محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,099
- ری ایکشن اسکور
- 35
- پوائنٹ
- 111
جو شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہو اس کے لیے ذوالحجہ کا چاند طلوع ہو جانے کے بعد بال اور ناخن کٹوانا منع ہے۔
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ، وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعَرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا (صحیح مسلم، الأضاحي: 1977)
’’جب عشرہ (ذوالحجہ) شروع ہو جائے اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ کاٹے۔‘‘
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ، وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعَرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا (صحیح مسلم، الأضاحي: 1977)
’’جب عشرہ (ذوالحجہ) شروع ہو جائے اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ کاٹے۔‘‘
- یہ حکم صرف اس شخص کے لیے ہے جو خود قربانی کرنا چاہتا ہے، اس کے سوا جن کی طرف سے قربانی ہو رہی ہے (مثلاً اہلِ خانہ)، ان پر بال یا ناخن کٹوانے کی پابندی نہیں ہے۔