ہو گیا کہ مدینے کی قیادت انتہائی بیدار مغز ہے اور ان کی ایک ایک تجارتی نقل و حرکت پر نظر رکھتی ہے۔ مسلمان چاہیں تو تین سو میل کا راستہ طے کر کے ان کے علاقے کے اندر انہیں مار کاٹ سکتے ہیں ، قید کر سکتے ہیں، مال لُوٹ سکتے ہیں اور ان سب کے بعد صحیح سالم واپس بھی جا سکتے ہیں۔ مشرکین کی سمجھ میں آ گیا کہ ان کی شامی تجارت اب مستقل خطرے کی زد میں ہے لیکن ان سب کے باوجود وہ اپنی حماقت سے باز آنے اور جُہَینہ اور بنو ضمرہ کی طرح صلح و صفائی کی راہ اختیار کرنے کے بجائے اپنے جذبۂ غیظ و غضب اور جوشِ بغض و عداوت میں کچھ اور آگے بڑھ گئے اور ان کے صنادید و اکابر نے اپنی اس دھمکی کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کر لیا کہ مسلمانوں کے گھروں میں گھس کر ان کا صفایا کر دیا جائے گا۔ چنانچہ یہی طیش تھا جو انہیں میدانِ بدر تک لے آیا۔
باقی رہے مسلمان تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عبد اللہ بن جحشؓ کے سریہ کے بعد شعبان ۲ھ میں ان پر جنگ فرض قرار دے دی اور اس سلسلے میں کئی واضح آیات نازل فرمائیں۔ ارشاد ہوا :
وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ ۚ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۚ وَلَا تُقَاتِلُوهُمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّىٰ يُقَاتِلُوكُمْ فِيهِ ۖ فَإِن قَاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ ۗ كَذَٰلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ ﴿١٩١﴾ فَإِنِ انتَهَوْا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿١٩٢﴾ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّـهِ ۖ فَإِنِ انتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ ﴿١٩٣﴾ (۲: ۱۹۰ تا ۱۹۳)
''اللہ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں اور حد سے آگے نہ بڑھو۔ یقینا اللہ حد سے آگے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا، اور انہیں جہاں پاؤ قتل کرو، اور جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے وہاں سے تم بھی انہیں نکال دو اور فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے اور ان سے مسجد حرام کے پاس قتال نہ کرو یہاں تک کہ وہ تم سے مسجد حرام میں قتال کریں۔ پس اگر وہ (وہاں) قتال کریں تو تم (وہاں بھی) انہیں قتل کرو۔ کافروں کی جزا ایسی ہی ہے۔ پس اگر وہ باز آ جائیں تو بے شک اللہ غفور رحیم ہے اور ان سے لڑائی کرو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہو جائے۔ پس اگر وہ باز آ جائیں تو کوئی تَعدِّی نہیں ہے مگر ظالموں ہی پر۔''
اس کے جلد ہی بعد دوسری نوع کی آیات نازل ہوئیں جن میں جنگ کا طریقہ بتایا گیا اور اس کی ترغیب دی گئی ہے اور بعض احکامات بھی بیان کیے گئے ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہے :
فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ۚ ذَٰلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّـهُ لَانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ ۗ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ ﴿٤﴾ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ ﴿٥﴾ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ ﴿٦﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّـهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ ﴿٧﴾ (۴۷: ۴- ۷)
