• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رضاعت ثابت ہونے کی عمر دوسال، اڑھائی سال، کم یا زیادہ

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,420
پوائنٹ
521
محترم بھائی! درج بالا آیت کریمہ سے آپ نے یہ ثابت کیا ہے کہ

تو درج بالا آیت کریمہ سے آپ کا مدّعا ثابت نہیں ہو رہا۔

ویسے بھی دیگر دو آیات جو آپ نے کوٹ کی ہیں ان سے بھی دودھ پلانے یا چھڑانے کی مدت دو سال ہی ثابت ہوتی ہے۔

قرآن کریم اللہ کی کلام ہے، جس میں اختلاف نہیں ہو سکتا۔
ہر بات ثابت وہاں کی جاتی ھے جہاں دو مدعی اپنا معاملہ لے کر کسی تیسرے کے پاس جاتے ہیں مگر میرا اور جواد کا معاملہ ایسی نوعیت کا نہیں کہ کچھ بھی ثابت کیا جائے۔

میں وہ تینوں آیات جواد کو پیش کروں گا بغیر کسی اضافی معلومات کے
السلام علیکم محترم برادر

میں نے جو لکھا اسے دوبارہ کوٹ کر رہا ہوں اس کے جواب پر آپ نے جو مجھ سے نسبت کی ان بیلنس ھے۔ دودھ چھڑوانے مدت دو یا ڈھائی سال اس پر آپ اپنی رائے ضرور دیں آپ کے علاوہ اگر کوئی اور بھی چاہے تو اپنی رائے دے سکتا ھے، میں نے آیات پیش کی ہیں ثابت کچھ نہیں کیا۔

قرآن مجید کی کسی ایک بات پر ایک سے زیادہ مرتبہ ذکر ہو تو اسے فرق نہیں کہتے۔

والسلام
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,338
پوائنٹ
800
السلام علیکم محترم برادر
میں نے جو لکھا اسے دوبارہ کوٹ کر رہا ہوں اس کے جواب پر آپ نے جو مجھ سے نسبت کی ان بیلنس ھے۔ دودھ چھڑوانے مدت دو یا ڈھائی سال اس پر آپ اپنی رائے ضرور دیں آپ کے علاوہ اگر کوئی اور بھی چاہے تو اپنی رائے دے سکتا ھے، میں نے آیات پیش کی ہیں ثابت کچھ نہیں کیا۔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ نے دودھ چھڑانے کی مدت اڑھائی ہونے کی دلیل پیش کرتے ہوئے سورۃ الاحقاف کی آیت کریمہ کے ترجمہ میں صرف دودھ چھڑانے کو ہائی لائٹ کیا، اور آخر میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا:
تیس ماہ: ڈھائی سال بنتے ہیں
اس کو صرف آیت یا اس کا ترجمہ کوٹ کرنا نہیں کہہ سکتے۔

باقی اگر آپ اپنے موقف (کہ دودھ چھڑانے کی مدت اڑھائی سال ہے) سے دستبردار ہوتے ہیں، تو مجھے آپ سے کوئی اختلاف نہیں۔


قرآن مجید کی کسی ایک بات پر ایک سے زیادہ مرتبہ ذکر ہو تو اسے فرق نہیں کہتے۔
ایک سے زیادہ مرتبہ ذکر میں اگر تعارض ہو (مثلاً ایک مرتبہ دو سال اور دوسری مرتبہ اڑھائی سال) تو اسے اختلاف اور فرق ہی کہتے ہیں۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,338
پوائنٹ
800
رضاعت صرف ڈھائی سال کے بچے کے لئے ہے ..اگر بچہ بھی تین سال یا اس سے اپر کا ہو تو اس کی بھی رضاعت ثابت نہیں ھوتی تو مرد کا دودھ پینا ؟؟؟
جوابی فتویٰ میں بھی آپ والی بات ہی کی گئی ہے، آپ کا اعتراض سمجھ میں نہیں آیا؟
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,338
پوائنٹ
800
اسلام و علیکم
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

صحیح تلفظ ’السلام علیکم‘ ہے۔

غلطی کی معافی چاہتا ہوں ...آپ سہی فرما رہے ہیں میرے ذہن میں ڈھائی سال رضاعت کے تھے
جزاک اللہ خیر!
درست لفظ ’سہی‘ نہیں بلکہ ’صحیح‘ ہے۔

’سہی‘ کا لفظ تو اس طرح کے جملہ (یہ نہ سہی کچھ اور سہی) کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔

اسی طرح ’جزاک اللہ خیر‘ کی بجائے درست جملہ ’جزاک اللہ خیرا‘ آخر میں الف کے ساتھ ہے
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,420
پوائنٹ
521
میں نے جو لکھا اسے دوبارہ کوٹ کر رہا ہوں اس کے جواب پر آپ نے جو مجھ سے نسبت کی ان بیلنس ھے۔ دودھ چھڑوانے مدت دو یا ڈھائی سال اس پر آپ اپنی رائے ضرور دیں آپ کے علاوہ اگر کوئی اور بھی چاہے تو اپنی رائے دے سکتا ھے، میں نے آیات پیش کی ہیں ثابت کچھ نہیں کیا۔

آپ نے دودھ چھڑانے کی مدت اڑھائی ہونے کی دلیل پیش کرتے ہوئے سورۃ الاحقاف کی آیت کریمہ کے ترجمہ میں صرف دودھ چھڑانے کو ہائی لائٹ کیا، اور آخر میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا:

تیس ماہ: ڈھائی سال بنتے ہیں
اس کو صرف آیت یا اس کا ترجمہ کوٹ کرنا نہیں کہہ سکتے۔
السلام علیکم

لائی لائٹ تو میں نے تینوں آیات سے مدت کو کیا تھا مگر آپ کی نظر ایک پر ہی ٹھہری۔

دو برس دودھ پلائيں

دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا

دودھ کا چھڑانا تیس مہینے
پہلی دو آیات میں دو سال لکھا ہوا ھے
تیسری آیت میں ٣٠ مہینے لکھا ہوا ھے اس اکائی کو کنروٹ کیا ھے ڈھائی سال میں۔
تیس ماہ: ڈھائی سال بنتے ہیں، اسے قرآن کے ترجمہ میں تو نہیں لکھا جا سکتا اس لئے اسے ترجمہ سے الگ لکھا گیا۔
: اس کا ایک مطلب نسبت ہوتا ھے۔ جیسے ١٠٠٠ گرام: ١ کلو گرام ہوتا ھے۔

والسلام
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,533
پوائنٹ
304
جوابی فتویٰ میں بھی آپ والی بات ہی کی گئی ہے، آپ کا اعتراض سمجھ میں نہیں آیا؟
میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ مرد تو دور کی بات اگر ڈھائی سال سے اوپر کا بچہ بھی عورت کا دودھ پی لے تو اس کی بھی رضاعت ثابت نہیں ھوتی--
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,533
پوائنٹ
304
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

صحیح تلفظ ’السلام علیکم‘ ہے۔


درست لفظ ’سہی‘ نہیں بلکہ ’صحیح‘ ہے۔

’سہی‘ کا لفظ تو اس طرح کے جملہ (یہ نہ سہی کچھ اور سہی) کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔

اسی طرح ’جزاک اللہ خیر‘ کی بجائے درست جملہ ’جزاک اللہ خیرا‘ آخر میں الف کے ساتھ ہے
معافی چاہتا ہوں --اردو تھوڑی کمزور ہے..بتانے کا شکریہ کوشش کروں گا کا غلطی کم ہو
 
Top