زکوٰۃ: مال کی پاکیزگی کا بہترین ذریعہ
عذراء بتول سنابلی بنت عبدالعلیم سلفی(نئی دہلی)
شریعت اسلامیہ نے عبادات کے لئے نہایت ہی جامع أصول متعین فرما دیاہے چنانچہ نماز، زکوٰۃ ، روزہ اور حج کا وقت اور طریقۂ کار مشروع و متعین ہے اورہر مکلف بندہ انہیں أصول اور طریقۂ کار کا پابند ہے جو قرآن وسنت سےبیان شدہ اور ثابت ہیں ، زکوٰۃ جو عبادتوں میں سے ایک اہم عبادت ہے اس کے احکام ومسائل کا بیان اور طریقۂ کا ر بھی شریعت نے طے کر دیا ہے ، کتنے مال پر، کتنی مدت بعد، کن أموال پر، کن طریقوں سے اور زکوٰۃ کے مال کے مستحق کون ہیں ؟ ان سب امور کو شریعت نے تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ذیل کی سطورمیں ہم کوشش کریں گےکہ زکوٰۃ سے متعلق چند ضروری امورکا تذکرہ کردیاجائے:
زکوٰۃ کا لغوی معنی :
زکوٰۃ زکا ،یزکو ازک سے مشتق ہے جس کی جمع "زکوات" ہے جس کا لغوی معنی ہے "چیز کا عمدہ حصہ" ۔ ( مصباح اللغات، مادہ: ز ک ی) ۔ اسی طرح زکوٰۃ کے کئی اور معانی ہیں جیسے: بڑھوتری ، زیادتی ، برکت ، پاکیزگی وطہارت ، مدح وتعریف اور صلاح ودرستگی وغیرہ۔(مقاييس اللغة :3/18، النهاية في غريب الحديث :2/307، لسان العرب:14/358) ۔
زکوٰۃ کا شرعی مفہوم:
خاص شرائط کے ساتھ، خاص لوگوں کے لئے، خاص وقت میں، خاص مال سے شرعاً واجب ہونے والا حق نکال کر اللہ کی عبادت بجا لانے کا نام زکوٰۃ ہے۔ (المبدع في شرح المقنع:2/291)۔
زکوٰۃ کی فرضیت اور فضیلت و اہمیت:
زکوٰۃ اسلام کےارکان میں سے تیسرا اور بنیادی رکن ہے، جس کے بغیر کسی بھی شخص کا اسلام اور ایمان ممکن نہیں ہوتا۔ زکوٰۃ، نماز، روزہ اور حج کی طرح ایک فرض عبادت ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے: اول گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبودبرحق نہیں اور بیشک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا"۔(صحیح بخاری/8، صحیح مسلم/16)۔چنانچہ زکوٰۃ ہر صاحبِ استطاعت پر فرض ہے، اللہ تعالی نے قرآن مجیدکے اندر کئی مقامات پر:( وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ) ۔(اور زکوٰۃ دو) فرماکر مسلمانوں کو زکاۃ کا مکلف کیاہے ، اسی طرح ایک مقام پر فرماتاہے:( خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيْهِمْ بِهَا )۔ (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! تم ان کے مالوں سے صدقہ (زکوٰۃ) لے کر انہیں گناہوں سے پاک اور صاف کرو)۔(التوبۃ/103) ۔ اور فرمایا: (كُلُوْامِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَاٰتُوْا حَقَّهٗ يَوْمَ حَصَادِهٖ ۪ وَلَا تُسْرِفُوْا ؕ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ )۔( ان سب کے پھلوں میں سے کھاؤ جب وه نکل آئے اور اس میں جو حق واجب ہے وه اس کے کاٹنے کے دن دیا کرو۔ اور حد سے مت گزرو یقیناً وه حد سے گزرنے والوں کو ناپسند کرتا ہے)۔(الانعام/141)۔
زکوٰۃ فرض ہونے کی شرائط
کسی بھی مسلمان پر زکوٰۃ تب ہی فرض ہوتی ہے جب اس میں مندرجہ ذیل چند شرائط پائی جائیں:
1 - مسلمان ہونا: غیر مسلم پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔
2 – حریت :چنانچہ غلام پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے ،کیونکہ اس کا مال اس کے آقاکاہوتاہے۔
