• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شرعی دلیل کسے کہتے ہیں؟ اور ایک غلط فہمی کا اذالہ

Ahmad Ashraf

مبتدی
شمولیت
اپریل 30، 2026
پیغامات
6
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
3
بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، أما بعد
شرعی دلیل کسے کہتے ہیں؟ اور ایک غلط فہمی کا اذالہ

کسی بھی مسئلے پر گفتگو کرنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ شرعی دلیل کسے کہتے ہیں۔ بہت سے لوگ ایسی چیزوں کو بھی شرعی دلیل سمجھ لیتے ہیں جن کی شریعت میں کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ ہم اس موضوع پر تفصیل سے بات کریں گے۔ آۓ اس بات کو سمجھتے ہے دلیل کسے کہتے ہیں؟
شرعی دلیل کسے کہتے ہیں؟
شرعی دلیل سے مراد وہ بنیاد، ذریعہ یا ماخذ ہیں جن سے اسلام کے عقائد، احکام اورعبادات معلوم کیے جاتے ہیں۔ اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک شرعی احکام کے بنیادی مصادر یہ ہیں:
متفق علیہ ماخذ (بنیادی ذرائع)
ان چار ماخذ پر تمام مسلمانوں اور مکاتب فکر کا اتفاق ہے:
  1. قرآن مجید: شریعت کا سب سے پہلا، قطعی اور بنیادی ماخذ۔ باقی تمام ذرائع اسی سے روشنی حاصل کرتے ہیں۔
  2. سنتِ نبوی ﷺ (صحیح احادیث): ہر وہ قول، فعل، تقریر یا صفت جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو حدیث کہلاتی ہے۔ یہ قرآن پاک کی تشریح و توضیح کرتی ہے۔
  3. اجماع: اسلامی شریعت اور فقہ میں اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد، کسی مخصوص زمانے میں امت کے تمام مستند علما و فقہا کا کسی شرعی مسئلے پر متفق ہو جانا۔
  4. قیاس: قرآن و حدیث کے اصولوں کی روشنی میں نئے مسائل کا شرعی حل۔
مختلف فیہ ماخذ (ثانوی ذرائع)
ان ذرائع کو فقہا نے ضرورت، مصلحت اور حالات کے مطابق احکام کے استنباط کے لیے استعمال کیا ہے، تاہم ان کی حجیت (دلیل بننے) میں کچھ علمی اختلافات پائے جاتے ہیں:
  • استحسان: کسی واضح قیاس کو چھوڑ کر کسی مضبوط دلیل یا مصلحت کی بنا پر ایسے فیصلے کی طرف جانا جو عام قانون سے ہٹ کر ہو لیکن انصاف کے قریب ہو۔
  • مصالح مرسلہ (عوامی مصلحت): ایسے معاملات جن کے بارے میں قرآن و حدیث میں نہ تو واضح اجازت ہو اور نہ ہی ممانعت، لیکن ان کا کرنا عوام کے فائدے اور بھلائی کے لیے ضروری ہو جیسے ٹریفک قوانین یا شناختی کارڈ کا نظام۔
  • عرف و عادت (رواج): کسی معاشرے کے وہ اچھے اور مروج طریقے جو اسلام کے بنیادی اصولوں اور اخلاقیات سے نہ ٹکراتے ہوں۔
  • قولِ صحابی: نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام کے وہ فتاویٰ یا اقوال جو انہوں نے اپنے اجتہاد سے دیے۔
  • سد الذرائع (برائی کا راستہ روکنا): کسی ایسے کام پر پابندی لگانا جو بذاتِ خود تو جائز یا مباح ہو، لیکن وہ لازمی طور پر کسی بڑے گناہ یا نقصان کا ذریعہ بن رہا ہو۔
  • شرع من قبلنا (پچھلی امتوں کی شریعت): پچھلے انبیا کے وہ احکام جن کا ذکر قرآن یا حدیث میں ہوا ہو اور ہماری شریعت میں ان کی واضح منسوخی نہ آئی ہو۔
وہ چیزیں جو شرعی دلیل نہیں ہیں
بعض چیزیں ایسی ہیں جنہیں لوگ دین کا حصہ یا شرعی دلیل سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ شریعت میں ان کی حیثیت نہیں۔
1۔ باپ دادا کا طریقہ
باپ دادا کا طریقہ، معاشرتی رسمیں یا مقامی روایات اس وقت تک شرعی دلیل نہیں بنتیں جب تک ان کی بنیاد قرآن و سنت میں موجود نہ ہو۔ اگر وہ قرآن و سنت کے خلاف ہوں تو ان پر عمل کرنا جائز نہیں۔
سورہ البقرہ (آیت 170)
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ وحی کی پیروی کرو، تو کہتے ہیں کہ نہیں، بلکہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ ہی ہدایت یافتہ ہوں؟
سورہ الزخرف (آیت 23)
"اور اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقشِ قدم کی پیروی کرنے والے ہیں۔"
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے واضح کیا ہے کہ دین اور حق کے معاملے میں صرف باپ دادا کا طریقہ یا پرانی رسمیں دلیل نہیں بن سکتیں، بلکہ انسان کو اپنی عقل استعمال کرتے ہوئے اللہ کی نازل کردہ کتاب اور ہدایت پر چلنا چاہیے۔
2۔ خواب
خواب کسی شخص کے لیے خوشخبری، تنبیہ یا ذاتی رہنمائی کا ذریعہ ہو سکتا ہے، لیکن شریعت میں کسی عقیدے، عبادت کی مخصوص فضیلت، ثواب یا کسی شرعی حکم کو ثابت کرنے کی دلیل نہیں ہوتا۔۔ یہ حق صرف رسول اللہ ﷺ کو حاصل تھا، کیونکہ آپ ﷺ کے خواب بھی وحی کا حصہ ہوتے تھے۔
قرآن کریم میں دین کی تکیمل کا اعلان کر دیا گیا ہے:
"الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا" (سورہ المائدہ: 3)
ترجمہ: "آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔"
استدلال: جب دین رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں ہی مکمل ہو چکا ہے، تو اب کسی بھی شخص کے خواب کی بنیاد پر دین میں کسی نئی چیز کا اضافہ یا کسی شرعی حکم کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ شرعی احکام صرف وحی (قرآن و حدیث) سے ثابت ہوتے ہیں۔
ایک سادہ مثال:
اگر کوئی شخص کہے کہ مجھے خواب میں کسی بزرگ یا ولی اللہ نے بتایا کہ فلاں درود کو کسی خاص دن یا رات میں 100 مرتبہ پڑھنے سے جنت واجب ہو جاتی ہے یا مغفرت یقینی ہو جاتی ہے، تو صرف خواب کی بنیاد پر اس بات کو قبول نہیں کیا جا سکتا، جب تک اس کی دلیل قرآنِ کریم یا صحیح احادیث سے ثابت نہ ہو۔
"خواب شرعی دلیل نہیں ہے" ایک اصولی فقہی قاعدہ ہے- لہٰذا خواب کا احترام اپنی جگہ، لیکن دین کے احکام، عقائد اور عبادات کی فضیلت کا مدار صرف قرآن و سنت کی صحیح دلیل پر ہے، نہ کہ خواب پر۔
3۔ من گھڑت اور غیر ثابت روایات
جو بات رسول اللہ ﷺ سے صحیح سند کے ساتھ ثابت نہ ہو، اسے دین کی دلیل بنانا درست نہیں۔ اسی طرح من گھڑت روایات یا ایسی ضعیف روایات جن سے شرعی حکم یا عقیدہ ثابت نہیں ہوتا، انہیں دلیل بنانا جائز نہیں۔
اس اصول کی بنیاد درج ذیل قرآنی آیات اور احادیث پر ہے:
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا...
"اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو..." (سورہ الحجرات: 6)
حدیث مبارکہ سے دلیل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے۔“ (صحیح مسلم: 7)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ مجھے بہت سی حدیثیں بیان کرنے سے یہ بات روکتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 108]
4۔ صرف اکثریت کی رائے

