• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شرک ایک گناہ عظیم

طارق بن زیاد

مشہور رکن
شمولیت
اگست 04، 2011
پیغامات
324
ری ایکشن اسکور
1,718
پوائنٹ
139
السـلام علیـکم دوسـتوں


ان شاء اللہ آپ تمام اللہ کے فضل و کرم سے ٹھیک ہونگے دوستوں جیسا کہ آپ تمام جانتے ہیں کہ شرک ایک ایسا گناہ
عظیم ہے جس کے بارے میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میں دوسرے بڑے بڑے گناہوں کو معاف کردونگا لیکن ایک شرک ہے جسے میں معاف نہیں کرونگا اور ایسے شخص کو ہمیشہ کیلئے جہنم رسید کرونگا

اسی لئے اللہ تعالی نے اپنے عذاب سے ڈرانے اور لوگوں کو شرک سے روکنے کیلئے اپنے پیغمبروں کو ہماری اصلاح کیلئے بھیجتا رہا جب ہم سارے پیغمبروں کی تاریخ پر نظر ڈالینگے تو پتہ چلیگا کہ ہر پیغمبر کو پہلی دعوت توحید ہی رہی ہے

جب ہم قرآن مجید پڑھینگے تو پتہ چلیگا کہ اللہ تعالی کتنا تاکید کرتے ہوئے ہمیں اس کام سے بچنے کیلئے کہ رہا اس لئے ہمیں ہر طرح کہ شرک سے بچنا چاہئے چاہے وہ اللہ کی ذات میں یا پھر اسی صفات میں ہو۔آئیے دیکھتے ہیں شرک کے موزوں پر چند آیتیں۔


بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں، جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیے (١) اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں (٢) کاش کہ مشرک لوگ جانتے جب کہ اللہ کے عذاب کو دیکھ کر (جان لیں گے) کہ تمام طاقت اللہ ہی کو ہے اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہے (تو ہرگز شرک نہ کرتے)۔(سورة البقرة . آیت165)

ابراہیم تو نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی بلکہ وہ تو ایک طرفہ (خالص) مسلمان تھے (١) مشرک بھی نہ تھے۔(سورة آل عمران . آیت67)

اسے اللہ تعالٰی قطعًا نہ بخشے گا کہ اس کے ساتھ شریک مقرر کیا جائے ہاں شرک کے علاوہ گناہ جس کے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والا بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا۔(سورة النساء . آیت116)

وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جس روز ہم ان تمام خلائق کو جمع کریں گے، پھر ہم مشرکین سے کہیں گے کہ تمہارے وہ شرکا، جن کے معبود ہونے کا تم دعویٰ کرتے تھے کہاں گئے۔(سورة الأنعام . آیت22)

یہ مشرکین (یوں) کہیں گے کہ اگر اللہ تعالٰی کو منظور ہوتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کر سکتے (١) اس طرح جو لوگ ان سے پہلے ہو چکے ہیں انہوں نے بھی تکذیب کی تھی یہاں تک کہ کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھا (٢) آپ کہیے کیا تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو اس کو ہمارے سامنے ظاہر کرو (٣) تم لوگ محض خیالی باتوں پر چلتے ہو اور تم بالکل اٹکل پچو سے باتیں بناتے ہو۔(سورة الأنعام . آیت148)

کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہوں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ کسی چیز کو تھام سکیں، یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہوں، یا ان کے کان ہیں جن سے سنتے ہوں (١) آپ کہہ دیجئے! تم اپنے سب شرکا کو بلا لو، پھر میری ضرر رسانی کی تدبیر کرو پھر مجھ کو ذرا مہلت مت دو (٢)۔(سورة الأعراف . آیت195)

حتی کہ اللہ تعالی اپنے خاص رشتہ داروں کیلئے بھی دعاء مغفرت کرنے سے ہمیں منع فرمارہا ہے جب کہ وہ مشرک ہوں۔

پیغمبر کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی ہوں اس امر کے ظاہر ہو جانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں (١)۔(سورة التوبة . آیت113)

اور یہ لوگ اللہ کے سوا (١) ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو ضرر پہنچا سکیں اور نہ ان کو نفع پہنچا سکیں (٢) اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں (٣) آپ کہہ دیجئے کہ تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جو اللہ تعالٰی کو معلوم نہیں، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں (٤) وہ پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے (٥)۔(سورة يونس . آیت18)

اللہ ہمیں مرتے دم تک مسلمان رکھے اور اسلام پر ہمارا خاتمہ فرمائے اور شرک سے بچائے رکھے آمین۔
 

عبداللہ کشمیری

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 08، 2012
پیغامات
568
ری ایکشن اسکور
1,654
پوائنٹ
186
Top