• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شرک اکبر کے مرتکب کا شرعی حکم اور عذر بالجہل کے نام پر مرجئہ کے شبہات و مغالطہ آرائی کا رد شیخ ابن عثیمین کے کلام کی روشنی میں

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
929
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
شرک اکبر کے مرتکب کا شرعی حکم اور عذر بالجہل کے نام پر مرجئہ کے شبہات و مغالطہ آرائی کا رد شیخ ابن عثیمین کے کلام کی روشنی میں
​

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد!

توحید محض زبان سے کلمہ پڑھ لینے، نماز ادا کر لینے اور اپنے آپ کو مسلمان کہہ لینے کا نام نہیں ہے۔ جو شخص زبان سے توحید کا اقرار کرے، مگر عمل میں عبادت کا کوئی حق غیر اللہ کو دے، اس کا محض زبانی اقرار اسے مسلمان نہیں بنا سکتا۔

شیخ ابن عثیمین سورۃ الفاتحہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

«لو أن رجلا قرأ هذه الآية: ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ﴾، وإذا خرج من المسجد ذهب إلى قبر الولي فركع له، وسجد له، ونذر له، وتقرب إليه، وذبح له لقلنا: إن هذا مشرك كافر، لا يقبل الله منه صرفا ولا عدلا؛ لأن العبادة لله عز وجل، وهذا لم يصدق في قوله: إياك نعبد؛ لأنه أشرك بالله»

اگر کوئی شخص آیت ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ﴾ پڑھے، لیکن مسجد سے نکل کر کسی ولی کی قبر پر جا کر اس کے سامنے رکوع کرے، اسے سجدہ کرے، اس کے نام کی نذر مانے، اس کا تقرب حاصل کرے اور اس کے لیے جانور ذبح کرے، تو ہم کہیں گے کہ یہ شخص یقینا مشرک اور کافر ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے کسی فرض یا نفل عمل کو قبول نہیں کرے گا۔ کیونکہ عبادت صرف اللہ عزوجل کا حق ہے، اور اس شخص نے اپنے قول «إِيَّاكَ نَعْبُدُ» (ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں) میں سچائی کا ثبوت نہیں دیا، کیونکہ اس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا ہے۔

[تفسير سورة الفاتحة للشيخ محمد بن صالح العثيمين، ص: ٦٢]

13547.jpg

13552.jpg

​
شیخ ابن عثیمین نے صراحت کے ساتھ کہا کہ ایسا شخص مشرک کافر ہے، اور اللہ اس سے نہ نیکی قبول کرتا ہے نہ بدی۔ پھر مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: «والذي يعبد الله ويعبد غيره ليس عابداً، بل مشرك» جو شخص اللہ کی عبادت بھی کرتا ہے اور اس کے ساتھ کسی دوسرے کی عبادت بھی کرتا ہے، وہ حقیقی عبادت گزار نہیں، بلکہ مشرک ہے۔

پس یہ خیال کہ نماز، روزہ، تلاوت اور بعض نیک اعمال کرنے والا اللہ کا عبادت گزار بندہ ہوتا ہے اسے شرک کے ارتکاب کے باوجود بھی کافر و مشرک نہیں کہنا چاہیے، سراسر باطل ہے۔ اعمال صالحہ کا وجود شرک اکبر کے حکم کو زائل نہیں کرتا۔ شیخ ابن عثیمین نے واضح کر دیا کہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت کرے وہ عابد نہیں، بلکہ «إن هذا مشرك كافر»۔

آج جو مرجئہ اور مداخلہ شرک اکبر میں جہالت کا عذر دے کر انہیں مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ شیخ ابن عثیمین کی ان واضح عبارات کو چھپاتے ہیں جن میں شرک اکبر کے مرتکب پر صریح تکفیر کی ہے اور ان کے مجمل یا مخصوص کلام کو سیاق و سباق سے ہٹا کر عذر بالجہل کے نام پر قبر پرستوں، نذر ماننے والوں اور ذبح کرنے والوں کو مسلمان قرار دیتے ہیں۔ یہ مدخلیوں کی خیانت اور دھوکہ ہے۔

شیخ ابن عثیمین نے سورۃ الفاتحہ کی تفسیر میں جو کہا وہ ان کے مسلک کی اصل ہے۔ جو شخص قبر پر سجدہ کرے، نذر مانے، ذبح کرے، وہ شیخ کے نزدیک مشرک و کافر ہے، جو لوگ شیخ ابن عثیمین کے نام کا استعمال کر کے ارجاء پھیلا رہے ہیں وہ شیخ کے کلام کو ایسے توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں جس سے عذر بالجہل کے اشکالات پیش آتے ہیں۔ لہٰذا اس مسئلے میں تین بنیادی امور کے درمیان فرق کو سمجھا ضروری ہے:

۱. اسماء اور احکام کے درمیان فرق : شرک اکبر کرنے والا ظاہر میں مشرک ہے۔ یہ اس کا اسم ہے اور اسے مسلمان یا موحد کہنا جھوٹ۔ اس پر آخرت میں مؤاخذہ الگ مسئلہ ہے جو اللہ کے علم میں ہے۔ لیکن دنیا میں اسے مشرک ہی کہا جائے گا۔ شیخ ابن عثیمین نے یہی کیا۔

۲. لوگوں پر حکم ظاہر کے مطابق لگتا ہے : لوگ اپنے ظاہری افعال کے مطابق حکم پاتے ہیں۔ قبر پر سجدہ، نذر، ذبح وغیرہ ظاہر میں شرک اکبر ہیں۔ اس پر جہالت کا عذر دے کر اسے مسلمان قرار دینا درحقیقت شرک کی حمایت ہے۔ شیخ نے ایسا کوئی بہانہ نہیں دیا۔

۳. عذر بالجهل مؤاخذہ اور سزا سے متعلق ہے، ظاہری حکم سے نہیں : عذر بالجهل اگر ہے تو وہ آخرت کے مؤاخذہ سے متعلق ہو سکتا ہے، لیکن دنیا میں اسے مشرک کہنے سے نہیں روکتا نہ ہی وصف شرک کو ختم کرتا ہے۔ شیخ نے کبھی نہیں کہا کہ اگر وہ جاہل ہے تو وہ مشرک نہیں۔ بلکہ انہوں نے فعل شرک پر اسے مشرک کافر قرار دیا۔

پس جو شخص شرک اکبر میں مبتلا ہو جائے وہ اپنے ظاہری فعل کے مطابق مشرک کہلائے گا، اور عذر بالجہل اس وصف کو ختم نہیں کرتا، بلکہ وہ صرف اس کے فعل پر مؤاخذہ اور سزا کے استحقاق یا عدم استحقاق سے متعلق ہے۔ لہٰذا کسی شخص کو اس کے ظاہری فعل کے مطابق وصف دینے اور اس پر مؤاخذہ و سزا کا حکم لگانے کے درمیان خلط ملط کرنا درست نہیں، یہ دونوں الگ الگ مسائل ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں خالص توحید پر قائم رکھے، شرک کی تمام صورتوں سے محفوظ فرمائے، حق کو حق سمجھنے اور اس کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور باطل کو باطل سمجھنے اور اس سے اجتناب کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔
 
Last edited:
Top