کسی کام کو بہت سے لوگوں کا کرنا اس کے درست ہونے کی دلیل نہیں۔ حق و باطل کا معیار لوگوں کی تعداد نہیں بلکہ قرآن و سنت کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
«"اور اگر تم زمین میں رہنے والوں کی اکثریت کی بات مانو گے تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے۔" (سورۃ الأنعام: 116)»
5۔ شخصیت پرستی
کسی عالم، پیر یا بزرگ کی بات کو قرآن و سنت سے بالاتر سمجھنا درست نہیں۔ انبیائے کرام علیہم السلام کے علاوہ کوئی معصوم نہیں۔ ہر شخص کی بات قبول بھی کی جا سکتی ہے اور رد بھی، لیکن رسول اللہ ﷺ کی بات واجب الاتباع ہے۔
سورہ التوبہ میں پچھلی امتوں کی شخصیت پرستی کی نفی کرتے ہوئے فرمایا:
اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ
"انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو اپنا رب بنا لیا تھا۔" (سورہ التوبہ: 31)
رسول اللہ ﷺ کا مشہور فرمان ہے:
لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ
"اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں، اطاعت تو صرف معروف میں ہے۔" [مختصر صحيح مسلم/حدیث: 1225]
6۔ ذاتی رائے، عقل یا پسند

صرف اپنی عقل، فائدے یا ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر کسی چیز کو حلال یا حرام قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عقل کا کام شریعت کو سمجھنا ہے، نہ کہ شریعت کے مقابلے میں نیا دین یا نئے احکام بنانا۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ
"اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں، تو پھر انہیں اپنے معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار باقی رہے۔" (سورہ الاحزاب: 36)
حاصل کلام

دینِ اسلام میں عقائد، عبادات اور احکام کا دارومدار صرف اور صرف مستند شرعی ذرائع (قرآن، سنت، اجماع اور قیاس) پر ہے۔ کسی بھی بات یا عمل کے صحیح ہونے کے لیے وحی الٰہی کی دلیل ہونا ضروری ہے۔ باپ دادا کی رسمیں، خواب، من گھڑت روایات، لوگوں کی اکثریت، شخصیت پرستی یا ذاتی عقل و پسند شریعت میں کوئی حجت نہیں رکھتیں اور ان کی بنیاد پر دین میں کوئی نیا حکم طے نہیں کیا جا سکتا۔
 
شمولیت
دسمبر 26، 2025
پیغامات
10
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
8
 
Top