ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 830
- ری ایکشن اسکور
- 226
- پوائنٹ
- 111
ربیع مدخلی کی بدعت جہمیہ کا علمی محاسبہ
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد للہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ محمد وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین۔ اما بعد:
آج کے دور میں بعض لوگ منہج سلف کا لبادہ اوڑھ کر ایسی بدعات زندہ کر رہے ہیں جو صدیوں پہلے جہمیہ نے ایجاد کی تھیں۔ انہی میں سے عصر حاضر کا ایک نمایاں جہمی ربیع مدخلی ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ، خصوصا صفت استواء میں جهمیہ کی بدعت کو نئی شکل دے کر پیش کیا ہے۔ وہ "استوى" اور "استولى" میں لفظی فرق کا دعویٰ تو کرتا ہے مگر معنوی طور پر دونوں کو ایک ہی چیز بنا کر اللہ تعالیٰ کے عرش پر "استولی" کا لفظ استعمال کرتا ہے، جو اہل سنت کے عقیدے کے خلاف ہے۔
ربیع مدخلی نے شرح عقيدة السلف أصحاب الحديث (ص:۷۳) میں لکھا ہے :
من المعلوم بداهة أنّ الله الله قَهر العرش قبل أن يخلق السموات الأرض، وقاهر للعرش ولجميع المخلوقات ومستول عليها
یہ بات بدیہی طور پر معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پہلے ہی عرش پر قاہر و غالب تھا، اور وہ عرش پر بھی قاہر ہے اور تمام مخلوقات پر بھی، نیز ان سب پر مستولی ہے۔
اور پھر اسی کتاب کے صفحہ ٧٤ پر لکھتا ہے:
إذا الاستيلاء : هو السيطرة والهيمنة والسيادة على جميع المخلوقات؛ لا يخرج عن ذلك أحد ، فالله مستول عليها جميعا ، استولى على السموات وعلى الأرضين وعلى البشر وعلى الجمادات وعلى الحيوانات وعلى جميع المخلوقات، هو مسيطر عليها ؛ يسخّرها وقادر عليها
استیلاء سے مراد تمام مخلوقات پر سیطرہ، غلبہ، اقتدار اور حاکمیت ہے۔ اس سے کوئی مخلوق خارج نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات پر مستولی ہے۔ وہ آسمانوں پر بھی مستولی ہے، زمینوں پر بھی، انسانوں پر بھی، جمادات پر بھی، حیوانات پر بھی، اور تمام مخلوقات پر مستولی ہے۔ وہ ان سب پر مکمل اقتدار و تسلط رکھتا ہے، انہیں اپنے حکم کے مطابق چلاتا ہے اور ان پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
نیز صفحہ ٧٧ پر لکھتا ہے:
تقول : استولى على المخلوقات كلها هذا أمر جائز وهو حق وهو واقع
یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات پر مستولی ہے، جائز بھی ہے، حق بھی ہے اور حقیقت واقعہ بھی یہی ہے۔
وأما الاستيلاء فهو عام لكل المخلوقات. وقد فسرنا نظير هذه الآية فيما سلف .
رہا استیلاء، تو وہ تمام مخلوقات کے لیے عام ہے، اور ہم اس جیسی آیت کی تفسیر پہلے بیان کر چکے ہیں۔
[شرح عقيدة السلف أصحاب الحديث، ص:۷۳-۷۹]
چناچہ اس لفظ کی تردید میں امام ابن الأعرابی رحمہ اللہ کا قول بالکل واضح ہے جسے امام لالکائی رحمہ اللہ اپنی کتاب شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة میں روایت کرتے ہیں:
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ النَّحْوِيُّ، إِجَازَةً , ثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ نَفْطَوَيْهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سُلَيْمَانَ دَاوُدُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ الْأَعْرَابِيِّ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ: مَا مَعْنَى قَوْلِ اللَّهِ , عَزَّ وَجَلَّ , {الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى} [طه: ٥] ؟ فَقَالَ: هُوَ عَلَى عَرْشِهِ كَمَا أَخْبَرَ , عَزَّ وَجَلَّ , فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ لَيْسَ هَذَا مَعْنَاهُ , إِنَّمَا مَعْنَاهُ اسْتَوْلَى , قَالَ: اسْكُتْ مَا أَنْتَ وَهَذَا؟ لَا يُقَالُ: اسْتَوْلَى عَلَى الشَّيْءِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُ مُضَادٌّ , فَإِذَا غَلَبَ أَحَدُهُمَا قِيلَ اسْتَوْلَى , أَمَا سَمِعْتَ النَابِغَةَ: [البحر البسيط] أَلَا لِمِثْلِكَ أَوْ مَنْ أَنْتَ سَابِقُهُ ... سَبْقَ الْجَوَادِ إِذَا اسْتَوْلَى عَلَى الْأَمَدِ
محمد بن جعفر النحوی نے ہمیں اجازتا روایت کیا، انہوں نے کہا: ہمیں ابو عبداللہ نفطویہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے ابو سلیمان داؤد بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم ابن الأعرابی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور پوچھنے لگا: اللہ عزوجل کے اس فرمان کا کیا معنی ہے؟ ﴿الرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى﴾ (طٰہٰ: 5) ابن الأعرابی نے فرمایا: وہ اپنے عرش پر ہے جیسا کہ اللہ عزوجل نے خود خبر دی ہے۔ اس شخص نے کہا: اے ابو عبداللہ! اس کا یہ معنی نہیں ہے، بلکہ اس کا معنی "استولى" ہے۔ یہ سن کر ابن الأعرابی نے فرمایا: خاموش رہ! تجھے اس بات سے کیا واسطہ؟ "استولى على الشيء" اس وقت کہا جاتا ہے جب اس کے مقابل کوئی مخالف اور مد مقابل موجود ہو، پھر جب ان دونوں میں سے ایک دوسرے پر غالب آ جائے تو کہا جاتا ہے کہ اس نے اس پر استیلا حاصل کر لیا۔ پھر فرمایا: کیا تم نے نابغہ شاعر کا یہ شعر نہیں سنا؟ (اس کے بعد انہوں نے عربی شعر بطور دلیل ذکر کیا۔)أَلَا لِمِثْلِكَ أَوْ مَنْ أَنْتَ سَابِقُهُ خبردار! ایسی فضیلت اور برتری تو تم جیسے شخص ہی کے لیے ہے، یا اس کے لیے جس پر تم سبقت لے جاؤ۔ سَبْقَ الْجَوَادِ إِذَا اسْتَوْلَى عَلَى الْأَمَدِ جیسے ایک تیز رفتار گھوڑا دوڑ کی حد مقرر (منزل مقصود) پر اپنے حریفوں کو پیچھے چھوڑ کر سبقت حاصل کر لیتا ہے۔
[شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة، ج : ١، ص : ٣٩٩]
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾ اور فرماتا ہے: ﴿هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا﴾ جب اللہ تعالیٰ کا کوئی ہمسر، شریک یا مد مقابل ہی نہیں تو پھر وہ مفہوم جو ابن الأعرابی نے "استولى" کی بنیاد قرار دیا یعنی کسی چیز پر استولی اسی وقت بولا جاتا ہے جب اس کے مقابل کوئی مد مقابل ہو، پھر جب ایک دوسرے پر غالب آ جائے تو کہا جاتا ہے کہ اس نے استیلا حاصل کر لیا۔ سب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے حق میں کیسے ثابت کیا جا سکتا ہے؟
ربیع مدخلی کے ہم عصر شیخ فوزی اثری نے اہل سنت کے لبادے میں چھپے ہوئے اس جہمی ربیع مدخلی کی نشاندہی کرتے ہوئے نہایت واضح اور سخت الفاظ میں فرمایا:
ثُمَّ تَلَقَّفَ هَذِهِ الْبِدْعَةَ فِي هَذَا الزَّمَانِ، مِمَّنْ يَدَّعِي السُّنَّةَ، وَهُوَ: رَبِيعُ الْمَدْخَلِيُّ، وَهُوَ لَا يَشْعُرُ، فَوَرِثَ عَنِ: «الْجَهْمِيَّةِ، بِدْعَةَ الْقَوْلِ: «أَنَّ اللَّهَ اسْتَوْلَىٰ عَلَى الْعَرْشِ !»، وَأَنَّ اللَّهَ سَيْطَرَ عَلَى الْعَرْشِ ، وَأَنَّ اللَّهَ قَهَرَ الْعَرْشَ !»، وَأَضَلَّ فِي هَذِهِ الْبِدْعَةِ الشَّنِيعَةِ : أَتْبَاعَهُ فِي عَدَدٍ مِنَ الْبُلْدَانِ .
یہ جہمیہ کی پرانی بدعت اس زمانے میں ایک ایسے شخص نے اختیار کر لی جو اہل سنت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور وہ ربیع مدخلی ہے، جبکہ اسے خود اس کا شعور بھی نہیں۔ چنانچہ اس نے جہمیہ سے یہ بدعت ورثے میں لے لی کہ: "استولیٰ علی العرش"، "سیطر علی العرش"، "قہر العرش" اور اس نے اس قبیح بدعت کے ذریعے مختلف ممالک میں اپنے بہت سے پیروکاروں کو بھی گمراہ کیا۔
[تَجْهِيزُ النَّطْعِ وَالْفَرْشِ، ص : ٢٤]
ربیع مدخلی نے جہمیہ سے یہ بدعت ورثہ میں لی ہے، جہم بن صفوان اور اس کے پیروکار بھی استولیٰ علی العرش جیسی تاویلیں کرتے تھے۔ ربیع مدخلی نے بالکل اسی جہمی راستے پر چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں مخلوقات کی طرح مقابلہ کر دوسرے پر غالب آنے کا مفہوم داخل کر دیا۔
لہٰذا اہل سنت والجماعت پر لازم ہے کہ وہ اس باب میں کتاب و سنت اور فہم سلف کو مضبوطی سے تھامے، متکلمین جہمیہ مداخلہ کی تاویلات اور حادث تعبیرات سے بچے، اور وہی کہے جو سلف امت نے کہا، اور جس سے سلف نے سکوت اختیار کیا اس میں تکلف اور تجاوز سے بھی اجتناب کرے۔ یہی اہل سنت والجماعت کا محفوظ، واضح اور مستقیم راستہ ہے، اور اسی میں عقیدہ کی سلامتی اور بدعات و اہواء سے حفاظت ہے۔
واللہ المستعان، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم۔