''پس جب تم لوگ کفر کرنے والوں سے ٹکراؤ تو گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب انہیں چھی طرح کچل لو تو جکڑ کر باندھو۔ اس کے بعد یا تو احسان کرو یا فدیہ لو، یہاں تک کہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے۔ یہ ہے (تمہارا کام) اور اگر اللہ چاہتا تو خود ہی ان سے انتقام لے لیتا لیکن (وہ چاہتاہے کہ) تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزمائے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں اللہ ان کے اعمال کو ہرگز رائیگاں نہ کرے گا۔ اللہ ان کی رہنمائی کرے گا اور ان کا حال درست کرے گا اور ان کو جنت میں داخل کرے گا جس سے ان کو واقف کرچکا ہے۔ اے اہل ایمان! اگر تم نے اللہ کی مدد کی تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم ثابت رکھے گا۔''
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مذمت فرمائی جن کے دل جنگ کا حکم سن کر کانپنے اور دھڑکنے لگے تھے۔ فرمایا:
فَإِذَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَذُكِرَ فِيهَا الْقِتَالُ ۙ رَأَيْتَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ (۴۷: ۲۰)
''تو جب کوئی محکم سورت نازل کی جاتی ہے اور اس میں قتال کا ذکر ہوتا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھتے ہیں جیسے وہ شخص دیکھتا ہے جس پر موت کی غشی طاری ہو رہی ہو۔''
حقیقت یہ ہے کہ جنگ کی فرضیت و ترغیب اور اس کی تیاری کا حکم حالات کے تقاضے کے عین مطابق تھا حتی کہ اگر حالات پر گہری نظر رکھنے والا کوئی کمانڈر ہوتا تو وہ بھی اپنی فوج کو ہر طرح کے ہنگامی حالات کا فوری مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیتا۔ لہٰذا وہ پروردگارِ برتر کیوں نہ ایسا حکم دیتا جو ہر کھلی اور ڈھکی بات سے واقف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حالات حق و باطل کے درمیان ایک خون ریز اور فیصلہ کن معرکے کا تقاضا کر رہے تھے، خصوصاً سریہ عبد اللہ بن جحشؓ کے بعد جو کہ مشرکین کی غیرت و حمیت پر ایک سنگین ضرب تھی اور جس نے انہیں کبابِ سیخ بنا رکھا تھا۔
احکام جنگ کی آیات کے سیاق و سباق سے اندازہ ہوتا ہے کہ خون ریز معرکے کا وقت قریب ہی ہے اور اس میں آخری فتح و نصرت مسلمانوں ہی کو نصیب ہو گی۔ آپ اس بات پر نظر ڈالیے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ جہاں سے مشرکین نے تمہیں نکالا ہے اب تم بھی وہاں سے انہیں نکال دو۔ پھر کس طرح اس نے قیدیوں کے باندھنے اور مخالفین کو کچل کر سلسلہ جنگ کو خاتمے تک پہنچانے کی ہدایت دی ہے جو ایک غالب اور فاتح فوج سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ اشارہ تھا کہ آخری غلبہ مسلمانوں ہی کو نصیب ہو گا۔ لیکن یہ بات پردوں اور اشاروں میں بتائی گئی تاکہ جو شخص جہاد فی سبیل اللہ کے لیے جتنی گرمجوشی رکھتا ہے اس کا عملی مظاہرہ بھی کر سکے۔
پھر انہی دنوں - شعبان ۲ھ فروری ۶۲۴ء میں - اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ قبلہ، بیت المقدس کے بجائے خانہ کعبہ کو بنایا جائے اور نماز میں اسی طرف رخ پھیرا جائے۔ اس کا فائدہ ہوا کہ کمزور اور منافق یہود جو مسلمانوں کی صف میں محض اضطراب و انتشار پھیلانے کے لیے داخل ہو گئے تھے کھل کر سامنے آ گئے اور مسلمانوں سے علیحدہ ہو کر اپنی اصل حالت پر واپس چلے گئے اور اس طرح مسلمانوں کی صفیں بہت سے غداروں اور خیانت کوشوں سے پاک ہو گئیں۔
تحویل قبلہ میں اس طرف بھی ایک لطیف اشارہ تھا کہ اب ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے جو اس قبلے پر مسلمانوں کے قبضے سے پہلے ختم نہ ہو گا، کیونکہ یہ بڑی عجیب بات ہو گی کہ کسی قوم کا قبلہ اس کے دشمنوں کے قبضے میں ہو اور اگر ہے تو پھر ضروری ہے کہ کسی نہ کسی دن اسے آزاد کرایا جائے۔
ان احکام اور اشارو ں کے بعد مسلمانوں کی نشاط میں مزید اضافہ ہو گیا اور ان کے جہاد فی سبیل اللہ کے جذبات اوردشمن سے فیصلہ کن ٹکر لینے کی آرزو کچھ اور بڑھ گئی۔
****