• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

روز ے دار کے لئے مباح وجائز کام ؟

ابن خلیل

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 03، 2011
پیغامات
1,387
ری ایکشن اسکور
6,756
پوائنٹ
332
روز ے دار کے لئے مباح وجائز کام

سخت گرمی میں پانی کے ذریعے ٹھنڈک حاصل کرنا ۔
بیماری سی بچنے کے لئے انجکشن وغیرہ لگوانا اور طاقت کا انجکشن لگوانا ۔
خوشبو لگانا۔
سرمہ ڈالنا ۔

?كيا ے سب جائز یين

اس کی دلیل قرآن و حدیث سے چاہیے۔


جزاک اللہ خیرا
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
دوران روزہ غسل کے بارے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شیخ صالح المنجد فرماتے ہیں:
الحمد للہ
روزے دار کے لے نہانا مباح ہے اوراس کا روزے پر کوئي اثر نہیں ۔ ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ تعالی مغنی میں کہتے ہیں :
روزے دارکے لیے نہانے میں کوئي حرج نہیں اس کا استدلال مندرجہ ذيل حدیث سے لیا جاسکتا ہے :
عا‏ئشہ اورام سلمہ رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتی ہيں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھروالوں کی وجہ سے جنبی ہوتے اوربعض اوقات فجر ہوجاتی توآپ روزہ رکھتے اورغسل کرلیتے تھے ۔
صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1926 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1109 )
اور ابوداود رحمہ اللہ تعالی اپنی سند کے ساتھ بعض صحابہ کرام سے بیان کرتے ہیں کہ :
میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ روزے کی حالت میں گرمی یا پیاس کی شدت سے اپنے سرمیں پانی ڈال رہے تھے ۔
سنن ابوداود حدیث نمبر ( 2365 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح ابوداود میں اسے صحیح قراردیا ہے ۔
صاحب عون المعبود کہتے ہیں :
اس حدیث میں دلیل ہے کہ روزے دار کےلیے جائز ہے کہ گرمی کی شدت کو کم کرنے کےلیے اپنےمکمل بدن یا جسم کے بعض حصہ پر پانی بہا سکتا ہے ، جمہور علماء کرام کا مسلک یہی ہے اورانہوں نے غسل واجب اورغسل مسنون اورمباح میں کوئي فرق نہيں کیا ۔ ا ھـ
امام بخاری رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
روزے دار کے غسل کے بارہ میں باب : اورابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے روزے کی حالت میں اپنا کپڑا بھگوکر اپنے اوپر ڈالا ، اورامام شعبی حمام میں روزے کی حالت میں داخل ہوئے ۔۔۔ اور حسن رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ روزہ دار کے لیے کلی اور ٹھنڈک حاصل کرنے میں کوئي حرج نہیں ۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
قولہ : ( روزے دار کے غسل کرنے کا باب ) یعنی اس کے جواز کا بیان ۔
زین بن المنیر کا کہنا ہے کہ : اغتسال کا لفظ مطلق طور پر اس لیے ذکر کیا ہے اس میں غسل مسنونہ ، غسل واجب ، اورمباح ہرقسم کا غسل شامل ہوسکے ، گویا کہ اس روایت کی ضعف کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو علی رضي اللہ تعالی سے مروی ہے اورمصنف عبدالرزاق نے روایت کی ہے اوراس کی سند میں ضعف ہے :
جس میں روزے دار کو حمام میں داخل ہونے سے منع کیا گيا ہے ۔ ا ھـ
واللہ اعلم.

الاسلام سوال وجواب
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
رزوہ میں خوشبو لگانے کے بارے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شیخ صالح المنجد لکھتے ہیں:
الحمد للہ
رمضان المبارک میں خوشبواستعمال کرنا جائز ہے ، اوراس کے استعمال سے روزہ فاسد نہيں ہوتا ۔ فتاوی اللجنۃ الدائمۃ میں ہے کہ :
( مطلقاخوشبو وہ عطر ہو یا دوسری روزے کو فاسد نہیں کرتیں رمضان ہویا غیر رمضان روزہ نفلی ہو یا فرضی اس پر کچھ اثرنہیں ہوتا ) ا ھـ
اورایک دوسرے فتوی میں لجنۃ کا کہنا ہے :
( جس نے کسی بھی قسم کی خوشبوروزے کی حالت میں استعمال کی اس کا روزہ فاسد نہیں ہوگا ، لیکن اسے دھونی خوشبوکا پاوڈر نہيں سونگنا چاہیے مثلا کستوری پاوڈر ) ا ھـ
دیکھیں اللجنۃ الدائمۃ ( 10 / 271 ) ۔
اورشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
روزے دار کے لیے دن کے شروع اورآخر میں خوشبو استعمال کرنی جائز ہے چاہے وہ دھونی ہو یا تیل کی شکل وغیرہ میں ، لیکن دھونی سونگنا جائز نہيں کیونکہ اس کے محسوس اورمشاھد اجزاء ہیں جن کے سونگنے سے وہ معدہ میں داخل ہوتےہیں ، اوراسی لیے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لقیط بن صبرہ رضي اللہ تعالی عنہ کو فرمایا تھا :

( ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کیا کرو لیکن روزے کی حالت میں مبالغہ نہ کرو ) ا ھـ
دیکھیں : فتاوی ارکان الاسلام صفحہ ( 469 ) ۔
واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
سرمہ لگانے کے بارے شیخ صالح المنجد ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
الحمدللہ​
علماء کے صحیح قول کے مطابق مطلقا سرمہ عورت اور مرد کا روزہ نہیں توڑتا لیکن روزہ دار کے لیے افضل یہ ہے وہ اسے رات کو استعمال کرے ۔

اور ایسے ہی جس سے چہرے کو خوبصورت کرنے والی چیزیں مثلا صابون تیل جن کا تعلق صرف ظاہری جلد کے ساتھ ہوتا ہے اور اسی طرح مہندی اور میک اپ وغیرہ (روزے کو کوئی نقصان نہیں دیتیں ) لیکن یہ ہے کہ میک اپ کا استعمال اگر چہرہ کو نقصان دے تو استعمال کرنا ضروری نہیں ۔.
شیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی کا فتوی
دیکھیں کتاب : الفتاوی الجامعہ جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 349
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
Top