• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

زید بن عمرو بن نفیل اور دین ابراہیمی

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
928
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
زید بن عمرو بن نفیل اور دین ابراہیمی
​

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد!

زید بن عمرو بن نفیل بعثت نبوی سے پہلے ہی دین ابراہیم پر قائم تھے اور قریش کے شرک سے بری ہو کر صرف اللہ وحدہ کی عبادت کرتے تھے۔ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ :

«رَأَيْتُ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ قَائِمًا مُسْنِدًا ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ، يَقُولُ: يَا مَعَاشِرَ قُرَيْشٍ وَاللَّهِ مَا مِنْكُمْ عَلَى دِينِ إِبْرَاهِيمَ غَيْرِي»

میں نے زید بن عمرو بن نفیل کو کعبہ سے اپنی پیٹھ لگائے ہوئے کھڑے دیکھا، وہ کہتے تھے: ”اے قریش کے لوگو! اللہ کی قسم! میرے علاوہ تم میں سے کوئی بھی دین ابراہیم پر نہیں ہے۔“

[صحيح البخاري، حدیث: 3828]

13513.jpg

13511.jpg

زید بن عمرو بن نفیل نے علانیہ طور پر یہ بات بیان کی کہ وہی اکیلے شخص ہیں جو دین ابراہیمی پر قائم ہیں۔ نیز انہوں نے کہا کہ قریش کے لوگ اس دین پر نہیں، حالاں کہ وہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ دین ابراہیمی پر ہیں۔

دین ابراہیمی صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، غیر اللہ کی ہر عبادت کو باطل قرار دینا، ان عبادت کرنے والوں کو کافر سمجھنا اور ان سے براءت کا اعلان کرنا ہے۔ جو شخص اس عقیدے پر قائم نہیں، وہ دین ابراہیمی پر نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قریش کے لوگوں کو کافر قرار دیا، باوجود اس کے کہ وہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ دین ابراہیمی پر ہیں، اور وہ جاہل بھی تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ توبہ کی چھٹی آیت میں فرمایا ہے:

﴿وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْلَمُونَ﴾

اور اگر مشرکوں میں سے کوئی شخص آپ سے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دے دیجیے، یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے، پھر اسے اس کی جائے امن تک پہنچا دیجیے۔ یہ اس لیے ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو علم نہیں رکھتے۔

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ وہ مشرک ہیں اور جاہل ہیں، اور یہ کہ وہ ایسی قوم ہیں جو علم نہیں رکھتی۔ اسی بنا پر ہم ان لوگوں سے سوال کرتے ہیں جو آج قبر پرستوں کے اسلام کو ثابت کرتے ہیں:

جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ دین ابراہیمی، یعنی اسلام، پر ہیں، لیکن جہالت کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہو جاتے ہیں، ان کے اور قریش کے ان لوگوں کے درمیان کیا فرق ہے جو اسی دین پر ہونے کا دعویٰ کرتے تھے؟

اسی طرح نصاریٰ اور یہود بھی کلمہ شہادت کہتے تھے، حالانکہ ان میں سے بہت سے جاہل تھے۔ پس اگر قبر پرست جنہیں مرجئہ مسلمان کہتے ہیں، اس بنیاد پر معذور سمجھے جائیں اور حجت قائم ہونے تک مسلمان رہیں کہ وہ کہ وہ دین ابراہیمی یعنی اسلام پر ہیں، تو پھر عیسائیوں، یہودیوں اور قریش کے ان لوگوں کو بھی مسلمان کیوں نہ قرار دیا جائے جو اسی دین پر ہونے کا دعویٰ کرتے تھے، حالاں کہ وہ بھی جاہل تھے اور یہی بات کہتے تھے؟

آج کے قبر پرستوں، یہود و نصاریٰ اور مشرکین مکہ کے درمیان کیا فرق ہے جب سب ایک ہی دین یعنی دین ابراہیمی پر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں؟ واللہ المستعان۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توحید خالص کو سمجھنے، اس پر ثابت قدم رہنے، شرک کی حقیقت کو پہچاننے، مشرکین سے براءت کرنے اور کتاب و سنت کی روشنی میں عدل و انصاف کے ساتھ حق بات کہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين۔
 
Top