3- عاقل اور بالغ ہونا: (کچھ فقہاء کے نزدیک نابالغ اور مجنون کے مال پر بھی زکوٰۃ ہے اگر وہ نصاب کو پہنچ جائے، جس کی ادائیگی ان کے سرپرست کریں گے)۔
4- مالکِ نصاب ہونا: یعنی اس کے پاس اتنا مال ہو جو شرعی نصاب کو پہنچتا ہو۔
5 - ملکیتِ تام (مکمل ملکیت) ہونا: مال پر مالِک کا پورا قبضہ ہو اور وہ اس میں تصرف کی مکمل صلاحیت رکھتا ہو۔
6 - حَولانِ حول( سال گزرنا ): نصاب کے مال پر پورا ایک قمری (ہجری) سال گزر چکا ہو۔ (فصلوں اور پھلوں پر سال گزرنا شرط نہیں، ان کی زکوٰۃ یعنی "عشر" کٹائی کے وقت ہی دیا جاتا ہے)۔
7- مال کا حاجتِ اصلیہ سے زائد ہونا: یعنی وہ مال آپ کی بنیادی ضرورتوں (جیسے رہنے کا گھر، پہننے کے کپڑے، سواری وغیرہ) سے زائد ہو۔
وہ اموال جن میں زکوٰۃ فرض ہے:
اللہ تعالیٰ نے چار قسم کے ایسے اموال میں زکوٰۃ فرض کیا ہے جن پر انسانی زندگی کا دارومدار ہے
:اول: چوپائے جیسے: اونٹ، گائے، بکری وغیرہ۔
دوم :سونا چاندی اور نقدی وغیرہ۔
سوم:ہر قسم کا تجارت کا سامان جس کی تجارت شرعاً جائز ہے۔
اور چہارم: زمین سے حاصل ہونے والی چیزیں غلہ، پھل، سبزیاں، معدنیات اوردفینے وغیرہ۔
نصاب زکاۃ :
جن اشیاء پر زکوٰۃ واجب ہے، ان کا مختصر نصاب درج ذیل ہے:
سونا: کم از کم پچاسی ( 85 )گرام ۔
چاندی: کم از کم پانچ سوپچانوے( 595 )گرام ۔
نقد رقم یا بینک بیلنس: کسی کے پاس اتنی رقم ہو جو 85 گرام سونے یا 595 گرام چاندی کی قیمت کے برابر پہنچ جائے تو
ان تمام اشیاء میں کل مالیت کا ڈھائی فیصد (یعنی چالسواں حصہ ) زکوٰۃ بنتی ہے۔
ذاتی استعمال کی چیزوں پر زکوٰۃ نہیں ہے:
ذاتی اور گھریلو استعمال کی اشیاء پر زکاۃ فرض نہیں ہوتی۔ شریعت میں ایسی چیزیں جو روزمرہ ضروریات (ضرورتِ اصلیہ) میں شامل ہوں، جیسے ذاتی استعمال کے کپڑے، گاڑیاں، برتن، فرنیچر، اور مکان وغیرہ، ان کی مالیت پر کوئی زکوٰۃ نہیں لگتی، خواہ وہ کتنی ہی قیمتی کیوں نہ ہوں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:"مسلمان پر نہ اس کے غلام میں زکوٰۃ ہے اور نہ اس کے گھوڑے میں"۔(صحیح بخاری/1464، صحیح مسلم/982)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ غلام اور گھوڑے میں زکوٰۃ نہیں ہے، یعنی جو غلام اپنی خدمت کے لیے اور جو گھوڑا اپنی سواری کے لیے مخصوص ہو ان پر کسی قسم کی زکاۃ نہیں ہے، البتہ اگر برائے تجارت ہوں تو ان پر زکوٰۃ ہو گی۔جمہور علماء اور اکثر فقہاء کا یہی موقف ہے۔ نیزاس سے یہ بھی پتاچلاکہ ذاتی مکان، یا مکان کی تعمیر کے لیے پلاٹ، کار، موٹر سائیکل، فرنیچر، فریج اوردیگر گھریلو سامان پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
وقف شدہ اور پبلک پراپرٹی میں زکوٰۃ نہیں ہے:
واضح رہے کہ وقف شدہ اموال، بیت المال، ہسپتال وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جو فردواحد کی ملکیت نہیں ہوتیں بلکہ مجموعی طور پر یہ تمام مسلمانوں کے لیے وقف ہوتی ہیں، اس لئے ان میں زکوٰۃ نہیں نکالی جائے گی ، کیونکہ جس مال سے زکوٰۃ نکالنا فرض ہے وہ مال کسی خاص شخص کی ملکیت ہونا چاہئے۔ اگر وہ مال کسی خاص شخص کی ملکیت نہ ہو تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔
زرعی پیداوار پر زکوٰۃ :
