• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سیدنا یزید بن معاویہ رحمہ اللہ کے بارے میں اہل سنت کا منصفانہ موقف شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے کلام کی روشنی میں

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
843
ری ایکشن اسکور
227
پوائنٹ
111
سیدنا یزید بن معاویہ رحمہ اللہ کے بارے میں اہل سنت کا منصفانہ موقف

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے کلام کی روشنی میں

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:

روافض اور ان سے متاثر لوگوں نے تاریخی روایات، ضعیف حکایات اور بے اصل قصوں کی بنیاد پر سیدنا یزید بن معاویہ رحمہ اللہ کی شخصیت کو مطعون کیا، جبکہ اہل سنت والجماعت نے ان کے بارے میں عدل و انصاف سے کام لیا، نہ غلو کیا اور نہ ظلم۔ چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے سیدنا یزید بن معاویہ رحمہ اللہ کے بارے میں ایسا معتدل اور منصفانہ موقف بیان فرمایا ہے جو اہل سنت کے اصولوں کی صحیح ترجمانی کرتا ہے۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«وأما غيره من الخلفاء فلم يبلغوا في العلم والدين والعدل مبلغه، ولكن كانوا مسلمين باطنًا وظاهرًا، لم يكونوا معروفين بكفرٍ ولا نِفاقٍ»

رہے دوسرے خلفاء، تو وہ علم، دین اور عدل میں اس مقام تک نہیں پہنچے جس مقام تک وہ (خلفائے راشدین) پہنچے تھے، لیکن وہ ظاہر و باطن دونوں اعتبار سے مسلمان تھے۔ وہ نہ کفر کے ساتھ معروف تھے اور نہ نفاق کے ساتھ۔

یہاں شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے خلفائے راشدین کے بعد آنے والے ان خلفاء کے بارے میں کلام کیا ہے جو خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے مرتبے تک نہیں پہنچے، لیکن اس کے باوجود وہ مسلمان تھے اور انہیں کفر یا نفاق سے متصف نہیں کیا جا سکتا۔ اسی کے ضمن میں شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے بالخصوص سیدنا یزید بن معاویہ رحمہ اللہ کا ذکر فرمایا۔

اسی طرح شیخ الاسلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«وكثير منهم أو أكثرهم له حسنات يرحمه الله بها، وتترجح على سيئاته» یعنی ان میں سے بہت سوں کی ایسی نیکیاں ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے گا اور ان کی نیکیاں ان کی برائیوں پر غالب آجائیں گی۔

اس اصول کے تحت سیدنا یزید رحمہ اللہ کے بارے میں اہل سنت کا موقف یہ ہے کہ ان کے لیے حسنات، جہاد، اسلام کی خدمت اور امت کی سربراہی جیسے عظیم اعمال موجود ہیں، اور ان کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«ويزيدُ هذا الذي ولي الملك هو أول مَن غزا القسطنطينية، غزاها في خلافة أبيه معاوية. وقد روى البخاري في "صحيحه" عن ابن عمر قال: قال رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أول جيشٍ يغزو القسطنطينية مغفورٌ له"»

اور یزید، جنہوں نے حکومت سنبھالی، وہی وہ شخص ہیں جنہوں نے سب سے پہلے قسطنطنیہ پر لشکر کشی کی۔ انہوں نے اپنے والد معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں اس مہم میں شرکت کی۔ امام بخاری نے اپنی "صحیح" میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "سب سے پہلا لشکر جو قسطنطنیہ پر حملہ کرے گا، وہ بخشا ہوا ہوگا۔"

سیدنا یزید بن معاویہ رحمہ اللہ اس عظیم لشکر کے امیر تھے، جس میں جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے۔ یہ فضیلت ایسی ہے جسے ائمہ اہل سنت نے ذکر کیا ہے اور اسے سیدنا یزید رحمہ اللہ کے مناقب میں شمار کیا جاتا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے سیدنا یزید رحمہ اللہ پر کفر کے فتوے لگانے یا انہیں اسلام سے خارج قرار دینے والوں کے متعلق نہایت واضح الفاظ میں فرمایا: «ومن قال إنه كان كافرًا أو إن أباه معاوية كان كافرًا ... فهو أيضًا كاذب مفتر» یعنی جو شخص یہ کہے کہ وہ کافر تھے یا اس کے والد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کافر تھے، تو وہ جھوٹا اور بہتان باندھنے والا ہے۔

