• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شاہ ِ اَربل کا تحفہ … عید میلاد ُالنبیﷺ

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
شاہ ِ اَربل کا تحفہ … عید میلاد ُالنبیﷺ

عبدالرحمن عزیز​
ماہ ِربیع الاول میں اکثر لوگ نبی کریمﷺ کی ولادت ِباسعادت کے سلسلہ میں محافل و جلوس کا انعقاد کرتے ہیں اور آپﷺکے ورود ِمسعود پر اظہارِ مسرت کرنے او راس دن اذکار و استغفار، صدقہ و خیرات، خوب چراغاں کرنے اور بہترین کھانا پکانے کو باعث ِبرکت اور اَجر و ثواب تصور کرتے ہیں…
اس میں کوئی شک نہیں کہ امامِ اعظم حضرت محمد مصطفیﷺ تمام مخلوقات سے افضل و اعلیٰ سید ِو ُلد آدم اور خاتم النبیین اور’’ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر‘‘ ہیں لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ان محافل و جلوس کا انعقاد و اہتمام اظہارِ تشکر کی بنا پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کیا ہے؟ یا تابعین، تبع تابعین سے ان محافل کے انتظام و انصرام اور ان محافل میں شمولیت کا کوئی ثبوت ملتا ہے ؟؟
کیونکہ یہی لوگ محبت ِرسولﷺ اور اتباعِ رسولﷺ میں تمام لوگوں سے زیادہ بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے اور مشتاق تھے۔ اگر ان لوگوں سے اس امر کا کوئی ثبوت نہیں ملتا تو پھر کیا حق حاصل ہے کہ ہم ان کے کردار و فرامین سے روگردانی کرکے ایسی محافل منعقد کریں جس کے انعقاد و شمولیت سے ان حضرات نے سختی سے منع کیا ہو۔ پھر ولادت ِباسعادت کے دن اظہارِ مسرت کا نام محبت ِرسولﷺ نہیں بلکہ محبت ِرسولؐ ،اتباع رسولؐ میں ہے جیسا کہ آپ ﷺکے فرامین ِذیل سے ظاہر ہے:
من أحبّ سنتي فقد أحبني ’’جس نے میری سنت سے محبت کی گویا اس نے مجھ سے محبت کی ‘‘ (ترمذی عن انس، بحوالہ مشکوٰۃ مطبوعہ کراچی ۱؍۳۰، باب الاعتصام بالکتاب والسنہ)
علیکم بسنتي و سنۃ ا لخلفاء الراشدین المھدیین ’’تمہارے لئے میری سنت اورمیرے خلفاء راشدین کے طریقے پر چلنا ضروری ہے۔ (احمد، ابودائود، بحوالہ مشکوٰۃ ص۱؍۳۰)
ترکت فکیم أمرین لن تضلوا ما تمسکتم بھما کتاب اللہ و سنۃ رسولہ ’’میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ، اگر تم نے انہیں مضبوطی سے تھامے رکھا تو تم کبھی گمراہ نہ ہوگے…کتاب اللہ اور اس کے رسول کی سنت‘‘ (رواہ فی الموطأ بحوالہ مشکوٰۃ ۱؍۳۱) وغیرہ
جب خیر القرون (دورِ نبویؐ،دور خلفاء راشدین وصحابہ وتابعین وادوارِ ائمہ اربعہ ومحدثین)میں ان محافل کے انعقاد کا وجود ہی ناپید ہے تو یہ محفل کیونکر شروع ہوئی؟ اور ان کا موجد کون ہے… اس حقیقت کو سمجھنے کیلئے درج ذیل سطور کا بغور مطالعہ فرمائیں آپ پر حقیقت واضح ہوجائے گی۔ ان شاء اللہ
صمیم قلب سے دعا ہے کہ اللہ کریم جملہ مسلمانوں کو حق سمجھنے اور حق پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے… آمین !
