محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,081
- ری ایکشن اسکور
- 35
- پوائنٹ
- 111
درج ذیل نکات سے رمضان کی فضیلت بخوبی واضح ہو جاتی ہے:
01- اللہ تعالیٰ نے رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنے کو فرض قرار دیا ہے۔ (البقرة: 185)
02- قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے اس مہینے میں نازل کیا۔(البقرة: 185)
03- اس مہینے میں لیلۃ القدر ہے، جس میں عبادت ایک ہزار مہینے کی عبادت سے بہتر ہے۔ (القدر:3)
04: اس مہینے میں روزے رکھنا اور رات کو قیام کرنا گناہوں کی مغفرت کی سبب ہے۔(صحیح مسلم: 759،760)
05: رمضان میں جنتوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں۔(صحيح مسلم:1079)
06: اللہ تعالیٰ رمضان المبارک میں ہر رات بہت سے لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے۔(صحیح الترغيب:987)
07: اگر انسان کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے تو ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک، درمیان کے عرصے میں ہونے والے گناہوں کو مٹانے کا سبب ہے۔(صحیح مسلم: 233)
08: رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔(صحیح مسلم: 1256)
09- آپ ﷺ نے فرمایا: ”انسان جب امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے اور اس کے فارغ ہونے تک اس کے ساتھ رہتا ہے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام شمار کیا جاتا ہے۔“ (سنن أبی داود: 1375)
والله أعلم بالصواب.
01- اللہ تعالیٰ نے رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنے کو فرض قرار دیا ہے۔ (البقرة: 185)
02- قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے اس مہینے میں نازل کیا۔(البقرة: 185)
03- اس مہینے میں لیلۃ القدر ہے، جس میں عبادت ایک ہزار مہینے کی عبادت سے بہتر ہے۔ (القدر:3)
04: اس مہینے میں روزے رکھنا اور رات کو قیام کرنا گناہوں کی مغفرت کی سبب ہے۔(صحیح مسلم: 759،760)
05: رمضان میں جنتوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں۔(صحيح مسلم:1079)
06: اللہ تعالیٰ رمضان المبارک میں ہر رات بہت سے لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے۔(صحیح الترغيب:987)
07: اگر انسان کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے تو ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک، درمیان کے عرصے میں ہونے والے گناہوں کو مٹانے کا سبب ہے۔(صحیح مسلم: 233)
08: رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔(صحیح مسلم: 1256)
09- آپ ﷺ نے فرمایا: ”انسان جب امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے اور اس کے فارغ ہونے تک اس کے ساتھ رہتا ہے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام شمار کیا جاتا ہے۔“ (سنن أبی داود: 1375)
والله أعلم بالصواب.