2۔ابن دحیہ کے متعلق ائمہ دین کے ارشادات
آئیے شاہِ اربل کے اس گرانقدر تحفے کو شرعی مقام دینے والے ابن دحیہ کے متعلق ائمہ دین اور محدثین کے ارشادات ملاحظہ فرمائیں:
1۔
ابن دحیہ نہایت متکبر، گستاخ، ائمہ دین او رمحدثین پر سب و شتم کرنے والا اور ان کی عیب جوئی میں بڑا بے باک تھا ، (لسان المیزان :ص۲۹۲، جلد ۴)
2۔امام سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
إن أبا الخطاب ابن دحیۃ یفعل ذلک کأنہ النبي، وضع الحدیث فی قصر المغرب (تدریب شرح تقریب۱؍۲۸۶) ’’ابن دحیہ بڑا وضاع الحدیث تھا ،مولود کے متعلق جھوٹی روایات بنا کر لوگوں کو سناتا۔‘‘
3۔قاضی واصلؒ فرماتے ہیں کہ
ابن دحیہ حدیث بیان کرنے میں بے تکی اور اٹکل پچو سے کام لیتا تھا (لسان ص۲۹۲؍۴)
4۔امام ابن نقطہ فرماتے ہیں کہ
أنہ کان یدّعی أشیاء لاحقیقۃ لھا (لسان المیزان ص۲۹۳؍۴) یعنی ’’وہ ایسی چیزوں کا دعویدار تھا جن کی کوئی حقیقت نہ تھی۔‘‘
5۔ابن عساکر فرماتے ہیں کہ
’’ابن دحیہ حدیث ِنبویؐ بیان کرنے میں کذب بیانی سے کام لیتا اور بے اصل بات کہنے میں بے باک تھا ‘‘ (لسان المیزان ص۲۹۷؍۴)
6۔علامہ ابن حجرؒ نے لسان المیزان ص۲۹۶؍۴ پر ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ:
امام علی بن حسین اصبہانی ؒبیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ابن دحیہ کا ہمارے شہر سے گزر ہوا اس نے اپنے آپ کو بڑا محدث، فقیہ، ادیب، مفسر اور متقی پرہیز گارظاہر کیا او رمیرے والد نے ان کی خوب تواضع کی۔ اتنے میں ابن دحیہ نے ایک مصلیٰ نکالا اور اس جائے نماز کو چوم کر حلفاً فرمایا کہ خدا کی قسم اس مصلیٰ پر میں بیت اللہ شریف میں ایک ہزار سے زائد نفل نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھ چکا ہوں او ربارہا اس مصلیٰ پر بیٹھ کر میں نے قرآن مجید ختم کیا ہے۔‘‘…والد صاحب نے وہ مصلیٰ ابن دحیہ سے خرید لیا، اسی دن اصبہان سے عصر کے بعد ایک شخص والد صاحب کے پاس آیا، اتفاقاً ابن دحیہ کا ذکر بھی آگیا تو نووارد نے کہا کہ ’’کل ابن دحیہ نے بڑا قیمتی مصلیٰ خریدا ہے۔‘‘ والد صاحب نے وہی مصلیٰ پیش کردیا جس کے متعلق ابن دحیہ نے حلفاً کہا تھا کہ ’’میں نے اس مصلیٰ پر ایک ہزار رکعت اور بارہا قرآنِ مجید بیت اللہ میں بیٹھ کر ختم کیا ہے‘‘ اس شخص نے دیکھتے ہی کہا کہ ’’خدا کی قسم یہ وہی جائے نماز ہے جس کو ابن دحیہ نے خریدا تھا‘‘ … والد صاحب یہ سن کر خاموش ہوگئے اور اس کی یہ چالاکی اور کذب بیانی دیکھ کر دنگ رہ گئے اور ابن دحیہ کو اپنی نظروں سے گرا دیا۔ ‘‘ (لسان المیزان : ص۲۹۶ جلد ۴)
اب یہ بات واضح ہوگئی کہ عید ِمیلاد کے جواز کا فتویٰ دینے والا، پیٹ پرست، خوشامدی، کذاب، وضاع الحدیث تھا۔ کیا ایسے دروغ گو، ہرزہ سرا، اور یا وہ گو شخص کا فتویٰ قابل حجت اور قابل سند بن سکتا ہے؟ ہرگز نہیں
خلاف ِپیغمبر کسے راہ گزید … ہر گز بمنزل نخواہد رسید
1۔امام ابن حجر عسقلانی ؒ رقم فرماتے ہیں کہ
إن أصل المولد بدعۃ لم ینقل أحد من السلف الصالح فی قرون الثلاثۃ
’’محفل میلاد بدعت ہے جس کا ثبوت صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین سے نہیں ملتا۔ ‘‘
2۔
قال عبدالرحمن المغربی عن الحنفیۃ فی فتاواہ إن أصل المولود بدعۃ لم یفعلہ رسول اللہ ﷺ والخلفاء والائمۃ (فتاویٰ عبدالرحمن مغربی)