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
1۔تاریخی شہادت
کتب ِتاریخ و سِیَر کی ورق گردانی سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ محفل میلاد نبی ﷺکے چھ سو سال بعد ایجاد ہوئی۔ صحابہ کرام، تابعین عظام اور ائمہ دین کے دور میں بالکل ہی ناپید ہے۔ چنانچہ تاریخ کی معتبر کتاب ابن خلکان میں اس کی شہادت موجود ہے کہ ۵۸۶ھ میں سلطان صلاح الدین نے ابوسعید کوکبوری ملقب بہ ملک المعظم مظفر الدین المتوفی ۶۳۰ھ کو شہر اربل کاگورنر مقرر کیا۔ یہ گورنر نہایت مسرف، بے دین اور عیاش تھا ۔ محفل میلاد سب سے پہلے اس نے ایجاد کی جو آج بھی دنیا کے اکثر حصوں میں مروّج ہے۔
تاریخ ابن خلکان میں اس محفل کا تذکرہ بڑی شرح و بسط سے بیان کیا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ’’شاہ ِاربل سعادت سے کوسوں دور اور شقاوت سے بھرپور تھا، فسق و فجور کا بازار گرم رکھتا تھا اور مجلس میلاد کو ہر سال نہایت شان و شوکت سے مناتا تھا۔ جب شہر اربل کے قرب و جوار میں یہ خبر پھیلی کہ شاہِ اربل نے ایک مجلس قائم کی ہے جس کو وہ بڑی عقیدت مندی سے سرانجام دیتا ہے تو بغداد، موصل، جزیرہ، نہاوند اور دیگر بلادِ عجم سے گویے، شعرائ، واعظ، بادشاہ کو خوش کرنے کے لئے آلاتِ لہوولعب کے ہمراہ ماہ ِمحرم الحرام سے ہی شہر اربل میں آجاتے۔ قلعہ کے نزدیک ایک ناچ گھر تعمیر کیا گیا تھا، جس میں کثرت سے قبے اور خیمے تھے۔ شاہ اربل بھی ان خیموں میں آتا، گانا سنتا او رکبھی کبھی مست ہو کر ان گویوں بھانڈوں کے ساتھ رقص کرتا (مرأۃ الزما ن از ابن الجوزی)
ماہ ِصفر سے ہی مجلس مولود کی تیاریاں شروع ہوجاتیں اور ماہ ِربیع الاول کو مولود منایا جاتا اور شاہی قلعہ سے اونٹ، گائے، بکریاں، ناچ گھر کے مذبح میں اس قدر ذبح کی جاتیں کہ الامان والحفیظ!!
جب اس محفل کا چرچا ہر طرف پھیل گیا تو ’’الناس علی دین ملوکھم‘‘ کے تحت بہت سے جاہل لوگ اس کے خوشامدی بن گئے اور ابن دحیہ جیسے ایک طالب ِدنیانے اس کی تائید میں ایک رسالہ التنویر في مولد السراج المنیرلکھ کر شاہ ِاربل سے ایک ہزار اشرفی انعام حاصل کیا۔ (تفصیل کے لئے:تاریخ ابن خلکان ص۴۳۶، جلد اول ) سچ ہے ،
ھل أفسد الدین إلا الملوک، وأحبار سوء ورھبانھا، یعنی بادشاہ ،علمائے سوء اورصوفیاء ہی وہ تین طبقے ہیں جنہوں نے دین کو بگاڑا ہے۔ (فرمان حضرت عبداللہ بن مبارکؒ)
شاہ اربل کا یہ گراں قدر تحفہ تھا جس کو نام نہاد مسلمانوں نے شرعی مقام عنایت فرمادیا اور ہر سال اس بدعت کی ترویج میں لاکھوں درہم ودینارخرچ کرنے کو سعادت ِعظمیٰ سمجھا۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
2۔ابن دحیہ کے متعلق ائمہ دین کے ارشادات
آئیے شاہِ اربل کے اس گرانقدر تحفے کو شرعی مقام دینے والے ابن دحیہ کے متعلق ائمہ دین اور محدثین کے ارشادات ملاحظہ فرمائیں:
ابن دحیہ نہایت متکبر، گستاخ، ائمہ دین او رمحدثین پر سب و شتم کرنے والا اور ان کی عیب جوئی میں بڑا بے باک تھا ، (لسان المیزان :ص۲۹۲، جلد ۴)
2۔امام سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