اسی طرح سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کے متعلق تہمتوں کی تردید کرتے ہوئے شیخ الاسلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«وإنه قتل الحسين تشفيًا وأخذًا بثأر أقاربه من الكفار فهو أيضًا كاذب مفتر» یعنی: جو یہ کہے کہ انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے کافر رشتہ داروں کا بدلہ لینے یا دل کی ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے قتل کروایا، وہ بھی جھوٹا اور بہتان تراش ہے۔

[جامع المسائل - ابن تيمية - ط عطاءات العلم، ج : ٥، ص : ١٤٧-١٤٨]

8426.jpg

8422.jpg

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے واضح طور پر اس الزام کو باطل قرار دیا ہے کہ سیدنا یزید رحمہ اللہ نے جاہلی انتقام یا بنو امیہ کی عصبیت کی بنا پر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کروایا ہو۔

پس اہل سنت والجماعت کا منصفانہ موقف یہی ہے کہ سیدنا یزید بن معاویہ رحمہ اللہ ایک مسلمان خلیفہ تھے۔ ان کے لیے حسنات اور فضائل ثابت ہیں؛ قسطنطنیہ کے لشکر میں شرکت ان کی عظیم فضیلت ہے، اور ان پر کفر، نفاق یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے متعلق الزامات ثابت نہیں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ جیسے جلیل القدر امام نے ان کے اسلام، ان کی فضیلتوں کو تسلیم کیا اور ان پر لگائے جانے والے الزامات کی تردید کی ہے۔ لہٰذا اہل علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس مسئلے میں عدل، تحقیق اور انصاف کا دامن تھامیں، اور تاریخی تعصبات یا بے اصل روایات کی بنیاد پر مؤمن کی عزت و حرمت کو مجروح نہ کریں۔

ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ سیدنا یزید بن معاویہ رحمہ اللہ پر رحم فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کی حسنات کو قبول فرمائے، اور ہمیں اہل سنت والجماعت کے معتدل اور منصفانہ منہج پر ثابت قدم رکھے۔ آمین

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم وبارك على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين۔
 
شمولیت
دسمبر 26، 2025
پیغامات
7
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
5
ادب کے ساتھ ایک گزارش ہے۔**
>
> یزید کے بارے میں اہلِ سنت کا معتدل موقف یہی ہے کہ **نہ اس کی محبت و مدح میں غلو کیا جائے، نہ اس کے معاملے میں زبان کو گالی اور سبّ و شتم کا ذریعہ بنایا جائے۔** اس کے بارے میں سکوت اور اعتدال کا راستہ زیادہ محفوظ ہے۔
>
> تاہم اسے **"سیدنا"** یا **"رحمہ اللہ"** جیسے الفاظ سے یاد کرنا بھی مناسب نہیں، کیونکہ اس کے دور میں **واقعۂ حرّہ، اہلِ مدینہ پر ظلم ،قتال،جلیل القدر صحابہ کی شہادت ، مکہ مکرمہ کا محاصرہ اور کعبۃ اللہ پر منجنیق سے حملہ** جیسے انتہائی سنگین واقعات پیش آئے۔ ان واقعات کی وجہ سے امت کے اکابر نے اس کے بارے میں مدح و تعظیم کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔
>
> اس لیے بہتر یہی ہے کہ ہم اس کے معاملے میں **سکوت، احتیاط اور اعتدال** اختیار کریں، نہ اس کی تعریف کریں اور نہ ایسے الفاظ استعمال کریں جن سے اس کی تعظیم لازم آئے۔
>
۔یزید کے بارے میں بات کرنا نہ ہمارا عقیدہ سنوارتا ہے اور نہ ہی ہماری نجات کا ضامن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے، اور ہم اس کے اعمال کے ذمہ دار نہیں ہیں،نہ اسکی تعریف کریں،رحمہ اللہ اور سیدنا کہنا تو بلکل مناسب نہیں،اور نہ ہی برائی کریں،کیونکہ اس سے صحابہ خصوصا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کا معاذ اللہ دروازہ کھل جاتا ہے لہٰذا سکوت اختیار کریں....وہ دنیا سے چلا گیا،اللہ کے حوالے معاملہ،ہمیں کوئی ظرورت نہیں فیصلے کرنے کی،اسکے خلاف یا اسکی مدح میں...واللہ اعلم بالصواب
 
Top