• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رشتہ داری قائم رکھنے کے فائدے

حافظ محمد عمر

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
427
ری ایکشن اسکور
1,543
پوائنٹ
109
رشتہ داری قائم رکھنے کے فائدے

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ - رضى الله عنه قال: قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم « مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِى رِزْقِهِ ، وَأَنْ يُنْسَأَ لَهُ فِى أَثَرِهِ ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ » [صحیح بخاری: 5985]
’’ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ جوشخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے لئے اس کےرزق میں فراخی کی جائے اور اس کے نشان قدم (باقی رکھنے) میں دیر کی جائے وہ اپنی رشتہ داری کو ملائے۔‘‘ (بخاری)
تشریح:
1۔ رشتہ داروں کےساتھ حسن سلوک سے رزق میں فراخی ہوتی ہے اور عمر بڑھتی ہے بعض لوگ اس حدیث پر ایک سوال اٹھاتے ہیں کہ جب تقدیر میں رزق مقرر کر دیا گیا ہے اور وہ اتنا ہی ملے گا جتنا لکھ دیا گیا ہے، اسی طرح عمر بھی طے ہو چکی ہے:
﴿فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ﴾ [الأعراف: 7/34]
’’ جب ان کامقرر وقت آ گیا تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہوں نہ پہلے ۔‘‘
تو رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک سے رزق میں فراخی اور عمر میں اضافہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ اسباب بھی لکھ رکھے ہیں، مثلا جو شخص محنت کرے گا، ہوش مند ی اختیار کرے گا، اسے کھلا رزق ملے گا اور جو کاہلی اور سستی اختیار کرے گا، وہ تنگ دست ہو جائے گا۔ اسی طرح اچھا کھانا، اچھی آب وہوا، اچھا ماحول انسان کو صحت مند رکھنے کے اسباب ہیں جن سےس عمر بڑھتی ہے، خراب آب وہوا، ناقص و ناموافق ماحول بیماری اور پریشانی کا باعث بنتا ہے جس سے عمر گھٹتی ہے۔
جس طرح رزق اور عمر میں اضافے کےیہ ظاہری اسباب ہیں اسی طرح اس کے پیچھے اس کے کچھ روحانی اور ربانی اسباب بھی ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں بیان فرمائے ہیں۔
جو شخص اپنے رشتہ کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا، اسے قلبی اطمینان، دلی مسرت اور اوقات عزیزہ میں برکت حاصل ہو گی، جو وہ کام کرے گا دلجمعی سے کرے گا، اس سے اس کے رزق میں فراخی ہو گی اور اطیمنان قلب پر ہی صحت کا دارو مدار ہے۔ جب صحت درست ہو گی تو عمر میں اضافہ ہو گا، اس کے برعکس جس کم نصیب کا اپنوں سے ہی مقاطعہ ہے وہ ہر وقت رنج وغم میں رہے گا، اپنے رشتہ داروں کو ہی نچا دکھانے کی فکر میں رہے گ، یہ قطع تعلق نہ اسے دنیا کے کام چھوڑے گا نہ دین کے کام کا، طبیعت چڑ چڑی اور قوتیں مضحل ہو جائیں گی، اس کا نتیجہ کاروبار میں ناکامی اور پریشان کن بیماریوں کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ جس سے رزق تنگ اور صحت برباد ہو جائے گی اور یہی چیزیں انسان کو موت سے قریب کر دیتی ہیں۔
اصل یہ ہے کہ تمام اسباب کو پیدا کرنے والے پروردگار کا یہ وعدہ ہے کہ جو شخص اپنے رشتہ داروں سے حسن سلوک رکھے گا، اس کے رزق میں فراخی اور اس کی عمر میں اضافہ ہو گا، جس طرح اس کا وعدہ ہے کہ جو شخص ایمان لائے گا اور عمل صالح کرے گا اسے جنت ملے گی، حالانکہ جنت میں جانے والوں اور جہنم میں جانے والوں کے نام تقدیر میں پہلے ہی لکھے جا چکے ہیں، مگر ایمان اور عمل صالح جنت میں جانے کا سبب ہے،اسی طرح صلہ رحم، فراخئ رزق اور درازئ عمر کا سبب ہے۔