زرعی پیداوار پر زکوٰۃ کو اصطلاحی طور پر "عشر" کا نام دیا جاتا ہے کیونکہ زرعی پیداوار میں ہر فصل تیار ہونے کے بعد اس کا عشر (یعنی دسواں حصہ) بطورِ زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے بشرطیکہ مجموعی پیداوار پانچ وسق یا اس سے زیادہ ہو اور زمین کی سیرابی کے لئے مشقت کر کے پانی حاصل نہ کیا گیا ہو یعنی ٹیوب ویل لگانے یا کنوئیں کھودنے کے بجائے بارش یا نہروں کے ذریعے بغیر مشقت کے پانی حاصل ہو جائے لیکن اگر ایسا نہ ہو تو پھر ازراہِ تخفیف بیسواں حصہ (یعنی نصف العشر) بطورِ زکوٰۃ نکالا جائے گا جیسا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " فيما سقت السماء والعيون أو كان عثريا العشر وما سقى بالنضح نصف العشر " – " زمین بارش یا چشموں سے سیراب ہوتی ہو یا وہ بارانی ہو اس میں عشر ہے اور جو زمین رہٹ وغیرہ کے پانی سے سیراب کی جاتی ہو تو اس میں نصف العشر ہے"۔(صحیح بخاری/1483)۔
زمین سے حاصل ہونے والی پیداوار اگر پانچ وسق سے کم ہو تو پھر اس میں کسی قسم کی زکوٰۃ (عشر) فرض نہیں جیسا کہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ" ۔"پانچ وسق سے کم پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے"۔(صحیح بخاری/1405 ، صحیح مسلم /980)۔
واضح رہے کہ ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے پانچ وسق کے تین سو صاع ہوئے موجودہ وزن کے حساب سے تین سو صاع کا وزن تقریباً (750) کلو گرام یعنی ساڑھے سات کوئنٹل بنتا ہے۔(دیکھئے حاشیہ سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/ 626 )۔ واللہ اعلم ۔
زکوٰۃ کے مصارف اور مستحقین:
قرآنِ کریم میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف ذکر ہوئے ہیں اور مزید اس کی تفصیل حدیثوں میں آئی ہے، وہ آٹھ مستحقین مندرجہ ذیل ہیں:
1 - فقراء: وہ لوگ جن کے پاس کچھ نہ ہو یا بہت ہی کم ہو۔
2 - مساکین: وہ لوگ جن کے پاس ضرورت کا کچھ سامان تو ہو لیکن وہ ان کی بنیادی ضروریات کے لیے کافی نہ ہو (اور وہ کسی کے آگے ہاتھ بھی نہ پھیلاتے ہوں)۔
3 - عاملین: وہ ملازمین جنہیں اسلامی حکومت نے زکوٰۃ جمع کرنے اور تقسیم کرنے پر مقرر کیا ہو (ان کی اجرت اس میں سے دی جا سکتی ہے)۔
4 - مؤلفۃ القلوب: جن کی دلجوئی مقصود ہو (جیسے نئے مسلمان ہونے والے تاکہ ان کی اسلام پر استقامت رہے)۔
5 - فی الرقاب: غلاموں کو آزاد کرانے کے لیے (موجودہ دور میں قیدیوں کی رہائی کے لیے بعض شرائط کے ساتھ)۔
6 - غارمین: وہ قرض دار جو اپنے قرضے اتارنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔
7 - فی سبیل اللہ: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے، اسی طرح دین کی خدمت و اشاعت میں مصروف لوگ (جیسے دینی طلبہ) فی سبیل اللہ میں آتےہیں۔
8 - ابن السبيل: وہ مسافر جو سفر کے دوران تنگدست ہو گیا ہو، چاہے وہ اپنے گھر میں کتنا ہی امیر کیوں نہ ہو۔ (التوبۃ/60)۔
کن لوگوں کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی؟:
مندرجہ ذیل افراد کو زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی :
1 - اپنی اصول اور فروع کو (یعنی والدین، دادا، دادی، نانا، نانی اور اسی طرح اپنی اولاد: بیٹے، بیٹی، پوتے، پوتی، نواسے، نواسی کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی کیونکہ ان کی کفالت ویسے ہی انسان پر واجب ہوتی ہے)۔
