ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 940
- ری ایکشن اسکور
- 232
- پوائنٹ
- 111
رقیہ کے نام پر عوام کے لٹیرے، خاندانوں کے تباہ کار اور روحانیت کے لبادے میں چھپے ہوئے جعل ساز راقیوں کا شیطانی جال!
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ وحدہ، والصلاۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ، أما بعد:
دین اسلام نے جہاں انسان کو جادو، کہانت، شرک اور شیطانی اعمال سے محفوظ رہنے کی تعلیم دی ہے، وہیں اس کے علاج کے لیے قرآن کریم، مسنون دعاؤں اور شرعی رقیہ کی مشروعیت بھی بیان فرمائی ہے۔ لیکن افسوس کہ آج اسی عمل کو روحانیت کے لبادے میں چھپے ہوئے جعل سازوں نے کسب معاش، دکان داری، شعبدہ بازی اور عوام کی جیبیں خالی کرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔
جس عمل کا مقصود اللہ تعالیٰ سے شفا طلب کرنا اور مصیبت زدہ مسلمان کی اعانت کرنا تھا، اسے بعض جعل سازوں نے تجارت کا ایسا بازار بنا دیا ہے جہاں خوف فروخت ہوتا ہے، وہم کی قیمت وصول کی جاتی ہے، گھریلو اختلافات کو جادو کا نام دیا جاتا ہے اور سادہ لوح لوگوں کی پریشانیوں کو اپنی آمدنی کا سرمایہ بنایا جاتا ہے۔
فضیلۃ الشیخ علامہ صالح الفوزان سے دریافت کیا گیا:
«ما الرأي فيمن يتخذ الرقية مهنةً، ويتخذ لها مكانًا معينًا؟ فهل فعله صحيح؟» یعنی اس شخص کے بارے میں کیا رائے ہے جو رقیہ کو اپنا پیشہ بنا لیتا ہے اور اس کے لیے ایک مخصوص جگہ بھی مقرر کر لیتا ہے؟ کیا اس کا یہ طرز عمل درست ہے؟
شیخ صالح الفوزان نے جواب دیا:
«هٰذَا خلاف الأولى، وَهٰذَا يدل عَلَىٰ أنَّه لا يقصد نفع الناس، وَإِنَّمَا يقصد نفع نفسه وأخذ أموال الناس، هٰذَا إذا كان يحسن الرقية، فكيف إذا كان لا يحسن الرقية، ولا عُرف بأنه من طلبة العلم، وَإِنَّمَا لمَّا صار فيه دراهم جعل نفسه راقيًا، وفتح محل وحط بطاقات وأشغال، وسعَّر قَالَ: القارورة غير المركزة بخمسين، والمركزة بمائة ريال، وعمل؟ كل هٰذَا من البهرج والكذب عَلَىٰ الناس؛ لأخذ أموالهم.»
یعنی یہ طریقہ خلاف اولیٰ ہے، اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس شخص کا مقصد لوگوں کو فائدہ پہنچانا نہیں، بلکہ اپنا فائدہ حاصل کرنا اور لوگوں سے مال وصول کرنا ہے۔ یہ تو اس شخص کا معاملہ ہے جو رقیہ کرنا جانتا بھی ہو؛ پھر اس شخص کا کیا حال ہوگا جو رقیہ کرنا ہی نہیں جانتا، نہ ہی وہ طلبہ علم میں معروف ہے، بلکہ جب اس نے دیکھا کہ اس کام میں پیسہ ہے تو اس نے خود کو راقی (دم کرنے والا) بنا لیا، ایک دکان یا مخصوص مرکز کھول لیا، اپنے وزٹنگ کارڈ چھپوا لیے، مختلف تشہیری سرگرمیاں شروع کر دیں اور دم کے لیے باقاعدہ نرخ مقرر کر دیے۔ کہنے لگا: ’’غیر مرکّز پانی کی بوتل پچاس ریال کی ہے، اور مرکّز بوتل سو ریال کی!‘‘ یہ سب کیا ہے؟! یہ تمام چیزیں محض دکھاوا، فریب اور لوگوں کے ساتھ جھوٹ کا معاملہ ہیں، جن کا مقصد صرف ان کے مال ہتھیانا اور ان سے پیسے بٹورنا ہے۔
شیخ صالح الفوزان کا یہ جواب ان تمام خود ساختہ عاملوں کے لیے ایک آئینہ ہے جنہوں نے نہ علم شرعی حاصل کیا، نہ قرآن و سنت کے احکام سے واقفیت پیدا کی، نہ عقیدہ و توحید کے مسائل سمجھے، مگر جب انہیں معلوم ہوا کہ لوگوں کی پریشانیوں سے اچھی خاصی آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے تو فورا راقی، عامل، روحانی معالج اور ماہر علاج بن بیٹھے؛ بس چند مخصوص الفاظ یاد کر لیے، ایک مخصوص وضع قطع اختیار کر لی اور عوام کی عقیدت و جہالت کو اپنے کاروبار کی بنیاد بنا لیا!
