ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 910
- ری ایکشن اسکور
- 232
- پوائنٹ
- 111
شرک اکبر اور شرک اصغر کی مغفرت کا مسئلہ اور ان پر مرتب ہونے والی وعیدیں- شیخ صالح الفوزان کے بیان کی روشنی میں
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسوله محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد!
اسلام میں توحید تمام اعمال کی بنیاد اور دین کی اصل ہے، اور شرک اس اصل کے منافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا، تمام انبیاء و رسل علیہم السلام کو توحید کی دعوت دینے اور شرک سے روکنے کے لیے مبعوث کیا، اور اپنی کتاب عزیز میں شرک کی قباحت، اس کی سنگینی اور اس پر مرتب ہونے والی وعید کو بار بار بیان فرمایا ہے۔
شرک کی شناعت کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مغفرت کے بیان میں اس کا خصوصی ذکر فرمایا، چنانچہ ارشاد ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، اور اس کے علاوہ جس گناہ کو چاہے بخش دیتا ہے۔ [النساء: 48]
یہ آیت شرک کی سنگینی اور اس کے دوسرے گناہوں سے امتیاز کو واضح کرتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا شرک اصغر بھی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں داخل ہے یا نہیں؟ اس تعلق سے شیخ صالح الفوزان سے سوال ہوا :
«السؤال:قولُه تعالَى: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ﴾ [النساء: 48]، مَا المقصودُ بالشركِ هنَا: الأصغرُ أمِ الأكبرُ؟!»
اللہ تعالیٰ کے فرمان «إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ» میں شرک سے کون سا شرک مراد ہے؟ شرک اصغر یا شرک اکبر؟
اس کے جواب میں شیخ صالح الفوزان فرماتے ہیں:
«الجواب:كلُّه يشملُه، الآيةُ عامَّةٌ، ﴿لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ﴾ هذَا عامٌّ؛ الشركُ الأكبرُ والأصغرُ، ومثلُ قولِه: ﴿وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا﴾ [النساء: 36]، كلمةُ ﴿شَيْئًا﴾ عامَّةٌ؛ الشركُ الأكبرُ والأصغرُ.»
اس آیت میں دونوں قسم کا شرک شامل ہے۔ یہ آیت عام ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کا فرمان «لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ» اپنے عموم کے اعتبار سے شرک اکبر اور شرک اصغر، دونوں کو شامل ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے: «وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا» اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ [سورۃ النساء: 36] اس آیت میں لفظ «شَيْئًا» (کسی چیز کو) عام ہے، لہٰذا اس میں بھی شرک اکبر اور شرک اصغر، دونوں شامل ہیں۔
[الفتاوى المستخرجة من دروس شرح قرة عيون الموحدين]
اسی طرح شیخ صالح الفوزان سے سوال کیا گیا کہ کیا اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ﴾ شرک اکبر اور شرک اصغر، دونوں کو شامل ہے؟
شیخ صالح الفوزان نے جواب دیا:
«هُوَ الظَّاهِرُ نَعَمْ، هُوَ الظَّاهِرُ أَنَّهُ حَتَّى الشِّرْكَ الْأَصْغَرَ لَا بُدَّ أَنْ يُعَذَّبَ عَلَيْهِ، لَكِنْ لَيْسَ مِثْلَ تَعْذِيبِ الشِّرْكِ الْأَكْبَرِ، الشِّرْكُ الْأَكْبَرُ يُخَلَّدُ فِي النَّارِ، وَأَمَّا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ فَيُعَذَّبُ بِقَدْرِهِ ثُمَّ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ»
ظاہر بات یہی ہے، ہاں، ظاہر یہی ہے کہ شرک اصغر پر بھی عذاب دیا جائے گا، لیکن اس کا عذاب شرک اکبر کے عذاب جیسا نہیں۔ شرک اکبر کا مرتکب جہنم میں ہمیشہ رہے گا، جبکہ شرک اصغر کا مرتکب اپنے شرک کی مقدار کے مطابق عذاب دیا جائے گا، پھر جہنم سے نکال دیا جائے گا۔
[سؤال وجواب من شرح كتاب الفرقان بين أولياء الرحمن وأولياء الشيطان]
اس بیان میں شیخ صالح الفوزان نے شرک اکبر اور شرک اصغر کے مابین بنیادی فرق واضح کیا ہے کہ شرک اکبر پر مرنے والے کے لیے خلود فی النار ہے، جبکہ شرک اصغر پر مرنے والے کے لیے اس کے شرک کی مناسبت سے عذاب ہے، لیکن وہ ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا۔
شیخ صالح الفوزان نے اپنے مذکورہ بیان میں آیت کے عموم سے استدلال کیا ہے کہ اگر کوئی شخص شرک اصغر سے توبہ کیے بغیر مر جائے تو اسے اس کے سبب عذاب دیا جائے گا، لیکن وہ شرک اکبر کے مرتکب کی طرح ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا۔