2 - میاں بیوی ایک دوسرے کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔
3 - بنو ہاشم : صدقات واجبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان یعنی بنو ہاشم کے لیے جائز نہیں ہیں اور یہ علی، جعفر، عقیل اورحارث بن عبد المطلب کی اولاد ہیں۔ بعض اہل علم کے مطابق اضطرای حالات میں جائزہے۔
4 - مالدار (صاحبِ نصاب) شخص کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے۔
5 - غیر مسلم کو زکوٰۃ (فرض) نہیں دی جا سکتی (البتہ عام صدقات و خیرات دیے جا سکتے ہیں)۔
زکوٰۃ ادا نہ کرنے کی سزا اورنقصانات:
زکوٰۃ ادا نہ کرنے کےبے شمار نقصانات ہیں،جیسے:
1 – زکوٰۃ نہ ادا کرنے والے کےلئے سخت ترین عذاب ہے: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (
وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ۙۦ يَوْمَ يُحْمٰى عَلَيْهَا فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوْبُهُمْ وَظُهُوْرُهُمْ ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ )۔ (جو لوگ سونے اور چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیجئے کہ جس دن اس خزانے کو آتشِ جہنم میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیاں، پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور ان سے کہا جائے گا) یہ ہے جسے تم نے اپنے لیے خزانہ بنا کر رکھا تھا، پس اپنے خزانوں کا مزہ چکھو)۔(التوبۃ/34-35)۔ اور ایک حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" من آتاه الله مالا فلم يؤد زكاته مثل له يوم القيامة شجاعا أقرع له زبيبتان يطوقه يوم القيامة ثم يأخذ بلهزمتيه يعني شدقيه ثم يقول أنا مالك أنا كنزك " ۔" جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا لیکن اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی تو قیامت کے دن اس کا مال گنجے زہریلے سانپ کی شکل اختیار کرے گا، جس کی آنکھوں پر دو سیاہ نقطے ہوں گے اور وہ اس کے گلے کا ہار ہوگا، وہ اس کے دونوں جبڑوں کو پکڑے گا اور کہے گا: میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں"۔ (صحیح بخاری/1403) ۔اور ایک روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" جو بھی سونے اور چاندی کا مالک ان کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرتا، تو جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کے لیے (اس مال سے) آگ کی تختیاں بنائی جائیں گی اور انہیں جہنم کی آگ میں خوب تپایا جائے گا، پھر ان سے اس کے پہلو (پسلی)، اس کی پیشانی اور اس کی پیٹھ کو داغا جائے گا۔ جب بھی وہ تختیاں ٹھنڈی ہونے لگیں گی، انہیں دوبارہ (تپا کر) لایا جائے گا؛ یہ معاملہ اس دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے، یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے، پھر وہ اپنا راستہ دیکھ لے گا کہ جنت کی طرف جاتا ہے یا جہنم کی طرف۔"۔(صحیح مسلم/987)۔اور ایک دوسری روایت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:" اونٹ (قیامت کے دن) اپنے اس مالک کے پاس—جس نے ان کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کیا ہوگا—پہلے سے بھی زیادہ موٹے تازے ہو کر آئیں گے اور اسے اپنے کھروں سے روندیں گے۔