• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سوانح و مقالات علامہ ابو البرکات احمد رحمہ اللہ

عبد الرشید

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
5,539
ری ایکشن اسکور
9,997
پوائنٹ
667
نام کتاب
سوانح و مقالات علامہ ابو البرکات احمد رحمہ اللہ
نام مصنف
قاری اویس ادریس العاصم
نام ناشر
العاصم اسلامک بکس لاہور

Title Page --- Sawanih-W-Maqalat-Allama-Al-Barkat-Ahmad.jpg
تبصرہ
شیخ الحدیث و التفسیر مولانا ابو البرکات احمد(1926ء۔1991ء)مدراس کے شہر چمناڈ کے نواحی قصبہ ’کاسرگود‘ میں پیدا ہوئے۔آپ نے ناظرہ قرآن اپنی والدہ محترمہ سے پڑھا ، پھر کرشمناڈ کے ایک عالم دین مولانا محمد عباس سے صرف و نحو کی کتابیں پڑھیں۔بعد ازاں آپ علامہ محمد الکاتنگاڈی کے درس میں داخل ہوئے اور وہاں دیگر علوم کی کتب پڑھیں۔اس کے بعد آپ مدرسۃ العالیہ اے کالج مدراس میں داخل ہوئے ۔یہاں آپ نے تمام فنون یعنی معانی ،بیان، بدیع، منطق، فلسفہ، ریاضی کی تکمیل اور کچھ انگریزی کتب کا بھی مطالعہ کیا ۔احادیث کے علاوہ عربی زبان میں تقریر و تحریر کی مشق کی۔المدرسہ عالیہ کے آخری سال میں آپ باقاعدہ عربی میں تقریر کرتے تھے اور مضامین بھی لکھتے تھے ۔آپ عربی زبان میں مادری زبان کی طرح عبور حاصل کرنا چاہتے تھے جس کے لیے آپ نے جامعہ الازہر جانے کا پروگرام بنایا لیکن مصری سفارتخانے سے مصر جانے کی اجازت نہ مل سکی ۔پھر آپ نے متحدہ ہندوستان کا مطالعاتی سفر کا آغاز کیا اسی دوران پاکستان معرض وجود میں آیا۔قیام پاکستان کے بعد لاہور ، اوڈانوالہ ، گوجرانوالہ میں تعلیم حاصل کی ۔1951ءمیں اپنے استاد حضرت العلام حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ کے حکم پر جامعہ اسلامیہ ۔گوجرانوالہ میں تدریس کا آغاز کیا جو آپ کی وفات 1991ء پر اختتام پذیر ہوا۔پاکستان کے کبار علمائے اہل حدیث کی ایک کثیر تعداد کو آپ سے شرف تلمذ حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں بلند مقام دے اور ان کی مرقد پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے ۔آمین قاری اویس ادریس عاصم صاحب کی زیر نظر کتاب علامہ ابو البرکات احمد کے سوانح حیات و مقالات پر مشتمل ہے ۔ (م۔ا)
 
Top