• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رضاعت ثابت ہونے کی عمر دوسال، اڑھائی سال، کم یا زیادہ

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,533
پوائنٹ
304
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
رضاعت صرف ڈھائی سال کے بچے کے لئے ہے ..اگر بچہ بھی تین سال یا اس سے اپر کا ہو تو اس کی بھی رضاعت ثابت نہیں ھوتی تو مرد کا دودھ پینا ؟؟؟

نوٹ:
محدث فتویٰ پر موجود اس فتاویٰ پر قارئین کےمابین ہونے والی بحث جو کہ اس دھاگہ میں جاری تھی، اس کو یہاں منتقل کردیا گیا ہے۔
 

Muhammad Waqas

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 12، 2011
پیغامات
356
ری ایکشن اسکور
1,595
پوائنٹ
139
رضاعت صرف ڈھائی سال کے بچے کے لئے ہے ..اگر بچہ بھی تین سال یا اس سے اپر کا ہو تو اس کی بھی رضاعت ثابت نہیں ھوتی تو مرد کا دودھ پینا ؟؟؟
بھائی جان!
ڈھائی سال یا دو سال ؟
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,420
پوائنٹ
521
بچہ کی رضاعت ٢ سال

السلام علیکم

شائد یہ فتوٰی سیکشن ھے اس پر پہلے مراسلہ میں سوال لکھے ہوئے ہیں اور دوسرا مراسلہ میں "جواب" لکھا ہوا ھے، یہاں شائد ممبران کو غلطلی لگتی ھے کہ سوال پوچھنے والا جواب مانگ رہا ھے مگر ایسا نہیں ھے جواب پر کلک کریں تو جواب سامنے ہو گا۔

رضاعت صرف ڈھائی سال کے بچے کے لئے ہے .اگر بچہ بھی تین سال یا اس سے اپر کا ہو تو اس کی بھی رضاعت ثابت نہیں ھوتی تو مرد کا دودھ پینا ؟؟؟
وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلاَدَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۔۔۔۔۔
اور مائيں اپنى اولاد كو مكمل دو برس دودھ پلائيں جو مدت رضاعت پورى كرنا چاہتا ہے، اور جس كا بچہ ہے اس كے ذمہ ان عورتوں كا نان و نفقہ اور لباس معروف طريقہ كے مطابق ہے۔۔۔۔۔۔۔
البقرۃ :233

محترم جواد سے گزارش ھے کہ "بچہ کی رضاعت ڈھائی سال" والا جواب قرآن و سنت سے بھی ثابت کریں۔ جزاک اللہ خیر!

والسلام
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,533
پوائنٹ
304
السلام علیکم

شائد یہ فتوٰی سیکشن ھے اس پر پہلے مراسلہ میں سوال لکھے ہوئے ہیں اور دوسرا مراسلہ میں "جواب" لکھا ہوا ھے، یہاں شائد ممبران کو غلطلی لگتی ھے کہ سوال پوچھنے والا جواب مانگ رہا ھے مگر ایسا نہیں ھے جواب پر کلک کریں تو جواب سامنے ہو گا۔



وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلاَدَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۔۔۔۔۔
اور مائيں اپنى اولاد كو مكمل دو برس دودھ پلائيں جو مدت رضاعت پورى كرنا چاہتا ہے، اور جس كا بچہ ہے اس كے ذمہ ان عورتوں كا نان و نفقہ اور لباس معروف طريقہ كے مطابق ہے۔۔۔۔۔۔۔
البقرۃ :233

محترم جواد سے گزارش ھے کہ "بچہ کی رضاعت ڈھائی سال" والا جواب قرآن و سنت سے بھی ثابت کریں۔ جزاک اللہ خیر!

والسلام
اسلام و علیکم

غلطی کی معافی چاہتا ہوں ...آپ سہی فرما رہے ہیں میرے ذہن میں ڈھائی سال رضاعت کے تھے
جزاک اللہ خیر!
 

Muhammad Waqas

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 12، 2011
پیغامات
356
ری ایکشن اسکور
1,595
پوائنٹ
139

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,420
پوائنٹ
521
اسلام و علیکم

غلطی کی معافی چاہتا ہوں ...آپ سہی فرما رہے ہیں میرے ذہن میں ڈھائی سال رضاعت کے تھے
جزاک اللہ خیر!
السلام علیکم

آپ کا یہ انداز بھی اچھا لگا جس لکھے کو آپ نے اپنی غلطی تسلیم کر لیا آپ نے جو مدت ڈھائی سال لکھی تھی وہ بھی درست ھے۔ یہاں اسی مسئلہ پر ایک تھریڈ ملا جس میں ایک ممبر کی عجیب سی گفتگو جو ذاتیات پر مبنی ھے اسے دیکھتے ہوئے مزید اس پر بات کرنا مناسب نہیں۔

والسلام
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,420
پوائنٹ
521
السلام علیکم

درخواست!

فتوی سیکشن میں سوال کے مطابق جو جواب دیا گیا ھے وہ بہت معقول ھے اور ویسے بھی یہاں پر کنورسیشن کی اجازت نہیں ہونی چاہئے اس سے فتوی پر اثر پڑتا ھے۔

میری انتظامیہ سے درخواست ھے کہ مراسلہ نمبر٢ سے آگے کے تمام مراسلوں کو فتوی کے سوال اور جواب سے الگ کر کے نئے دھاگہ میں ڈال دینا چاہئے تاکہ فتوی پر کوئی اثر نہ پڑے۔

والسلام
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,533
پوائنٹ
304
اسلام و علیکم

شکریہ بھائی --اس میں کوئی حرج نہیں اگر میں غلطی پر ہوں تو اس کو تسیلم کرلوں --

"جو مدت ڈھائی سال لکھی تھی وہ بھی درست ھے۔" کی بھی اگر وضاحت ہو جائے تو ممنون ہوں گا

جزاک الله
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,420
پوائنٹ
521
السلام علیکم!

شکریہ جواد برادر،

---------------------------

عنوان کے مطابق، کچھ بھی پیش کرنے سے پہلے چند باتوں کا ذکر کرنا ضروری ھے تاکہ صورت حال بعد میں کنٹرول رہے، ہر بات ثابت وہاں کی جاتی ھے جہاں دو مدعی اپنا معاملہ لے کر کسی تیسرے کے پاس جاتے ہیں مگر میرا اور جواد کا معاملہ ایسی نوعیت کا نہیں کہ کچھ بھی ثابت کیا جائے۔

قرآن مجید میں ٣ آیات ہیں جس پر ایک پر دو آیات میں ٢ سال اور دوسری پر تیسری آیت میں ٣٠ مہیننے: ڈھائی سال کا ذکر مل رہا ھے۔ میں وہ تینوں آیات جواد کو پیش کروں گا بغیر کسی اضافی معلومات کے۔ اگر کسی کو اس مسئلہ کو سمجھنا ہو تو پھر کسی سرٹیفائیڈ عالم و مفتی سے اسے سمجھا جا سکتا ھے، اگر ایک عام ممبر جو پڑھا لکھا تو ھے مگر صاحب علم یعنی دینی مدرسہ سے تعلیم نہیں یا کسی دینی مدرسہ سے شارٹ کورس کیا ہوا ھے تو اسے اپنا کوئی بھی فیصلہ سنانے سے احتیاط برتنا بہتر ھے۔ اگر کوئی عام ممبر سمجھتا ھے کہ وہ مثبت انداز میں اس پر اپنی رائے دے سکتا ھے تو اس پر کوئی پابندی نہیں مگر عام ممبر ثابت کرنے سے پرہیز برتیں کیونکہ آپکا ثابت کرنا میں وائیولینس کا خطرہ ہو گا اور پھر وہ حوالہ بن جائے گا جس سے نقصانات اور گناہ بھی ہو گا۔

رائے دینی ہو تو اس میں ہمیشہ ان الفاظوں کا سہارا لیا جاتا ھے جیسے، میرے علم کے مطابق، میری رائے، میں یہ سمجھتا ہوں ایسا درست ہو سکتا ھے، میں نے ایک شیخ سے بہت پہلے یا اس جمعہ میں ٰیا فون پر اس مسئلہ کے بارے میں رائے جانی یا فلاں والے امام، علم، مفتی، محدث نے اس پر یہ کہا میں اس کی رائے یا اس کے جواب سے متفق ہوں یا میں اس سے متفق ہوں اور اس سے متفق نہیں۔ شائد ، ہو سکتا ھے۔ میری ذاتی رائے اس پر یہ ھے، ان دلائل سے میں اس نتیجہ تک پہنچا ہوں، اس جیسے اور ملتے جلتے الفاظ میں رائے ہمیشہ اس طرح دی جاتی ھے اور اس سے لڑائی کا کوئی امکان نہیں ہوتا اور یہ باتیں نہ تو حوالہ بنتی ہیں نہ ثبوت اور نہ ہی کوئی گناہ۔ یا اگر آپ چاہیں تو اپنے طریقہ سے ہی رائے دے سکتے ہیں، سوال جواب پر یا کنورسیشن کے دوران اگر کوئی جواب نہ دے تو اسے دوبارہ سوال ریمائینڈ نہ کروایا کریں کیونکہ پھر جواب زبردستی میں منفی ہی آتا ھے، ہو سکے تو دوسرں کی عزت کرنا سیکھیں۔

وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلاَدَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۔۔۔۔۔
اور مائيں اپنى اولاد كو مكمل دو برس دودھ پلائيں جو مدت رضاعت پورى كرنا چاہتا ہے، اور جس كا بچہ ہے اس كے ذمہ ان عورتوں كا نان و نفقہ اور لباس معروف طريقہ كے مطابق ہے۔۔۔۔۔۔۔
البقرۃ :233

وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ
ور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق تاکید کی ہے اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہے تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کرے میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے
٣١:١٤


وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ
اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کی تاکید کی کہ اسے اس کی ماں نے تکلیف سے اٹھائے رکھا اور اسے تکلیف سے جنا اور اس کا حمل اور دودھ کا چھڑانا تیس مہینے ہیں یہاں تک کہ جب وہ اپنی جوانی کو پہنچا اور چالیں سال کی عمر کو پہنچا تو اس نے کہا اے میرے رب مجھے توفیق دے کہ میں تیری نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر انعام کی اور میرے والدین پر اور میں نیک عمل کروں جسے تو پسند کرے اور میرے لیے میری اولاد میں اصلاح کر بے شک میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور بے شک میں فرمانبردار میں ہوں
٤٦:١٥

تیس ماہ: ڈھائی سال بنتے ہیں

ترجمہ پر کوئی اعتراض نہیں اگر ہو تو ان نمبر سے دوسرے ترجم سے چیک کر سکتے ہیں۔

والسلام
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,338
پوائنٹ
800
وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ
اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کی تاکید کی کہ اسے اس کی ماں نے تکلیف سے اٹھائے رکھا اور اسے تکلیف سے جنا اور اس کا حمل اور دودھ کا چھڑانا تیس مہینے ہیں یہاں تک کہ جب وہ اپنی جوانی کو پہنچا اور چالیں سال کی عمر کو پہنچا تو اس نے کہا اے میرے رب مجھے توفیق دے کہ میں تیری نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر انعام کی اور میرے والدین پر اور میں نیک عمل کروں جسے تو پسند کرے اور میرے لیے میری اولاد میں اصلاح کر بے شک میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور بے شک میں فرمانبردار میں ہوں
٤٦:١٥

تیس ماہ: ڈھائی سال بنتے ہیں

ترجمہ پر کوئی اعتراض نہیں اگر ہو تو ان نمبر سے دوسرے ترجم سے چیک کر سکتے ہیں۔

والسلام
محترم بھائی! درج بالا آیت کریمہ سے آپ نے یہ ثابت کیا ہے کہ دودھ چھڑانے کی مدت اڑھائی سال ہے۔ دلیل کے طور پر اپنے دئیے گئے ترجمہ میں آپ نے صرف دودھ چھڑانے کو ہائی لائٹ کیا ہے، حالانکہ وہاں دودھ چھڑانے کے ساتھ ساتھ حمل کا ذکر بھی ہے: دیکھئے:
اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کی تاکید کی کہ اسے اس کی ماں نے تکلیف سے اٹھائے رکھا اور اسے تکلیف سے جنا اور اس کا حمل اور دودھ کا چھڑانا تیس مہینے ہیں
تو اس آیت کریمہ میں صرف دودھ چھڑانے کی نہیں بلکہ حمل اور دودھ چھڑانے کی مشترکہ مدت اڑھائی سال بیان کی گئی ہے، جس میں سے دو سال دودھ چھڑانے کے ہیں اور چھ مہینے حمل کی کم از کم مدت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم!

تو درج بالا آیت کریمہ سے آپ کا مدّعا ثابت نہیں ہو رہا۔

ویسے بھی دیگر دو آیات جو آپ نے کوٹ کی ہیں ان سے بھی دودھ پلانے یا چھڑانے کی مدت دو سال ہی ثابت ہوتی ہے، دیکھئے:

﴿ وَالوٰلِدٰتُ يُر‌ضِعنَ أَولـٰدَهُنَّ حَولَينِ كامِلَينِ ۖ لِمَن أَر‌ادَ أَن يُتِمَّ الرَّ‌ضاعَةَ ۚ ۔۔۔ ٢٣٣ ﴾ ۔۔۔ البقرة
مائیں اپنی اولاد کو دو سال کامل دودھ پلائیں جن کا اراده دودھ پلانے کی مدت بالکل پوری کرنے کا ہو

﴿ وَوَصَّينَا الإِنسـٰنَ بِوٰلِدَيهِ حَمَلَتهُ أُمُّهُ وَهنًا عَلىٰ وَهنٍ وَفِصـٰلُهُ فى عامَينِ أَنِ اشكُر‌ لى وَلِوٰلِدَيكَ إِلَىَّ المَصيرُ‌ ١٤ ﴾ ۔۔۔ لقمان
ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے (14)

قرآن کریم اللہ کی کلام ہے، جس میں اختلاف نہیں ہو سکتا۔
 
Top