ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 892
- ری ایکشن اسکور
- 231
- پوائنٹ
- 111
رقیہ کے نام پر من گھڑت وظائف و اعداد پر شیخ صالح الفوزان کی تنبیہ اور خود ساختہ رقاة پر سخت گرفت
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام علی رسولہ الأمین، وعلی آلہ وصحبہ أجمعین، أما بعد:
یہ بات اہل سنت کے ہاں مسلّم ہے کہ کتاب و سنت سے ثابت شدہ رقیہ مشروع ہے۔ لیکن اس مشروعیت کی آڑ میں دین میں من گھڑت طریقے، خود ساختہ اعداد اور بے بنیاد تخصیصات گھسیڑنا اہل سنت کا منہج نہیں، بلکہ صریح بدعت اور دین میں تحریف ہے۔
آج بعض لوگوں نے رقیہ کے نام پر ایک کھلی منڈی قائم کر رکھی ہے جہاں ہر راقی اپنی مرضی سے نئے نئے نسخے گھڑتا ہے، آیات کو مخصوص بیماریوں سے جوڑتا ہے اور اعداد مقرر کرتا ہے جن کا کتاب و سنت میں نام و نشان تک نہیں۔
کوئی سات مرتبہ کہتا ہے، کوئی گیارہ، کوئی اکتالیس، کوئی ایک سو ایک، اور کوئی ٣١٣ یا اس سے بھی بڑے من گھڑت اعداد۔ پھر ان خود ساختہ اور بے دلیل طریقوں کو بڑی ڈھٹائی سے رقیہ شرعیہ کا نام دے کر عوام میں پھیلاتا ہے۔
یہاں ایسے لوگوں سے سوال کرنا چاہیے کہ تمہیں یہ جرأت کس نے دی کہ تم اللہ کے کلام کو اپنی تجربہ گاہ کا خام مال بنا لو اور اپنی طرف سے اعداد مقرر کرکے انہیں رقیہ شرعیہ قرار دو؟
قرآن اللہ کا کلام ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رقیہ کیا، صحابہ نے رقیہ کیا۔ مگر اس سے یہ کب ثابت ہوا کہ جس آیت کو چاہو مخصوص کرو، جس عدد کو چاہو مقرر کرو، اور پھر اسے شرعی وظیفہ کہہ کر لوگوں کے گلے اتار دو؟ یہ رقیہ شرعیہ نہیں، رقیہ کی آڑ میں بدعت پھیلانا ہے۔
شیخ صالح الفوزان سے جب یہی سوال کیا گیا کہ اگر کوئی راقی قرآن سے علاج کرتے ہوئے کسی آیت کو مخصوص تعداد میں دہرانے کا حکم دے تو کیا کرے؟ تو شیخ نے نہایت سخت اور واضح الفاظ میں جواب دیا:
«ما الدليل؟ ما دليل هذا أنها تردد بعدد معين، اسأله عن الدليل، إن ذكر لك دليلا صحيحا من الكتاب والسنة، وإلا فاتركه.» یعنی دلیل کیا ہے؟ اس مخصوص تعداد کی دلیل کیا ہے؟ اس سے دلیل مانگو۔ اگر کتاب و سنت سے صحیح دلیل دے تو ٹھیک، ورنہ اسے چھوڑ دو۔
یہ جواب ان تمام خود ساختہ رقاة کے لیے سخت تنبیہ ہے جو قرآن کا نام لے کر اپنی من گھڑت تعدادیں مقرر کرتے اور عوام کو ان کا پابند بناتے ہیں۔ شیخ نے یہ نہیں کہا کہ آیت قرآن ہے اس لیے راقی جو چاہے تعداد بتا سکتا ہے۔ بلکہ صاف پوچھا کہ «ما دليل هذا أنها تردد بعدد معين؟» اس مخصوص تعداد کی دلیل کیا ہے؟
جو شخص کسی آیت کے لیے کوئی خاص عدد مقرر کرتا ہے، اس پر دلیل پیش کرنا واجب ہے۔ میرا تجربہ ہے، بہت لوگوں کو فائدہ ہوا، فلاں بزرگ نے بتایا، میں نے خواب دیکھا یا میں نے بیس سال رقیہ کیا ہے! یہ سب کچھ شرعی دلیل نہیں۔ دین تجربات سے نہیں چلتا، وحی سے چلتا ہے۔ جو شخص اپنے تجربے کو شریعت کا درجہ دیتا ہے، وہ دراصل وحی کے مقابلے میں اپنی رائے کو کھڑا کر رہا ہے۔
اے خود ساختہ رقاة! تمہاری دلیل کہاں ہے؟ اگر تم کہتے ہو سات مرتبہ پڑھو تو جواب دو کہ سات ہی کیوں؟ اگر گیارہ مرتبہ کہتے ہو تو گیارہ کی دلیل کیا ہے؟ اگر اکتالیس مرتبہ سے جادو ٹوٹتا ہے کہتے ہو تو اکتالیس کہاں سے آیا؟ اگر ٣١٣ مرتبہ سے فلاں جن نکل جاتا ہے کہتے ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نسخہ کہاں بیان کیا؟ صحابہ نے کہاں مقرر کیا؟ ائمہ اہل سنت نے اسے کب شرعی علاج قرار دیا؟
اگر ان سوالات کا جواب کتاب و سنت سے نہیں ملتا تو پھر تمہیں یہ حق کس نے دیا کہ تم اپنے من گھڑت عدد کو شرعی وظیفہ قرار دو؟ تمہارا تجربہ شریعت نہیں بن سکتا۔ تمہارا مشاہدہ وحی کا متبادل نہیں۔ تمہاری شہرت دلیل نہیں۔