إن أبا الخطاب ابن دحیۃ یفعل ذلک کأنہ النبي، وضع الحدیث فی قصر المغرب (تدریب شرح تقریب۱؍۲۸۶) ’’ابن دحیہ بڑا وضاع الحدیث تھا ،مولود کے متعلق جھوٹی روایات بنا کر لوگوں کو سناتا۔‘‘
3۔قاضی واصلؒ فرماتے ہیں کہ
ابن دحیہ حدیث بیان کرنے میں بے تکی اور اٹکل پچو سے کام لیتا تھا (لسان ص۲۹۲؍۴)
4۔امام ابن نقطہ فرماتے ہیں کہ
أنہ کان یدّعی أشیاء لاحقیقۃ لھا (لسان المیزان ص۲۹۳؍۴) یعنی ’’وہ ایسی چیزوں کا دعویدار تھا جن کی کوئی حقیقت نہ تھی۔‘‘
5۔ابن عساکر فرماتے ہیں کہ
’’ابن دحیہ حدیث ِنبویؐ بیان کرنے میں کذب بیانی سے کام لیتا اور بے اصل بات کہنے میں بے باک تھا ‘‘ (لسان المیزان ص۲۹۷؍۴)
6۔علامہ ابن حجرؒ نے لسان المیزان ص۲۹۶؍۴ پر ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ:
امام علی بن حسین اصبہانی ؒبیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ابن دحیہ کا ہمارے شہر سے گزر ہوا اس نے اپنے آپ کو بڑا محدث، فقیہ، ادیب، مفسر اور متقی پرہیز گارظاہر کیا او رمیرے والد نے ان کی خوب تواضع کی۔ اتنے میں ابن دحیہ نے ایک مصلیٰ نکالا اور اس جائے نماز کو چوم کر حلفاً فرمایا کہ خدا کی قسم اس مصلیٰ پر میں بیت اللہ شریف میں ایک ہزار سے زائد نفل نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھ چکا ہوں او ربارہا اس مصلیٰ پر بیٹھ کر میں نے قرآن مجید ختم کیا ہے۔‘‘…والد صاحب نے وہ مصلیٰ ابن دحیہ سے خرید لیا، اسی دن اصبہان سے عصر کے بعد ایک شخص والد صاحب کے پاس آیا، اتفاقاً ابن دحیہ کا ذکر بھی آگیا تو نووارد نے کہا کہ ’’کل ابن دحیہ نے بڑا قیمتی مصلیٰ خریدا ہے۔‘‘ والد صاحب نے وہی مصلیٰ پیش کردیا جس کے متعلق ابن دحیہ نے حلفاً کہا تھا کہ ’’میں نے اس مصلیٰ پر ایک ہزار رکعت اور بارہا قرآنِ مجید بیت اللہ میں بیٹھ کر ختم کیا ہے‘‘ اس شخص نے دیکھتے ہی کہا کہ ’’خدا کی قسم یہ وہی جائے نماز ہے جس کو ابن دحیہ نے خریدا تھا‘‘ … والد صاحب یہ سن کر خاموش ہوگئے اور اس کی یہ چالاکی اور کذب بیانی دیکھ کر دنگ رہ گئے اور ابن دحیہ کو اپنی نظروں سے گرا دیا۔ ‘‘ (لسان المیزان : ص۲۹۶ جلد ۴)
اب یہ بات واضح ہوگئی کہ عید ِمیلاد کے جواز کا فتویٰ دینے والا، پیٹ پرست، خوشامدی، کذاب، وضاع الحدیث تھا۔ کیا ایسے دروغ گو، ہرزہ سرا، اور یا وہ گو شخص کا فتویٰ قابل حجت اور قابل سند بن سکتا ہے؟ ہرگز نہیں

خلاف ِپیغمبر کسے راہ گزید … ہر گز بمنزل نخواہد رسید



1۔امام ابن حجر عسقلانی ؒ رقم فرماتے ہیں کہ
إن أصل المولد بدعۃ لم ینقل أحد من السلف الصالح فی قرون الثلاثۃ
’’محفل میلاد بدعت ہے جس کا ثبوت صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین سے نہیں ملتا۔ ‘‘
قال عبدالرحمن المغربی عن الحنفیۃ فی فتاواہ إن أصل المولود بدعۃ لم یفعلہ رسول اللہ ﷺ والخلفاء والائمۃ (فتاویٰ عبدالرحمن مغربی)
’’علامہ عبدالرحمن حنفی اپنے فتاویٰ میں رقمطراز ہیںکہ محفل میلاد بدعت ہے نہ اس کا نبیﷺ نے حکم فرمایا اور نہ خود کیا ۔اور نہ ہی صحابہ کرامؓ اور ائمہ دین نے اس طرف توجہ دی، اور نہ ہی کسی کو کرنے کی اجازت دی ‘‘ ؎ ’’جن پہ تکیہ تھا ، وہی پتے ہوا دینے لگے‘‘