اور بکریاں (بھی) اپنے اس مالک کے پاس—جس نے ان کا حق ادا نہیں کیا ہوگا—پہلے سے زیادہ موٹی تازی ہو کر آئیں گی، وہ اسے اپنے کھروں سے کچلیں گی اور اپنے سینگوں سے ماریں گی۔ اور ان (جانوروں) کا ایک حق یہ بھی ہے کہ انہیں پانی کے گھاٹ پر ہی دوہا جائے (تاکہ مسافر اور ضرورت مند بھی فائدہ اٹھا سکیں)۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مزید) فرمایا: اور تم میں سے کوئی شخص قیامت کے دن اس حال میں نہ آئے کہ وہ اپنی گردن پر کوئی ایسی بکری اٹھائے ہوئے ہو جو منمناتی (چیختی) ہو، اور وہ (شخص مجھ سے فریاد کرتے ہوئے) کہے: 'اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! میری مدد کیجیے! تو میں اسے کہہ دوں گا: 'میں اللہ کے ہاں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا، یقیناً میں نے (اللہ کا حکم تم تک) پہنچا دیا تھا۔اور نہ ہی کوئی شخص (قیامت کے دن) ایسا اونٹ اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے آئے جو بلبلا رہا ہو، اور وہ کہے: اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! میری مدد کیجیے!تو میں (صاف) کہہ دوں گا: میں اللہ کی طرف سے تمہارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، بیشک میں نے (حق) پہنچا دیا تھا'"۔ (صحیح بخاری/1402، صحیح مسلم/987)۔ ان علاوہ بھی ڈھیروں روایتیں ہیں جن میں زکوۃ ادانہ کرنے والے کےلئے شدیدوعیداور عذاب کا ذکرہے۔
2 - زکوٰۃ کی فرضیت کا انکار کرنے والے سے قتال جائزہے : خلیفۂ اول ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کے خلاف جنگ کا اعلان کیاتھا ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے تو عربوں میں سے کافر ہونے والے کافر ہو گئے (اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مانعین زکاۃ سے جنگ کا ارادہ کیا) تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ان لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے ہیں:"مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑائی کروں یہاں تک کہ وہ (لا الٰه الا الله) کا اقرار کر لیں، پس جو کوئی (لا الٰه الا الله) کا قائل ہو گیا، اس نے میری طرف سے اپنی جان اور اپنا مال محفوظ کر لیا،البتہ کسی حق کے بدل ہو تو وہ اور بات ہے (مثلاً کسی کا مال مار لے یا کسی کا خون کرے) اب اس کے باقی اعمال کا حساب اللہ کے حوالے ہے "۔اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ کی قسم! میں ان لوگوں سے جنگ کروں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کریں گے، کیونکہ زکاۃ مال (میں اللہ) کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ (اونٹ کا) پاؤں باندھنے کی ایک رسی بھی روکیں گے، جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے تو میں اس کے روکنے پر بھی ان سے جنگ کروں گا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اصل بات اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ میں نے دیکھاکہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ جنگ کے لیے کھول دیا، تو میں جان گیا کہ حق یہی ہے۔(صحیح بخاری /7285، صحيح مسلم/20)۔