شیخ صالح الفوزان نے اس سارے تماشے کا پردہ چاک کرتے ہوئے فرمایا: «كل هٰذَا من البهرج والكذب عَلَىٰ الناس؛ لأخذ أموالهم» یعنی یہ تمام چیزیں محض ظاہری چمک دمک، فریب اور لوگوں کے ساتھ جھوٹ کا معاملہ ہیں، جن کا مقصد صرف ان کے مال ہتھیانا ہے۔ سبحان اللہ!
آج کے ان راقیوں کے حالات دیکھیں کہ کسی نے پانی کی بوتل کو معمولی اور خاص، کسی نے ایک رات کا دم اور کسی نے سات دن کا علاج بنا رکھا ہے۔ کہیں ایک نشست کی قیمت الگ ہے، کہیں مخصوص پانی کی قیمت الگ، کہیں تعویذ کے نام پر رقم وصول کی جاتی ہے اور کہیں مختلف درجات کے علاج کے نام پر لوگوں کی جیبوں پر ہاتھ صاف کیا جاتا ہے۔
ان خود ساختہ راقیوں کا معاملہ صرف مال بٹورنے تک محدود نہیں، بلکہ ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو رقیہ کے نام پر علم غیب کے دعوے کرتے ہیں۔ کسی عورت کو دیکھتے ہی کہنے لگتے ہیں: بیٹی! تم بہت پریشان رہتی ہو، تمہارے گھر میں سکون نہیں، تمہاری ساس تمہارے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کرتی، تمہارے شوہر کے رویے میں تبدیلی آ گئی ہے، تمہارے گھر میں کسی نے کچھ کروایا ہوا ہے، تم پر جادو کیا گیا ہے، تمہاری زندگی کی مشکلات کی وجہ فلاں شخص ہے!
اور جب کوئی مصیبت زدہ عورت ان کی باتیں سنتی ہے تو حیرت سے کہتی ہے: بابا! آپ تو بالکل درست فرما رہے ہیں، آپ کو کیسے معلوم ہوا؟ ارے بھئی! اس میں کون سی غیب دانی ہے؟ گھریلو اختلافات، ساس بہو کی ناچاقیاں، شوہر کی بے توجہی، مالی پریشانیاں اور ازدواجی مشکلات تو معاشرے میں عام ہیں۔ ان عمومی باتوں کو چند اندازوں اور قیافوں کے ساتھ بیان کر دینا کوئی کرامت نہیں، نہ یہ علم غیب ہے، نہ روحانی کمال!
یہ تو انسانی نفسیات سے کھیلنے کا ایک معروف حربہ ہے۔ پہلے چند عمومی باتیں کہی جاتی ہیں، پھر سامنے والے کے چہرے، جواب اور ردعمل سے اندازہ لگایا جاتا ہے، پھر اسی کے مطابق اگلی باتیں بنائی جاتی ہیں۔ سادہ لوح انسان ہر درست نکلنے والی بات کو ان کی روحانی قوت کا ثبوت سمجھ بیٹھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ لوگوں پر واضح فرما دیں: «قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ» آپ کہہ دیجیے کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔ [النمل: 65]
پس جو شخص لوگوں کے دلوں میں یہ اعتقاد پیدا کرے کہ وہ ان کے گھروں کے پوشیدہ حالات، ان پر کیے گئے جادو اور ان کی آئندہ مصیبتوں سے بذات خود واقف ہے، وہ اپنے دعوے کے اعتبار سے کفر و ارتداد کے راستے پر گامزن ہے۔
اور تعجب تو ان لوگوں پر ہے جو ایسے جعل سازوں کی باتوں پر ایمان لے آتے ہیں! کوئی ان سے پوچھے کہ تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ فلاں نے جادو کروایا ہے؟ کس دلیل سے تم نے کسی شخص پر الزام لگا دیا؟ کس وحی سے تمہیں معلوم ہوا کہ اس گھر میں فلاں عورت نے کچھ کروایا ہے؟ مگر جب عقل پر خوف کا پردہ پڑ جائے اور توحید کے علم سے دل خالی ہو تو ہر شعبدہ باز ولی، ہر جھوٹا مدعی روحانی معالج اور ہر قیافہ گو غیب دان دکھائی دینے لگتا ہے۔
بعض لوگ تو ایسے راقیوں کے دفاع میں یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ جب تمہارے اپنے گھر میں مصیبت آئے گی، جب تمہارے اہل و عیال پر بیتے گی، تب تمہیں سمجھ آئے گا! گویا کسی کے مصیبت زدہ ہونے سے کسی شعبدہ باز کے دعوے کی تصدیق ہو جاتی ہے! سبحان اللہ! یہ جہالت کی انتہا ہے۔