3۔ابوالقاسم عبدالرحمن بن عبدالمجید مالکی ؒ ارشاد فرماتے ہیں کہ
ما یھتم لعمل المولد فی الربیع الاول بدعۃ فیلیق أن ینکر مایھتم بہ (تکملۃ التفسیرلابن القاسم عبدالرحمن مالکیؒ)
’’جو مجلس میلاد ربیع الاول کے مہینہ میں رچائی جاتی ہے، یہ بدعت ہے ،اس لئے ضروری ہے کہ ایسی محفلوں پر نکیر (مخالفت) کی جائے‘‘
4۔علامہ شرف الدین احمد حنبلی ؒ فرماتے ہیں کہ:
إن ما یعمل بعض الأمراء فی کل سنۃ احتفالا لمولدہﷺ مع اشتمالہ علی التکلفات الشیعۃ بنفسہ بدعۃ أحدثہ من یتبع ھواہ ولایعلم ما أمرہ صاحب الشریعۃ ونھاہ (القول المُعتمَد)
’’بعض امرا ء ہر سال آپﷺ کے ذکر ِولادت سے متعلق جو محافل قائم کرتے ہیں وہ بہت سے نا شائستہ تکلفات کے علاوہ فی نفسہٖ بدعت ہے۔ اس محفل کے موجد، خواہشات ِنفسانیہ کے پیروکارتھے، انہیں کوئی علم نہیں کہ صاحب ِشریعت نے کس چیز کا حکم دیا او رکس چیز سے روکا ہے‘‘
5۔ علامہ ابن الحاج مالکی ؒ نے اپنی مایہ ناز کتاب مدخل میں
اس کو بدعت لکھا ہے اور اس کے جملہ امور کو خلاف شرع گردانا ہے (مدخل)
6۔علامہ علائو الدین شافعیؒ فرماتے ہیں کہ
’’محفل میلاد بدعت ہے۔ ‘‘ (شرح البعث والنشور)
7۔علامہ تاج الدینؒ فرماتے ہیں کہ
’’ مجھے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ میں اس کے متعلق کوئی دلیل نہیں ملی ۔صحابہ کرامؓ اور ائمہ اسلام سے بھی اس کے متعلق جواز کا فتویٰ منقول نہیں بلکہ یہ ایک بدعت ہے جس کو شکم پرور نفس پرست لوگوںنے ایجاد کیا ہے۔ (تفصیل کے لئے فتاویٰ سیوطی ص۳۹۴ تا ۳۹۶ کا مطالعہ مفید رہے گا )
8۔علامہ محمد بن ابی بکر مخزومی کتاب البدع والحوادث میں تحریر فرماتے ہیں کہ:
فمن المنکرات القبیحات والمکروھات الفضیحات فی ھذہ الأعصار ما یعمل لمولد النبیﷺ ’’تمام برائیوں اور گمراہیوں سے بڑھ کر برائی اور گمراہی فی زمانہ مجلس میلاد کا قیام ہے اور سابقہ امتوں کی تباہی بدعتوں کی وجہ سے ہی ہوئی ‘‘ (کتاب البدع والحوادث)
9۔امام نصیر الدین شافعیؒ سے محفل میلاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ:
ا س کا کرنا سلف صالحین سے منقول نہیں بلکہ یہ ایک مجلس عہد ِصحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے بعد برے زمانہ میں رائج ہوئی ۔جو کام انہوں نے نہیں کیا، ہمیں اس کام کو کرکے بدعتی بننے کی کیا ضرورت ہے (کتاب شرعِ الٰہیہ)
حاملین مذاہب ِاربعہ اور دیگر اَسلاف کے ارشادات سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جو کام عہد ِصحابہؓ، تابعینؒ اور ائمہ دین میں ناپید و مفقود ہو، اس کو ایجاد کرنا اور فروغ دینا بدعت ہے اور ایسے کام کرنے والے کا کوئی بھی عمل بارگاہ ِایزدی میں مقبول نہیں اور ایسے شخص کو حوضِ کوثر سے بھی محرومی ہوگی اور سید ُالانبیائﷺ کی زبانِ مبارک سے،
’’سُحقا سُحقا لمن غیر بعدي‘‘… کی صدا آئے گی کہ ’’ دین میں نئے اُمور کو فروغ دینے والوں کیلئے جہنم ہے، ان کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔‘‘
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
محترم قارئین!
