زیورخ یاسر پیر زادہ (روزنامہ دنیا)
یوں لگا جیسے کسی مندر میں سینکڑوں گھنٹیاں ایک ساتھ بج اٹھی ہوں ‘پاس ہی ایک جھرنا بہہ رہا تھا جس کا شور گھنٹیوں کے شور میں دب گیا تھا ‘ پیچھے پہاڑیوں کا ایک سلسلہ تھا جن کی چوٹیاں کہیں کہیں برف سے ڈھکی ہوئیں تھیں ‘سورج کی کرنیں ان چوٹیوں پر پڑتیں تو پہاڑ سونے کے معلوم ہوتے ‘پہاڑیوں کے بیچوں بیچ سڑک تھی جو بل کھاتی ہوئی ایک پہاڑی سے دوسری پہاڑی کی طرف جا رہی تھی ایسے جیسے کسی دیوقامت اژدھے نے پہاڑوں کے گرد شکنجہ کسا ہو‘ پہاڑیوں کے درمیان جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے گھر اور ہوٹل تھے ‘سڑک ہر گھر تک جا رہی تھی ‘بجلی ‘ٹیلی فون اور پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت اس آخری گھر کے پاس بھی موجود تھی جو پہاڑ پر ایک نقطے کی طرح دکھائی دے رہا تھا۔تمام گھر وں کاڈیزائن ایک جیسا تھا ‘ دور سے ان گھروں کو دیکھیں تو یوں لگتا ہے جیسے کسی بچے نے اپنے کھیلنے کے لئے چھوٹے چھوٹے hutبنائے ہوں ۔ہم بادلوںکے درمیان کھڑے تھے ‘مبہوت اور دم بخود ‘ایک سحر تھا جو ہم پر طاری تھا‘کیا دنیا میں کوئی جگہ اس سے زیادہ حسین ہو سکتی ہے ‘میں نے اپنے آپ سے سوال کیا ؟ نہیں یہ دنیا کا کوئی حصہ نہیں ہو سکتا ‘یہ تو جنت کا کوئی ٹکڑا ہے ‘خدا کی بنائی ہوئی جنت جسے انسان نے اپنے ہاتھوں سے تراشا ہے ۔خدا کا ایک نام ’’المصّور‘‘ بھی تو ہے ‘ اس کی مصوری کا ادنیٰ سا نمونہ ہماری آنکھوں کے سامنے تھا۔میلان سے زیورخ تک کا یہ سفر بادلوں کے درمیان ایسا سفر ہے جس میں واحد خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس سفر کی منزل نہ آئے۔
گھنٹیاں مسلسل بج رہی تھیں ‘نیچے وادی میں نگا ہ ڈالی تو سبب معلوم ہوا ‘ سوئٹزر لینڈ کی گائیں گھاس چر رہی تھیں، ہر گائے کے گلے میں گھنٹی تھی اور تمام گھنٹیاں مسلسل گنگنا رہی تھیں ‘دور تا حد نگاہ سبزہ ہی سبزہ تھا‘مگر وہ تمام گائیں ایک مخصوص جگہ سے آگے نہیں جا رہیں تھیں ‘وجہ دریافت کی تو پتہ چلا کہ ان کے گرد تاروں سے ایک حصار قائم ہے جس میں ہلکا سا کرنٹ ہے ‘گائیں یہ بات جانتی ہیں ‘بالکل بھی بھولی نہیںاس لئے تاروں کے پاس بھی نہیں پھٹکتیں ۔اٹلی سے سڑک کے راستے سوئٹزر لینڈ میں داخل ہوتے وقت پتہ ہی نہیں چلتا کب آپ اٹلی کی سرحد عبور کر کے سوئٹزر لینڈ میں داخل ہو گئے ‘بارڈر پر ٹول پلازہ کی طرز کی ایک عمارت ہے جہاں سے گاڑی گذرتی ہے جسے کوئی چیک بھی نہیں کرتا، مگر جونہی سوئٹزر لینڈ کی حدود شروع ہوتی ہیں گردو نواح میں ایک واضح فرق نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔ سوئس حکومت نے ہائی وے کے کناروں کے ساتھ ساتھ شیڈ تعمیر کئے ہیں تاکہ گاڑیوں کا شور آبادی کو ڈسٹرب نہ کرے، پہاڑوں کے آخری کونوں تک گھاس یوں کٹی ہے جیسے کسی نے ابھی ابھی مشین چلائی ہو ‘یہ ذمہ داری اس علاقے میں رہنے والے مکینوں کی ہے کہ وہ اپنے اپنے حصے کی گھاس برابر رکھیں ‘ گراس روٹ لیول تک اختیار شاید اسی کو کہتے ہیں۔