• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رزق سے محرومی کے اسباب قرآن و حدیث کی روشنی میں

شمولیت
ستمبر 13، 2026
پیغامات
3
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
2
*رزق سے محرومی کے اسباب قرآن و حدیث کی روشنی میں*

*تحریر :۔ شیخ ارشادالحق جامعی شاہ پوری*

رزق اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے۔ انسان کی زندگی، صحت، سکون، اہل و عیال اور روزمرہ کی ضروریات سب اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق سے وابستہ ہیں۔

بعض اوقات انسان مال و دولت رکھنے کے باوجود بے سکون رہتا ہے، اس کے رزق میں برکت نہیں ہوتی اور اسے تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قرآن و سنت میں ایسے اعمال کا ذکر ملتا ہے جو رزق کی برکت میں کمی اور معاشی و معاشرتی بگاڑ کا سبب بن سکتے ہیں۔

یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ہر غریب یا تنگ دست شخص گناہ گار نہیں ہوتا، اور ہر مال دار شخص اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول نہیں ہوتا۔ رزق کی تنگی کبھی آزمائش ہوتی ہے اور کبھی انسان کے اپنے اعمال کے نتائج میں سے ایک نتیجہ۔

1. اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنا
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرنا رزق کی برکت ختم ہونے کا ایک سبب ہے۔

قرآن مجید:

*لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ*

ترجمہ: اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے۔

(سورۃ ابراہیم: 7)

*سبق: اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا اور انہیں جائز کاموں میں استعمال کرنا چاہیے۔*

2. گناہوں اور اللہ کی نافرمانی میں مبتلا ہونا
گناہ انسان کی زندگی میں تنگی اور بے برکتی کا سبب بن سکتے ہیں۔

قرآن مجید:

*وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا*

ترجمہ: اور جو میری یاد سے منہ موڑے گا، اس کے لیے تنگ زندگی ہوگی۔

(سورۃ طٰہٰ: 124)

سبق: اللہ کی اطاعت، توبہ اور ذکر کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔

3. سود کا لین دین کرنا
سود مال کی برکت کو مٹانے اور معاشی تباہی کا سبب بنتا ہے۔

قرآن مجید:

*يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ*

ترجمہ: اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔

(سورۃ البقرۃ: 276)

سبق: سود سے بچنا اور حلال تجارت اختیار کرنا ضروری ہے۔


4. ناپ تول میں کمی اور کاروبار میں دھوکہ دینا
ناپ تول میں کمی کرنا اور خریدار کو دھوکہ دینا حرام ہے۔

قرآن مجید:

*وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ ۝ الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ ۝ وَإِذَا كَالُوهُمْ أَو وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ*

ترجمہ: ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے، جو لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں اور جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں۔

(سورۃ المطففین: 1-3)

سبق: کاروبار میں سچائی، امانت اور دیانت داری اختیار کرنا رزق میں برکت کا ذریعہ ہے۔

5. قطع رحمی کرنا
رشتہ داروں سے تعلق توڑنا بڑا گناہ ہے اور صلہ رحمی رزق میں وسعت کا سبب ہے۔

حدیث:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

*مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ*

ترجمہ: جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں وسعت ہو اور اس کی عمر میں اضافہ ہو، اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے۔

(صحیح البخاری: 5986، صحیح مسلم: 2557)



سبق: والدین، بہن بھائیوں اور دوسرے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنا چاہیے۔

6. زکوٰۃ ادا نہ کرنا
زکوٰۃ فرض ہونے کے باوجود اسے ادا نہ کرنا سخت گناہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

*وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ*

ترجمہ: اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر دے دیجیے۔

(سورۃ التوبہ: 34)

سبق: صاحبِ نصاب مسلمان کو اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے۔



7. جھوٹ اور دھوکہ دہی
جھوٹ اور دھوکہ کاروبار کی برکت کو ختم کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

حدیث:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ خرید و فروخت کرنے والے اگر سچ بولیں اور عیب واضح کر دیں تو ان کے کاروبار میں برکت دی جاتی ہے، اور اگر جھوٹ بولیں اور عیب چھپائیں تو ان کے کاروبار کی برکت مٹا دی جاتی ہے۔

(صحیح البخاری: 2079، صحیح مسلم: 1532)



8. حرام کمائی کرنا
حرام ذرائع سے مال حاصل کرنا انسان کے لیے دنیا و آخرت میں نقصان کا سبب ہے۔

حرام کمائی میں سود، رشوت، چوری، دھوکہ اور ناجائز طریقے سے دوسروں کا مال کھانا شامل ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

*وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ*

ترجمہ: اور آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ۔

(سورۃ البقرۃ: 188)

سبق: رزق حلال ہو، خواہ تھوڑا ہو؛ کیونکہ حلال رزق میں برکت اور قلبی اطمینان کی امید ہوتی ہے۔

9. اہل و عیال کے حقوق ادا نہ کرنا
بیوی بچوں اور زیرِ کفالت افراد کے ضروری اخراجات روکنا گناہ ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

*كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ*

ترجمہ: کسی شخص کے گناہ گار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو ضائع کر دے جن کا خرچ اس کے ذمہ ہے۔

(سنن ابی داؤد: 1692، حسن)


سبق: اہل و عیال کے حقوق ادا کرنا اور ان کی ضروریات پوری کرنا ضروری ہے۔

10. استغفار سے غفلت
استغفار اللہ تعالیٰ کی رحمت اور رزق کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

قرآن مجید:

حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا:

*فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا ۝ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا ۝ وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ*

ترجمہ: میں نے کہا کہ اپنے رب سے بخشش مانگو، بے شک وہ بہت بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارش برسائے گا اور تمہیں مال اور بیٹوں سے مدد دے گا۔

(سورۃ نوح: 10-12)

سبق: کثرت سے استغفار کرنا، گناہوں سے توبہ کرنا اور اللہ تعالیٰ سے رزق حلال کی دعا کرنا چاہیے۔

رزق میں برکت کے لیے اہم اعمال
اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا۔

کثرت سے استغفار کرنا۔

صلہ رحمی کرنا۔

حلال روزی کمانا۔

زکوٰۃ اور صدقات ادا کرنا۔

کاروبار میں سچائی اور امانت داری اختیار کرنا۔

اللہ تعالیٰ پر توکل کے ساتھ محنت کرنا۔

خلاصہ: رزق میں کمی یا تنگی کو ہر حال میں گناہوں کی سزا قرار دینا درست نہیں۔ اللہ تعالیٰ بعض بندوں کو آزمائش کے ذریعے بھی آزما سکتا ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ حلال اسباب اختیار کرے، اپنے اعمال کی اصلاح کرے اور اللہ تعالیٰ سے رزق میں برکت کی دعا کرے۔
 
Top