• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ سب سے بڑھ کر سخی تھے

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
868
ری ایکشن اسکور
229
پوائنٹ
111
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ سب سے بڑھ کر سخی تھے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، وعلی آلہ وصحبہ أجمعین۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہ مقدس جماعت ہے جس نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت، تربیت اور فیض نبوت حاصل کیا۔ ان کے فضائل اور مناقب بیان کرنا اہل ایمان کے لیے باعث خیر و برکت ہے، اور اہل سنت والجماعت کا منہج یہ ہے کہ جس صحابی کے جس وصف اور فضیلت کا ثبوت معتبر آثار سے ہو، اسے بلاکم و کاست بیان کیا جائے۔

خصوصا امیر المؤمنین سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے فضائل کے باب میں انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ محض تاریخی اختلافات یا بعض لوگوں کی عداوت کی وجہ سے ان کے ثابت شدہ اوصاف و مناقب کا انکار کرنا اہل حدیث کے منہج کے خلاف ہے۔

اسی سلسلے میں امام ابو بکر الخلال رحمہ اللہ نے اپنی کتاب السنۃ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ نہایت بلیغ اثر نقل کیا ہے، جس میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی جود و سخاوت اور کثرت عطا کی صریح شہادت موجود ہے۔

٦٨٠ - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَنْصُورِ بْنُ دَاوُدَ بْنِ طَوْقٍ الصَّغَانِيُّ، قَالَ: ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: ثَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: " مَا رَأَيْتُ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْوَدَ مِنْ مُعَاوِيَةَ، فَقِيلَ: وَلَا أَبُوكَ؟ قَالَ: أَبِي عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ خَيْرٌ مِنْ مُعَاوِيَةَ، وَكَانَ مُعَاوِيَةُ أَسْوَدَ مِنْهُ "

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کوئی سخی شخص نہیں دیکھا۔‘‘ ان سے عرض کیا گیا: ’’اور آپ کے والد بھی نہیں؟‘‘ انہوں نے فرمایا: ’’میرے والد عمر رضی اللہ عنہ، اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے، معاویہ رضی اللہ عنہ سے افضل تھے، لیکن معاویہ رضی اللہ عنہ ان سے بھی زیادہ سخی تھے۔‘‘


[السنة لأبي بكر بن الخلال، ج : ٢، ص : ٤٤٣]

10926.jpg

10928.jpg

یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے نہایت عظیم منقبت ہے۔ کیونکہ یہ کسی عام شخص کی طرف سے تعریف نہیں، بلکہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جیسے جلیل القدر صحابی کی شہادت ہے، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی، صحابہ کرام کے حالات دیکھے اور ان کے اخلاق و اوصاف سے بخوبی واقف تھے۔

پھر اس فضیلت کی مزید تاکید اس واقعے سے ہوتی ہے کہ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کوئی سخی نہیں دیکھا تو مجلس میں موجود لوگوں نے فورا سوال کیا: «وَلَا أَبُوكَ؟» یعنی کیا آپ کے والد عمر رضی اللہ عنہ بھی نہیں؟

یہ سوال اس لیے کیا گیا کہ عمر رضی اللہ عنہ اپنی عظمت، فضل، عدل، تقویٰ اور بے مثال دینی مقام کے اعتبار سے معروف تھے۔ لیکن حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انتہائی صاف جواب دیا: «أَبِي عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ خَيْرٌ مِنْ مُعَاوِيَةَ» میرے والد عمر رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ سے افضل تھے۔

یہاں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے افضلیت اور سخاوت کے دو الگ ابواب کو الگ الگ بیان فرمایا۔ عمر رضی اللہ عنہ مجموعی فضیلت میں معاویہ رضی اللہ عنہ سے افضل تھے، لیکن سخاوت اور کثرت عطا کے اس خاص وصف میں معاویہ رضی اللہ عنہ کو امتیاز حاصل تھا۔ اسی لیے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فورا فرمایا: «وَكَانَ مُعَاوِيَةُ أَسْوَدَ مِنْهُ» اور معاویہ رضی اللہ عنہ ان سے بھی زیادہ سخی تھے۔

پس معلوم ہوا کہ کسی شخص کا کسی خاص خصلت میں دوسرے سے بڑھ جانا، اس بات کو مستلزم نہیں کہ وہ ہر اعتبار سے بھی اس سے افضل ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ کی عمومی فضیلت اپنی جگہ، اور معاویہ رضی اللہ عنہ کی جود و سخاوت میں نمایاں فضیلت اپنی جگہ۔ یہی انصاف کا طریقہ ہے کہ ہر شخص کے حق کو اس کے مقام کے مطابق ادا کیا جائے۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل میں آتا ہے تو بعض متعصب لوگ ان کے فضائل کو نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ اہل علم کا طریقہ یہ نہیں کہ جس صحابی کے بارے میں کسی کو ذاتی رائے پسند نہ ہو، اس کے ثابت شدہ فضائل کو بھی چھپا دیا جائے۔

یہاں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی گواہی صاف موجود ہے کہ: «مَا رَأَيْتُ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَسْوَدَ مِنْ مُعَاوِيَةَ» یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر سخی کوئی نہ تھا۔ یہ کلام حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی جود، کرم، فیاضی اور کثرت عطا پر واضح شہادت ہے۔

اور اس میں یہ بھی قابل غور ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے والد عمر رضی اللہ عنہ کو مستثنیٰ نہیں کیا، بلکہ صاف فرمایا کہ عمر رضی اللہ عنہ مجموعی فضیلت میں بہتر ہیں، مگر معاویہ رضی اللہ عنہ سخاوت میں ان سے بھی آگے ہیں۔ یہی محدثین کا منہج ہے کہ نصوص کو ان کے صحیح معنی پر رکھا جائے، فضائل کو قبول کیا جائے اور کسی صحابی کی فضیلت کو دوسرے صحابی کی تنقیص کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔

پس اس اثر سے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے لیے ایک عظیم منقبت جود و سخاوت ثابت ہوتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی شہادت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کسی کو سخی نہیں دیکھا، بلکہ جب عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا تو انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کو عمومی فضیلت میں افضل قرار دیتے ہوئے بھی سخاوت کے باب میں معاویہ رضی اللہ عنہ کو ممتاز قرار دیا۔

لہٰذا اہل سنت کا طریقہ یہی ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت رکھی جائے، ان کے ثابت شدہ فضائل بیان کیے جائیں، اور کسی صحابی کے فضائل کو تعصب یا بغض کی وجہ سے چھپایا نہ جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو تمام اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و تعظیم سے معمور فرمائے، اور ہمیں ان کے بارے میں عدل و انصاف کی راہ پر قائم رکھے۔

اللهم ارزقنا حب أصحاب نبيك صلى الله عليه وسلم، واحشرنا في زمرتهم، ولا تجعل في قلوبنا غلًّا للذين آمنوا، إنك رؤوف رحيم۔ آمین۔
 
Top