عبد الرشید
رکن ادارہ محدث
- شمولیت
- مارچ 02، 2011
- پیغامات
- 5,539
- ری ایکشن اسکور
- 9,997
- پوائنٹ
- 667
تبصرہ
علم وقف منجملہ علوم قرآنیہ میں سے ایک ہے جو کہ علم تجوید کا تکملہ و تتمہ ہے ۔ کیونکہ تجوید کی طرح وقوف کی معرفت بھی ترتیل کا ایک حصہ اور اس کا جز ہے۔اہمیت کے لحاظ سے علم وقف کسی طرح بھی علم تجوید سے کم نہیں جس آیت مبارکہ سے تجوید کا وجوب ثابت ہوتا ہے اسی آیت سے علم وقف کا بھی وجوب ثابت ہوتا ہے ۔اسی لیے قراء نے رسائل تجوید میں وقف کے مسائل بھی بیان کیے ہیں حتی ٰ کہ بہت سے علماء نے اس موضوع پر مستقل کتابیں بھی تصنیف کی ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’شرح جامع الوقف‘‘ رضی احمد فلاحی بھاگلپوری کی تصنیف ہے جو کہ علم الوقف پر 240؍ سوالات و جوابات کا مجموعہ ہے۔فاضل مصنف نے طلبہ کی سہولت کے پیش نظر اس کتاب میں مبادیات وقف کو جو کہ علم وقف کے لیے اصل الاصول کا درجہ رکھتی ہیں کو اس میں پیش کیا ہے اور کیفیت ِوقف و محل وقف سے کیا مراد ہے؟ اس کو ذکر کرتے ہوئے ان کی صورِ اربعہ کی لغوی و اصطلاحی تعریف کو ان کے فوائد قیود کے اہتمام کے ساتھ بیان کیا ہے۔ (م۔ا)