عیدمیلاد النبیؐ میں بھرپور حصہ لینے اور مال و دولت کو ضائع کرنے کا نام حب ِ رسولؐ نہیں بلکہ اس میں امامِ کائناتﷺ کیساتھ مذاق ہے۔ اگر اس دن کو منانا جائز ہوتا تو صحابہ کرامؓ جیسی جانثار جماعت اس سعادت سے محروم نہ رہتی، تابعین اور تبع تابعین اس نیکی سے محروم نہ رہتے جن کی زندگیاں نبی علیہ السلام کے ایمان پر بسر ہوئیں مگر انہوں نے ہر اس کام سے گریز کیا جس پر ہادیٔ برحقﷺ کی مہر نہ تھی
لو کان حبک صادقا لأطعتہ… إن المحب لمن یحب مطیع
’’ اگر تیری محبت سچی ہوتی تو اپنے محبوب کی تو اطاعت کرتا کیونکہ محبت کرنے والا تو اپنے محبوب کا مطیع وفرماں بردار ہوتاہے۔‘‘
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
4۔حدیث ِنبویؐ میں تین اشخاص کا واقعہ
تین شخص پیغمبر اعظمﷺ کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے پاس آئے اور انہوں نے نبی ﷺ کی عبادت کے متعلق دریافت کیا ۔ جب ان کو نبی ﷺکی عبادت کی کیفیت بتائی گئی تو انہوں نے اپنے خیال میں اس عبادت کو حقیر تصو رکیا اور تینوں نے علی الترتیب یہ بیان دیا کہ:
1۔میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا او رناغہ نہیں کروں گا،
2۔میں تمام رات عبادت کروں گا اور سویانہیں کروں گا،
3۔میں شادی نہیں کروں گا کیونکہ اہل و عیال عبادت میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں۔
جب حضرت محمد رسول اللہﷺ گھر تشریف لائے تو یہ گفتگو سنائی گئی تو آپؐ نے ان کو تنبیہ کی اور فرمایا :’’میں تم سب سے زیادہ پرہیز گار ہوں، روزے بھی رکھتا ہوں افطار بھی کرتا ہوں، رات کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور نیند بھی کرتا ہوں، شادیاں بھی کی ہیں لیکن یاد رکھو ’’فمن رغب عن سنتی فلیس منی‘‘ (متفق علیہ) ’’جس شخص نے میرے طریقے سے روگردانی کی، اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ‘‘ (مشکوٰۃ، باب الاعتصام بالکتاب والسنہ، ۲۷؍۱ مطبوعہ کراچی)
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
5۔واقعہ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ
اسی طرح مشکوٰۃ کتاب الجہاد میں حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کا واقعہ مذکور ہے کہ