ان نام نہاد روحانی معالجوں کا ایک نہایت خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ بعض لوگ رقیہ، دعا اور روحانی علاج کا پردہ ڈال کر جادو، سفلی اعمال اور شیطانی عملیات میں ملوث ہوتے ہیں۔ کسی عورت کو اپنے داماد سے شکایت ہے، کسی کو اپنی بہو سے عداوت ہے، کوئی اپنے شوہر کو اپنے قابو میں کرنا چاہتی ہے، کسی کو اپنے شوہر کی دوسری شادی برداشت نہیں، کسی کو کسی رشتے دار سے انتقام لینا ہے، اور کسی کی خواہش ہے کہ فلاں شخص اپنے گھر والوں سے الگ ہو جائے۔
چنانچہ وہ کسی ایسے عامل کے پاس پہنچتے ہیں اور کہتے ہیں: حضرت! میرا داماد بہت بگڑا ہوا ہے، کچھ ایسا کر دیجیے کہ وہ ہماری بات ماننے لگے۔ فلاں شخص میری بیٹی کو اپنے گھر میں نہیں رکھتا، کوئی دعا کر دیجیے۔ فلاں عورت میرے بیٹے کو مجھ سے دور کر رہی ہے، اس کا کچھ علاج کر دیجیے! اور وہ نام نہاد عامل رقیہ کا جامہ پہنا کر ایسے اعمال کرتا ہے جن کی حقیقت جادو، شرک اور شیطانی استعانت ہوتی ہے۔ زبان پر دعا کا نام، چہرے پر تقدس کا نقاب اور پس پردہ شیطان کی خوشنودی کے لیے کفریہ اعمال!
جادو کوئی معمولی گناہ نہیں، بلکہ یہ صریح کفر و شرک ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جادو کے ذریعے میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈالنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: «فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ» پھر وہ ان دونوں سے ایسی چیز سیکھتے تھے جس کے ذریعے مرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتے تھے۔ [البقرۃ: 102]
غور کیجیے! قرآن کریم نے جادو کے ایک نہایت خطرناک اثر کو واضح فرمایا کہ اس کے ذریعے میاں بیوی کے درمیان تفریق پیدا کی جاتی ہے۔ آج بھی بعض بدبخت عامل اسی شیطانی مقصد کے لیے لوگوں سے رقم وصول کرتے ہیں۔ کسی کے گھر میں نفرت پیدا کرنا، کسی کی ازدواجی زندگی تباہ کرنا، میاں بیوی کے درمیان بدگمانی ڈالنا اور خاندانوں کو ایک دوسرے سے لڑانا ان کے مذموم مقاصد میں شامل ہوتا ہے۔
اور جو لوگ اس قسم کے جادوئی اعمال کے لیے ان کے پاس جاتے ہیں، انہیں بھی یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ کسی کے خلاف جادو کروانا، کسی کا گھر اجاڑنے کی کوشش کرنا اور کسی کے ازدواجی تعلقات کو تباہ کرنے کے لیے شیطانی راستہ اختیار کرنا کوئی معمولی حرکت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جادو کے بارے میں فرمایا : «وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ» اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے، یہاں تک کہ کہہ دیتے کہ ہم تو محض آزمائش ہیں، لہٰذا کفر نہ کرو۔ [البقرۃ: 102]
یہ آیت جادو کے معاملے کی سنگینی اور اس کے کفریہ پہلو کو واضح کرتی ہے۔ پس جو شخص اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور شیطان کی خوشنودی کے ذریعے لوگوں کے گھروں میں جدائی ڈالتا ہے، وہ کس منہ سے اپنے آپ کو روحانی معالج کہتا ہے؟ اس کا عمل صریح کفر ہے۔
آج معاشرے میں ایسے بہت سے خود ساختہ بابا، عامل اور راقی دیکھنے میں آتے ہیں جو گلی کوچوں، گھروں اور بازاروں میں لوگوں کی پریشانیوں کو بھانپنے کے نام پر اپنے جال پھیلاتے پھرتے ہیں۔ بالخصوص عورتوں کی گھریلو مشکلات، ازدواجی اختلافات اور خاندانی تنازعات کو اپنے کاروبار کا بہترین موقع سمجھتے ہیں۔
کسی عورت سے ملاقات ہوئی تو فورا اس کے حالات پر تبصرہ شروع کر دیا: بیٹی! تمہارا گھر ٹھیک نہیں، تمہارے گھر والوں نے تم پر کچھ کروایا ہے، تمہاری ساس تمہاری دشمن ہے، تمہارے شوہر پر کسی نے عمل کرایا ہے، تمہارے گھر میں بندش ہے، تمہاری زندگی کی پریشانیاں اسی وجہ سے ہیں!
