• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سلسلہ تفسیر القرآن

شمولیت
اپریل 13، 2019
پیغامات
58
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
30
سورہ مریم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۝
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ۔
كۗهٰيٰعۗصۗ ۝
کھیعص ۔
ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِيَّا ۝
یہ آپ کے پروردگار کی اس رحمت کا ذکر ہے جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کی تھی۔
مصباح القران
ذِكْرُ (ذکر ہے ) رَحْمَتِ (رحمت کا ) رَبِّ كَ ( تیرے رب ) عَبْدَ هٗ ( اپنے بندے ) زَكَرِيَّا (زکریا )
] ذِكْرُ : ذکر ، اذکار ، تذکرہ ، مذکور ][ رَحْمَتِ : رحمت ، مرحوم ، رحم ][ رَ بِكَ رب ، ربوبیت ، رب العالمین ][ عَبْدَ هٗ : عبد ، عابد ، معبود ، عبادت ]
تفسیر
1۔ زکریا (علیہ السلام) ، رجعیم بن سلیمان، بن داود کی اولاد ہیں یہ حضرات حضرت ہارون کی اولاد سے ہیں اور حضرت ہارون لاوی بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم کی اولاد سے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ نیک و صالح بیٹا اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ رب نے اس سورت میں فرزند صالح کو رحمت فرمایا۔ خصوصا جب کہ بڑھاپے میں عطا ہو۔
2۔ آپ کی رسالت کا اثبات صرف قرآن مجید کرتا ہے، یہود اور نصرانی دونوں ان کی رسالت کے منکر ہیں۔ نصرانیوں کے ہاں ان کی حیثیت ہیکل بیت المقدس کے ایک بزرگ مجاور و خادم کی ہے۔ (آیت) ” عبدہ “۔ یعنی اس کا مقبول ومعزز بندہ۔ اضافت اضافت تشریفی ہے۔ جب بندہ کا تعلق اللہ کے ساتھ خاص تقرب وشرف کا دکھانا ہوتا ہے تو محاورۂ قرآنی میں عموما ایسے موقع پر ذکر (آیت) ” عبداللہ “۔ یا عبدنا یا (آیت) ” عبدہ “۔ کرکے لیا جاتا ہے۔
3۔سورة مریم کا آغاز جس واقعہ سے کیا ہے ، حقیقت میں یہ سابقہ آیت کی تفسیر ہے ، جس میں بتایا گیا تھا ، کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا کوئی مقرر و متعین اندازہ نہیں ، ہم اس کی وسعتوں کا صحیح صحیح جائزہ نہیں لے سکتے ، ہم نہیں جانتے کہ اس کی بخششیں کن طریقوں اور واسطوں سے ہوتی ہیں ، ہمارا علم محدود ہے اور اس کے دینے اور بخشنے کے انداز لا محدود ہیں ۔
4۔حضرت زکریا (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ایک زبردست پیغمبر تھے ۔ بخاری شریف میں ہے کہ آپ بڑھئی کا کام کرکے اپنا پیٹ پالتے تھے ۔ حضرت زکریا بوڑھے ہوگئے تھے اور ان کی بیوی جو حضرت مریم کی خالہ تھیں ، بانجھ تھیں ۔ ان کے اولاد نہیں تھی اور ان کو اپنے رشتہ داروں کی طرف سے اندیشہ تھا کہ کہیں وہ ان کے بعد دین میں تغیروتبدل اور تحریف نہ کرڈالیں ، اس لئے ایک روز انہوں نے اللہ تعالیٰ سے نہایت عجزوزاری کے ساتھ دعا کی اے میرے رب ! میرے قویٰ کمزور ہوگئے ہیں ۔ میری ہڈیاں کھوکھلی ہوچکی ہیں ، میرے سر کے بالوں کی سیاہی سفیدی کے ساتھ بدل گئی ہے ۔ مجھے اندورنی اور بیرونی ضعف نے گھیر لیا ہے ۔ میں تیرے دروازے سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا ۔ جب بھی تجھ سے کچھ مانگا تونے اپنے کرم سے عطا فرمادیا ۔