3 - قحط سالی اور بارش کا رک جانا: حدیث مبارکہ میں ہے کہ "جب بھی کوئی قوم اپنے مال کی زکوٰۃ روکتی ہے، تو ان سے آسمان سے بارش روک لی جاتی ہے، اور اگر زمین پر چوپائے (جانور) نہ ہوں تو ان پر کبھی بارش نہ ہو"۔ (سنن ابن ماجہ/4019 ، علامہ البانی نے اس حدیث کو حسن کہاہے)۔
4- معاشرتی بگاڑ: جب امیر لوگ زکوٰۃ نہیں دیتےہیں تو معاشرے میں غربت، افلاس، چوری اور ڈکیتی جیسی برائیاں جنم لیتی ہیں، کیونکہ غریبوں میں آمدنی کےوسائل و ذرائع کے مفقودہونے کا یا اس کی قلت کی وجہ سے ا حساسِ محرومی اور حسد بڑھ جاتا ہےاور وہ اس کےلئے کسی نہ کسی ناجائز اور نامناسب طریقہ اور وسیلہ کے اختیار کرنے پر مجبورہوجاتے ہیں جس سے معاشرتی بگاڑ اور فساد کا راستہ کھلتاہے۔
5 – زکاۃ ادانہ کرنا جہاں ایک طرف اللہ تعالی کے حکم کے نافرمانی ہے وہی دوسری طرف اللہ کے بندوں کے حقوق کی تلفی ہے کیونکہ زکاۃ کو اللہ تعالی نے اپنے محتاج بندو ں کے لئے ہی فرض کیاہے۔
زکوٰۃ کے فوائد اوراس کی حکمتیں:
اسلام کے دیگر ارکان اور فرائض کی طرح زکوٰۃ جیسے عظیم الشان رکن میں بھی اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بے شمار انفرادی و اجتماعی حکمتیں اور عظیم فوائد رکھے ہیں جس سے زکوٰۃ کی ادائیگی کرنے والا ایک بندۂ مومن ہی نہیں بلکہ پورا اسلامی اور انسانی سماج اور ساری دنیا مستفید ہوتی ہے ، چند فوائد اور حکمتیں ملاحظہ فرمائیں:
۱- زکوٰۃ اسلام کا ایک اہم رکن ہے، لہٰذا اس سے بندے کا ایمان مکمل ہوتا ہے اور یہ پرہیزگاری کا ایک عظیم مقصود ہے۔
۲- زکوٰۃ کی ادائیگی سے اللہ کی اطاعت اور بندگی حاصل ہوتی ہے، بندہ اللہ سے اجر و ثواب کی امید رکھتا ہے، اس کے عذاب سے ڈرتا ہے اور اس کی محبت و خوشنودی کا طالب ہوتا ہے۔
۳- زکوٰۃ میں مال خرچ کرنے کی آزمائش ہے۔ چونکہ مال و جائیداد انسانی طبیعت میں ایک محبوب و مرغوب چیز ہےاس لئے اسے اپنی ذات کے علاوہ کہیں اور خرچ کرنااس کی طبیعت پر گراں گزرتاہے۔
4 – زکاۃ امتِ محمدیہ کے فتنہ و آزمائش کا سبب ہے،کیونکہ قرآن مجید کے اندر مال اور أولاد کو فتنہ کہاگیاہے۔(الانفال/28 ، التغابن/15)۔
5 - زکوٰۃ خیراور بھلائی پانے کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اس کی ادائیگی سے بندے کے ایمان کی صداقت کا پتہ چلتا ہے ،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: " لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ؕ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ )۔(جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرو گے ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے، اور تم جو خرچ کرو اسے اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا ہے) ۔ (آل عمران/92)۔
6- زکوٰۃ کے ذریعہ جود و کرم، سخاوت و فیاضی اور فقراء و محتاجوں پر شفقت و رحم کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
7 - زکوٰۃ کے ذریعہ بعض قبیح خصلتوں سےنفس کی صفائی و ستھرائی ہوتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:(خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيْهِمْ بِهَا )۔(آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے، جن کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک و صاف کر دیں)۔ (التوبۃ/103)۔
