• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سورہ الفاتحہ کی اگر قرات نہ ہو سکے۔

نجم

رکن
شمولیت
اپریل 18، 2011
پیغامات
99
ری ایکشن اسکور
480
پوائنٹ
79
بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم ورحمتہ اللہ​
سورہ الفاتحہ کی فرض نماز کے دوران قرات نہ ہو سکے اور امام صاحب رکوع میں چلیں جائیں یا پھر امام کو رکوع کی حالت میں مقتدی پائے تو کیا اسے وہ رکعت دوبارہ لٹانی ہو گی ؟
جب امام صاحب آواز بلند قرات کر رہے ہوں تو اسے خاموشی سے سنا جائے، آیا جب خاموش ہوں تب بھی سورہ فاتحہ کے علاوہ خود کوئی قرآن کا کچھ حصہ تلاوت نہ کیا جائے ؟
برائے مہربانی قرآن و حد یث کی روشنی میں وضاحت کریں۔​
جزاک اللہ
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
مدرک رکوع کی رکعت ہوتی ہے یا نہیں؟ اس بارے اہل الحدیث علماء کا اختلاف ہے۔ شیخ بن بازرحمہ اللہ اس بارے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

1۔ مقتدی نے امام کو رکوع کی حالت میں پا لیا تو اس کی یہ رکعت پوری ہو جائے گی، بھلے ہی وہ امام کے رکوع سے اٹھنے سے پہلے ’’سبحان ربی العظیم‘‘ نہ کہہ سکے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث عام ہے:
’’ جس نے نماز کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز پا لی۔‘‘(صحیح مسلم)
اور یہ معلوم ہے کہ رکوع پا لینے سے رکعت پوری ہو جاتی ہے، جیسا کہ صحیح بخاری کی روایت ہے کہ ایک دن ابوبکرہ ثقفی رضی اللہ عنہ اس وقت مسجد پہنچے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں تھے، چناچہ صف میں پہنچنے سے پہلے انہوں نے رکوع کر لیا، پھر صف میں شامل ہوئے۔ آپ نے سلام پھیرنے کے بعد انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’اللہ تمہارے شوق کو زیادہ کرے ، مگر آئندہ ایسا نہیں کرنا‘‘
آپ نے انہیں صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع میں جانے سے منع فرمایا، مگر رکعت کی قضا کا حکم نہیں دیا۔ پس جو شخص امام کو رکوع کی حالت میں پائے وہ جب تک صف میں نہ پہنچ جائے رکوع نہ کرے، واللہ ولی التوفیق۔(ارکان اسلام سے متعلق اہم فتاوی ، شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز رحمہ اللہ، ص 125)

بعض اہل علم کی رائے ہے کہ مدرک رکوع کی رکعت نہیں ہوتی ہے۔ شیخ الحدیث عبد المنان نور پوری صاحب فرماتے ہیں:

ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کی ’’لاتعد‘‘ والی حدیث سے مدرک رکوع کی رکعت کا ہونا اور نہ ہونا دونوں ہی ثابت نہیں ہوتے۔ روایۃ اس حڈیث میں جو لفظ ثابت ہیں، وہ ’’لا تعُد‘ ہی ہیں جن کا معنی ہے’’ نہ لوٹ دوبارہ ایسا نہ کرنا‘‘ اور لفظ ’’لاتُعد‘‘ اعادہ نہ کر نماز نہ لوٹا، اس حدیث میں روایۃ ثابت ہی نہیں لہذا حدیث ’’لا صلوۃ لمن لم یقرابفاتحۃ الکتاب‘‘نہیں کوئی نماز اس کی جس نے نہ پڑھی سورۃ فاتحہ، محکم ہے۔ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے متعارض نہیں تو رکوع میں شامل ہونے والے کی رکعت نہیں ہوتی، وہ رکعت اٹھ کر پڑھے۔(احکام ومسائل؛ جلد 1، ص 162)
واللہ اعلم بالصواب
نوٹ:براہ مہربانی ایک پوسٹ میں ایک ہی سوال کیا جائے۔ دوسرے سوال کے لیے دوسری پوسٹ شروع کی جائے۔
 

نجم

رکن
شمولیت
اپریل 18، 2011
پیغامات
99
ری ایکشن اسکور
480
پوائنٹ
79
جب امام سورہ فاتحہ کی قرات ختم کر کے قرآن کے کسی دوسرے حصہ کی تلاوت کر رہا ہو تو بعد میں آنے والے کے لئے کیا ضروری ہے ؟
کیا وہ قرآن کو خاموشی سے سنے ؟ کیونکہ قرآن میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں۔ " اور جب قرآن کی تلاوت کی جا رہی ہو تو غور سے سنو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔"
یا پھر وہ سورہ فاتحہ مکمل کرے ؟ کیونکہ حدیث میں آتا ہے۔ اس کی نماز نہیں جس نے سورہ فاتحہ نہ پڑھی۔
اگر قرآن کی تلاوت کو غور سے سنا جائے تو رکعت لٹانی ہو گی ؟
 
Top