lovelyalltime
سینئر رکن
- شمولیت
- مارچ 28، 2012
- پیغامات
- 3,735
- ری ایکشن اسکور
- 2,899
- پوائنٹ
- 436
قصص العلماء --- مرزا محمد تنکابنی --- شبیہ سازی کرنا حرام ہے / مرزا محمد تنکابنی (شیعہ) کا فتوی
ترجمہ : شبیہ سازی صفوی دور کی اختراع ہے اور چونکہ مذہب تشیع ایرانی علاقوں میں سلاطین صفوی نے بزور شمشیر پھیلایا اور حضرت السید شہداء کے مصائب کے بیان کے لئے ذاکرین بلائے جاتے تھے اور لوگ گریہ نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ اس مذہب میں راسخ الاعتقاد نہیں تھے ، لہذا شبیہ سازی کی اختراع ہوئی کہ شاید حضرت السید شہداء کے مصائب کی تصویر کشی سے ان کے دل بھر آئیں اور ان میں رقت قلب پیدا ہو - لفظ تعبیہ کے معنی اختراع ہی ہیں اور سب جانتے ہیں کہ سابق ادوار میں اس شبیہ سازی کا وجود نہ تھا اور علماء اس کو جائز نہیں مانتے تھے بلکہ اکثر اس کو حرام قرار دیتے تھے اور حرام قرار دینے والوں میں سے جلیل القدر فقیہ شیخ جعفر نجفی اور بعض نے توقف اختیار کیا ہے جیسے حجتہ الاسلام نے اپنی سوال و جواب کی کتاب میں اس مسئلہ پر خاموشی ظاھر کی ہے اور دوسرے بھی اس کے متعلق فتویٰ دینے میں توقف کرتے تھے - میرا خیال ہے کہ یہ متوفقین (توقف کرنے والے) ، دراصل مانعین (منع کرنے والے) ہی ہیں - فقہ میں سے شاذو نادر ہی کسی نے تعبیہ و شبیہ سازی کو تجویز کیا ہے - مختصر یہ کہ میں (مرزا محمد تنکابنی) تعبیہ و تشبیہ کو حرام قرار دیتا ہوں ، اس لئے کہ تعبیہ اگر ہے بھی تو سنت عبادت ہے اور اصل عبادات میں شارع مقدس کی طرف سے اس پر کوئی دلیل نہیں ملتی کیونکہ عبادت توقیفی اور لازمی ہے اور سب یہ تسلیم کرتے ہیں اور جو اس کو جائز قرار دیتے ہیں ، ان کے پاس سوائے سیرت صفوی کے کوئی دلیل نہیں ہے اور سیرت کو بالکل مسخ کر دیا گیا ہے اور یہ بھی یقینی ہے کہ رسول اللہ (صلی الله علیہ وسلم) و آئمہ اہل بیت کے زمانے میں اس کا کوئی وجود نہ تھا ، اس لئے اس سیرت کی پیروی نہیں ہو سکتی -
(قصص العلماء ، مرزا محمد تنکابنی ، صفحہ ٨٠ ، ٨١)