محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,088
- ری ایکشن اسکور
- 35
- پوائنٹ
- 111
رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی سجدہ سہو سے متعلقہ تمام احادیث کو اکٹھا کیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ سجدہ سہو درج ذیل اسباب کی بنا پر کیا جاتا ہے:
1- نماز میں اضافہ ہو جائے، جیسے انسان کوئی سجدہ زیادہ کر دے، یا کوئی رکعت زیادہ پڑھ دے وغیرہ۔
2- نماز میں کمی ہو جائے، جیسے انسان نماز کا کوئی رکن یا واجب چھوڑ دے۔
3- انسان کو نماز میں شک ہو جائے، جیسے شک ہو جائے کہ اس نے کتنی رکعات پڑھی ہیں وغیرہ۔
1- نماز میں اضافہ ہو جائے، جیسے انسان کوئی سجدہ زیادہ کر دے، یا کوئی رکعت زیادہ پڑھ دے وغیرہ۔
2- نماز میں کمی ہو جائے، جیسے انسان نماز کا کوئی رکن یا واجب چھوڑ دے۔
3- انسان کو نماز میں شک ہو جائے، جیسے شک ہو جائے کہ اس نے کتنی رکعات پڑھی ہیں وغیرہ۔
- اگر کوئی شخص جان بوجھ کر نماز میں اضافہ یا کمی کرتا ہے تو اس کی نماز باطل ہے ، کیوں کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی مخالفت کی ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
- ((مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدّ)) (صحيح مسلم، الأقضية:1718).
- ’’جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا جس کے بارے میں ہمارا حکم نہیں ہے وہ مردود (باطل) ہے‘‘۔