محمد عامر یونس
خاص رکن
- شمولیت
- اگست 11، 2013
- پیغامات
- 17,117
- ری ایکشن اسکور
- 6,822
- پوائنٹ
- 1,069
سعودی مفتی اعظم پر خواتین کا گوشت حلال قرار دینے کا بھونڈا الزام،الزام عالم اسلام میں انتشار پھیلانے کی سازش ہے:مفتی اعظم :
11 اپریل 2015
ریاض(قدرت نیوز)سعودی عرب کے مفتی اعظم اور اسلامک ریسرچ و افتاء کونسل کے چیئرمین الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ نے اپنے نام منسوب شدید بھوک کی حالت میں عورت کا گوشت جائز قرار دینے کی ایک من گھڑت خبر کی نہ صرف سختی سے تردید کی ہے بلکہ اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی مفتی اعظم نے واضح الفاظ میں اپنے نام منسوب اس طرح کے بھونڈے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس نوعیت کی متنازعہ افواہیں پھیلا کر سعودی معاشرے میں فتنہ وفساد کو ہوا دینے کی گھناؤنی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس نوعیت کی متنازعہ خبروں کی اشاعت کا ایک مقصد سعودی عرب کے عوام کی توجہ اصل ایشوز سے ہٹا کر فروعی معاملات کی طرف مبذول کرانا ہے۔ خواتین کے گوشت کو حلال قرار دینے کا الزام عاید کر کے سعودی معاشرے اور پوری مسلم امہ کے درمیان انتشار پھیلایا جا رہا ہے میں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بنی نوع آدم میں خواتین بھی اسی طرح محترم ومکرم ہیں جس طرح کی مرد قابل احترام ہیں۔ اسلام سمیت کسی آسمانی مذہب میں انسانی گوشت کو بھوک مٹانے کے لیے کھانے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے ۔
http://qudrat.com.pk/world/11-Apr-2015/56377
11 اپریل 2015
ریاض(قدرت نیوز)سعودی عرب کے مفتی اعظم اور اسلامک ریسرچ و افتاء کونسل کے چیئرمین الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ نے اپنے نام منسوب شدید بھوک کی حالت میں عورت کا گوشت جائز قرار دینے کی ایک من گھڑت خبر کی نہ صرف سختی سے تردید کی ہے بلکہ اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی مفتی اعظم نے واضح الفاظ میں اپنے نام منسوب اس طرح کے بھونڈے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس نوعیت کی متنازعہ افواہیں پھیلا کر سعودی معاشرے میں فتنہ وفساد کو ہوا دینے کی گھناؤنی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس نوعیت کی متنازعہ خبروں کی اشاعت کا ایک مقصد سعودی عرب کے عوام کی توجہ اصل ایشوز سے ہٹا کر فروعی معاملات کی طرف مبذول کرانا ہے۔ خواتین کے گوشت کو حلال قرار دینے کا الزام عاید کر کے سعودی معاشرے اور پوری مسلم امہ کے درمیان انتشار پھیلایا جا رہا ہے میں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بنی نوع آدم میں خواتین بھی اسی طرح محترم ومکرم ہیں جس طرح کی مرد قابل احترام ہیں۔ اسلام سمیت کسی آسمانی مذہب میں انسانی گوشت کو بھوک مٹانے کے لیے کھانے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے ۔
http://qudrat.com.pk/world/11-Apr-2015/56377