• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رخصت ہوتے وقت کیا کہیں ؟

مقبول احمد سلفی

سینئر رکن
شمولیت
نومبر 30، 2013
پیغامات
1,400
ری ایکشن اسکور
500
پوائنٹ
209
عام طور سے لوگوں میں ملتے وقت ہائی ہیلو اور جدا ہوتے وقت بائی بائی کہنے کا چلن ہے جو کہ مغرب سے منتقل ہوکرآیاہے ۔ ہم مسلم قوم ہیں ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ملنے جلنےاور رخصت ہونے کے آداب سکھلائے ہیں بلکہ شعبہائے حیات کے تمام امور سے آگاہ کیا ہے اس لئے ہمیں کسی معاملہ میں دوسری قوم کی نقالی کی ضرورت ہی نہیں ۔
اسلام کی تعلیم ہے کہ جب مسلمان آپس میں ملیں تو سلام کریں ، اسی طرح جدا ہوتے وقت بھی سلام کے ذریعہ جدا ہوں یہ سب سے اچھا اور مبارک عمل ہے ۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إذا انتهى أحدُكم إلى المجلسِ فليسلِّم، فإذا أراد أن يقوم فلْيسلمْ ؛ فليستِ الأولى بأحقُّ من الآخرةِ(صحيح أبي داود:5208)
ترجمہ: جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں پہنچے تو چاہیئے کہ سلام کہے اور جب وہاں سے اٹھنا چاہے تو بھی سلام کہے , پہلی دفعہ سلام کہنا دوسری دفعہ کے مقابلے میں کوئی زیادہ اہم نہیں ہے ۔
یہ حدیث ہمیں بتلاتی ہے کہ مجلس سے اٹھتے وقت یعنی جدا ہوتے وقت بھی سلام کرنا چاہئے ۔ سلام میں طرفین کے لئے اللہ کی سلامتی ہے وہ بھی سنت طریقہ سے ۔ پھر اس کے بعد دیگر الفاظ کہیں مثلا اللہ حافظ ، یا مزید دعا دیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ اگر کسی کو سفر پہ رخصت کررہے ہیں تو ان کو اس طرح سے دعا دینا مسنون ہے جیساکہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی شخص کو سفر کیلئے رخصت کرتے تو فرماتے : آؤ میں تمہیں ویسے ہی رخصت کروں جس طرح رسول اللہ ﷺ ہم کو رخصت کرتے تھے ۔ آپ ﷺ فرماتے تھے :
أستودعُ اللَّهَ دينَك وأمانتَك وخواتيمَ عملِك(صحيح الترمذي:3443)
ترجمہ: میں تمہارے دین اور تمہاری امانت اور تمہارے آخری عمل کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔
اللہ تعالی ہمیں سنت پر چلنے کی توفیق دے ۔ آمین
 
Top