راستے میں پہاڑوں کو تراش کر سرنگیں بنائی گئی ہیں جن میں سے بعض سرنگیں کئی کئی کلو میٹر لمبی ہیں ‘ مگر ان میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ہنگامی حالت کے لئے SOS فون اور باہر نکلنے کے لئے راستے بنائے گئے ہیں ‘ اگر کبھی کسی گاڑی کی خرابی کی وجہ سے سرنگ میں ٹریفک پھنس جائے تو نکلنے میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں ‘ٹرین بھی انہی سرنگوں کے راستے ہوتی ہوئی سوئٹزر لینڈ میں داخل ہوتی ہے ۔ یار طرحدار رانا لئیق نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ اگر آپ نے میلان سے زیورخ تک کا سفر نہیں کیا تو سمجھئے کہ آپ ابھی تک پیدا ہی نہیں ہوئے ‘ حالانکہ ہم آج تک سمجھتے رہے کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا نہیں ہوا‘ہائے خبط عظمت!
زیورخ شہر ایک پیالے کی مانند ہے ‘اگر آپ کسی بلند جگہ سے شہر کا نظارہ کریں تو یوں لگے گا جیسے قدرت نے خاص طور سے پہاڑوں کے درمیان اس شہر کو بنایا ہے ۔فقط تین لاکھ اسّی ہزار آبادی کے اس شہر کا شمار دنیا کے امیر اور اہم ترین شہروں میں ہوتا ہے اور اس کی دو بڑی وجوہات ہیں ۔پہلی ‘اس شہر میں دنیا بھر کے بینکنگ اور انشورنس کمپنیوں کے صدر دفاتر ہیں ‘دنیا کے تمام بینکوں کے پاس جتنا سرمایہ ہے اتنا اکیلے زیورخ کے بینکوں میں جمع ہے ‘ان میں سے کئی بینکوں کے پاس ایسے ایسے بنک اکائونٹ ہیں جن میں اربوں روپے رکھے ہیں مگر اکائونٹ ہولڈر فوت ہو چکا ہے اور ان پیسوں کا دعویدار کوئی نہیں کیونکہ ان میں سے بیشتر کے ورثا یا تو اس غیر قانونی پیسے کو حاصل نہیں کر سکتے یا انہیں اس کا علم ہی نہیں ‘اکثر بینک اپنے کھاتہ داروں کی شناخت چھپانے کے لئے نام کی بجائے نمبرز کا استعمال کرتے ہیں ۔گو کہ منی لانڈرنگ کے حوالے سے حالیہ عالمی قانون سازی کی وجہ سے سوئس بنکوں کی وہ بات نہیں رہی مگر اب بھی عالمی بینکنگ کا مرکز زیورخ ہے ۔دنیا کی تمام بیمہ کمپنیاں ایک اپنے صارفین کا بیمہ کسی دوسری کمپنی سے کرواتی ہیں اور وہ کمپنی آگے ان صارفین کا بیمہ کسی تیسری کمپنی سے کرواتی ہے اور یوں یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے مگر تان زیورخ میں آ کر ٹوٹتی ہے جہاں Swiss Reنامی کمپنی ان تمام بیمہ کمپنیوں کی ذمہ دار ہے ‘گذشتہ دو سو سال میں یہ کمپنی صرف ایک دفعہ 9/11کے موقع پر گھاٹے میں گئی تھی ۔دنیا کے تمام کریڈٹ کارڈز کمپنیوں کا لین دین بھی بالآخر زیورخ میں ہی طے پاتا ہے ‘UBSنامی ایک بنک اس کا ذمہ دار ہے ‘دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا زیورخ کے بڑے بنکوں میں نہیں ہوتا۔
