• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ربیع مدخلی کی بدعت جہمیہ کا علمی محاسبہ

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
830
ری ایکشن اسکور
226
پوائنٹ
111
ربیع مدخلی کی بدعت جہمیہ کا علمی محاسبہ

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد للہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ محمد وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین۔ اما بعد:

آج کے دور میں بعض لوگ منہج سلف کا لبادہ اوڑھ کر ایسی بدعات زندہ کر رہے ہیں جو صدیوں پہلے جہمیہ نے ایجاد کی تھیں۔ انہی میں سے عصر حاضر کا ایک نمایاں جہمی ربیع مدخلی ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ، خصوصا صفت استواء میں جهمیہ کی بدعت کو نئی شکل دے کر پیش کیا ہے۔ وہ "استوى" اور "استولى" میں لفظی فرق کا دعویٰ تو کرتا ہے مگر معنوی طور پر دونوں کو ایک ہی چیز بنا کر اللہ تعالیٰ کے عرش پر "استولی" کا لفظ استعمال کرتا ہے، جو اہل سنت کے عقیدے کے خلاف ہے۔

ربیع مدخلی نے شرح عقيدة السلف أصحاب الحديث (ص:۷۳) میں لکھا ہے :

من المعلوم بداهة أنّ الله الله قَهر العرش قبل أن يخلق السموات الأرض، وقاهر للعرش ولجميع المخلوقات ومستول عليها

یہ بات بدیہی طور پر معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پہلے ہی عرش پر قاہر و غالب تھا، اور وہ عرش پر بھی قاہر ہے اور تمام مخلوقات پر بھی، نیز ان سب پر مستولی ہے۔


7397.jpg

7395.jpg

اور پھر اسی کتاب کے صفحہ ٧٤ پر لکھتا ہے:

إذا الاستيلاء : هو السيطرة والهيمنة والسيادة على جميع المخلوقات؛ لا يخرج عن ذلك أحد ، فالله مستول عليها جميعا ، استولى على السموات وعلى الأرضين وعلى البشر وعلى الجمادات وعلى الحيوانات وعلى جميع المخلوقات، هو مسيطر عليها ؛ يسخّرها وقادر عليها

استیلاء سے مراد تمام مخلوقات پر سیطرہ، غلبہ، اقتدار اور حاکمیت ہے۔ اس سے کوئی مخلوق خارج نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات پر مستولی ہے۔ وہ آسمانوں پر بھی مستولی ہے، زمینوں پر بھی، انسانوں پر بھی، جمادات پر بھی، حیوانات پر بھی، اور تمام مخلوقات پر مستولی ہے۔ وہ ان سب پر مکمل اقتدار و تسلط رکھتا ہے، انہیں اپنے حکم کے مطابق چلاتا ہے اور ان پر پوری قدرت رکھتا ہے۔


7403.jpg

نیز صفحہ ٧٧ پر لکھتا ہے:

تقول : استولى على المخلوقات كلها هذا أمر جائز وهو حق وهو واقع
یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات پر مستولی ہے، جائز بھی ہے، حق بھی ہے اور حقیقت واقعہ بھی یہی ہے۔


7405.jpg

اور مزید صفحہ ٧٩ پر لکھتا ہے:

وأما الاستيلاء فهو عام لكل المخلوقات. وقد فسرنا نظير هذه الآية فيما سلف .
رہا استیلاء، تو وہ تمام مخلوقات کے لیے عام ہے، اور ہم اس جیسی آیت کی تفسیر پہلے بیان کر چکے ہیں۔


[شرح عقيدة السلف أصحاب الحديث، ص:۷۳-۷۹]

7407.jpg

ربیع مدخلی نے "استوى" اور "استولى" کو الگ الفاظ قرار دینے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے لیے استولى على العرش اور استولى على المخلوقات کے اطلاق کو جائز اور حق قرار دیا ہے، حالانکہ ائمہ سلف نے خود لفظ "استولى" کے مفہوم پر اعتراض کیا ہے۔

چناچہ اس لفظ کی تردید میں امام ابن الأعرابی رحمہ اللہ کا قول بالکل واضح ہے جسے امام لالکائی رحمہ اللہ اپنی کتاب شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة میں روایت کرتے ہیں:

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ النَّحْوِيُّ، إِجَازَةً , ثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ نَفْطَوَيْهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سُلَيْمَانَ دَاوُدُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ الْأَعْرَابِيِّ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ: مَا مَعْنَى قَوْلِ اللَّهِ , عَزَّ وَجَلَّ , {الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى} [طه: ٥] ؟ فَقَالَ: هُوَ عَلَى عَرْشِهِ كَمَا أَخْبَرَ , عَزَّ وَجَلَّ , فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ لَيْسَ هَذَا مَعْنَاهُ , إِنَّمَا مَعْنَاهُ اسْتَوْلَى , قَالَ: اسْكُتْ مَا أَنْتَ وَهَذَا؟ لَا يُقَالُ: اسْتَوْلَى عَلَى الشَّيْءِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُ مُضَادٌّ , فَإِذَا غَلَبَ أَحَدُهُمَا قِيلَ اسْتَوْلَى , أَمَا سَمِعْتَ النَابِغَةَ: [البحر البسيط] أَلَا لِمِثْلِكَ أَوْ مَنْ أَنْتَ سَابِقُهُ ... سَبْقَ الْجَوَادِ إِذَا اسْتَوْلَى عَلَى الْأَمَدِ

محمد بن جعفر النحوی نے ہمیں اجازتا روایت کیا، انہوں نے کہا: ہمیں ابو عبداللہ نفطویہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے ابو سلیمان داؤد بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم ابن الأعرابی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور پوچھنے لگا: اللہ عزوجل کے اس فرمان کا کیا معنی ہے؟ ﴿الرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى﴾ (طٰہٰ: 5) ابن الأعرابی نے فرمایا: وہ اپنے عرش پر ہے جیسا کہ اللہ عزوجل نے خود خبر دی ہے۔ اس شخص نے کہا: اے ابو عبداللہ! اس کا یہ معنی نہیں ہے، بلکہ اس کا معنی "استولى" ہے۔ یہ سن کر ابن الأعرابی نے فرمایا: خاموش رہ! تجھے اس بات سے کیا واسطہ؟ "استولى على الشيء" اس وقت کہا جاتا ہے جب اس کے مقابل کوئی مخالف اور مد مقابل موجود ہو، پھر جب ان دونوں میں سے ایک دوسرے پر غالب آ جائے تو کہا جاتا ہے کہ اس نے اس پر استیلا حاصل کر لیا۔ پھر فرمایا: کیا تم نے نابغہ شاعر کا یہ شعر نہیں سنا؟ (اس کے بعد انہوں نے عربی شعر بطور دلیل ذکر کیا۔)أَلَا لِمِثْلِكَ أَوْ مَنْ أَنْتَ سَابِقُهُ خبردار! ایسی فضیلت اور برتری تو تم جیسے شخص ہی کے لیے ہے، یا اس کے لیے جس پر تم سبقت لے جاؤ۔ سَبْقَ الْجَوَادِ إِذَا اسْتَوْلَى عَلَى الْأَمَدِ جیسے ایک تیز رفتار گھوڑا دوڑ کی حد مقرر (منزل مقصود) پر اپنے حریفوں کو پیچھے چھوڑ کر سبقت حاصل کر لیتا ہے۔


[شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة، ج : ١، ص : ٣٩٩]

7427.jpg

7425.jpg

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾ اور فرماتا ہے: ﴿هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا﴾ جب اللہ تعالیٰ کا کوئی ہمسر، شریک یا مد مقابل ہی نہیں تو پھر وہ مفہوم جو ابن الأعرابی نے "استولى" کی بنیاد قرار دیا یعنی کسی چیز پر استولی اسی وقت بولا جاتا ہے جب اس کے مقابل کوئی مد مقابل ہو، پھر جب ایک دوسرے پر غالب آ جائے تو کہا جاتا ہے کہ اس نے استیلا حاصل کر لیا۔ سب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے حق میں کیسے ثابت کیا جا سکتا ہے؟

