روایت شکن بادشاہ اور ممکنات کا کھیل
اپنے قدامت پسند طور اطوار کی وجہ سے پہنچانے جانے والے سعودی عرب میں کسی اچانک تبدیلی کو پسند نہیں کیا جاتا، لیکن اس روایت پسند سعودی عرب کے لیے گذشتہ چند ہفتے بہت غیر معمولی رہے ہیں۔
جنوری میں شاہ عبداللہ کی وفات کے بعد سے شاہ سلمان نے جس تیزی اور جس بڑے پیمانے پر سعودی عرب میں تبدیلیاں کی ہیں وہ سعودی معیار کے مطابق ناقابل تصور ہیں اور نہ ہی ماضی میں ہمیں اس کی کوئی مثال دکھائی دیتی ہے۔
خارجہ پالیسی کے میدان میں، یمن پر فضائی حملے کر کے اس شہنشاہیت نے علاقائی تنازعوں سے نمٹنے میں احتیاط و تحمل اور خاموش سفارتکاری کی روایت کو اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینک دیا ہے۔
اور یوں سعودی عرب نے اس تنازعے میں اپنے لیے اچانک ایک ایسے کردار کا انتخاب کر لیا جسے خطے میں شیعہ ایران کے توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف سنّی عرب ریاستوں کی مشترکہ فوجی کارروائی کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
شاہ نے اپنے جوان بیٹے (بائیں) کو نائب ولی عہد جبکہ اپنے بھتیجے (دائیں) کو ولی عہد بناد دیا ہےبیرونی معاملات کے برعکس سعودی عرب کے اندر آنے والی تبدیلیاں قدرے کم ڈرامائی رہی ہیں۔
جنوری میں وزیر داخلہ پرنس محمد بن نائف کو ولی عہد پرنس مقرن کے ساتھ نائب ولی عہد مقرر کر دیا گیا جس پر خاصی حیرت کا اظہار کیا گیا۔
سعودی عرب کے بانی ابنِ سعود کے پوتوں میں سے شہزادہ محمد وہ پہلے پوتے ہیں جنھیں اس سیڑھی پر جگہ دی گئی ہے جس میں سب سے اوپر شاہ سلمان خود ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ وزارتِ دفاع کا قلمدان سنبھالنے کے لیے شاہ سلمان نے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے پرنس محمد بن سلمان کو منتخب کر لیا۔
نہ صرف یہ تقرریاں خاصی معنی خیز تھیں، بلکہ حال ہی میں شاہ سلمان نے جو تبدیلیاں کی ہیں وہ انھوں نے لوگوں کو مزید حیران کر دیا ہے۔
پرنس مقرن کی چھٹی ہو چکی ہے اور ان کی جگہ محمد بن نائف ولی عہد بنا دیے گئے ہیں اور محمد بن سلمان نائب ولی عہد بن گئے ہیں۔
یوں رات کی رات وہ ملک جس نے کبھی 70 یا 80 برس سے کم عمر کے بادشاہ نہیں دیکھے تھے، وہاں مستقبل کا بادشاہ صرف پچاس کے پیٹے میں ہے اور ولی عہد کا نائب صرف 30 اور 40 سال کے درمیان۔
سالہا سال سے سعودی عرب میں یہی سمجھا جاتا رہا ہے کہ نوجوان نسل کو آئندہ کی ذمہ داریاں دینے سے پہلے اسے اس کردار کے لیے آہستہ آہستہ تیار کیا جانا چاہیے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ شاہ عبداللہ کے بارے میں یہ افواہیں تھیں کہ انھوں نے شاہ سلمان کی جگہ لینے کے لیے پرنس مقرن کا انتخاب کیا تھا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ شاہ سلمان کی نگرانی میں پرنس مقرن رموز باشاہت سمجھ سکیں اور کسی اچانک تبدیلی سے پریشان نہ ہو جائیں۔
لیکن نئے بادشاہ نے اپنے پیشرو کی اس تجویز کو یک جنبشِ قلم رد کر دیا اور اب پرنس مقرن منظر سے ہٹا دیے گئے ہیں۔