اللہ تعالیٰ نے شرک اکبر کے بارے میں نہایت واضح فیصلہ فرمایا ہے: ﴿إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ﴾ بے شک جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے، اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ [المائدۃ: 72]
اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو شخص شرک اکبر کا مرتکب ہو اور اس سے توبہ کیے بغیر اسی حالت میں مر جائے، اس کے لیے جنت میں داخلہ نہیں، بلکہ اس کا انجام دائمی جہنم ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ شرک اکبر محض کسی گناہ کا نام نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اس حق کو غیر اللہ کے لیے صرف کرنا ہے جو خالصتا اسی کے لیے مخصوص ہے۔ مثلا کسی غیر اللہ کو عبادت کے طور پر پکارنا، اس کے لیے عبادت کی کوئی صورت بجا لانا جیسے نذر و نیاز، ذبح وغیرہ۔
شیخ صالح الفوزان شرک اکبر کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: «الشِّرْكُ الْأَكْبَرُ هُوَ الَّذِي يُخْرِجُ مِنَ الْمِلَّةِ، وَهُوَ أَنْ يُصْرَفَ شَيْءٌ مِنْ أَنْوَاعِ الْعِبَادَةِ لِغَيْرِ اللَّهِ» شرک اکبر وہ ہے جو انسان کو ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے، اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ عبادت کی انواع میں سے کوئی چیز غیر اللہ کے لیے صرف کی جائے۔
[بيان الفرق بين الشرك الأكبر والأصغر]
لہٰذا جو شخص شرک اکبر پر مر جائے، اس کے متعلق قرآن کی وعید قطعی ہے۔ البتہ شرک اصغر مثلا ریاکاری کی بعض صورتیں، غیر اللہ کی قسم کھانا، اور ایسے الفاظ استعمال کرنا جن میں شرک اصغر پایا جاتا ہو ان کی قباحت کو اس بنا پر کم نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ انسان کو ملت سے خارج نہیں کرتے۔ کیونکہ یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا﴾ اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ [النساء: 36] اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے لفظ «شَيْئًا» استعمال فرمایا ہے اور شیخ صالح الفوزان نے اسی لفظ کے عموم سے استدلال کیا ہے کہ شرک اکبر اور شرک اصغر دونوں اس ممانعت میں داخل ہیں۔
شیخ صالح الفوزان سے شرک اصغر پر مرنے والے کے عذاب کا مسئلہ پوچھا گیا کہ کیا شرک اصغر کا مرتکب جہنم میں ہمیشہ رہے گا؟ آپ نے جواب میں فرمایا:
«لَا، الْقَوْلُ الْمَشْهُورُ عِنْدَ الْجُمْهُورِ أَنَّهُ تَحْتَ الْمَشِيئَةِ، وَالْقَوْلُ الْآخَرُ أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ تَعْذِيبِهِ، لَكِنَّهُ لَا يُخَلَّدُ فِي النَّارِ»
نہیں۔ جمہور کے نزدیک مشہور قول یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت ہے، اور دوسرا قول یہ ہے کہ اسے ضرور عذاب دیا جائے گا، لیکن وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا۔
[فتاوى المجالس في تفسير المفصل من سورة الحجرات إلى الناس]
اس سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں:
اول: شرک اصغر کا مرتکب ملت سے خارج نہیں ہوتا، اس لئے شرک اصغر کے سبب عذاب کے بعد پھر جہنم سے خروج ممکن ہے۔ بلکہ شرک اصغر کی مغفرت کے متعلق علماء کے درمیان اختلاف ہے۔ جمہور کے قول کے مطابق اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت ہے، جبکہ شیخ صالح الفوزان نے دوسرے قول کو اختیار کرتے ہوئے آیت کے عموم کی بنا پر اس کے لیے عذاب کا حکم بیان کیا ہے
دوم: شرک اکبر کا مرتکب ملت اسلامیہ سے خارج ہے، شرک اکبر پر مرنے والے پر قرآن کی وعید کے مطابق جنت حرام اور جہنم کا عذاب دائمی ہے۔ اس کا انجام خلود فی النار ہے وہ ہمیشہ جہنم میں ہی رہے گا۔
البتہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ شرک اکبر سے سچی توبہ کرنے والے کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔ آیت کریمہ میں عدم مغفرت کی وعید اس شخص کے متعلق ہے جو توبہ کیے بغیر شرک پر مر جائے، نہ کہ اس شخص کے متعلق جو زندگی میں شرک سے رجوع کرکے خالص توحید اختیار کر لے۔
پس مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ شرک اصغر کو بھی حقیر نہ سمجھے، اپنے عقیدے اور اعمال کی اصلاح کرے، اور ہر قسم کے شرک سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتا رہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں خالص توحید پر زندہ رکھے، ہر قسم کے شرک سے محفوظ فرمائے، اور خاتمہ ایمان و توحید پر نصیب فرمائے۔ آمین
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين۔