میں اپنی موت کے بعد اپنے رشتہ داروں اور وارثوں سے ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ میرے بعد دین کی حفاظت میں سستی نہ کریں یا دنیوی اغراض کے لئے اس میں تحریف کردیں ، جیسا کہ بنی اسرائیل کرتے رہے ہیں ۔ اے میرے پروردگار ! میں تیرے دین کی حفاظت اور خدمت کی غرض سے یہ دعا کررہا ہوں ۔ میری بیوی تو شروع ہی سے بانجھ ہے ۔ ظاہری اسباب میں اولاد کا کوئی امکان نہیں ۔ اس لئے اے میرے رب ! تو مجھے خاص اپنی طرف بلا اسباب عادیہ ایک ایسا فرزند عطا کر جو میرے بعد میری نبوت کا وارث اور دین کا نگہبان ہو اور اولادیعقوب کا بھی وارث ہو اور اے اللہ ! تو اسے اپنا مقبول اور پسندیدہ بنالے ۔ (ابن کثیر 110، 111/3، حقانی 240، 241/3)
رد عیسائت
فائدہ :۔۔۔ اصل مقصود تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت یا سعادت کا ذکر فرمانا ہے لیکن اس سے پہلے تمہیداً حضرت یحیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا ذکر ہے کیونکہ دونوں کی ولادت خلاف معمول ہوئی ہے یہ سمجھایا جائے گا کہ خلاف معمول پیدا ہونے سے انسان خدا نہیں بن جاتا، دیکھئے حضرت یحیٰ (علیہ السلام) کو کوئی خدا نہیں مانتا تو پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کس طرح خدا یا خدا کے بیٹے بن گئے ؟ حالانکہ وہ خود خدا تعالیٰ کا بندہ ہونے کا اقرار کرچکے ہیں اس آیت سے اللہ تعالیٰ کے بندہ حضرت زکریا (علیہ السلام) پر جو رحمت ہوئی ہے اس کا ذکر شروع ہوتا ہے۔
(تاریخ مسجد اقصی)
حضرت زکریا (علیہ السلام) کے ہم زلف تھے عمران ابن ماثان (رح) یہ اپنے دور کے ولی تھے اور مسجد اقصٰی کے امام تھے ، مسجد اقصی کی بنیاد حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے رکھی تھی اور اس میں توسیع حضرت داؤد (علیہ السلام) نے کی تھی ، پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کی تعمیر شاہی ٹھاٹھ باٹھ کے ساتھ کرائی ، مسجد اقصٰی بیت المقدس شہر میں واقع ہے ۔ یہ شہر ” صیھون “ ۔ بروزن برزون پہاڑ پر واقع ہے جو سطح سمندر سے پانچ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے جیسے ہمارے ہاں مری ہے ، ١٩٦٧ ء کی لڑائی میں یہود نے اس علاقہ پر قبضہ کرلیا تھا اور آج تک وہ اس پر قابض ہیں جب چاہیں مسجد اقصی میں نماز پڑھنے دیتے ہیں اور جب چاہیں نہیں پڑھنے دیتے ، حضرت زکریا (علیہ السلام) کی بیوی کا نام عشاعہ بنت فاقوذ تھا اور عمران بن ماثان کی بیوی کا ناحنہ بنت فاقوذ رحمۃ اللہ علیہما “۔ تھا ۔ یہ دونوں بہنیں تھیں حضرت عمران بن ماثان (رح) کا ایک لڑکا تھا جس کا نام ہارون تھا ، اسی سورت میں آگے اس کا نام اور ذکر آئے گا ، یہ بھی بڑا نیک اور پارسا لڑکا تھا اور جوانی میں فوت ہوگیا ’ حنۃ بنت فاقوذ بڑی پریشان تھیں کہ میرا خاوند بہت بوڑھا اور کمزور ہے اس کی گدی (سیٹ) کو کون سنبھالے گا ؟ دعا کی اے پروردگار ! مجھے کوئی اولاد عطا فرما میں اسے تیری رضا کیلئے وقف کر دونگی ، تیسرے پارے میں اس کا ذکر ہے خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ لڑکا عطا فرمائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے لڑکی عطا کی جس کا نام مریم رکھا (علیہا السلام) ، ” امام بخاری (رح) فرماتے ہیں کہ مریم کا معنی ہے عبادہ ، یہ مریم عبرانی زبان کا لفظ ہے والدین بچپن میں ہی فوت ہوگئے تربیت کے سلسلہ میں اختلاف ہوا ہر ایک کا خیال تھا کہ میں تربیت کروں ، تیسرے پارے میں اس کا ذکر ہے ، قرعہ اندازی ہوئی قرعہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کے نام نکلا، (مریم علیہا السلام) ان کی تحویل میں دیدی گئیں ، آگے تفصیل آرہی ہے کہ جب وہ جوان ہوئیں اور غسل سے فارغ ہو کر کپڑے پہنے تو ایک صحت مند نوجوان ان کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا ، یہ گھبرا گئیں کہ اس کا ارادہ اچھا نہیں ہے ۔ اس نے کہا بی بی ! گھبرائیں نہیں میں تیرے رب کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں آپ کو لڑکے کی خوشخبری دینے کیلئے آیا ہوں ، فرمانے لگیں ، میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا (آیت)” لم یمسسنی بشر ولم اک بغیا “۔ ” نہیں چھوا مجھے کسی بشر نے نکاح کے ساتھ اور نہ ہی میں بدکار ہوں “۔ کہا اسی طرح اللہ تعالیٰ تجھے بچہ دے گا چونکہ اس سورة میں تفصیلا حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر آ رہا ہے اس لئے اس سورت کا نام مریم ہے یعنی وہ سورت میں مریم (علیہا السلام) کا ذکر ہے ۔
 
شمولیت
اپریل 13، 2019
پیغامات
58
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
30
سورہ مریم

آیت نمبر 3
اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَاۗءً خَفِيًّا
جب زکریا نے اپنے پروردگار کو چپکے چپکے پکارا ۔
مصباح القرآن
اِذْ (جب ) نَادٰى (اس نے پکارا ) رَبَّ هٗ (" جو " اس کا رب ہے ) نِدَاۗءً خَفِيًّا (آہستہ آواز سے )
] نَا دٰى: ندا ، منادی ، ندائے ملت ][ خَفِيًّا : خفیہ ، مخفی ، اخفا ]
تفسیر
1۔جو حضرت سلیمان بن دائود (علیہما السلام) کی نسل سے ایک عالی شان پیغمبر تھے اور بیت المقدس کے خادموں اور مجاوروں کے سردار اور مقرب بارگاہ الٰہی تھے ۔ پس اے محبوب ! آپ ان کا قصہ پڑھو اور یاد کرو۔۔۔
(جب کہ پکارا تھا اپنے رب کو دھیمی آواز سے ) ۔
اس لیے کہ یہ پکارنا اخلاص سے زیادہ قریب ہے۔۔ یا یہ کہ ۔۔ آپ دعا تو بآواز بلند ہی کرتے تھے ‘ مگر قوم سے پوشیدہ رہ کر ‘ تاکہ آپ کی آواز کوئی سن نہ سکے۔ اس واسطے کہ آپ اس بات سے شرم کرتے تھے ‘ کہ خود ننانوے برس کے بوڑھے اور بی بی صاحبہ بانجھ بوڑھی ‘ اس حال میں لوگوں کے سامنے فرزند پیدا ہونے کی دعا کروں۔۔ یا یہ کہ ۔۔ بڑھاپے کی وجہ سے ان کی آواز ایسی ضعیف ہوگئی تھی کہ ہر چند بآ واز بلند دعا مانگتے مگر کوئی بھی نہ سنتا۔
آداب دعا
قول باری ہے (اذ نادی ربہ نداء خفیاً ۔ جب کہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) اللہ تعالیٰ نے چپکے چپکے دعا کرنے پر حضرت زکریا (علیہ السلام) کی تعریف فرمائی۔ اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ چپکے چپکے دعا مانگنا بلند آواز سے دعا مانگنے سے افضل ہے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (ادعوا ربکم تضرعاً وخفیۃ اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے پکارو) حضرت سعد بن ابی وقاص نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ صخیر الذکر الخفی وخیر الرزق مایکفی بہترین ذکر، ذکر خفی ہے اور بہترین رزق وہ ہے جو ضروریات کے لئے کافی ہو)
 