شیخ صالح الفوزان نے بالکل صاف اصول بیان کیا کہ «إن ذكر لك دليلا صحيحا من الكتاب والسنة، وإلا فاتركه» اگر صحیح دلیل دے تو اختیار کرو، ورنہ چھوڑ دو۔ اس ایک جملے میں ان تمام خود ساختہ رقاة کے لیے تنبیہ ہے جو عوام کی لاعلمی اور کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اپنے تجربات کو شریعت کا رنگ دے رہے ہیں۔
خود ساختہ طریقے کے لیے قرآن کی آیت استعمال کر لینا اسے سنت نہیں بناتا۔ قرآن حق ہے، لیکن ہر وہ طریقہ جو تم قرآن کے کسی حصے کے ساتھ جوڑ دو، لازما رقیہ شرعیہ نہیں ہو جاتا۔ اگر صرف آیت پڑھ لینا ہی کافی ہو کہ آدمی اپنی طرف سے تعداد، وقت، طریقہ اور مرض متعین کرتا چلا جائے، تو پھر شریعت میں دلیل کی کوئی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔ پھر ہر شخص اپنی مرضی سے نسخے گھڑتا رہے گا اور رقیہ شرعیہ کے نام پر بدعات کا انبار لگ جائے گا۔
یہی وجہ ہے کہ علماء نے دلیل کے بغیر مخصوص تخصیصات سے سختی سے خبردار کیا ہے۔ جو شخص دلیل کے بغیر تخصیص کرتا ہے، وہ درحقیقت شریعت میں نئی بات داخل کر رہا ہے۔ بعض رقاة جب ان سے دلیل مانگی جاتی ہے تو بڑی معصومیت سے کہتے ہیں کہ ہم نے تجربہ کیا ہے، فائدہ ہوا ہے۔ یہ جواب شرعی دلیل کا قائم مقام نہیں۔ کسی مباح دوائی کا تجربے سے مفید ہونا ایک بات ہے، لیکن شریعت میں کسی تجربے کو رقیہ شرعیہ یا مخصوص نبوی علاج قرار دینا بالکل الگ اور خطرناک بات ہے۔
عوام کو بھی چاہیے کہ وہ کسی راقی کی شہرت، لباس، لہجے، لمبی داڑھی، سوشل میڈیا پر مشہور ہونے یا لوگوں کے ہجوم سے دھوکا نہ کھائیں۔ اہل حدیث کا اصول یہ ہے: قال اللہ و قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ نہ یہ کہ قال الراقي، وجرب الراقي، ورأى الراقي۔
راقی خواہ کتنا ہی مشہور کیوں نہ ہو، جب وہ کسی مخصوص عدد یا مخصوص طریقے کو رقیہ شرعیہ قرار دے تو اس سے دلیل مانگی جائے گی۔ شخصیت دلیل نہیں بنتی۔ دلیل شخصیت سے بڑی ہے۔ اسی لیے شیخ صالح الفوزان نے پورے مسئلے کو ایک سوال میں سمیٹ دیا «ما الدليل؟»
جو لوگ بیماری، جادو یا نظر بد سے پریشان ہوتے ہیں، وہ عموما جلدی متاثر ہو جاتے ہیں۔ ایسے وقت میں اگر کوئی شخص قرآن کا نام لے کر کوئی مخصوص نسخہ بتائے تو مریض فورا اسے شرعی علاج سمجھ لیتا ہے۔ یہیں سے خود ساختہ رقاة کو عوام پر اثر انداز ہونے کا موقع ملتا ہے۔
لہٰذا مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر ایسے دعوے کے سامنے رک کر پوچھے کہ کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے؟ کیا صحابہ نے ایسا کیا؟ کیا اس مخصوص عدد کی کوئی صحیح دلیل ہے؟ اگر جواب نہیں تو پھر صرف یہ کہنا کہ یہ قرآن ہے! بالکل کافی نہیں۔ قرآن ضرور پڑھا جائے، مگر قرآن کو اپنی خواہشات اور تجربات کا پردہ بنا کر شریعت میں نئی تخصیصات داخل نہ کی جائیں۔
پس رقیہ شرعیہ کے نام پر اپنی طرف سے مخصوص آیات، مخصوص بیماریاں، مخصوص اوقات اور مخصوص اعداد مقرر کرکے انہیں رقیہ شرعیہ کے طور پر پیش کرنے والوں سے صاف اور سخت الفاظ میں کہا جائے کہ دلیل پیش کرو!
اگر کتاب و سنت سے صحیح دلیل ہے تو قبول کیا جائے گا، خواہ بیان کرنے والا معمولی آدمی ہو۔ اور اگر دلیل نہیں تو اسے چھوڑ دیا جائے گا، خواہ کہنے والا کتنا ہی مشہور راقی، واعظ یا صاحب تجربہ کیوں نہ ہو۔
کیونکہ شفا دینے والا حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہے، قرآن اس کا کلام ہے اور مشروع رقیہ ایک شرعی سبب ہے۔ کسی راقی کے ذاتی تجربات شریعت کا ماخذ نہیں بن سکتے۔ جو لوگ قرآن کے نام پر خود ساختہ اعداد اور وظائف ایجاد کرکے عوام کو ان کا پابند بناتے ہیں، انہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے، دین کو اپنے تجربات کا میدان نہیں بنانا چاہیے، اور جس چیز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروع نہیں کیا اسے محض اپنی رائے، تجربے یا مشاہدے کی بنیاد پر شریعت کا رنگ نہیں دینا چاہیے۔
واللہ اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب۔