عبد الرشید
رکن ادارہ محدث
- شمولیت
- مارچ 02، 2011
- پیغامات
- 5,539
- ری ایکشن اسکور
- 9,997
- پوائنٹ
- 667
تبصرہ
برکت کا مطلب دولت کی کثرت نہیں، بلکہ ’’ کفایت ‘‘ ہے،یعنی ضرورت کے لیے کافی ہو جانا۔ بہت سے لوگ کثرت ِمال کے باوجود معاشی تنگی کا رونا روتے ہیں اور معاشی طور پر بہت سے بہ ظاہر درمیانے درجے کے لوگ انتہائی اطمینان سے زندگی گزارتے ہیں۔ یہ فرق صرف برکت کی وجہ سے ہے۔ رزق میں برکت کے اسباب میں تقویٰ، استغفار، حلال رزق، شکر گزاری، صلہ رحمی، اور توکل شامل ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ رزق میں برکت کے اسباب‘‘ حافظ ابو سفیان بن عباس میرمحمدی (مدرس بیت العتیق۔لاہور) کی کاوش ہے یہ کتابچہ دراصل جون 2017ء کو ’’ہماری روزی میں برکت کیسے ممکن ہے؟‘‘ کے عنوان پر ان کے خطبہ جمعہ کی کتابی صورت ہے۔فاضل مصنف نے اس رسالہ میں برکت کا معنی ٰومفہوم،اسلام میں برکت کی اہمیت کو بیان کرنے کے بعد روزی میں برکت کے ذرائع و اسباب اور بے برکتی کے اسباب کو قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کیا ہے۔ (م۔ا)