ربیع مدخلی کے ہم عصر شیخ فوزی اثری نے اہل سنت کے لبادے میں چھپے ہوئے اس جہمی ربیع مدخلی کی نشاندہی کرتے ہوئے نہایت واضح اور سخت الفاظ میں فرمایا:

ثُمَّ تَلَقَّفَ هَذِهِ الْبِدْعَةَ فِي هَذَا الزَّمَانِ، مِمَّنْ يَدَّعِي السُّنَّةَ، وَهُوَ: رَبِيعُ الْمَدْخَلِيُّ، وَهُوَ لَا يَشْعُرُ، فَوَرِثَ عَنِ: «الْجَهْمِيَّةِ، بِدْعَةَ الْقَوْلِ: «أَنَّ اللَّهَ اسْتَوْلَىٰ عَلَى الْعَرْشِ !»، وَأَنَّ اللَّهَ سَيْطَرَ عَلَى الْعَرْشِ ، وَأَنَّ اللَّهَ قَهَرَ الْعَرْشَ !»، وَأَضَلَّ فِي هَذِهِ الْبِدْعَةِ الشَّنِيعَةِ : أَتْبَاعَهُ فِي عَدَدٍ مِنَ الْبُلْدَانِ .

یہ جہمیہ کی پرانی بدعت اس زمانے میں ایک ایسے شخص نے اختیار کر لی جو اہل سنت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور وہ ربیع مدخلی ہے، جبکہ اسے خود اس کا شعور بھی نہیں۔ چنانچہ اس نے جہمیہ سے یہ بدعت ورثے میں لے لی کہ: "استولیٰ علی العرش"، "سیطر علی العرش"، "قہر العرش" اور اس نے اس قبیح بدعت کے ذریعے مختلف ممالک میں اپنے بہت سے پیروکاروں کو بھی گمراہ کیا۔


[تَجْهِيزُ النَّطْعِ وَالْفَرْشِ، ص : ٢٤]

7429.jpg

7431.jpg

شیخ فوزی اثری نے ربیع مدخلی کا نام لیتے ہوئے فرمایا کہ وہ اہل سنت ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے در حقیقت جہمی عقیدہ کو زندہ کر رہا ہیں۔ «وَهُوَ لَا يَشْعُرُ» وہ خود اسے نہیں سمجھتا۔ یعنی ربیع مدخلی اس کی جہالت کی وجہ سے اس بدعت کا مرتکب ہے۔ یہ اس کی علمی ناکامی اور عقیدتی انحراف کی طرف اشارہ ہے۔

ربیع مدخلی نے جہمیہ سے یہ بدعت ورثہ میں لی ہے، جہم بن صفوان اور اس کے پیروکار بھی استولیٰ علی العرش جیسی تاویلیں کرتے تھے۔ ربیع مدخلی نے بالکل اسی جہمی راستے پر چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں مخلوقات کی طرح مقابلہ کر دوسرے پر غالب آنے کا مفہوم داخل کر دیا۔

لہٰذا اہل سنت والجماعت پر لازم ہے کہ وہ اس باب میں کتاب و سنت اور فہم سلف کو مضبوطی سے تھامے، متکلمین جہمیہ مداخلہ کی تاویلات اور حادث تعبیرات سے بچے، اور وہی کہے جو سلف امت نے کہا، اور جس سے سلف نے سکوت اختیار کیا اس میں تکلف اور تجاوز سے بھی اجتناب کرے۔ یہی اہل سنت والجماعت کا محفوظ، واضح اور مستقیم راستہ ہے، اور اسی میں عقیدہ کی سلامتی اور بدعات و اہواء سے حفاظت ہے۔

واللہ المستعان، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم۔
 
Top