• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سو د خور کی دعوت قبول کرنا

محدث میڈیا

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,099
ری ایکشن اسکور
35
پوائنٹ
111
بہت سی قرآنی آیات اور احادیث میں سود لینے سے منع کیا گیا ہے بلکہ سود لینے کو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اعلان جنگ قرار دیا گیا ہے۔

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُؤُوسُ أَمْوَالِكُمْ لا تَظْلِمُونَ وَلا تُظْلَمُونَﱠ. (البقرة: 278-279).

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سودمیں سے جو باقی ہے چھوڑ دو، اگر تم مؤمن ہو۔ پھر اگر تم نے یہ نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بڑی جنگ کے اعلان سے آگاہ ہو جاؤ، اور اگر توبہ کر لو تو تمہارےلیے تمہارے اصل مال ہیں، نہ تم ظلم کرو گے او رنہ تم پر ظلم کیا جائے گا‘‘۔

سیدنا جابر رضى اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ :

((لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ»، وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ)). (صحيح مسلم، المساقاة: 1598).

’’رسول كريم صلى اللہ علیہ وسلم نے سود كھانے والے، سود كھلانے والے ، سود لكھنے والے، اور سود كے گواہ بننے والوں پر لعنت فرمائى ہے ، اور فرمایا: يہ سب (گناہ میں) برابر ہيں ‘‘۔

  • اس لیے سود خور پر واجب ہے کہ وہ اپنے اس گناہ سے فورا توبہ کرے، جو كچھ ہو چكا اس پر ندامت کا اظہار کرے، اور پختہ عزم كرے كہ آئندہ ایسے عظيم گناہ اور جرم كا ارتكاب نہيں كرے گے جو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف ہے۔
  • سود سے حاصل ہونے والا مال اگر اس شخض کو دینا ممکن ہو جس سے وہ لیا گیا ہے تو اسے واپس کیا جائے گا، خود انسان کے لیے اسے کھانا جائز ہے۔
  • توبہ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ سود سے حاصل شدہ دولت سے ایسے افراد کی مدد کر دے جو سود میں پھنسے ہوئے ہوں۔ انتہائی مجبور، لاچار فقراء ومساکین جن کا کوئی اور وسیلہ نہیں ہے ان کی بھی اس دولت سے معاونت کی جا سکتی ہے۔
  • رہی بات سود خور کے گھر سے کچھ کھانا یا پینا ، تو اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ اگر اس کی ساری آمدنی ہی سودی کاروبار کی ہےتو اس کی دعوت قبول کرنے اور اس کے ہاں کھانے پینے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اگر بامر مجبوری اس کے گھر سے کھانا پینا پڑ جائے تو اس کی گنجائش ہے ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے یہودیوں کا کھانا وغیرہ کھایا، حالانکہ یہود سودی کاروبار کیا کرتے تھے۔
سيدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جو کی روٹی اور پرانا روغن لے کر دعوت کی تھی۔ (مسند احمد: 13860) (صحیح)


والله أعلم بالصواب.
 
Top