شمولیت
اپریل 13، 2019
پیغامات
58
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
30
آسان قرآن سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 1تا 17
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَتٰۤى اَمۡرُ اللّٰهِ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡهُ‌ ؕ سُبۡحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ ۞ ترجمہ: اللہ کا حکم آن پہنچا ہے، لہذا اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ (1)۔ جو شرک یہ لوگ کر رہے ہیں، وہ اس سے پاک اور بہت بالا و برتر ہے۔ تفسیر: 1: عربی زبان کے اعتبار سے یہ انتہائی زور دار فقرہ ہے جس میں آئندہ ہونے والے کسی یقینی واقعے کو ماضی کے صیغے سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس کے زور دار اور تاثیر کو کسی اور زبان میں ادا کرنا بہت مشکل ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کفار سے یہ فرماتے تھے کہ کفر کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی صورت میں ظاہر ہوگا اور مسلمان غالب آئیں گے تو وہ مذاق اڑانے کے انداز میں کہا کرتے تھے کہ اگر عذاب آنا ہے تو اللہ تعالیٰ سے کہئے کہ اسے ابھی بھیج دے اس کا مقصد در حقیقت یہ تھا کہ عذاب کی یہ دھمکی اور مسلمانوں کی فتح کا وعدہ (معاذ اللہ) محض بناوٹی بات ہے، اس کی حقیقت کچھ نہیں۔ اس سورت کا آغاز ان کے اس طرز عمل کے مقابلے میں یہ فرما کر کیا گیا ہے کہ کافروں پر آنے والے جس عذاب اور مسلمانوں کے غلبے کی جس خبر کو تم ناممکن سمجھ رہے ہو وہ اللہ تعالیٰ کا اٹل فیصلہ ہے۔ اور اتنا یقینی ہے کہ گویا آن ہی پہنچا ہے، لہذا اس کے آنے کی جلدی مچا کر اس کا مذاق نہ اڑاؤ، کیونکہ وہ تہارے سر پر کھڑا ہے۔ پھر اگلے فقرے میں اس عذاب کے یقینی ہونے کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ نہ صرف اس سے پاک بلکہ اس سے بہت بالا و برتر ہے لہذا اس کے ساتھ شرک کرنا اس کی توہین ہے، اور خالق کائنات کی توہین کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ توہین کرنے والے پر عذاب نازل ہو (تفسیر المہائمی 402:1) يُنَزِّلُ الۡمَلٰۤئِكَةَ بِالرُّوۡحِ مِنۡ اَمۡرِهٖ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖۤ اَنۡ اَنۡذِرُوۡۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوۡنِ‏ ۞ ترجمہ: وہ اپنے حکم سے فرشتوں کو اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اس زندگی بخشنے والی وحی کے ساتھ اتارتا ہے کہ : لوگوں کو آگاہ کردو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، لہذا تم مجھی سے ڈرو، (کسی اور سے نہیں)۔ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ بِالۡحَـقِّ‌ؕ تَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ‏ ۞ ترجمہ: اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق مقصد سے پیدا کیا ہے۔ جو شرک یہ لوگ کرتے ہیں، وہ اس سے بہت بالا و برتر ہے۔ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّـطۡفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيۡمٌ مُّبِيۡنٌ ۞ ترجمہ: اس نے انسان کو نطفے سے پیدا کیا، پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ کھلم کھلا جھگڑے پر آمادہ ہوگیا۔ (2) تفسیر: 2: یعنی انسان کی حقیقت تو اتنی ہے کہ وہ ایک ناپاک بوند سے پیدا ہوا ہے، لیکن جب اسے ذرا قوت گویائی ملی تو جس ذات نے اسے اس ناپاک بوند سے ایک مکمل انسان بنایا تھا اور اسے اشرف المخلوقات کا رتبہ بخشا تھا اسی ذات کے ساتھ شریک ٹھہرا کر اس سے جھگڑنا شروع کردیا۔ وَالۡاَنۡعَامَ خَلَقَهَا‌ ۚ لَـكُمۡ فِيۡهَا دِفۡ ٴٌ وَّمَنَافِعُ وَمِنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ ۞ ترجمہ: اور چوپائے اسی نے پیدا کیے جن میں تمہارے لیے سردی سے بچاؤ کا سامان ہے، (3) اور اس کے علاوہ بہت سے فائدے ہیں، اور انہی میں سے تم کھاتے بھی ہو۔ تفسیر: 3: یعنی ان کی کھالوں سے ایسے لباس بنائے جاتے ہیں جو انسان کو سردی سے محفوظ رکھ سکیں۔ وَلَكُمۡ فِيۡهَا جَمَالٌ حِيۡنَ تُرِيۡحُوۡنَ وَحِيۡنَ تَسۡرَحُوۡنَ ۞ ترجمہ: اور جب تم انہیں شام کے وقت گھر واپس لاتے ہو، اور جب انہیں صبح کو چرانے لے جاتے ہو تو ان میں تمہارے لیے ایک خوشنما منظر بھی ہے۔ وَتَحۡمِلُ اَثۡقَالَـكُمۡ اِلٰى بَلَدٍ لَّمۡ تَكُوۡنُوۡا بٰلِغِيۡهِ اِلَّا بِشِقِّ الۡاَنۡفُسِ‌ؕ اِنَّ رَبَّكُمۡ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌۙ‏ ۞ ترجمہ: اور یہ تمہارے بوجھ لاد کر ایسے شہر تک لے جاتے ہیں جہاں تم جان جوکھوں میں ڈالے بغیر نہیں پہنچ سکتے تھے۔ حقیقت یہ ہے تمہارا پروردگار بہت شفیق، بڑا مہربان ہے۔ وَّالۡخَـيۡلَ وَالۡبِغَالَ وَالۡحَمِيۡرَ لِتَرۡكَبُوۡهَا وَزِيۡنَةً‌ ؕ وَيَخۡلُقُ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ‏ ۞ ترجمہ: اور گھوڑے، خچر اور گدھے اسی نے پیدا کیے ہیں تاکہ تم ان پر سواری کرو، اور وہ زینت کا سامان بنیں۔ اور وہ بہت سی ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم بھی نہیں ہے۔ (4) تفسیر: 4: یعنی اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی بہت سی سواریاں وہ ہیں جن کا ابھی تمہیں پتہ نہیں ہے، اس آیت کریمہ نے یہ خبر دی ہے کہ اگرچہ فی الحال تم صرف گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کو سواری کے لئے استعمال کرتے ہو ؛ لیکن اللہ تعالیٰ آئندہ نئی نئی سواریاں پیدا کرے گا، اور اس طرح اس آیت میں ان ساری سواریوں کا ذکر آگیا ہے جو نزول قرآن کے بعد پیدا ہوئیں، مثلاً کاریں بسیں ریلیں ہوائی جہاز اور بحری جہاز وغیرہ، بلکہ قیامت تک جتنی سواریاں مزید پیدا ہوں وہ سب اس آیت کے مفہوم میں داخل ہیں، عربی زبان کے قاعدے کے مطابق اس جملے کا یہ ترجمہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ایسی چیزیں پیدا کرے گا جن کا تمہیں ابھی علم نہیں ہے۔ وَعَلَى اللّٰهِ قَصۡدُ السَّبِيۡلِ وَمِنۡهَا جَآئِرٌ‌ؕ وَلَوۡ شَآءَ لَهَدٰٮكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ  ۞ ترجمہ: اور سیدھا راستہ دکھانے کی ذمہ داری اللہ نے لی ہے، اور بہت سے راستے ٹیڑھے ہیں اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو سیدھے راستے پر پہنچا بھی دیتا۔ (5) ؏ تفسیر: 5: مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا کے راستے طے کرنے کے لئے سواریاں پیدا کی ہیں اسی طرح آخرت کا روحانی سفر طے کرنے کے لئے سیدھا راستہ دکھانے کی ذمہ داری بھی لی ہے، کیونکہ لوگوں نے اس کام کے لئے بہت سے ٹیڑھے راستے بنارکھے ہیں، ان سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ لوگوں کو سیدھا راستہ اپنے پیغمبروں اور اپنی کتابوں کے ذریعے دکھاتا ہے، البتہ وہ کسی کو زبردستی اٹھا کر اس راستے پر نہیں لے جاتا، اگرچہ وہ چاہتا تو یہ بھی کرسکتا تھا ؛ لیکن اس دنیا میں انسان سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دکھائے ہوئے راستے پر اپنے اختیار سے چلے زبردستی نہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کے ذریعے راستہ دکھانے پر اکتفا فرماتا ہے۔ هُوَ الَّذِىۡۤ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً‌ لَّـكُمۡ مِّنۡهُ شَرَابٌ وَّمِنۡهُ شَجَرٌ فِيۡهِ تُسِيۡمُوۡنَ ۞ ترجمہ: وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا جس سے تمہیں پینے کی چیزیں حاصل ہوتی ہیں، اور اسی سے وہ درخت اگتے ہیں جن سے تم مویشیوں کو چراتے ہو۔ يُنۡۢبِتُ لَـكُمۡ بِهِ الزَّرۡعَ وَالزَّيۡتُوۡنَ وَالنَّخِيۡلَ وَالۡاَعۡنَابَ وَمِنۡ كُلِّ الثَّمَرٰتِ‌ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً لِّـقَوۡمٍ يَّتَفَكَّرُوۡنَ ۞ ترجمہ: اسی سے اللہ تمہارے لیے کھیتیاں، زیتون، کھجور کے درخت، انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے۔ (6) حقیقت یہ ہے کہ ان سب باتوں میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے جو سوچتے سمجھتے ہوں۔ تفسیر: 6: کھیتیوں سے اس پیداوار کی طرف اشارہ ہے جو انسان غذا کے طور پر استعمال کرتا ہے، جیسے گندم، سبزیاں وغیرہ اور زیتون ان اشیاء کا ایک نمونہ ہے جو کھانا پکانے اور کھانے کے لیے چکنائی کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ اور کھجور، انگور اور باقی پھلوں سے اس پیداوار کی طرف اشارہ ہے جو مزید لذت حاصل کرنے کے کام آتی ہیں۔ وَسَخَّرَ لَـكُمُ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَۙ وَالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ‌ؕ وَالنُّجُوۡمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمۡرِهٖؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لِّـقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَۙ ۞ ترجمہ: اور اس نے دن اور رات کو اور سورج اور چاند کو تمہاری خدمت پر لگا رکھا ہے، اور ستارے بھی اس کے حکم سے کام پر لگے ہوئے ہیں۔ یقینا ان باتوں میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیں۔ وَمَا ذَرَاَ لَـكُمۡ فِى الۡاَرۡضِ مُخۡتَلِفًا اَلۡوَانُهٗ‌ ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً لّـِقَوۡمٍ يَّذَّكَّرُوۡنَ‏ ۞ ترجمہ: اسی طرح وہ ساری رنگ برنگ کی چیزیں جو اس نے تمہاری خاطر زمین میں پھیلا رکھی ہیں، وہ بھی اس کے حکم سے کام پر لگی ہوئی ہیں۔ بیشک ان سب میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو سبق حاصل کریں۔ وَهُوَ الَّذِىۡ سَخَّرَ الۡبَحۡرَ لِتَاۡكُلُوۡا مِنۡهُ لَحۡمًا طَرِيًّا وَّتَسۡتَخۡرِجُوۡا مِنۡهُ حِلۡيَةً تَلۡبَسُوۡنَهَا‌ۚ وَتَرَى الۡـفُلۡكَ مَوَاخِرَ فِيۡهِ وَلِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِهٖ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ‏ ۞ ترجمہ: اور وہی ہے جس نے سمندر کو کام پر لگایا، تاکہ تم اس سے تازہ گوشت کھاؤ (7) اور اس سے وہ زیورات نکالو جو تم پہنتے ہو۔ (8) اور تم دیکھتے ہو کہ اس میں کشتیاں پانی کو چیرتی ہوئی چلتی ہیں، تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو، اور تاکہ شکر گزار بنو۔ (9) تفسیر: 7: مچھلی کا گوشت مراد ہے 8: سمندر سے موتی نکلتے ہیں جو زیورات میں کام آتے ہیں 9: یعنی سمندر میں تجارت کا سفر کر کے اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بنو۔ قرآن کریم نے ”اللہ کا فضل تلاش کرنے“ کی اصطلاح بہت سی آیتوں میں تجارت کے لیے استعمال فرمائی ہے۔ دیکھئے سورة بقرہ 198 سورة بنی اسرائیل 66، سورة قصص 73 سورة روم 46 سورة فاطر 12 سورة جاثیہ 12 سورة جمعہ 10 اور سورة مزمل 20۔ تجارت کو اللہ تعالیٰ کا فضل کہنے سے ایک طرف تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر تجارت شرعی احکام کی پابند ہو تو وہ ایک پسندیدہ چیز ہے۔ اور دوسری طرف اس اصطلاح سے تاجروں کو یہ تنبیہ بھی کی جارہی ہے کہ تجارت میں جو نفع حاصل ہوتا ہے، وہ در حقیقت اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، کیونکہ انسان کوشش ضرور کرتا ہے، لیکن اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو تو کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی لہذا اگر تجارت کے ذریعے مال و دولت حاصل ہوجائے تو انسان کو مغرور ہونے کے بجائے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ وَاَلۡقٰى فِى الۡاَرۡضِ رَوَاسِىَ اَنۡ تَمِيۡدَ بِكُمۡ وَاَنۡهٰرًا وَّسُبُلًا لَّعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَۙ ۞ ترجمہ: اور اس نے زمین میں پہاڑوں کے لنگڑ ڈال دیے ہیں تاکہ وہ تم کو لے کر ڈگمگائے نہیں، (10) اور دریا اور راستے بنائے ہیں تاکہ تم منزل مقصود تک پہنچ سکو۔ تفسیر: 10: جب زمین کو شروع میں سمندر پر بچھایا گیا تو وہ ڈگمگاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذریعے اس کو جما دیا ہے۔ جدید سائنس کے مطابق اب بھی بڑے بڑے براعظم سمندر کے پانی پر تھوڑے تھوڑے سرکتے رہتے ہیں۔ لیکن یہ سرکنا اتنا معمولی ہوتا ہے کہ انسان کو احساس نہیں ہوتا۔ وَعَلٰمٰتٍ‌ؕ وَبِالنَّجۡمِ هُمۡ يَهۡتَدُوۡنَ ۞ ترجمہ: اور (راستوں کی پہچان کے لیے) بہت سی علامتیں بنائی ہیں۔ اور ستاروں سے بھی لوگ راستہ معلوم کرتے ہیں. اَفَمَنۡ يَّخۡلُقُ كَمَنۡ لَّا يَخۡلُقُ‌ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوۡنَ ۞ ترجمہ: اب بتاؤ کہ جو کچھ پیدا نہیں کرتے ؟ کیا پھر بھی تم کوئی سبق نہیں لیتے ؟
 
Top