اور پھر جب اس عورت کی آنکھوں میں آنسو آتے ہیں، وہ اپنی گھریلو مشکلات بیان کرتی ہے تو عامل کو اپنے جال میں مزید آگے بڑھنے کا موقع مل جاتا ہے۔ کبھی کسی رشتے دار پر شک ڈالا جاتا ہے، کبھی کسی قریبی عورت کو جادوگرنی قرار دیا جاتا ہے، کبھی شوہر کے بارے میں بدگمانی پیدا کی جاتی ہے اور کبھی گھر کے اندر ایسی نفرت کے بیج بوئے جاتے ہیں جنہیں نکالنا عمر بھر ممکن نہیں ہوتا۔
پھر علاج کے نام پر رقم وصول کی جاتی ہے، بار بار حاضری کا پابند بنایا جاتا ہے، مخصوص پانی، تیل، تعویذ اور دیگر اشیا کے نام پر پیسے لیے جاتے ہیں۔ یوں ایک پریشان حال عورت نہ صرف اپنے گھر کے سکون سے محروم ہوتی ہے بلکہ اپنے شوہر کی محنت کی کمائی بھی ایسے فریب کاروں کے حوالے کرتی رہتی ہے۔ اور بعض اوقات معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا؛ ایک بے بنیاد الزام پورے خاندان میں فساد برپا کر دیتا ہے۔ بہن بھائیوں میں عداوت، ساس بہو میں دشمنی، شوہر اور بیوی کے درمیان بدگمانی اور رشتے داروں میں قطع تعلقی پیدا ہو جاتی ہے۔
پس اے مسلمانوں! اللہ سے ڈرو، اپنے عقیدے کی حفاظت کرو اور ایسے جعل ساز عاملوں اور راقیوں سے ہوشیار رہو۔ مصیبت اور بیماری کے وقت انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، قرآن کریم کی تلاوت، مسنون دعاؤں، جائز علاج اور اہل علم کی رہنمائی اختیار کرنی چاہیے؛ نہ کہ ہر گلی کے بابا، ہر خود ساختہ عامل اور ان نام نہاد راقیوں کے سامنے اپنی عقل و ایمان کو گروی رکھ دینا چاہیے۔
اپنے گھروں کے معاملات کو بلا دلیل جادو اور نظر بد کے کھاتے میں ڈالنا، بے گناہ رشتے داروں پر تہمتیں لگانا، شوہر اور بیوی کے درمیان نفرت پیدا کرنا اور کسی کے گھر کو اجاڑنے کے لیے عاملوں کے دروازے کھٹکھٹانا انتہائی خطرناک طرز عمل ہے۔ یاد رکھیے! ہر گھریلو اختلاف جادو نہیں، ہر بیماری بندش نہیں، ہر پریشانی کسی دشمن کے عمل کا نتیجہ نہیں اور ہر وہ شخص جو چند پوشیدہ باتیں بتا دے، صاحب کرامت نہیں بن جاتا۔
شیخ صالح الفوزان کا جواب ایسے لوگوں کے کردار اور ان کے مقاصد کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم تنبیہ ہے جو رقیہ کو لوگوں کے مال ہتھیانے کا ذریعہ بناتے ہیں۔ شیخ صالح الفوزان کا واضح فرمان ہے کہ «لا يقصد نفع الناس، وإنما يقصد نفع نفسه وأخذ أموال الناس» وہ لوگوں کو نفع پہنچانا نہیں چاہتا، بلکہ اپنا فائدہ اور لوگوں کا مال حاصل کرنا چاہتا ہے۔
پس اللہ تعالیٰ ہمیں توحید پر ثابت قدم رکھے، شرک و جادو، کہانت و شعبدہ بازی اور ہر قسم کے شیطانی فریب سے محفوظ فرمائے، عوام کو ایسے جعل سازوں کے شر سے بچائے، اور ہمیں قرآن و سنت کی صحیح سمجھ، اخلاص نیت اور اتباع حق کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