- شمولیت
- مارچ 03، 2011
- پیغامات
- 4,178
- ری ایکشن اسکور
- 15,351
- پوائنٹ
- 800
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
محترم اخوان! جب بھی آپ کوئی عبارت کہیں بغیر ریفرنس کے لکھی پائیں تو اس پر کبھی اعتبار نہ کریں۔ کیونکہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جگہ جگہ تحقیق کرنے کا حکم دیا ہے:
فرمان باری ہے:
﴿ يأيها الذين آمنوا إذا ضربتم في سبيل الله فتبينوا ولا تقولوا لمن ألقى إليكم السلام لست مؤمنا ﴾ ... سورة النساء
’’اے ایمان والو! جب اللہ کی راہ میں نکلو تو خوب تحقیق کر لیا کرو، اور جو شخص تم پر سلام کہے تو اسے (کافر سمجھ کر) یہ نہ کہو کہ تو مؤمن نہیں۔‘‘
نیز فرمایا: ﴿ يأيها الذين آمنوا إن جاءكم فاسق بنبإ فتبينوا أن تصيبوا قوما بجهالة فتصبحوا على ما فعلتم نادمين ﴾ ... سورة الحجرات
اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق شخص خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ کرو کہ تم کسی تم جہالت میں کسی قوم پر حملہ کر بیٹھو پھر تم بعد میں اپنے کیے پر نادم ہو جاؤ۔‘‘
یہ لوگ جہاں کوئی اطمینان بخش یا خوفناک خبر سن پاتے ہیں اُسے لے کر پھیلا دیتے ہیں، حالانکہ اگر یہ اُسے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آ جائے جو اِن کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرسکیں۔
نیز فرمان نبوی علیہ افضل الصلوات وازکی التسلیم ہے: « كفى بالمرء كذبا أن يحدث بكل ما سمع » ... صحيح مسلم5
کہ کسی انسان کے جھوٹا اور ایک روایت کے مطابق گناہگار ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات (بغیر تحقیق کے) آگے بیان کر دے۔‘‘
تو خلاصہ یہ ہے کہ ایسی کسی بات کو تسلیم نہیں کرنا چاہئے جب تک کوئی شخص اپنی بات کو قرآن کریم یا صحیح حدیث مبارکہ کے ریفرنس سے ثابت نہ کرے۔
یہ بات تو سب کو علم ہے کہ ضعیف روایات بھی ہوتی ہیں اور موضوع بھی۔ میری رائے میں کسی بھی بات کو وحی یا شریعت سمجھ کر قبول نہیں کرنا چاہئے خواہ اس کے سامنے (قرآن) یا (حدیث) ہی کیوں نہ لکھا ہو، جب تک اصل سورس کا حوالہ نہ دیا جائے اور اگر وہ بات قرآن یا صحیحین کے علاوہ ہے تو جب تک محدثین سے اس کی صحت اور ضعف کا نقل نہ کیا جائے۔
واللہ اعلم!
محترم اخوان! جب بھی آپ کوئی عبارت کہیں بغیر ریفرنس کے لکھی پائیں تو اس پر کبھی اعتبار نہ کریں۔ کیونکہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جگہ جگہ تحقیق کرنے کا حکم دیا ہے:
فرمان باری ہے:
﴿ يأيها الذين آمنوا إذا ضربتم في سبيل الله فتبينوا ولا تقولوا لمن ألقى إليكم السلام لست مؤمنا ﴾ ... سورة النساء
’’اے ایمان والو! جب اللہ کی راہ میں نکلو تو خوب تحقیق کر لیا کرو، اور جو شخص تم پر سلام کہے تو اسے (کافر سمجھ کر) یہ نہ کہو کہ تو مؤمن نہیں۔‘‘
نیز فرمایا: ﴿ يأيها الذين آمنوا إن جاءكم فاسق بنبإ فتبينوا أن تصيبوا قوما بجهالة فتصبحوا على ما فعلتم نادمين ﴾ ... سورة الحجرات
اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق شخص خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ کرو کہ تم کسی تم جہالت میں کسی قوم پر حملہ کر بیٹھو پھر تم بعد میں اپنے کیے پر نادم ہو جاؤ۔‘‘
ہمیں دین اسلام میں کوئی بات بغیر تحقیق (اور حوالے) کے خواہ وہ قرآن یا حدیث کا نام لے کر کہی گئی ہو، اسے ماننے اور اسے آگے پھیلانے سے منع کیا گیا ہے۔ بلکہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہمیں اگر کئی خبر ملے تو ہم اسے علماء کے سامنے پیش کر کے اس کا حکم معلوم کریں۔
فرمان باری ہے: ﴿ وإذا جاءهم أمر من الأمن أو الخوف أذاعوا به ولو ردوه إلى الرسول وإلى أولي الأمر منهم لعلمه الذين يستنبطونه منهم ﴾ ... سورة النساء یہ لوگ جہاں کوئی اطمینان بخش یا خوفناک خبر سن پاتے ہیں اُسے لے کر پھیلا دیتے ہیں، حالانکہ اگر یہ اُسے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آ جائے جو اِن کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرسکیں۔
نیز فرمان نبوی علیہ افضل الصلوات وازکی التسلیم ہے: « كفى بالمرء كذبا أن يحدث بكل ما سمع » ... صحيح مسلم5
کہ کسی انسان کے جھوٹا اور ایک روایت کے مطابق گناہگار ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات (بغیر تحقیق کے) آگے بیان کر دے۔‘‘
تو خلاصہ یہ ہے کہ ایسی کسی بات کو تسلیم نہیں کرنا چاہئے جب تک کوئی شخص اپنی بات کو قرآن کریم یا صحیح حدیث مبارکہ کے ریفرنس سے ثابت نہ کرے۔
یہ بات تو سب کو علم ہے کہ ضعیف روایات بھی ہوتی ہیں اور موضوع بھی۔ میری رائے میں کسی بھی بات کو وحی یا شریعت سمجھ کر قبول نہیں کرنا چاہئے خواہ اس کے سامنے (قرآن) یا (حدیث) ہی کیوں نہ لکھا ہو، جب تک اصل سورس کا حوالہ نہ دیا جائے اور اگر وہ بات قرآن یا صحیحین کے علاوہ ہے تو جب تک محدثین سے اس کی صحت اور ضعف کا نقل نہ کیا جائے۔
واللہ اعلم!