’’ اُن کو فوج کے ہمراہ ایک مہم پر جانے کا حکم ہوا۔ انہوںنے سوچا کہ دشمن سے جنگ پیش آنے والی ہے اور ممکن ہے کہ نبی اکرم کی اقتداء میں دوبارہ نماز پڑھنے کا موقع نصیب نہ ہو چنانچہ پیغمبر اسلام ﷺکی اقتدا میں نمازِ جمعہ ادا کرنے کی نیت سے حضرت عبداللہ ؓ نے فوج کو علیٰ الصبح روانہ کردیا اور خود کچھ دیر کے لئے ٹھہر گئے ۔ جمعہ سے فارغ ہو کر نبی ﷺنے حضرت عبداللہؓ کو دیکھ کر فرمایا: عبداللہؓ تو نے فلاں فوج کے ساتھ جانا تھا، یہاں ٹھہرنے کا کیا مقصد؟ تو حضرت عبداللہؓ نے عرض کی کہ آپؐ کی اقتداء میں جمعہ پڑھنے کے شوق سے رہ گیا ہوں ۔ آپؐﷺنے فرمایا:’’ اے عبداللہؓ اپنے خیال اور مرضی سے کی ہوئی نیکی بارگاہِ ایزدی میں مقبول نہیں بلکہ عمل کی مقبولیت اور قربِ الٰہی میری اتباع پر منحصر ہے۔ ’’لو أنفقت ما في الأرض جمیعا ما أدرکت فضل غدوتھم‘‘ (ترمذی، مشکوٰۃ، باب آداب السفر)
’’اگر روئے زمین کی تمام دولت تیرے قبضہ میں آجائے اور تو اس کو راہ ِخدا میں صرف کردے پھر بھی تو ان لوگوں کے اجر و ثواب اور مرتبہ کو نہیں پا سکتا جو میرا فرمان سن کر صبح کو روانہ ہوچکے ہیں‘‘
غور فرمائیں،نمازِ جمعہ کی ادائیگی سے ہفتہ عشرہ کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور پھر مسجد نبویؐ میں ایک جمعہ ادا کرنے سے ایک ہزار جمعوں کے برابر ثواب ملتا ہے اور پھر نبی علیہ السلام کی اقتدا میں تو نور علی نور ہے لیکن آپﷺنے فرمایا کہ اے عبداللہؓ! روئے زمین کی تمام دولت راہ ِخدا میں خرچ کرنے سے بھی وہ اجروثواب اور مرتبہ نہیں مل سکتا جو میرا اشارہ پا کر روانہ ہوچکے ہیں۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
6۔بدعت کی تعریف
بدعت کی تعریف ا مام نووی ؒنے شرح مسلم ص۲۸۵ پر اسی طرح فرمائی ہے کہ
’’البدعۃ کل شئی عمل علی غیر مثال سابق‘‘ ’’دین میں ہر وہ نیا کام جس کی مثال پہلے نہ ملتی ہو‘‘
اور مختار الصحاح ص ۳۱۲ پر ہے کہ
’’البدعۃ الحدث فی الدین بعد الإکمال‘‘ بدعت سے مراد ، دین کے نبی اکرم پر مکمل ہوجانے کے بعد دین میں کسی بات کو (دین بنا کر ) اضافہ کرنا‘‘
اور الاعتصام از امام شاطبی ؒکے ص۳۷ پر تفصیلاً مذکور ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ:
’’بدعت ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو دین میں نئی ایجاد کی گئی ہو او رکتاب و سنت میں اس کی اصل نہ ہو۔ ‘‘
محترم قارئین! عید میلاد النبیؐ ایک بدعت ہے جس کا وجود ۶۰۰ھ؁ تک ناپید ہے اور ۶۰۴ھ کے بعد ایک مسرف، بے دین اور عیاش بادشاہ نے اس کو ایجاد کیا۔ اس بدعت نے یہ مقام حاصل کرلیاہے کہ نام نہاد مسلمانوں اور علمائِ سوء نے اس کو تیسری عید تصور کر لیا ہے۔ اللہ کریم کتاب و سنت پر عمل کرنے کی ہمیں توفیق فرمائے اور بدعات و خرافات سے جملہ مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔ آمین!
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
خلاصہ
آخر میں آج سے ساٹھ سال پہلے کا فتویٰ بھی ملاحظہ فرمائیں جو اخبار اہلحدیث امرتسر شمارہ ۲۹، جلد ۳۵ مؤرخہ ۱۶ ؍ربیع الاول ۱۳۵۷ھ بمطابق ۳۰ مئی ۱۹۳۸ء میں شائع ہوا۔
الاستفتاء …کیا فرماتے ہیں علما ئِ دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ میں کہ
1۔ ماہ محرم الحرام میں دسویں تاریخ کا اور ماہ ربیع الاول میں بارہویں تاریخ کی عظمت کا ثبوت کتاب و سنت، صحابہ، تابعین، ائمہ اور محدثین سے ہے یا نہیں؟
2۔’’ماہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ او رمحرم الحرام کی دسویں تاریخ کو تمام دن کاروبار بند کرنا، اور اس کی عظمت سمجھنا اور اس دن محفل میلاد منعقد کرنا کیا وقعت رکھتا ہے؟
3۔اس دن کی عظمت اور محفل میلاد کرنے کا ثبوت قرآن و حدیث صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور محدثین سے ہے یا نہیں؟
4۔ ماہ ربیع الاول میں شریعت ِمطہرہ سے محفل میلاد کا ثبوت ہے یا نہیں … بیّنوا توجروا
الجواب بعون الوھاب:
’’ دنیا کا کاروبار بند کرنا مسلمانوں کے لئے اظہارِ غم کی غرض سے، عاشورہ کے روز بھی شرعاً قرآن و حدیث، اجماع، قیاس میں کسی ایک دلیل سے بھی ثابت نہیں ۔اس بندش پر بارہویں ربیع الاول کی بندش کو قیاس کرنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے؟ خلفائے راشدین، ائمہ اربعہ اور سلف صالحین کے زمانہ میں اس بارہویں تاریخ میں دنیا کے کاروبار بند رکھنا کہیں ثابت نہیں او راسی طرح محفل میلاد کا منعقد کرنا بھی اس مروّجہ طور پر ثابت نہیں ۔شرعاً کسی میت پر تین روز سے زائد صدمہ کا اظہار کرنا جائز نہیں ماسوا بیوہ عورت کے کہ اس کے لئے چار ماہ دس دن مقرر ہیں کہ ان ایام میں زینت و آرائش نہ کرے لیکن دنیاکے ضروری کام کے ترک کردینے کا حکم شرعی اس کے لئے بھی نہیں تو آنحضرت علیہ السلام کے وصال کی بارہویں تاریخ کے روز اگر اس زمانے میں دنیاوی کاروبار اور بازار بند کرنا جائز ہوتا یا کردیا جائے تو چند سال کے بعد عوام اس حکم کو شرعی اور ضروری ٹھہرانے کی وجہ سے گنہگار اور گمراہ ہوں گے اور ایسا کام جو ذریعہ ٔمعصیت ہو وہ بھی ناجائز اور گناہ ہوتا ہے ‘‘۔
أجابہ و کتبہ:حبیب المرسلین عفی عنہ نائب مفتی مدرسہ امینیہ ،دہلی (حنفی) میاں محمد، دہلی (حنفی) ، محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ ،دہلی (حنفی)، الجواب صحیح محمد ابراہیم عفی عنہ ، دہلی (حنفی) ، ابویحییٰ عبداللطیف صدر بازار ،دہلی (حنفی)، محمد جونا گڑھی دہلی (اہلحدیث) ،عبدالسلام مدرسہ میاں صاحب (اہلحدیث)، محمد شفیع عفی عنہ (اہلحدیث)

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 
شمولیت
دسمبر 22، 2013
پیغامات
146
ری ایکشن اسکور
115
پوائنٹ
49
ماشاءاللہ اس موضوع پہ نہایت مدلل تحریر ہے، اللہ تعالی ہمارے اس قافلہ کے سالارجناب بھائی کلیم حیدرصاحب کے علم وعمل میں برکت عطافرمائےآمین، اورامیدہے کہ آئندہ بھی ہمیں ایسی عمدہ تحاریرسے مستفید فرمائیں گے۔ان شاءاللہ
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,399
پوائنٹ
891
بہترین مضمون ہے ماشاءاللہ۔
میں نے شیئر کر دیا ہے، دیگر ساتھی بھی اپنے سوشل نیٹ ورک پر ضرور شیئر کریں!۔
 
Top