ترمذی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِى الأَهْلِ مَثْرَاةٌ فِى الْمَالِ مَنْسَأَةٌ فِى الأَثَرِ » [سنن الترمذی: 1612]
’’ رشتہ داری کو ملانا گھر والوں میں محبت، مال میں ثروت اور نشان قدم میں تاخیر (عمر میں برکت) کا باعث ہے۔‘‘
2 «يُنْسَأَ لَهُ فِى أَثَرِهِ»
اور اس کے نشان قدم میں تاخیر کی جائے۔ اس کے مفہوم میں کئی چیزیں شامل ہیں۔ پہلی تو یہ کہ صلہ رحمی کرنے والے شخص کی عمر میں حقیقی اضافہ ہو جاتا ہے، اس کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے۔
دوسری یہ کہ اس کی عمر میں برکت ہوتی ہے، اس کے اوقات ضائع نہیں جاتے بلکہ اللہ تعالی اسے عافیت کی نعمت سے نوازتے ہیں۔ تھوڑے وقت میں زیادہ نیکی کی توفیق دیتے ہیں حتی کہ یہ تھوڑی عمر بہت لمبی عمر سے بھی اجر وثواب حاصل کرنے میں بڑھ جاتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے گزشتہ قوموں کی بہت لمبی عمروں کے مقابلے میں اس امت کی عمر بہت تھوڑی رکھی مگر لیلۃ القدر کےساتھ اس کمی کو پورا فرما دیا، بلکہ اس امت کا ثواب پہلی امتوں سے زیادہ کر دیا، حقیقت یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو ہزار برس عمر ملے مگر نیکی کی توفیق نہ ملے تو اس کی عمر گھٹ گئی بلکہ برباد ہو گئی اور جس کو نیکی کی توفیق مل گئی ، خواہ عمر تھوڑی بھی ہو اس کی عمر بڑھ گئی، کیونکہ اس کے کام آ گئی۔
تیسری یہ کہ اسے ایسے اعمال کی توفیق ملتی ہے کہ مرنے کے بعد بھی اسے ان کا ثواب پہنچتا رہتا ہے اور لوگ اس کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں، اس کی اچھی تعریف ہوتی رہتی ہے، گویا وہ مرنے کے بعد بھی نہیں مرتا، اس کے آثار باقی رہتے ہیں، مثلا ایسا علم چھوڑ جائے جس سے لوگوں کو فائدہ ہوتا رہے، صدقہ جاریہ، نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرے، اس کی وفات رباد ( جہاد میں پہرہ دینے کی حالت) میں آجائے کہ قیامت تک اس کا اجر جاری ہے۔
3۔ صلہ رحمی کا اصل اجر وثواب تو قیامت کو ملے گا مگر دنیا میں بھی اس کے یہ فائدے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بتائے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی شخص کے ذہن میں نیکی کرتے وقت آخرت کے اجر وثواب کے ساتھ دنیا میں بھی اس عمل کا فائدہ پہنچنے کی نیت ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ صدقہ کرنے سے دنیا میں بھی مال میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ جہنم سے بچنے کا ذریعہ بھی ہے، شرط یہ ہے کہ صرف دنیا ہی اس کا مقصود نہ ہو۔
اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ 0 وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ 0 أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴾ [البقرة:2/ 200، 202]
’’ لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو یہ کہتا ہے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں دے اور آخرت میں اس کے لئے کوئی حصہ نہیں اور ان سے کوئی وہ ہے جو کہتا ہے اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا، انہی لوگوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو انہوں نے کمایا اور اللہ تعالی جلد حساب لینے والا ہے۔‘‘
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,399
پوائنٹ
891
جزاک اللہ عمر بھائی جان۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے رشتہ داروں سے حسن سلوک کی توفیق عطا فرمائیں۔ اور فتنوں کے اس دور میں دلوں سے بغض، حسد ، کینہ جیسی بیماریوں سے محفوظ فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔
 
Top