’’علامہ عبدالرحمن حنفی اپنے فتاویٰ میں رقمطراز ہیںکہ محفل میلاد بدعت ہے نہ اس کا نبیﷺ نے حکم فرمایا اور نہ خود کیا ۔اور نہ ہی صحابہ کرامؓ اور ائمہ دین نے اس طرف توجہ دی، اور نہ ہی کسی کو کرنے کی اجازت دی ‘‘ ؎ ’’جن پہ تکیہ تھا ، وہی پتے ہوا دینے لگے‘‘
3۔ابوالقاسم عبدالرحمن بن عبدالمجید مالکی ؒ ارشاد فرماتے ہیں کہ
ما یھتم لعمل المولد فی الربیع الاول بدعۃ فیلیق أن ینکر مایھتم بہ (تکملۃ التفسیرلابن القاسم عبدالرحمن مالکیؒ)
’’جو مجلس میلاد ربیع الاول کے مہینہ میں رچائی جاتی ہے، یہ بدعت ہے ،اس لئے ضروری ہے کہ ایسی محفلوں پر نکیر (مخالفت) کی جائے‘‘
4۔علامہ شرف الدین احمد حنبلی ؒ فرماتے ہیں کہ:
إن ما یعمل بعض الأمراء فی کل سنۃ احتفالا لمولدہﷺ مع اشتمالہ علی التکلفات الشیعۃ بنفسہ بدعۃ أحدثہ من یتبع ھواہ ولایعلم ما أمرہ صاحب الشریعۃ ونھاہ (القول المُعتمَد)
’’بعض امرا ء ہر سال آپﷺ کے ذکر ِولادت سے متعلق جو محافل قائم کرتے ہیں وہ بہت سے نا شائستہ تکلفات کے علاوہ فی نفسہٖ بدعت ہے۔ اس محفل کے موجد، خواہشات ِنفسانیہ کے پیروکارتھے، انہیں کوئی علم نہیں کہ صاحب ِشریعت نے کس چیز کا حکم دیا او رکس چیز سے روکا ہے‘‘
5۔ علامہ ابن الحاج مالکی ؒ نے اپنی مایہ ناز کتاب مدخل میں
اس کو بدعت لکھا ہے اور اس کے جملہ امور کو خلاف شرع گردانا ہے (مدخل)
6۔علامہ علائو الدین شافعیؒ فرماتے ہیں کہ
’’محفل میلاد بدعت ہے۔ ‘‘ (شرح البعث والنشور)
7۔علامہ تاج الدینؒ فرماتے ہیں کہ
’’ مجھے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ میں اس کے متعلق کوئی دلیل نہیں ملی ۔صحابہ کرامؓ اور ائمہ اسلام سے بھی اس کے متعلق جواز کا فتویٰ منقول نہیں بلکہ یہ ایک بدعت ہے جس کو شکم پرور نفس پرست لوگوںنے ایجاد کیا ہے۔ (تفصیل کے لئے فتاویٰ سیوطی ص۳۹۴ تا ۳۹۶ کا مطالعہ مفید رہے گا )
8۔علامہ محمد بن ابی بکر مخزومی کتاب البدع والحوادث میں تحریر فرماتے ہیں کہ:
فمن المنکرات القبیحات والمکروھات الفضیحات فی ھذہ الأعصار ما یعمل لمولد النبیﷺ ’’تمام برائیوں اور گمراہیوں سے بڑھ کر برائی اور گمراہی فی زمانہ مجلس میلاد کا قیام ہے اور سابقہ امتوں کی تباہی بدعتوں کی وجہ سے ہی ہوئی ‘‘ (کتاب البدع والحوادث)
9۔امام نصیر الدین شافعیؒ سے محفل میلاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ:
ا س کا کرنا سلف صالحین سے منقول نہیں بلکہ یہ ایک مجلس عہد ِصحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے بعد برے زمانہ میں رائج ہوئی ۔جو کام انہوں نے نہیں کیا، ہمیں اس کام کو کرکے بدعتی بننے کی کیا ضرورت ہے (کتاب شرعِ الٰہیہ)
حاملین مذاہب ِاربعہ اور دیگر اَسلاف کے ارشادات سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جو کام عہد ِصحابہؓ، تابعینؒ اور ائمہ دین میں ناپید و مفقود ہو، اس کو ایجاد کرنا اور فروغ دینا بدعت ہے اور ایسے کام کرنے والے کا کوئی بھی عمل بارگاہ ِایزدی میں مقبول نہیں اور ایسے شخص کو حوضِ کوثر سے بھی محرومی ہوگی اور سید ُالانبیائﷺ کی زبانِ مبارک سے،
’’سُحقا سُحقا لمن غیر بعدي‘‘… کی صدا آئے گی کہ ’’ دین میں نئے اُمور کو فروغ دینے والوں کیلئے جہنم ہے، ان کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔‘‘