1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سو ڈالر

'کرنسی' میں موضوعات آغاز کردہ از حسن شبیر, ‏فروری 12، 2014۔

  1. ‏فروری 12، 2014 #1
    حسن شبیر

    حسن شبیر مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 18، 2013
    پیغامات:
    802
    موصول شکریہ جات:
    1,819
    تمغے کے پوائنٹ:
    196

    ایک قصبے کے ہوٹل میں ایک سیاح داخل ہوا اور مالک سے اسکے ہوٹل کا بہترین کمرہ دکھانے کو کہا۔ مالک نے اسے بہترین کمرے کی چابی دی اور کمرہ دیکھنے کی اجازت دے دی ۔ سیاح نے کاونٹر پر ایک سو ڈالر کا نوٹ بطور ایڈوانس رکھا اور کمرہ دیکھنے چلا گیا ۔
    اس وقت قصبے کا قصاب ہوٹل کے مالک سے گوشت کی رقم لینے آگیا ۔ ہوٹل مالک نے وہی سو ڈالر اٹھا کر قصاب کو دے دیے کیونکہ اسے امید تھی کہ سیاح کو کمرہ ضرور پسند آجائے گا
    قصائی نے سو ڈالر لے کر فوراً یہ رقم اپنے جانور سپلائی کرنے والے کو دے دی ۔
    جانور سپلائی والا ایک ڈاکٹر کا مقروض تھا جس سے وہ علاج کروا رہا تھا تو اس نے وہ سو ڈالر ڈاکٹر کو دے دیے وہ ڈاکٹر کافی دنوں سے اسی ہوٹل کے ایک کمرے میں مقیم تھا اس لیے اس نے یہی نوٹ ہوٹل کے مالک کو ادا کر دیا۔
    وہ سو ڈالر کا نوٹ کاؤنٹر پر ہی پڑا تھا کہ کمرہ پسند کرنے کے لئے سیڑھیاں چڑھ کر گیا ہوا متوقع گاہک واپس آگیا اور ہوٹل کے مالک کو بتاتا ہے کہ مجھے کمرہ پسند نہیں آیا ۔ یہ کہہ کر اس نے اپنا سو ڈالر کا نوٹ اٹھایا اور چلا گیا !!!۔
    اکنامک کی اس کہانی میں نہ کسی نے کچھ کمایا اور نہ کسی نے کچھ خرچ کیا
    لیکن
    جس قصبے میں سیاح یہ نوٹ لے کر آیا تھا ، اس قصبے کے کتنے ہی لوگ قرضے سے فارغ ہو گئے۔
    حاصل مطالعہ
    پیسے کو گھماؤ !! نہ کہ اس پر سانپ بن کر بیٹھ جاؤ
    کہ اسی میں عوام الناس کی فلاح ہے ۔
     
    • زبردست زبردست x 4
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 12، 2014 #2
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,377
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    پیسہ گھمانے کا کام اب کریڈٹ کارڈ سے لیا جاتا ھے۔

    والسلام
     
  3. ‏فروری 12، 2014 #3
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,799
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    ہم م م م م م
    اسی لئے اسلام میں زکوٰۃ کا نظام ہے، تاکہ دولت چند لوگوں کے پاس ہی نہ رہے۔
     
  4. ‏فروری 12، 2014 #4
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,377
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    درست نہیں، کسی بھی زاویہ سے دیکھیں ہر لحاظ سے بہت فرق ھے۔

    والسلام
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں