ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 808
- ری ایکشن اسکور
- 224
- پوائنٹ
- 111
رافضیت: اسلام سے متصادم ایک گمراہ مذہب
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمدٍ وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:
رافضیت تاریخِ اسلام کا وہ سیاہ فتنہ ہے جس کی بنیاد قرآن و سنت کی اتباع پر نہیں بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے بغض، اہل سنت کی مخالفت، اور دین اسلام کے مسلمہ اصولوں سے انحراف پر قائم ہے۔ یہ ایسا گمراہ مذہب ہے جس نے حق و باطل کا معیار ہی بدل ڈالا۔ ان کے نزدیک ہدایت کا معیار قرآن و سنت نہیں بلکہ اہل سنت کی مخالفت ہے، یہی وجہ ہے کہ رافضیت ہمیشہ امت کے اندر فساد، طعنِ صحابہ، اور اہل حق سے دشمنی کا سرچشمہ رہی ہے۔
شیخ ابو مصعب الزرقاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إن الرفض دين يختلف تماما عن الإسلام الذي جاء به النبي ﷺ، ولا يمكن أن يلتقي معه في كثير من الفروع والأصول، كيف لا وكبار آياتهم وعلمائهم قد قعدوا لهم قاعدة في الترجيح بين الأدلة إذا اختلفت عندهم أو تعارضت، بأن ما خالف قول أهل السنة (ويسمونهم العامة) هو القول الأقرب للصواب، مستندين على روايات مكذوبة عندهم كأصل لهذه القاعدة التي تدل على مخالفة دينهم أصولا وفروعا لدين الإسلام من حيث منهج الحق.
رافضیت ایک ایسا دین ہے جو اس اسلام سے بالکل مختلف ہے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے۔ بہت سے اصولی اور فروعی مسائل میں اس کا اسلام کے ساتھ کوئی اجتماع ممکن نہیں۔ آخر ایسا کیوں نہ ہو، جبکہ ان کے بڑے بڑے علماء اور مذہبی پیشواؤں نے دلائل میں ترجیح دینے کے لیے یہ قاعدہ مقرر کر رکھا ہے کہ جب ان کے نزدیک دلائل میں اختلاف یا تعارض ہو تو وہ قول زیادہ صحیح سمجھا جائے گا جو اہل سنت کے قول کے خلاف ہو۔ (وہ اہل سنت کو عامہ کہتے ہیں) اور اس قاعدے کی بنیاد وہ اپنی گھڑی ہوئی اور جھوٹی روایات پر رکھتے ہیں۔ یہ اصول خود اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ان کا دین، اصول و فروع دونوں اعتبار سے، حق کے منہج کے لحاظ سے دین اسلام سے مختلف اور متضاد ہے۔
ففي باب عقده (الحر العاملي) وهو من علماء الرافضة في كتابه [وسائل الشيعة] تحت عنوان: عدم جواز العمل بما يوافق العامة ويوافق طريقتهم، قال فيه: "والأحاديث في ذلك متواترة أي في عدم جواز العمل بما يوافق العامة، فمن ذلك قول الصادق عليه السلام في الحديثين المختلفين اعرضوهما على أخبار العامة أي أهل السنة والجماعة، فما وافق أخبارهم فذروه، وما خالف أخبارهم فخذوه. وقال عليه السلام: خذ بما فيه خلاف العامة، فما خالف العامة ففيه الرشاد".
چنانچہ رافضیوں کے ایک عالم (الحر العاملی) نے اپنی کتاب [وسائل الشیعہ] میں ایک باب قائم کیا جس کا عنوان ہے: اس بات کا بیان کہ ایسے قول پر عمل کرنا جائز نہیں جو عامہ کے موافق ہو اور ان کے طریقے کے مطابق ہو۔ اس باب میں وہ لکھتا ہے: "اس بارے میں احادیث متواتر ہیں، یعنی اس بات پر کہ عامہ کے موافق قول پر عمل جائز نہیں۔ انہی میں سے امام صادق کا یہ قول ہے کہ جب دو مختلف احادیث سامنے آئیں تو انہیں عامہ یعنی اہل سنت والجماعت کی روایات پر پیش کرو، پس جو ان کی روایات کے موافق ہو اسے چھوڑ دو، اور جو ان کے مخالف ہو اسے اختیار کرو۔ اور انہوں نے یہ بھی کہا: وہ بات اختیار کرو جس میں عامہ کی مخالفت ہو، کیونکہ جو عامہ کے خلاف ہو اسی میں ہدایت ہے۔"
وجاء في [عيون أخبار الرضى] : "روى الصدوق عن علي بن أسباط، قال: قلت للرضا عليه السلام: يحدث الأمر لا أجد بد من معرفته، وليس في البلد الذي أنا فيه من أستفتيه من مواليك قال: فقال ايت فقيه البلد فاستفته في أمرك، فإذا أفتاك بشيء فخذ بخلافه، فإن الحق فيه".
