• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سیدنا یزید بن معاویہؒ پر لعنت و طعن کے رد میں امام احمد بن حنبلؒ کا موقف

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
835
ری ایکشن اسکور
227
پوائنٹ
111
سیدنا یزید بن معاویہؒ پر لعنت و طعن کے رد میں امام احمد بن حنبلؒ کا موقف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ہر دور میں کچھ اہل بدعت و ہوا ایسے پائے گئے ہیں جو اپنے خبثِ باطن کا اظہار صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم یا ان کے بعد کے ائمۂ پر طعن و لعن سے کرتے ہیں۔ ان ائمۂ میں سے ایک امیر المؤمنین سیدنا یزید بن معاویہ رحمہ اللہ کی ذات گرامی ہے، جن پر رافضیت زدہ اذہان کی زبانیں دراز ہوتی رہی ہیں حتیٰ کہ خود کو اہل سنت کہلوانے والے بعض افراد بھی روافض کے طرزِ عمل کو اپنائے ہوئے ہیں لہذا امام اہل السنہ احمد بن حنبلؒ کی نظر میں سیدنا یزیدؒ کا کیا مقام و مرتبہ ہے ملاحظہ فرمائیں۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا: مَنْ قَالَ: لَعَنَ اللَّهُ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ؟ جو شخص یہ کہے کہ اللہ یزید بن معاویہ پر لعنت کرے، اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟

تو امام احمد رحمہ اللہ نے جواباً ارشاد فرمایا: لَا أَتَكَلَّمُ فِي هَذَا میں اس معاملہ میں کچھ نہیں کہتا۔

اس کے بعد امام احمد بن حنبل سے سوال کرنے والے نے امام احمد کی رائے کو زیادہ معتبر سمجھتے ہوئے اس کی پیروی کا اظہار کیا کہ : وَأَنَا صَائِرٌ إِلَى قَوْلِكَ یعنی میں آپ کے قول کو ہی اختیار کرنا چاہتا ہوں۔

تو امام احمد رحمہ اللہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چند احادیث ذکر فرمائیں:

قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ» ابو عبد اللہ (امام احمد بن حنبل) نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’مومن پر لعنت کرنا ایسا ہی ہے جیسے اسے قتل کرنا۔‘

وَقَالَ: «خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ» ، وَقَدْ صَارَ يَزِيدُ فِيهِمْ،
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں۔‘ اور یزید انہی میں شامل ہیں (یعنی تابعین میں)۔

وَقَالَ: «مَنْ لَعَنْتَهُ أَوْ سَبَبْتَهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ رَحْمَةً»
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’جسے میں نے لعنت کی یا برا کہا، تو اسے اس کے لیے رحمت بنا دے۔‘

پھر امام احمد بن حنبل نے فرمایا: فَأَرَى الْإِمْسَاكَ أَحَبُّ لِي پس میری رائے ہے کہ خاموشی اختیار کرنا زیادہ پسندیدہ ہے۔

[السنة لأبي بكر بن الخلال، ج : ٣، ص : ٥٢١]

IMG-20250629-WA0000.jpg

IMG-20250629-WA0001.jpg

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے مذکورہ سوال کے جواب میں سیدنا یزید رحمہ اللہ کے دفاع میں پہلی دلیل یہ دی: «لَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ» تو یہ اس بات کی کھلی گواہی ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے نزدیک سیدنا یزید بن معاویہ رحمہ اللہ مؤمن تھے، اگر یزید رحمہ اللہ مؤمن نہ ہوتے جیسا کہ بعض بدعتی اور رافضی دعویٰ کرتے ہیں، تو امام موصوف ہرگز اس حدیث کو ذکر نہ کرتے۔ امام احمد کا استدلال ہی اس پر مبنی ہے کہ یزید مؤمن ہے، اس لیے ان پر لعنت کرنا ناجائز ہے

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بھی پیش کی: «خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ» میرے زمانے کے لوگ سب سے بہتر ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے۔ اس کے فوراً بعد امام احمد نے فرمایا: "وَقَدْ صَارَ يَزِيدُ فِيهِمْ" یعنی یزید بھی انہی بہترین لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ الفاظ خود مدح و توثیق کے زمرے میں آتے ہیں۔ گویا امام احمد کے نزدیک یزید رحمہ اللہ ان صالح قرون کے تابعین میں سے ہے جن کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعریف فرمائی اور ان پر طعن، درحقیقت زمانۂ خیر پر طعن ہے۔

امام احمد رحمہ اللہ نے تیسری حدیث یہ بیان کی: «مَنْ لَعَنْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ رَحْمَةً» "یا اللہ! جس پر میں نے لعنت کی یا اسے برا کہا، اسے اس کے حق میں رحمت بنا دے۔" یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ کسی مؤمن پر لعن طعن بذات خود قطعی ہلاکت کا سبب نہیں ہوتا، حتیٰ کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بھی کسی مسلمان پر سخت کلمہ آیا ہو، اللہ تعالیٰ اسے بھی رحمت میں تبدیل کر دیتا ہے۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اس حدیث سے واضح کرتے ہیں کہ اگر کسی مسلم پر کوئی لعنت کی بات کی گئی ہو، تو ہمیں اس پر رحمت کی امید رکھنی چاہیے، نہ کہ ہلاکت کے فتوے لگانے چاہییں۔

امام احمد نے آخر میں فرمایا: "فَأَرَى الْإِمْسَاكَ أَحَبُّ إِلَيَّ" پس خاموشی اختیار کرنا مجھے زیادہ پسند ہے۔ یہ جملہ نہ تو یزید رحمہ اللہ پر مذمت ہے، نہ ان کے خلاف لعنت کی اجازت۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک فتنہ انگیز موضوع ہے، جس پر بولنے سے امت میں فساد ہو سکتا ہے لہٰذا امام احمد جیسے محتاط اور علم و تقویٰ کے امام نے خاموشی کو ترجیح دی۔

لیکن امام احمد نے پہلے تین ایسی احادیث پیش فرمائیں جو سیدنا یزید رحمہ اللہ کے مؤمن ہونے، خیر القرون میں شمولیت اور رحمت کے مستحق ہونے پر صریح دلالت کرتی ہیں۔ جس سے امام احمد بن حنبل کا علمی موقف بھی معلوم ہوتا ہے کہ :
  • امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے نزدیک سیدنا یزید رحمہ اللہ مؤمن اور اہلِ ایمان تھے۔
  • امام احمد نے یزید رحمہ اللہ کو خیر القرون میں شمار کیا، جن کی تعریف خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔
  • یزید پر لعنت کو امام احمد نے ناجائز قرار دیا کیونکہ یہ مومن کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے استدلال کیا کہ اگر لعنت ہوئی بھی ہو تو اللہ تعالیٰ اسے رحمت میں بدل دیتا ہے۔
  • امام احمد کی خاموشی، مذمت نہیں بلکہ حکمت اور فتنہ سے بچاؤ کا راستہ ہے۔
پس اے اہلِ حق! اگر تم سلف صالحین کے منہج پر قائم ہو تو یزید بن معاویہ رحمہ اللہ پر طعن و لعن کرنے والوں کا رد کرو، یزید رحمہ اللہ کے مؤمن ہونے پر حسنِ ظن رکھو، اور اپنی زبان کو فتنے کے مواقع پر قابو میں رکھو۔ یہی امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور جملہ ائمۂ سلف کا طرزِ عمل ہے۔

والله أعلم بالصواب و علمه أتم، والسلام
 
Top