• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سورہ فاتحہ کے بعد سورت کے لیے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھنا

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
433
پوائنٹ
198
سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ امیر المومنین سیدنامعاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہما نے ایک دفعہ مدینہ میں جہری نماز پڑھائی اور انہوں نے سورہ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھی جب کہ سورہ کے لیے بسم اللہ پڑھے بغیر قراء ت مکمل کرلی جب انہوں نے سلام پھیرا ۔ مہاجرین و انصار میں سے جس کسی نے یہ سنا ہر جگہ پکارا کہ اےمعاویہ! کیانماز چرالی گئی یا آپ بھول گئے ہیں؟ پس (اس کے بعد) جب بھی آپ نے نماز پڑھائی تو سورہ فاتحہ کے بعد سورت کے لیے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھتے تھے۔
(مستدرک حاکم :ج1ص233، الام للشافعی:ج1ص93)

یہ حدیث صحیح ہے یا نہیں؟
 
Last edited by a moderator:

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,633
پوائنٹ
791
نماز میں سورۃ فاتحہ اور دیگر سورتوں کے شروع میں بسملہ پڑھنے کے متعلق ہمارا موقف درج ذیل فتوی میں بیان کیا گیا ہے ؛
ــــــــــــــــــــــــ
نماز میں تعوذ و بسم اللہ کو بلندہ آواز سے پڑھنا چاہیے یا آہستہ آواز سے

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سوال :تعوذ و بسم اللہ کو با آواز بلند نہ پڑھنے سے نماز میں کوئی خلل واقع ہو گا یا نہیں؟ کتاب و سنت سے واضح فرمائیں۔

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
نہیں! کوئی خلل واقع نہیں ہو گا کیونکہ تعوذ کا نماز میں جہراً پڑھنا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہی نہیں اور بسملہ کے متعلق دونوں قسم کی احادیث ملتی ہیں سراً پڑھنے والی بھی اور جہراً پڑھنے والی بھی۔ تفصیل کے لیے تحفۃ الأحوذی اور مرعاۃ المفاتیح کا مطالعہ فرمائیں۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابو بکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی ، وہ بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں پڑھتے تھے۔ (صحیح مسلم)
نعیم مجمر نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ، وہ کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی ، پھر سورۂ فاتحہ پڑھی۔ (یعنی جہر سے ) (سنن نسائی)


فتاویٰ علمائے حدیث (
کتاب الصلاۃجلد 1 )
محدث فتویٰ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرعاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں علامہ عبید اللہ مبارکپوری لکھتے ہیں :
(( ۔۔۔ولأبي هريرة حديث ثالث في الجهر بالتأمين أخرجه النسائي وغيره عن نعيم المجمر، قال: صليت وراء أبي هريرة فقرأ بسم الله الرحمن الرحيم، ثم قرأ بأم القرآن حتى إذا بلغ {غير المغضوب عليهم ولا الضالين} فقال: آمين، فقال الناس آمين- الحديث. وفي آخره: وإذا سلم قال: والذي نفسي بيده إني لأشبهكم صلاة برسول الله - صلى الله عليه وسلم -. وإسناده صحيح ))
مفہوم :
جناب نعیم مجمر رحمۃ اللہ علیہ نے سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ، وہ کہتے ہیں کہ جناب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی ، پھر سورۂ فاتحہ پڑھی۔ (یعنی جہر سے )اور سورۃ فاتحہ کے بعد آمین بھی بالجہر پڑھی (سنن نسائی)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔
 
Last edited:

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,633
پوائنٹ
791
سورہ فاتحہ کے بعد سورت کے لیے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھنا

سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ معاویہ بن سفیان نے ایک دفعہ مدینہ میں جہری نماز پڑھائی
یہ روایت امام بیہقی ؒ نے السنن الکبری میں ( باب افتتاح القراءة في الصلاة ببسم الله الرحمن الرحيم، والجهر بها )) میں دو اسناد سے روایت کی ہے
پہلی اسناد یہ ہے :
وأخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق، ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنبأ الربيع بن سليمان، أنبأ الشافعي، أنبأ إبراهيم بن محمد، حدثني عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن إسماعيل بن عبيد بن رفاعة، عن أبيه، أن معاوية رضي الله عنه " قدم المدينة فصلى بهم ولم يقرأ بسم الله الرحمن الرحيم، ولم يكبر إذا خفض وإذا رفع، فناداه المهاجرون، والأنصار حين سلم: أي معاوية سرقت صلاتك، أين بسم الله الرحمن الرحيم؟ وأين التكبير إذا خفضت وإذا رفعت؟ فصلى بهم صلاة أخرى، فقال ذلك فيها الذي عابوا عليه "
اس سند میں ابراہیم بن محمد راوی متروک ہے ، جیسا کہ شرح السنہ للبغوی کے محقق نے لکھا ہے ؛

لیکن اس کی دوسری سند محفوظ ہے امام بیہقیؒ لکھتے ہیں

2411 - وبإسناده قال: أنبأ الشافعي، أنبأ يحيى بن سليم، عن عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن إسماعيل بن عبيد بن رفاعة، عن أبيه، عن معاوية، والمهاجرين، والأنصار، مثله أو مثل معناه قال الشافعي رحمه الله: وأحسب هذا الإسناد أحفظ من الإسناد الأول قال الشيخ رحمه الله: ورواه إسماعيل بن عياش، عن ابن خثيم، عن إسماعيل بن عبيد بن رفاعة، عن أبيه، عن جده أن معاوية قدم المدينة، ويحتمل أن يكون ابن خثيم سمعه منهما، والله أعلم
یعنی امام شافعیؒ یہ اسناد بیان کرکے فرماتے ہیں :
یہ اسناد پہلی سند کی نسبت زیادہ محفوظ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور یہ روایت ان دونوں اسناد سےامام شافعی رحمہ اللہ نے الام میں اور مسند امام شافعی ؒ میں نقل فرمائی ہے ؛
اور امام حاکم نے مستدرک میں اس طرح نقل فرمائی ہے
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ، أنبأ الربيع بن سليمان ، أنبأ الشافعي ، أنبأ عبد المجيد بن عبد العزيز ، عن ابن جريج ، أخبرني عبد الله بن عثمان بن خثيم ، أن أبا بكر بن حفص بن عمر ، أخبره ، أن أنس بن مالك ، قال: " صلى معاوية بالمدينة صلاة فجهر فيها بالقراءة ، فقرأ فيها بسم الله الرحمن الرحيم لأم القرآن ولم يقرأ بسم الله الرحمن الرحيم للسورة [ص:346] التي بعدها حتى قضى تلك القراءة " ، فلما سلم ناداه من سمع ذلك من المهاجرين ، والأنصار من كل مكان: يا معاوية أسرقت الصلاة ، أم نسيت ؟ " فلما صلى بعد ذلك قرأ بسم الله الرحمن الرحيم للسورة التي بعد أم القرآن ، وكبر حين يهوي ساجدا " .
حدیث نقل کرکے امام حاکم ؒ فرماتے ہیں :
" هذا حديث صحيح على شرط مسلم ، فقد احتج بعبد المجيد بن عبد العزيز ، وسائر الرواة متفق على عدالتهم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "
یعنی یہ حدیث شرط مسلم پر صحیح ہے ، کیونکہ امام مسلم رحمہ اللہ نے عبدالمجید بن عبدالعزیز کی روایت اصول میں نقل فرمائی ہے
اور اس کے باقی رواۃ کی عدالت بھی متفق علیہ ہے ،
 
Top