اسی طرح [عيون أخبار الرضى] میں آیا ہے کہ "صدوق نے علی بن أسباط سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے امام رضا سے کہا: ایک معاملہ پیش آتا ہے جس کا جاننا میرے لیے ضروری ہوتا ہے، مگر جس شہر میں میں ہوں وہاں آپ کے ماننے والوں میں سے کوئی ایسا شخص نہیں جس سے میں فتویٰ پوچھ سکوں۔ تو امام رضا نے کہا: شہر کے کسی فقیہ کے پاس جاؤ اور اپنے معاملے میں اس سے فتویٰ پوچھو، پھر جب وہ تمہیں کوئی فتویٰ دے تو اس کے خلاف اختیار کرو، کیونکہ حق اسی میں ہے۔"
[هل أتاك حديث الرافضة، ص : ١١]
رافضیت ایک ایسا باطل مذہب ہے جس نے دین اسلام کے مصادر، اصول اور منہجِ استدلال ہی کو مسخ کر ڈالا۔ شیخ ابو مصعب الزرقاوی رحمہ اللہ نے نہایت واضح الفاظ میں فرمایا کہ: "إن الرفض دين يختلف تماما عن الإسلام الذي جاء به النبي ﷺ" یعنی رافضیت اس اسلام سے بالکل مختلف دین ہے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے۔ شیخ کا یہ جملہ اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ مسئلہ صرف چند فروعی اختلافات کا نہیں بلکہ اصول دین اور منہجِ حق کا ہے۔
شیخ زرقاوی رحمہ اللہ نے یہ بھی واضح کیا کہ رافضیوں کے بڑے علماء نے ایک ایسا قاعدہ وضع کیا ہے جس کے مطابق جو بات اہل سنت کے خلاف ہو وہی ان کے نزدیک حق کے زیادہ قریب ہے۔ غور کیجیے! روافض کے یہاں حق و باطل کا معیار قرآن و سنت نہیں بلکہ اہل سنت والجماعت کی مخالفت ہے! گویا اگر اہل سنت ایک صحیح حدیث پر عمل کریں تو رافضی اس حدیث کو صرف اس لیے چھوڑ دیں گے کہ وہ اہل سنت کے موافق ہے۔
اسی لیے ان کے علماء نے باقاعدہ ان کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اہل سنت کے موافق بات پر عمل کرنا جائز نہیں۔ جو اہل سنت کی روایات کے موافق ہو اسے چھوڑ دو، اور جو مخالف ہو اسے لے لو۔ یہ خود ان روافض کے مذہب کی بنیادوں کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔ کیونکہ روافض کا اصل مقصود اہل سنت کی مخالفت ہے۔
پھر ان کے ہاں یہ بھی کہا گیا کہ ہدایت اسی میں ہے جو اہل سنت کے خلاف ہو! یہ ایسا باطل اور فاسد اصول ہے جو صاف ظاہر کرتا ہے کہ رافضیت کی بنیاد اہل سنت سے بغض اور مخالفت پر قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم پر طعن کیا، امہات المؤمنین کی گستاخی کی، اور امت کے اجماعی عقائد سے انحراف کیا۔
شیخ ابو مصعب الزرقاوی رحمہ اللہ نے بالکل درست فرمایا کہ یہ مذہب أصولا وفروعا اسلام سے مختلف ہے۔ کیونکہ جو فرقہ حق کو قرآن و سنت سے نہیں بلکہ اہل سنت کی مخالفت سے پہچانے، وہ درحقیقت اپنے لیے الگ دین گھڑ چکا ہے۔ اہل اسلام کا منہج یہ ہے کہ حق کو دلیل سے پہچانا جائے، خواہ وہ کسی کے موافق ہو یا مخالف؛ جبکہ رافضیوں کا اصول یہ ہے کہ اگر اہل سنت کسی بات پر ہوں تو اس کے الٹ کو اختیار کرو۔
لہٰذا مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اس باطل رافضی مذہب سے ہوشیار رہیں، اس کے شبہات سے اپنے عقائد کی حفاظت کریں، اور قرآن و سنت کو صحابہ کرام کے فہم کے مطابق مضبوطی سے تھامے رکھیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو روافض کے شر، ان کے باطل عقائد، اور ان کی گمراہ کن تاویلات سے محفوظ فرمائے، اور سلف صالحین کے منہج پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