زیورخ کی دوسری وجہ شہرت سوئٹزر لینڈ کی دلکشی ہے، گو کہ زیورخ بھی دلکشی میں اپنا جواب نہیں رکھتا اور ایک عجیب سی طمانیت اور شانتی کا احساس زیورخ میں ملتا ہے جس کا اٹلی میں بالکل تصور نہیں‘ مگرزیورخ کے ارد گرد Interlaken(دل والے دلہنیا لے جائیں گے کی فلم بندی یہاں ہوئی تھی) اور Pilla Tusجیسے مقامات ہیں جنہیں دیکھنے کے لئے لاکھوں سیاح زیورخ کا رخ کرتے ہیں ‘اندازہ اس بات لگائیں کہ ایک دن میں زیورخ سٹیشن سے 1492 ٹرینیں روانہ ہوتی ہیں ۔شہر کے چپے چپے پر قحبہ خانے ہیں مگر کہیں کوئی سائن بورڈ دکھائی نہیں دیتا‘کچھ عرصہ پہلے حکومت نے زیورخ کی تمام طوائفوں کو ایک مخصوص جگہ فراہم کی اور ایک قسم کا ’’آنندی‘‘ زیورخ میں بسا گیا ۔شہر کے بیچوں بیچ ایک جھیل ہے جس میں کوئی نہاتا ہے نہ کوڑا پھینکتا ہے (عجیب مردہ دل لوگ ہیں)‘ پورے شہر میں ٹرام ‘بس ‘ٹرین اور فیری چلتی ہے، آپ 13.50فرانک کا ٹکٹ لے کر ایک دن میں پورے زیورخ کی پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کر سکتے ہیں ‘اکثر اوقات سوئٹزر لینڈ کا صدر بھی یہی ٹرانسپورٹ استعمال کرتا ہے۔
سوئٹزر لینڈ میں تنخواہیں دیگر یورپ کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہیں ‘کم از کم اجرت اس قدر زیادہ ہے کہ ایک گھریلوملازمہ کی تنخواہ تقریباً چھ لاکھ ماہانہ بنتی ہے۔ سویٹزر لینڈ کی سرحد کو ایک ملک Leichtensteinبھی لگتا ہے، اس ملک کی آبادی فقط 28,000اور 9,000 لوگ یہاں سوئٹزر لینڈ سے کام کرنے آتے ہیںکیونکہ یہاں تنخواہیں سوئٹزر لینڈ سے بھی زیادہ ہیں ،ملک میں بادشاہت ہے اور اکثر بادشاہ سلامت کسی کافی شاپ میں اکیلے مل جاتے ہیں ‘مگر کوئی ان سے سلام تک نہیں لیتا۔
زیورخ میں ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ اس جنت نما شہر کی وجہ شہرت سودی بینکاری نظام ہے ،ہمارے مذہبی دانشوروں کی منطق کی رو سے تو اب تک اس شہر کا دیوالیہ نکل جانا چاہئے تھا ‘مگر یہ شہر دنیاکے بہترین شہروں میں شمار ہوتا ہے ‘کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے دانشور عوام کو تصویر کا وہ رُخ دکھانا چاہتے ہوں جس رُخ سے تصویر ہی نہ بنائی گئی ہو!
نوٹ نمبر:1یہ کالم ریگا ‘لیٹویا سے استنبول جانے والی پرواز کے دوران لکھا گیا۔
نوٹ نمبر :2نوٹ نمبر 1کا مقصد قارئین کو یہ تنبیہ دینا ہے کہ انہیں مزید ایک سفری کالم سے بور کیا جائے گا۔