• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شرک اکبر میں جہالت کے عذر کا ابطال شیخ عبداللہ ابا بطین رحمہ اللہ کے کلام کی روشنی میں

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
879
ری ایکشن اسکور
229
پوائنٹ
111
شرک اکبر میں جہالت کے عذر کا ابطال شیخ عبداللہ ابا بطین رحمہ اللہ کے کلام کی روشنی میں

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والمرسلين، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد!

یہ امر کسی صاحب بصیرت سے پوشیدہ نہیں کہ توحید دین کی اساس، ایمان کی روح اور ملت ابراہیمی کی بنیاد ہے، اور شرک اس بنیاد کا منہدم کرنے والا، ایمان کی روشنی کو بجھانے والا اور بندے کو اپنے رب سے دور کرنے والا سب سے عظیم جرم ہے۔ اسی لیے انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کا آغاز توحید سے ہوا اور کتاب و سنت نے شرک کی قباحت کو نہایت صراحت اور شدت کے ساتھ بیان فرمایا۔

لیکن زمانہ حاضر میں بعض منحرف لوگوں نے عذر بالجہل کے نام سے ایسا دروازہ کھول دیا ہے کہ شرک اکبر بھی ان کی نگاہ میں محض جہالت کے پردے میں چھپ جاتا ہے، اور جو شخص غیر اللہ کے لیے عبادت کی کوئی صورت بجا لائے، اسے صرف اس بنا پر معذور قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ اپنے فعل کی حقیقت سے ناواقف تھا۔

ایسے پرفتن ماحول میں علماء کی طرف رجوع ناگزیر ہے؛ توحید و شرک کے باب میں علمائے نجد کا منہج نہایت واضح اور قاطع ہے جو کہ ان گمراہ فرقوں کے منہ پر ایک زبردست طمانچہ ہے جو خود کو اہل سنت یا منہج سلف پر ہونے کا دعوٰی کرتے ہیں اور شرک اکبر کے مرتکبین کو جہالت کا عذر دے کر معذور ٹھہراتے ہیں، یا ان کی تکفیر میں توقف اور تردد کرتے ہیں۔

8831.jpg

11330.jpg

شیخ عبداللہ ابا بطین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«فنقول: كل من فعل اليوم ذلك - أي الشرك - عند هذه المشاهد، فهو مشرك كافر بلا شك، بدلالة الكتاب والسنة والإجماع» یعنی آج بھی جو شخص ان مشاہد وقبور پر شرک کرتا ہے، وہ بلا شک و شبہ مشرک کافر ہے۔ اس کی دلیل کتاب اللہ، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور امت کا اجماع ہے۔

شیخ رحمہ اللہ نے یہاں کسی مبہم، محتمل یا ذووجوہ تعبیر پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ نہایت صاف الفاظ میں فرمایا «فهو مشرك كافر بلا شك» یعنی وہ مشرک کافر ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ «بلا شک» کے الفاظ اس لیے لائے تاکہ کسی بھی توقف، تردد یا تاویل کی گنجائش باقی نہ رہے۔ اور اس کے فورا بعد اس حکم کی بنیاد بھی واضح فرما دی: «بدلالة الكتاب والسنة والإجماع» یعنی یہ ذاتی رائے یا قیاس نہیں بلکہ کتاب، سنت اور اجماع کی دلالت پر مبنی مسئلہ ہے۔

پھر شیخ رحمہ اللہ نے ایک نہایت اہم حقیقت بیان فرمائی کہ ان لوگوں کو اس ہلاکت میں صرف جہالت نے ڈالا ہے:

«ونحن نعلم أن من فعل ذلك ممن ينتسب إلى الإسلام، أنه لم يوقعهم في ذلك إلا الجهل، فلو علموا أن ذلك يبعد عن الله غاية الإبعاد، وأنه من الشرك الذي حرمه الله، لم يقدموا عليه»

یعنی ہم جانتے ہیں کہ اسلام کی طرف منسوب ہو کر یہ شرک کرنے والے صرف جہالت کی وجہ سے اس میں پڑے ہیں۔ اگر انہیں معلوم ہوتا کہ یہ عمل اللہ سے انتہائی دوری کا سبب ہے اور وہی شرک ہے جسے اللہ نے حرام فرمایا، تو وہ کبھی اس کی جرات نہ کرتے۔

یہاں غور کرنے کا مقام ہے کہ شیخ رحمہ اللہ نے ان لوگوں کی جہالت کا اقرار فرمایا، لیکن اس کے باوجود شیخ رحمہ اللہ نے قطعا انہیں معذور نہیں قرار دیا، بلکہ فرمایا:

«فكفرهم جميع العلماء، ولم يعذروهم بالجهل، كما يقول بعض الضالين: إن هؤلاء معذورون لأنهم جهال» یعنی تمام علماء نے ان کی تکفیر کی اور انہیں جہالت کا عذر نہیں دیا، جیسا کہ کچھ گمراہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ جہالت کی وجہ سے معذور ہیں۔

[الدرر السنية في الأجوبة النجدية، ج : ١٠ ص، ٤٠٤- ٤٠٥]

غور کرو! شیخ رحمہ اللہ نے ان لوگوں کو جو شرک اکبر میں جہالت کو عذر بناتے ہیں، صاف صاف «بعض الضالين» یعنی ’’بعض گمراہ لوگوں‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص آج بھی قبروں پر ذبح، نذر، دعا، استعانت اور غیر اللہ سے حاجت طلبی کرنے والوں کو جہالت کا عذر دے کر معذور ٹھہراتا ہے، یا ان کی تکفیر میں توقف کرتا ہے، وہ خود گمراہوں میں سے ہے۔

پس شیخ عبداللہ ابا بطین رحمہ اللہ کے اس کلام سے واضح ہوتا ہے کہ شرک اکبر کا مرتکب مشرک کافر ہے، خواہ وہ اسلام کی طرف منسوب ہو، جہالت اسے معذور نہیں بناتی، تمام علماء نے ایسے لوگوں کی تکفیر کی ہے، جو لوگ ان مشرکین کی تکفیر میں توقف کرتے ہیں یا انہیں جہالت کا عذر دیتے ہیں، وہ خود «ضالین» کے زمرے میں داخل ہیں اور کتاب و سنت اور اجماع اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ مشرکین کی تکفیر میں توقف کرنا جائز نہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ائمہ نجد رحمہم اللہ کے فہم کے مطابق توحید کو صحیح طور پر سمجھنے، شرک کی قباحت کو پہچاننے اور شرک سے کامل اجتناب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

وصلى الله على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين۔
 
Top