لوگوں نے جواب ديا: اس نے سچ كہا ہے، آپ نے تو صرف دو ركعت نماز پڑھائى ہے، چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے دو ركعت نماز اور پڑھائى اور سلام پھر ديا، اور پھر تكبير كہہ كر سجدہ كيا پھر تكبير كہہ كر سر اٹھايا پھر تكبير كہہ كر سجدہ كيا، اور پھر تكبير كہہ كر سجدہ سے سر اٹھايا۔ محمد بن سيرين كہتے ہيں: مجھے بتايا گيا كہ عمران بن حصين رضى اللہ تعالى عنہ نے فرمايا: پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے سلام پھيرا "/QUOTE]
صحيح بخارى حديث نمبر ( 482 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 573 ).
امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے عمران بن حصين رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عصر كى نماز پڑھائى اور تين ركعت ادا كر كے سلام پھير ديا اور پھر اپنے گھر چلے گئے، چنانچہ ايك شخص جسے خرباق كہا جاتا تھا اور اس كے ہاتھ لمبے تھے نے اٹھ كر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے كہا:
اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم آپ نے ايسے كيا ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا عمل ذكر كيا، چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم غصہ كى حالت ميں اپنى چادر گھسيٹتے ہوئے لوگوں كے پاس آئے اور فرمانے لگے:
" كيا يہ سچ كہہ رہا ہے ؟
لوگوں نے عرض كيا: جى ہاں، چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايك ركعت پڑھائى، پھر سلام پھيرا اور پھر دو سجدے كر كے سلام پھير ديا "
صحيح مسلم حديث نمبر ( 574 ).
شيخ محمد بن صالح بن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
" اگر سجدے سلام كے بعد ہوں تو سلام ضرورى ہے، چنانچہ دو سجدے كر كے سلام پھيرے جائے "
ليكن كيا اس كے ليے تشھد بھى ضرورى ہے ؟
اس ميں علماء كرام كے ہاں اختلاف ہے، راجح يہ ہے كہ تشھد واجب نہيں " اھـ
ديكھيں: فتاوى ابن عثيمين ( 14 / 74 ).
مستقل فتوى كميٹى سے درج ذيل سوال كيا گيا:
كيا سجدہ سہو كے بعد تشھد بيٹھا جائيگا يا نہيں، چاہے سجدہ سہو سلام سے پہلے ہو يا بعد ميں ؟
كميٹى كا جواب تھا:
اگر سجدہ سہو سلام سے قبل ہو تو بلا شك و شبہ اس كے بعد تشھد بيٹھنا مشروع نہيں، ليكن اگر سلام كے بعد سجدہ سہو ہو تو اس ميں اہل علم كا اختلاف ہے، راجح يہى ہے كہ صحيح احاديث ميں اس كا ذكر نہ ہونے كى بنا پر يہ مشروع نہيں " اھـ
ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 7 / 148 ).
واللہ اعلم .
الاسلام سوال وجواب