8 - چونکہ انسان کے دل میں مال کی محبت ایک فطری چیز ہے، لیکن جب وہ اللہ کے حکم پر اپنے حلال مال میں سے ایک حصہ نکالتا ہے، تو اس کے دل سے بخل (کنجوسی) اور حرص کا خاتمہ ہوتا ہے۔
9 - زکوٰۃ انسان کو سکھاتا ہے کہ مال صرف جمع کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اللہ کی راہ میں بانٹنے اورخرچ کرنے کے لیے ہے۔
10- زکوٰۃ سے مال میں اللہ کی جانب سے برکت، اضافہ اور بڑھوتری ہوتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ( وَمَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَيُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَخَيْرُالرّٰزِقِيْنَ)۔(اور تم جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اللہ اس کا (پورا پورا) بدلہ دے گا اور وہ سب سے بہترین روزی دینے والا ہے)۔(السبأ/39)۔ اورابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ما نقصت صدقة من مال " ۔ "صدقہ و زکوٰۃ سے مال میں کوئی کمی نہیں ہوتی"۔(صحیح مسلم/2588)۔
11 - اس سے مال پاکیزہ و بابرکت ہو جاتا ہے اور فقراء و مساکین کے ساتھ تعاون اور ان کی مدد ہو جاتی ہے۔ ، اگر زکوٰۃ کا نظام پوری ایمانداری سے نافذ ہو جائے تو معاشرے سے غربت کا خاتمہ ممکن ہے۔ یہ دولت کو چند ہاتھوں میں منجمد ہونے سے روکتا ہے اور اسے پورے سماج میں گردش دیتا ہے، جس سے امیر اور غریب کے درمیان خلیج کم ہوتی ہے اور معاشی عدل قائم ہوتا ہے۔
12 - جب ایک ضرورت مند کو یہ احساس ہوتا ہے کہ معاشرے کا خوشحال طبقہ اسے بھول نہیں گیا بلکہ اس کی بنیادی ضرورتوں کا خیال رکھ رہا ہے، تو دلوں سے حسد اور نفرت کا خاتمہ ہوتا ہے۔ اس کی جگہ محبت، ہمدردی اور بھائی چارے کے جذبات پروان چڑھتے ہیں، جو ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد ہیں۔
13 - زکوٰۃ محض ایک مالیاتی حساب کتاب یا صرف جیب سے پیسے نکالنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا پاکیزہ نظام ہے جو بیک وقت انسان کے باطن (دل) اور ظاہر (معاشرے) دونوں کی اصلاح کرتا ہے۔
14 - زکوۃ سے دین وشریعت کی نشرواشاعت ہوتی ہے اور اس سےدعوت دین میں کوششوں کوجلاء ملتی ہےاو رمعاشرے کو علماءو طلباء کی شکل میں خدام دین کی اچھی خاصی ٹیم ملتی ہے۔
ایک مسلمان کے لیے زکوٰۃ بوجھ نہیں بلکہ ایک اعزاز ہونا چاہیے کہ اللہ نے اسے دینے والا ہاتھ بنایا ہے، لینے والا نہیں۔ جب یہ عمل سچے دل اور خوشی سے کیا جائے تو یہ بارگاہِ الٰہی میں قبولیت پاتا ہے اور انسان کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں حقیقی فلاح اور سکون کا باعث بنتا ہےاور یہ سوچنا کہ زکاۃ اداکرنے سےمال میں کمی ہوتی ہے ایمان کی کمزوری ، دنیا کی حد سے زیادہ حرص اور لالچ اور دین سے فرار کےلئے کوئی بہانہ تلاش کرنے کے مترادف ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے مالوں کو پاک کرنے اور اس فریضے کو اس کی روح کے مطابق اور خوشی سے ادا کرنے کی ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اور ہمارے مالوں میں برکت دے اور ہمارے نیک اعمال کو قبول فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔وصلی اللہ علی خیرخلقہ وسلم۔
******