یہ "شیخ الحدیث" ہیں! یہ افغانستان و پاکستان میں پنجے گاڑے ہوئی ایک تاریخی و منھجی غلط فہمی ہے، جسے درست کرنا لازم ہے، پس اہل الحدیث تو توحید اور الولاء والبراء والے لوگ ہیں، وہ جو مشرکین سے دوری اختیار کرتے، ان کے مناہج، یاسق - اسلام و غیر اسلام کا ملغوبہ قانون ـ اور جمہوریت کو ڈھاتے ہیں، وہی جسے "ادریس" اور دیگر اپنا دین مانتے اور اس کی طرف بلاتے ہیں، کہ جن کے سر حقیقی اہل الحدیث قلم کرتے رہے ہیں، ہم انہیں یوں ہی گمان کرتے ہیں مگر ان کی پاکیزگی نہیں جتاتے۔

آپ صِحاح، سُنن اور مسانید کھول لیں، معاجم، زوائد اور مستدرکات لے آئیں، اور ان سے پہلے قرآنی آیات پیش کریں، اور ہمیں دکھا دیں کہ کون سی دلیل اس "دیوبندی جمہوریت" کی اجازت دیتی ہے جسے یہ سب گلے کا طوق بنائے ہوئے ہیں، جبکہ جہـادی اس سے گزارا کرتے ہیں اور اس کے سرپرستوں کی تعزیت کرتے ہیں !

ان اسلام پسند جمہوریوں کا جرم تو خالص جمہوریوں کے جرم سے زیادہ سنگین ہے، کیونکہ اسلام پسند جمہوری اپنے کفـر کو دین کے نام کا جواز دیتے ہیں! وہ جمہوریت کو اسلام اور مسلمانوں کی نصرت کا لبادہ اوڑھاتے ہیں! یہ جرم در جرم اور دین کے نام پر وہ سودا بازی ہے ، جسے روایتی جمہوریت پرست نہیں کرتے؛ بلکہ اس کے تمام تر بھدے پن اور گندگی سمیت اسے جوں کا توں پیش کرتے ہیں، جبکہ یہ لوگ اسے ایک الگ روپ میں پیش کرتے ہیں جسے ان کا "مرید" قبول کرلے اور اس پر اپنا ووٹ نچھاور کر دے جیسے دوسرے اس پر اپنی جانیں نچھاور کر رہے ہیں۔

اسی طرح "انجمنِ علماءِ اخوان" کا لپک کر پیرِ جمہوریت کی تعزیت پیش کرنا بھی قطعاً حیران کن نہ تھا، کیونکہ پرندے اپنے ہم جنسوں کے ہمراہ بیٹھتے ہیں، چنانچہ اخوانی ہی جمہوریت کے سرپرست تھے اور ان ہی سے یہ جہـادیوں میں منتقل ہوئی، لیکن القـاعدہ و طـالبان کے اس پیر کے لیے اخوانیوں کی تعریف میں قابل غور نکتہ ان کا اس کی ذات پر اس پہلو سے روشنی ڈالنا تھا کہ اس نے طـالبان و پاکستان کے درمیان گفت و شنید کی حمایت کی، امریکا و ایران کے درمیان اپنی فوج کے مصالحانہ کردار کی حوصلہ افزائی کی، اسلام کی "شدت پسندانہ تفسیرات" کو روکنے میں تعاون کیا، اور صوبائی پارلیمان میں کئی عہدوں پر فائز رہا۔

ہماری رائے کے مطابق، یہ "اخوانی انتخاب" در حقیقت اخوانی محوروں کی طرف سے القـاعدہ و طـالبان کے مریدوں کے لیے "گہری مناظرہ بازی" ہے، جس کا خلاصہ ہے: آخر ہمارے درمیان وجہِ اختلاف کیا ہے؟؟

اور ہم بھی یہی کہتے ہیں: واقعی، تمہارے درمیان وجہِ اختلاف کیا ہے؟! اگر یہ وہی جمہوریت نہیں کہ جس کی تکفـیر جہـادیوں نے اپنے عہدِ شباب میں کی اور اس کے وابستگان سے دشـمنی پالی، تو پھر آخر جمہوریت کیا بلا ہے؟!

کیا انہوں نے اپنی لاچاری کی وجہ سے اسے اپنے مخالفین کا عیب قرار دیا، اور جب ان کے اپنے ہی جتھے اور پیشوا اسے لاگو کرنے لگے تو انہوں نے اسے درست بنا دیا اور اس کے پیروں کو عذر بخش دیا؟ کیا یہ لادینوں کے لیے حرام اور جہـادیوں کے لیے حلال ہے؟! کیا کوئی جمہوریت کالی اور کوئی سفید بھی ہوتی ہے؟!

{ کیا تمہارے کفـار ان کے کفـار سے بہتر ہیں؟ یا تمہارے لیے نوشتوں میں کوئی چھوٹ پائی جاتی ہے؟ }

اب بھلا سورج کو کون چراغ دکھائے؟

وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین

6814.jpg
 
Last edited:
Top