• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رافضہ و جہمیہ کے بارے میں شیخ ابن باز کی تصریحات

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
896
ری ایکشن اسکور
231
پوائنٹ
111
رافضہ و جہمیہ کے بارے میں شیخ ابن باز کی تصریحات

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام علیٰ أشرف الأنبياء والمرسلین، نبینا محمد وعلى آلہ وصحبہ أجمعین، أما بعد!

شیخ عبدالعزیز بن باز کی مجالس علمیہ سے منقول بعض قیمتی کلمات جو کتاب «فوائد علمیة من مجالس الشیخ عبدالعزیز بن باز» کے صفحہ ٤٧ پر درج ہیں، ان میں شیخ نے چند گمراہ فرقوں کے بارے میں نہایت واضح موقف اختیار فرمایا ہے۔ یہ کلمات اہل سنت والجماعت کے منہج کی عکاسی کرتے ہیں۔

11931.jpg

11933.jpg

شیخ ابن باز فرماتے ہیں: «ذبائح الرافضة لا تحل، هم وثنیون» یعنی رافضہ کے ذبیحے حلال نہیں، وہ بت پرست ہیں۔

ذبیحہ اس وقت حلال ہوتا ہے جب ذابح موحد مسلمان ہو اور اللہ کے نام پر ذبح کرے۔ رافضہ چونکہ شرک اکبر میں مبتلا ہیں، اس لیے ان کا ذبیحہ حرام ہے۔ ان کے شرکیہ عقائد میں ائمہ کو علم غیب، تصرف فی الکون اور ربوبیت کی صفات دینا، قبروں اور ضریحوں کی عبادت، نذر و نیاز، استغاثہ بالاموات، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر سب و شتم اور ان کی ناحق تکفیر شامل ہیں۔

یہ سب امور شرک و کفر ہیں جو آدمی کو ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتے ہیں۔ اسی بنا پر شیخ ابن باز نے رافضہ کو «وثنیون» قرار دیا۔ یہ موقف صرف شیخ ابن باز کا نہیں بلکہ دیگر تمام علماء اہل سنت کا بھی ہے۔ جو شخص ان روافض کے ذبیحے کو حلال سمجھے وہ دراصل ان کے شرک کو نظر انداز کر رہا ہے اور سنت سے منحرف ہے۔

اسی طرح شیخ ابن باز جھمیہ اور دیگر گمراہ فرقوں کے بارے میں فرماتے ہیں: «الجھمیة وغیرھم لا یعذرون بجھلھم فالسنة قائمة» یعنی جھمیہ اور ان جیسے دوسرے لوگ اپنے جہالت کی وجہ سے معذور نہیں، کیونکہ سنت قائم ہے۔

جھمیہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی صفات حقیقیہ مثلا استواء علی العرش، کلام، ید، عین وغیرہ کی نفی کرتے ہیں اور انہیں تاویل یا تعطیل سے مٹا دیتے ہیں۔ شیخ ابن باز نے واضح فرمایا کہ ان لوگوں کو جہالت کا عذر نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ سنت نبویہ محفوظ ہے، آثار صحابہ موجود ہیں، اور امت کے ائمہ نے ان عقائد کی تردید کر کے حجت قائم کر دی ہے۔ جو شخص سنت کے موجود ہوتے ہوئے ان گمراہ عقائد کو اختیار کرے، اسے جہالت کا عذر نہیں ملتا۔ یہی اصول دیگر گمراہ فرقوں پر بھی لاگو ہوتا ہے جو نصوص قطعیہ کی مخالفت کرتے ہیں۔

پس شیخ ابن باز کی ان مختصر تصریحات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ رافضہ اور جھمیہ جیسے فرقے ضالہ ہیں اور ان کے عقائد شرک و بدعت پر مبنی ہیں۔ اہل سنت والجماعت کا منہج یہی ہے کہ ان سے براءت کی جائے اور ان کے گمراہ کن نظریات کی سختی سے تردید کی جائے۔ جو لوگ ان فرقوں کی مدافعت کرتے ہیں یا ان کو جہالت کا عذر دیتے ہیں، وہ دراصل کتاب و سنت اور سلف صالحین کے راستے سے ہٹ رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توحید و سنت پر ثابت قدم رکھے، شرک، بدعت و ضلالت سے محفوظ فرمائے، اور حق کو حق سمجھ کر اس کی اتباع کرنے، باطل کو باطل سمجھ کر اس سے اجتناب کرنے، اور کتاب و سنت کے مطابق اعتدال و بصیرت کے ساتھ حق بیان کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

وآخر دعوانا أن الحمد للّٰہ رب العالمين، وصلی اللہ علیٰ نبینا محمد وعلى آلہ وصحبہ أجمعين۔
 
Top